اہلحدیث کا مختصر تعارف
اہلحدیث کا مختصر تعارف
دنیا میں مذہب اسلام کے نام سے بےبہا جماعتیں ہیں اورہر ایک کا اپنا ایک امام اور بزرگ ہے اور ہر ایک کا منہج ودعوت کا طریقہ الگ اور جداگانہ ھے، اور سب اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں مگر بے بانگ دہل اعلی وجہ البصیرت ہم جماعت اہلحدیث یہ دعوا کر سکتے ہیں کہ اگر کائنات میں کوئی کتاب وسنت کا حقیقی محافظ ھے تو وہ صرف جماعت اہلحدیث ھے کیونکہ جماعت اہلحدیث جہاں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قائل ہیں وہاں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے بھی قائل وعامل ہیں؛
سب سے پہلے یہاں پر ہم اس بات کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اہلحدیث کسے کہتے ہیں؟ اہل حدیث کا تعارف اور اسکی وجہ تسمیہ کیا ھے؟
اہل حدیث یہ دو لفظوں پر مشتمل ایک کلمہ ھے، پہلا لفظ ھے "اھل " جسکے معنی والے دوسرا لفظ حدیث، اور لفظ حدیث اللہ تعالی کے پاک کلام قرآن مجید فرقان حمید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کا نام ھے، قرآن کریم کو بھی حدیث فرما یا گیا ھے، قرآن مجید میں چودہ آیات ایسی ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنے کلام قرآن مجید کو حدیث فرمایا ھے، ان میں سے چند آیات مع حوالہ و ترجمہ یہاں پیش کی جاتی ہیں، ارشاد ربانی ھے : ومن اصدق من اللہ حدیثا؛ یعنی اللہ تعالی کی بات سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہو سکتی ھے، (سورہ السناء آیت 87)اور ایک جگہ فرمایا : الله نزل أحسن الحديث؛ یعنی اللہ تعالی نے بہترین حدیث نازل فرما یا ،(سورہ زمر آیت 23) تو کہیں ارشاد ربانی ھے: فبائے حدیث بعد اللہ وآيته يو منون؛ ترجمہ؛ پس اللہ اور اسکی آیتوں کے بعد یہ کس حدیث پر ایمان لائیں گے (سورہ جاثیہ آیت 6)
ان مذکورہ آیات میں اللہ تعالی نے قرآن پاک کو حدیث قرار دیا ھے ، اب آئیےذرا گلشن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی دیدار کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک سے بھی ثابت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کلام اللہ کو حدیث فرمایا، جیسا کہ صحیح مسلم شریف کی مشہور روایت ھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ حاجت میں فرمایا کرتے تھے ؛" فإن خیر الحديث كتاب ألله وخيرالهدى هدى محمد صلى آلله عليه وسلم ؛ یقینا بہترین حدیث اللہ کی کتاب (قرآن مجید )ھے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ھے (صحیح مسلم کتاب الجمعہ حدیث 867)
اسی طرح رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارسادات، اقوال، اعمال، گفتار وکردار ، اور انداز زیست کو بھی حدیث کہا جاتا ھے جیسا کہ سنن اربعہ کی روایت ھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :نصرالله أمر أسمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه؛ یعنی اللہ تعالی اس شخص کو( ہمیشہ )تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنکر یاد رکھا یہاں تک کہ اسے آگے دوسروں تک پہنچایا (سنن ابن ماجہ کتاب السنہ حدیث 232)مذکورہ دلائل سے یہ بات اظہر من الشمش کی طرح واضح اور اشکارا ہو گئی ھے کہ قرآن مجید کو حدیث اللہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
اقوال وافعال کو حدیث مصطفے کہتے ہیں اور ان دونوں کے ماننے والے کو اہلحدیث یا اصحاب الحدیث کہتے ہیں
.....................................................
اہل حدیث کی پہچان کیا ھے؟ جواب : اہلحدیث کی اصل اور بنیادی پہچان یہی ھے کہ قرآن مجید وحدیث نبوی صرف یہی دو چیزیں انکی بنیاد ہیں اور یہ دو چیزیں کوئی جدید نہیں بلکہ اسلام کی ابتدائی بنیاد ان دو چیزوں پرہی رکھی گئی ھے اسلیے جماعت اہلحدیث نہ تو کتاب وسنت کی تعلیمات میں کوئی آمیزش وملاوٹ کرتی ہے اور نہ ہی کسی کی آمیزش کو پسند و برداشت کرتی ھے ،جماعت اہلحدیث دین سمجھنے کےلیے وہ کسی پیش بندی یا پیوندکاری کا قائل نہیں بلکہ وہ صرف کتاب وسنت کے سامنے سر تسلیم خم کر تی ھے،
اہلحدیث وہ مکتب فکر ھے جو ہر مسئلہ میں قرآن وحدیث کو ہی اپنی دلیل اور حجت سمجھتے ہیں، ان کے کسی معین اشخاص کی چاہیے وہ کتنا ہی چوٹی کا عالم ہو یا کتنے بڑے علامہ ہی کیوں نہ ہو ان کی تقلید نہیں ہوتی ، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان :العلماءورثةآلانبیاء؛ کے تحت ان کا احترام انکی عزت لازم ھے علماء کی توقیر و تعظیم کرتے ہیں لیکن ان تقلید نہیں کرتے، البتہ اگر کوئی بڑے سے بڑا عالم یا پھر چھوٹے سے چھوٹا طالب علم ہی کیوں نہ ہو قرآن وحدیث سے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں جو اسلاف امت کے طریق پر اور سلف صالحین کے منہج پر ہو تو اہلحدیث اسے قبول سے کسی طرح کا تامل نہیں کرتے بلکہ قرآن وحدیث کے سامنے بالکل اسی طرح سر تسلیم خم کر تے ہیں جسطرح صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ کرام سر تسلیم خم کر تے تھے
دنیا میں مذہب اسلام کے نام سے بےبہا جماعتیں ہیں اورہر ایک کا اپنا ایک امام اور بزرگ ہے اور ہر ایک کا منہج ودعوت کا طریقہ الگ اور جداگانہ ھے، اور سب اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں مگر بے بانگ دہل اعلی وجہ البصیرت ہم جماعت اہلحدیث یہ دعوا کر سکتے ہیں کہ اگر کائنات میں کوئی کتاب وسنت کا حقیقی محافظ ھے تو وہ صرف جماعت اہلحدیث ھے کیونکہ جماعت اہلحدیث جہاں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قائل ہیں وہاں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے بھی قائل وعامل ہیں؛
سب سے پہلے یہاں پر ہم اس بات کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اہلحدیث کسے کہتے ہیں؟ اہل حدیث کا تعارف اور اسکی وجہ تسمیہ کیا ھے؟
اہل حدیث یہ دو لفظوں پر مشتمل ایک کلمہ ھے، پہلا لفظ ھے "اھل " جسکے معنی والے دوسرا لفظ حدیث، اور لفظ حدیث اللہ تعالی کے پاک کلام قرآن مجید فرقان حمید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کا نام ھے، قرآن کریم کو بھی حدیث فرما یا گیا ھے، قرآن مجید میں چودہ آیات ایسی ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنے کلام قرآن مجید کو حدیث فرمایا ھے، ان میں سے چند آیات مع حوالہ و ترجمہ یہاں پیش کی جاتی ہیں، ارشاد ربانی ھے : ومن اصدق من اللہ حدیثا؛ یعنی اللہ تعالی کی بات سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہو سکتی ھے، (سورہ السناء آیت 87)اور ایک جگہ فرمایا : الله نزل أحسن الحديث؛ یعنی اللہ تعالی نے بہترین حدیث نازل فرما یا ،(سورہ زمر آیت 23) تو کہیں ارشاد ربانی ھے: فبائے حدیث بعد اللہ وآيته يو منون؛ ترجمہ؛ پس اللہ اور اسکی آیتوں کے بعد یہ کس حدیث پر ایمان لائیں گے (سورہ جاثیہ آیت 6)
ان مذکورہ آیات میں اللہ تعالی نے قرآن پاک کو حدیث قرار دیا ھے ، اب آئیےذرا گلشن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی دیدار کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک سے بھی ثابت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کلام اللہ کو حدیث فرمایا، جیسا کہ صحیح مسلم شریف کی مشہور روایت ھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ حاجت میں فرمایا کرتے تھے ؛" فإن خیر الحديث كتاب ألله وخيرالهدى هدى محمد صلى آلله عليه وسلم ؛ یقینا بہترین حدیث اللہ کی کتاب (قرآن مجید )ھے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ھے (صحیح مسلم کتاب الجمعہ حدیث 867)
اسی طرح رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارسادات، اقوال، اعمال، گفتار وکردار ، اور انداز زیست کو بھی حدیث کہا جاتا ھے جیسا کہ سنن اربعہ کی روایت ھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :نصرالله أمر أسمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه؛ یعنی اللہ تعالی اس شخص کو( ہمیشہ )تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنکر یاد رکھا یہاں تک کہ اسے آگے دوسروں تک پہنچایا (سنن ابن ماجہ کتاب السنہ حدیث 232)مذکورہ دلائل سے یہ بات اظہر من الشمش کی طرح واضح اور اشکارا ہو گئی ھے کہ قرآن مجید کو حدیث اللہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
اقوال وافعال کو حدیث مصطفے کہتے ہیں اور ان دونوں کے ماننے والے کو اہلحدیث یا اصحاب الحدیث کہتے ہیں
.....................................................
اہل حدیث کی پہچان کیا ھے؟ جواب : اہلحدیث کی اصل اور بنیادی پہچان یہی ھے کہ قرآن مجید وحدیث نبوی صرف یہی دو چیزیں انکی بنیاد ہیں اور یہ دو چیزیں کوئی جدید نہیں بلکہ اسلام کی ابتدائی بنیاد ان دو چیزوں پرہی رکھی گئی ھے اسلیے جماعت اہلحدیث نہ تو کتاب وسنت کی تعلیمات میں کوئی آمیزش وملاوٹ کرتی ہے اور نہ ہی کسی کی آمیزش کو پسند و برداشت کرتی ھے ،جماعت اہلحدیث دین سمجھنے کےلیے وہ کسی پیش بندی یا پیوندکاری کا قائل نہیں بلکہ وہ صرف کتاب وسنت کے سامنے سر تسلیم خم کر تی ھے،
اہلحدیث وہ مکتب فکر ھے جو ہر مسئلہ میں قرآن وحدیث کو ہی اپنی دلیل اور حجت سمجھتے ہیں، ان کے کسی معین اشخاص کی چاہیے وہ کتنا ہی چوٹی کا عالم ہو یا کتنے بڑے علامہ ہی کیوں نہ ہو ان کی تقلید نہیں ہوتی ، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان :العلماءورثةآلانبیاء؛ کے تحت ان کا احترام انکی عزت لازم ھے علماء کی توقیر و تعظیم کرتے ہیں لیکن ان تقلید نہیں کرتے، البتہ اگر کوئی بڑے سے بڑا عالم یا پھر چھوٹے سے چھوٹا طالب علم ہی کیوں نہ ہو قرآن وحدیث سے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں جو اسلاف امت کے طریق پر اور سلف صالحین کے منہج پر ہو تو اہلحدیث اسے قبول سے کسی طرح کا تامل نہیں کرتے بلکہ قرآن وحدیث کے سامنے بالکل اسی طرح سر تسلیم خم کر تے ہیں جسطرح صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ کرام سر تسلیم خم کر تے تھے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں