کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟
کیا نبیﷺ حاضر و ناظر ہی؟
نہیں۔
اہل الشرک کا یہ عقیدہ اتنی کمزور بنیادوں پر قائم ہے کہ اگر معمولی عقل رکھنے والا بھی اس پر غور کرے تو وہ اسکو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ عقیدہ قرآن کے خلاف بھی ہے۔ حدیث کے بھی اور عقل کے خلاف بھی ۔ پہلے یہ جان لیں کہ یہ حاضر و ناظر کا عقیدہ ہے کیا؟
اہل الشرک کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ اسکے بعد باقی کائنات اور انسان۔ سوجب سے انسان پیدا کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت سے زندہ ہیں اور تمام عالموں کا ادراک رکھتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اور ہر جگہ حاضر تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجالس میں بھی حاضر وناظر ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے سارے اعمال کی خبر ہے!!
اس طرح کا عقیدہ رکھنا ایمان کے منافی ہے۔ اس عقیدے کا اسلام سے دُور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ قرآن وحدیث اس عقیدے کا رد کرتی ہیں۔
قرآن سے دلیل
۱) اللہ تعالیٰ سورۃ القصص آیت نمبر 46 میں فرماتا ہے:
وَمَاکُنْتَ بَجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْنَادَیْنَاوَلٰکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَقَوَمًا مَّآاَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ
{اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طور کی جانب تھے جب ہم نے آواز دی بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس لئے کہ تو ان کو ہوشیار کردے جنکے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا}
واضح ہوا کہ آپ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں حاضر وناظر نہ تھے اور آیت کے آخر میں کہا گیا ’’مِنْ قَبْلِکَ( یعنی تم سے پہلے) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی ہوتے تو ایسا نہ کہا جاتا۔
۲) اللہ تعالیٰ سورۃ یوسف آیت نمبر 3 میں فرماتا ہے۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآاَوْحَیْنَآاِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ o
(ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا ہے اور یقینا آپ اس سے پہلے بے خبر وں میں سے تھے)
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے میں حاضر و ناظر ہوتے تو یقینا سیدنا یوسف علیہ السلام کے حالات سے واقف ہوتے ۔ لیکن اس آیت سے صاف صاف واضح ہے کہ آپ قصّہ یوسف علیہ السلام سے ناواقف تھے۔
۳) اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران آیت نمبر 44 میں فرماتا ہے۔
ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْیُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْیَخْتَصِمُوْنَo
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! {یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔ تُو ان کے پاس نہ تھا جبکہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ اُن میں سے مریم (علیہا السلام) کی کفالت کون کرے گا؟ اور نہ تُوانکے جھگڑے کے وقت ان کے پاس تھا}روشنی خود اپنے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ دلائل واضح ہیں ان میں تاویل کی گنجائش بھی نہیں ۔ حق تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر نہ تھے۔
۴) اللہ تعالیٰ سورۃ الانفال آیت نمبر 33 میں فرماتا ہے:
وَمَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَo
{اور اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دے گا جب کہ آپ اُن میں موجود ہوں اور اللہ انہیں عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار کرتے ہوں}
یعنی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’حاضر‘‘ (موجود ) ہوں وہاں عذاب نہیں آسکتا ۔ اب شرک کے ٹھیکہ داروں سے میرے چند سوالات ہیں:۔
(1) 26 جنوری 2001 ء میں گجرات میں جو زلزلہ آیا ۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
(2) 26 دسمبر 2004 ء میں ہندوستان اور دیگر ساحلی ملکوں میں سونامی کا قہر بپا کر دینے والا عذاب آیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
(3)8 اکتوبر 2005 ء کو مظفر آباد پاکستان میں خطر ناک زلزلہ آیا جس میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ جانیں ہلاک ہوگئیں ۔کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے؟
(4) 12 جنوری 2010 ء میں ہیٹی (Hati ) میں زلزلہ کی شکل میں عذاب آیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
(5) پچھلی امتیں مثلًا قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ نوح، قومِ لوط وغیرہ پر کیوں عذاب آیا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
امید ہے اللہ تعالیٰ کی یہ آیت مبارکہ(انفال/ ۳۳) بہت سے بھائیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے گی ۔ ان شاء اللہ
۵) اللہ تعالیٰ سورۃ النساء آیت نمبر 102 میں فرماتا ہے:
وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ … الخ
(جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں تو انہیں نماز پڑھائیں)
اب غور کریں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل الشرک کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں تو یہ لوگ امامت کرنے کی جُرأت کیسے کرتے ہیں۔ کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان جیسے شکم پرستوں کے پیچھے نماز ادا کریں گے؟
……٭٭٭……
احادیث سے دلیل
۱) صحیح بخاری شریف ،کتاب الجھاد حدیث نمبر2801 میں سید نا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ستر آدمی (جو قاری تھے) بنو عامر کے یہاں بھیجے جب یہ سب حضرات (بئر معونہ پر) پہنچے تو میرے ماموں حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا میں (بنو سُلَیم کے یہاں )آگے جاتا ہوں اگرمجھے انہوں نے اس بات کا امن دے دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ان تک پہنچائوں تو بہتر ورنہ تم لوگ میرے قریب تو ہوہی۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں گئے اور انہوں نے امن دے دیا۔ ابھی وہ قبیلہ کے لوگوں کو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنا ہی رہے تھے کہ قبیلہ والوں نے اپنے ایک آدمی (عامر بن طفیل) کو اشارہ کیا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے برچھا پیوست کر دیا جو آرپا ر ہوگیا۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا ’’ اللہ اکبر میں کامیاب ہو گیا ۔کعبہ کے رب کی قسم! ‘‘ اس کے بعد قبیلہ والے حرام رضی اللہ عنہ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف (جو ستر کی تعدادمیں تھے) بڑھے اور سب کوشہید کر دیا ۔ البتہ ایک صاحب جو لنگڑے تھے، پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ہمام (راوی حدیث) نے بیان کیا میں سمجھتا ہوں کہ ایک صاحب اور ان کے ساتھی (پہاڑ پر چڑھے تھے) اس کے بعد جبریل (علیہ السلام) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے جاملے ہیں… آخر حدیث تک۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود ہوتے ہیں تو پھر جبریل کو آنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قتل وغارت گری پر وہاں صرف تماشہ ہی کیوں دیکھا؟ کیوں نہ مدینہ سے اپنے صحابہ کا لشکر لے کر ان غریبوںکو بچایا ؟ گوکہ اس حدیث سے واضح ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نہ تھے۔ ورنہ آپ کچھ ضرور کرتے اور جبریل علیہ السلام کو بھی خبر دینے کی ضرورت نہ پڑئی۔
(۲) واقع افک۔ صحیح بخاری شریف ،کتاب الجھاد حدیث نمبر 4750 میں سے روایت ہے: (چونکہ پورا واقع کئی صفحات پر پھیلا ہوا ہے اسلئے ہم واقع کو مختصر اً بیان کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ تفصیلات خود ملا حظہ فرمائیں)
اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:
’’میں ایک جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ تھی ہم واپس آرہے تھے ایک جگہ قافلہ نے پڑا ؤ ڈالا۔ میں رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے قافلے سے تھوڑی دور چلی گئی۔ لَوٹتے وقت میں نے محسوس کیا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ہے ۔ چنانچہ میں اسی کی تلاش میں رہی یہاں تک کہ قافلے نے سفر شروع کیا جب میں وہاں پہنچی تو دیکھا قافلہ چھوٹ گیا ہے ۔ میںنے اپنی چادر لی اور یہ سوچ کر وہیں لیٹ گئی کہ جاکر لوگوں کو میرا پتہ چلے گا تو تلاش کر کے یہیں پہنچ جائیں گے۔ لیٹتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جو پیچھے رہ گیا تھا، اس جگہ پہنچا ۔جوں ہی اُسنے مجھے پا یا تو بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ میں انکی آواز سن کر جاگی اور فوراً منہ کا پردہ کیا۔ آپ نے کچھ کہے بغیر میرے سامنے اپنا اونٹ بٹھا یا میں اس پر سوار ہو گئی تو آپ خود پیدل چل کر قافلے کی طرف روانہ ہوئے ۔جب ہم قافلے میں پہنچے تو منافقوں نے یہ باتیں پھیلانی شروع کر دی کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے یہ رات صفوان کے ساتھ گذاری ہے (نعوذباللہ)۔ منافقوں نے ہمیں ایک خطر ناک سازش کے تحت بدنام کر دیا ۔ جس میں اکثر مسلمان سُوئے ظن کے شکار ہوئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شک میں پڑ گئے اور کئی دنوں تک شک ہی میں رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میری برأت کے سلسلہ میں سورۃ نور کی دس آیات نازل فرمائی۔ ‘‘
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، تو پھر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذ باللہ ) امی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر خواہ مخواہ شک کیا؟اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہی تھے، کہ اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہااس گناہ سے بَری ہے۔ (اس حدیث کے بعد جو چند حدیثیں آتی ہیں ان میں اس بات کی وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ افک کی حقیقت سے قطعاً لا علم تھے۔)
۳) صحیح مسلم شریف ،کتاب الجھاد والسیر حدیث نمبر4640 (ترقیم) میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:
غزوہ احزاب (۵ ھجری) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک رات ہَوا بہت تیز چل رہی تھی اور سردی بھی خوب تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا ’’کوئی ہے جو جاکر کافروں کی خبر لائے اللہ تعالیٰ اسکو قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے گا۔‘‘ یہ سن کر ہم لوگ خاموش ہو رہے اور کسی نے جواب نہ دیا ۔ پھر آپ نے فرمایا ’’کوئی ہے جو کافروں …‘‘پھر تیسری بار بھی یہی فرمایا کسی نے جواب نہ دیا ۔ آخر آپ نے فرمایا خذیفہ تم اُٹھواور جا کر کفار کی خبر لائو۔ جب آپ نے میرا نام لے کر حکم دیا تو مجھے اُٹھے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کرتے ہوئے یہ ہدایت فرمائی کہ کفار کی خبر لائو ۔ لیکن انہیں اشتعال (غصہ) دلانے والی کوئی حرکت نہ کرنا جب میں روانہ ہوا تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے میں گرم حمام میں چلا جا رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچ کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا اُس وقت مجھے پھر سردی محسوس ہونے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا ایک زائد کمبل عنایت فرما دیا جسے اوڑھ کر آپ نماز پڑھا کرتے تھے ۔ میں اُس کمبل کو اوڑ ھ کرسویا تو صبح تک سویا رہا ۔ صُبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اُٹھو نومان ! (بہت زیادہ سونے والے!)
غزوہ احزاب میں حالات اس قدر خطرناک تھے کہ قیامت کے دن رفاقت نبوی کا انعام حاصل کرنے کے لئے بھی صحابہ کرام نے تأمل کیا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر وناظر تھے ، تو پھر کفار کے حالات سے ناواقف کیوں تھے؟ اگر واقف تھے تو پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو وہاں خطرے میں کیوں بھیجا؟
۴) جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ، اس وقت اگر آپ حاضر ناظر تھے تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بروقت اطلاع کیوں نہ دی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیوں نہ بچایا؟ اسی طرح عثمان ، علی ،حسین رضی اللہ عنہم کو کیوں نہ بچایا ؟ کیا آپ صرف تماشا دیکھتے رہے؟
۵) صحیح بخاری شریف ، کتاب الھبۃ و فضلھا حدیث نمبر 2617 میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
’’ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہو ا بکری کا گوشت لائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا (لیکن فوراً ہی فرمایا اس میں زہر ملا ہوا ہے) پھر جب اس عورت کو لایا گیا (اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کرلیا) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ نہیں ! (راوی نے کہا) اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیاـ۔‘‘
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہوتے تو اُس وقت کہاں تھے جب یہودن نے آپ کے کھانے میں زہر ملا یا ؟
……٭٭٭……
عقلی دلائل
۱) یہ نظریہ سراسر عقل کے خلاف بھی ہے۔ کیونکہ جب صحابہ کرام کے پاس اس شخص کی موجود گی تھی جو تمام قسم کے حالات سے واقف تھے تو پھر انہیں جگہ جگہ تکالیف نہ اُٹھانے پڑتے ۔ میرے بھائی ! ذرا غور تو کر! کیا یہ عقیدہ عقل میں سماسکتا ہے ؟؟!!
۲) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل الشرک کی مجالس میں حاضر یعنی موجود ہوتے ہیں تو اہل الشرک زور زور سے درود کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا اس سے ان لوگوں کے اعمال برباد نہیں ہوتے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات آیت نمبر 2 میں فرماتا ہے۔یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَرْفَعُوْٓا اَصَْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْھَرُوْالَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ 0
اس آیت کا شان نزول مشہور ہے۔ وہ یہ کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک مسئلے پربحث ہوئی دونوں دربار نبوی میں تھے۔ سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتے تھے۔ بحث وتکرار میں دونوں کی آوازیں قدرے بلند ہوئیں جس پر یہ آیت نازل ہوئی(تفسیر ابن کثیر)۔ اب اہل الشرک کے پاس دو ہی راستے ہیں یااس عقیدے کو چھوڑ کر اپنے اعمال بچائیں۔ یا پھر زور زور سے چلّانا چھوڑ دیں۔لیکن افسوس اُنکی ہٹ دھرمی نے اُنکو چکی کے دوپاٹوں کے درمیان لا کھڑا کیا۔
(یہاں شیخ بشیر احمد نہامی حفظہ اللہ کا ایک لطیفہ یاد آیا۔ فرمایا یہ لوگ اس مرغی کی طرح ہیں جو دو روپیئے کا انڈا دیتی ہے اور پھر اتنا شور کرتی ہے کہ تمام گائوں کو پتا چلتا ہے کہ فلاں مرغی نے انڈا دیا۔ یہ لوگ بھی زیادہ سے زیادہ تین منٹ میں دور رکعت نمازفجر پڑھتے ہیں پھر برابر دو گھنٹوں تک سپیکر کھول کر چلّاتے رہتے ہیں کہ ’’سنو سنو ہم نے دورکعت نماز پڑھ کر بڑا کمال کیا ہے‘‘)
۳)اس عقیدے کی بنا پر بریلوی ’’ہجرتِ مدینہ جیسے عظیم واقعہ ‘‘ کے منکر ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ مکہ میںبھی موجود ہیں اور مدینہ میں بھی۔ تو پھر مکہ سے مدینہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
۴) اگر آپ مجلس میں حاضر ہیں تو پھر آتے کون ہیں؟ سیدھی سی بات ہے جو شخص موجود نہ ہو وہ آتا ہے وہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا ۔ مگر اسی عقیدے کے لوگ سب میلاد، رات 12 بجے روشنی بند کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور ’’سرکار کی آمد مرحبا‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔
۵) اگر آپ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور سب کچھ دیکھ لیتے ہیں تو مرد و عورت کی ہم بستری کے وقت آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں کسی غیر محرم عورت کا چہرہ دیکھنے سے کتراتے ہیں کیا وہ زوجین کی مباشرت کا تماشہ دیکھیں گے (نعوذباللہ)
۶) اس عقیدے کی بنا پر اہل الشرک ’’اسراء اور معراج‘‘ کے واقعہ کے منکر ہوجاتے ہیں جو شخص حرم شریف میں بھی موجود ہے، راستے میں بھی موجود ہے اور بیت المقدس میں بھی موجود ہے۔ اس کے بارے میں کیسے ممکن ہے کہ وہ حرم شریف سے بیت المقدس کا سفر کرے۔
اسی طرح جو زمین پر بھی حاضر ہوا اور آسمان پر بھی حاضر ہو تو اسکے لئے کوئی یہ کہے کہ اُسنے معراج کیا ؟ تو یہ عجیب بات ہوئی ! عقل کے اندھو ! غور تو کرو۔ ذراہوش کے ناخن تو لو!
……٭٭٭……
شرک کی یلغار اور توحید کی دیوار
حملہ نمبر۱:۔ قرآن میں ہے:وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ شَہِیْداً عَلَیْْہِم مِّنْ أَنفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیْداً عَلَی ہَـؤُلٓائِ (سورۃ النحل ،آیت نمبر89)نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر امت پر کیسے گواہ ہونگے اگر وہ حاضر وناظر نہ ہونگے؟
دفاع:عرض ہے کہ شاہد یا شہید کے لئے ضروری نہیں کہ وہ جس کی گواہی دے رہا ہو وہ اس پر حاضر وناظر بھی ہو۔ چند دلائل درج ذیل ہیں:
[۱] سورۃ یوسف، آیت نمبر 26میں ہے:وَشَہِدَ شَاہِدٌمِّنْ اَہْلِھَا (اس کے گھر والوں میں سے [جو ایک شیرخوار بچہ تھا] نے گواہی دی)
[۲] وَکَذَلِکَ جَعَلْنٰکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْداً (سورۃ البقرہ آیت نمبر 143)
(یعنی ہم نے اس طرح تمہیں درمیانہ امت بنایا ہیں تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول تم پر گواہ ہوجائے )
[۳] صحیح بخاری شریف، کتاب التفسیرحدیث نمبر4487میں سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا، وہ عرض کریں گے لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ یَا رَب! اللہ رب العزت فرمائے گا، کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ میں نے پہنچا دیا تھا۔پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گاکیا انہوں نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے یہاں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ (نوح علیہ السلام سے)فرمائے گاکہ آپ کے حق میں کوئی گواہی بھی دے سکتا ہے ؟ وہ کہیں گے کہ محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ]اور ان کی امت میری گواہ ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان کے حق میں گواہی دے گی کہ انہوں نے پیغام دیا تھا۔۔۔۔الخ
اب بتائے کیا ہم بھی سیدنا نوح علیہ السلام کے زمانے میں حاضر وناضر تھے؟
حملہ نمبر ۲:جب قبر میں میت کو رکھا جاتا ہے تو فرشتے میت سے پوچھتے ہیں: مَا کُنْتَ تَقْوْلُ فَیْ ھَذَا الرَّجُل یعنی تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا ہیں؟کیا اس جملے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قبر میں حاضر وناظر ہونا ثابت نہ ہوا؟
دفاع: ان الفاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قبر میں حاضر وناظر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ’’ھَذَا الرَّجُل‘‘کا صیغہ دور کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً:
صحیح بخاری شریف ، کتاب بدء الوحَی حدیث نمبر 7میں ہے کہ ہِرَقْل نے ملکِ شام میں ابوسفیان سے کہا ۔ اَیُّکُمْ اَقْرَبُ نَسَبًا بِھَذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ یَزْعُمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ؟یعنی تم میں سے کون اس آدمی کا قریبی رشتہ دار ہے جس نے نبی ہونے کا دعوی کیا ہے؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اور ہرقل شام میں تھا۔
اسی طرح صحیح بخاری شریف ، کتاب الصلح حدیث نمبر2704میں ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنی فوج لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف نکلے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دو آدمی ان کی طرف بھیج کر کہا: اِذْھَبَا اِلَی ھَذَا الرَّجُلیعنی تم دونوں اس آدمی کی طرف جاو۔
یہاں بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سامنے نہیں تھے۔
اسی طرح صلح الحدیبیہ کے موقع پر بُدیل رضی اللہ عنہ نے کفارِ مکہ سے ھَذَا الرَّجُل کے الفاظ کہے تھے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے باہر تھے۔
اسی طرح صحیح بخاری شریف ، کتاب فتن حدیث نمبر7111میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے اپنے بچوں سے کہا اِنَّا قَدْ بَایَعْنَا ھَذَا الرَّجُلَ یعنی بیشک ہم نے اس آدمی (یزید) کی بیعت کی۔
حالانکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مدنیہ میں اور یزید شام میں تھا
[یہاںایک غور طلب نقطہ بھی دیکھ لیںکہ فرشتے الرَّجُلُ (یعنی آدمی نہ کہ نوری)کہیں گے۔]
٭ بعض الناس کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ دکھائے جاتے تو مسئول کہتا : ’’کون سے آدمی؟‘‘
ہم کہتے ہیں کہ یہ سوال کم علمی کا نتیجہ ہے کیونکہ صحیح ابن حبان،کتاب الجنائز حدیث نمبر 3103 میں ہے، کہ جب کافر سے کہا جائے گا کہ تو اُس آدمی کے بارے میں کیا جانتا ہے جو تم میں تھا؟ تو وہ کہے گا ، اَیُّ رَجُلٍ؟ کون سا آدمی ؟ فرشتے کہیں گے ،جو تم میں [پیغمبر] تھا…
الغرض قبر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نہیں کرایا جاتااور آپ ﷺ وہاں حاضر وناظر نہیں ہوتے۔
حملہ نمبر ۳:۔ اللہ تعالیٰ ’’رب العالمین‘‘ ہے۔ یعنی تمام (اگلوں پچھلوں ) کار ب اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’رحمۃٌ للعٰلمین‘‘ ہے یعنی تمام (اگلوں پچھلوں) کے لئے رحمت ۔ ہم جانتے ہیں کہ آج اور بعد کی امت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم رحمت ہے مگر پچھلوں کے لئے آپ کیسے رحمت بن سکتے ہیں؟ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان امتوں میں موجود نہ ہوتے ۔ کیا اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت بھی موجود (حاضر وناظر ) تھے؟
دفاع:۔ یہ بھی اہل الشرک کی جہالت کا ایک بیّن ثبوت ہے ۔ اللہ تو بے شک تمام عالموں (اگلے پچھلے) کا رب ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درجہ ذیل آیات کی بنا پر تمام (اگلوں پچھلوں )کے لئے رحمت کیسے بن سکتے ہیں؟۔(بلکہ جن کے لیے آپﷺ اس دنیا میں رحمت نہیں ان کے لیے آپ آخرت میں رحمت ہیں،وہ اس وقت جب آپﷺ کی سفارش سے حساب میں جلدی ہوگی۔) کیونکہ عالمین کا لفظ بندوں کے لئے محدود معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے ثبوت میں درجہ ذیل آیات پیش ِ خدمت ہیں۔
۱) اللہ تعالیٰ سورۃ الفرقان آیت نمبر 1میں فرماتا ہے:
تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًاo
(بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ ’’عالمین‘‘ کو ڈرائے)
غور طلب بات ہے ۔ عالمین میں فرشتے بھی ہیں۔ غیر ذی العقول جانور پرندے وغیرہ بھی ہیں۔ بے جان چیز یں بھی ہیں۔ بتایئے ان کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ڈرانے والا بنا؟!
۲) اللہ تعالیٰ سورۃ الانبیاء آیت نمبر91میںسیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
اٰ یَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (عالَموں کے لیے نشانی)
۳) اگر اب بھی شک رہا تو لو اب فیصلہ کُن آیت آگئی:
اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ آیت نمبر 47 میں فرماتا ہے:
وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلمِیْنَ o
{اور میں نے تم کو (یعنی بنی اسرائیل کو) عالمین پر فضیلت دی}
اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت افضل ہے یا بنی اسرائیل؟ ؟!!
ان آیات سے واضح ہو گیا کہ عالَمین کا لفظ بندوں کے لئے محدود ہے اور اس جہالت سے حاضر وناظر کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔
حملہ نمبر۴:۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الفیل آیت نمبر1میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ o (یعنی کیا آپ نے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اس واقعہ کے تقریباً50 دن بعد ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہاتھی والوں کا قصہ کیسے دیکھا۔ معلوم ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی حاضر و ناظر تھے!‘‘
دفاع:۔ یہ اُن مفسرین قرآن کی جہالت کا بیّن ثبوت ہے جن کو عربی بلاغہ کی ہَوا تک نہ لگی ہے اور اللہ کے کلام کی تفسیر لکھ رہے ہیں۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہے مگر حقیقت میں اللہ ان سے مخاطب نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے بطور عربی زبان کی فصاحت کے استعمال کیا ہے۔ اس حملے کے دفاع سے پہلے ایک آیت پیش خدمت ہے: اللہ تعالیٰ سورۃ نوح آیت نمبر 15 میں فرماتا ہے۔
اَلَمْ تَرَوْاکَیْفَ خَلَقَ اللہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا
(کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے)
تَرَوْا اصل میں تَرَوْنَ تھا جو جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے اور لَمْجو حرف جازم ہے، کی وجہ سے تَرَوْنَ کا ’’نون اعرابی‘‘ گر گیا اور الف زائد جمع کی علامت باقی رکھنے کے لئے لا یا گیا ۔ الغرض لَمْ تَرَوْا کے معنی ہیں’’کیا تم (لوگوں) نے نہیں دیکھا‘‘۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کن لوگوں سے مخاطب ہے؟ یا تو اللہ تعالیٰ مکہ کے مشرکین سے مخاطب ہے یا تمام لوگوں سے ۔ اصحاب الفیل تو کَل کی بات ہے۔ لیکن زمین وآسمان کی تخلیق کروڑوں سال پہلے کی ہے۔ تو کیا مشرکینِ مکہ کروڑوں سالوں سے حاضر و ناظر تھے؟؟!!
جسے عربی بلاغہ کی تھوڑی بھی ہَوا لگی ہو وہ بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کیا فرمارہا ہے۔ اس انداز بیان کے کئی مطالب ہو سکتے ہیں:
(۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے مشرکین مکہ سے کہا گیا ہے کہ تم لوگ تو اصحاب الفیل کے واقعہ سے واقف ہو۔ تم نے تو اسکو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ پھر تم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالف ہونے کی جُرأت کیسے کرتے ہو؟
(۲) یہ واقعہ اس قدر مشہور تھا کہ وہ شخص بھی جس نے اس واقعہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا تھا اس کی شہرت کی وجہ سے جانتا تھا کہ اس واقعہ کے اسباب کیا تھے۔
(۳) قرآن کا ایک خاص انداز بیان ہے کہ تنبیہ اس کو کی جاتی ہے جس سے غلطی سرزد ہو۔ تاکہ وہ غلطی سے باز آئے(مثلاً: اللہ تعالی سورۃ الملک آیت نمبر3اور4 میں بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطت ہے لیکن اصل میں حکم ان لوگوں کو دیا جارہا ہے جو اللہ کی ربوبیت میں شک میں پڑے ہوئے ہیں) معلوم ہوا یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ’’یاد رکھو! اللہ تعالیٰ سے ٹکر لینے کا انجام اصحاب الفیل جیسا ہو گا۔ اگر تم بھی باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی انجام ہو گا۔
تو معلوم ہوا کہ یہاں اس آیت میں وہ معنی نہیں ہے جو اہل الشرک نکالتے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔ آمین۔
حملہ نمبر ۵:۔اللہ تعالیٰ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سورۃ الانعام ، آیت نمبر 163 میں اعلان کر واتا ہے کہ کہو’’اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (یعنی میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔ گویا آپ سب سے پہلے انسان تھے)
دفاع:۔ یہ بھی جہالت کا ایک بیّن ثبوت ہے اسی طرح کی بات اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر 143 میں موسیٰ علیہ السلام سے کہلواتا ہے فرمایا :
…سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ
اے اللہ!(تمہاری ذات منزہ ہے میں تمہاری جناب میں معذرت کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں)
تو کیا خیال ہے؟ اب سیدناموسیٰ علیہ السلام پہلے ہیں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ؟نیز یہی بات ان جادوگروں نے بھی کہی تھی۔ جنہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کیاتھا اورسیدنا موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الشعراء آیت نمبر 51 میں فرماتا ہے کہ جب فرعون نے ان لوگوں کو سزا دینے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا:
اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلَنَارَبُّنَاخَطٰیٰنَ آاَنْ کُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ o
(ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فر ما دے گا۔ کیونکہ ہم سب سے پہلے مومن ہیں)
الغرض ان آیات کو جمع کرنے کے بعد ہم جو معنی صاف طور سے سمجھ سکتے ہیں۔ اس کو حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے اپنی مشہور تفسیر ’’احسن البیان میں سورۃ الزمر آیت نمبر12‘‘ کے تحت لکھا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کر کے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔‘‘ (صفحہ نمبر1295)
حملہ نمبر ۶:۔ تشہُّد (التحیات کی حالت ) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر کے صیغہ کے ساتھ درود بھیجتے ہیں۔ کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حاضر وناظر ہونا ثابت نہیں ہوتا ؟
دفاع:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایسی تو حیدی تربیت فرمائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال پُر ملال کے بعد ہی اُنہوںنے اس خطرے کو محسوس فرمایا کہ تشہد میں صیغہ حاضر کے الفاظ سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر وناظر ہونے کا شک نہ ہوجائے ۔ اس لئے انتقال کے فورًا بعد ہی اس مسئلہ پر بحث چھڑ گئی۔
صحیح بخاری شریف ، کتاب الا ستئذان حدیث نمبر 6265 میں سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ (جی ہاں! وہی صحابی جس کی طرف منسوب، بریلوی اور دیوبندی حضرات رفع الیدین نہ کرنے کی دلیل پیش کرتے ہیں)سے روایت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھا یا ۔ اس وقت میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا۔ جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِاللہِ الصّٰلِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
(اس کے بعد سید نا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ بات فرمائی جو ہمارے ہدایت کا سبب بن سکتی ہے۔) فرمایا:وَھُوَ بَیْنَ ظَھْرَانَیْنَافَلَمَّاقُبِضَ قُلْنَا : السَّلَامُ ۔یَعْنِیْ۔ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے۔ جب آپ کی وفات ہوگئی تو ہم (حاضر کے صیغہ کے بجائے ) اس طرح پڑھنے لگے۔ ’’السلام علی النبی ‘‘یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے ورنہ وہ ایک لمحہ بھی’’علیک ایھاالنبی‘‘ کی جگہ’’ علی النبی ‘‘ نہ پڑھتے۔
اگر کسی کے دل میں مذکورہ شرکیہ عقیدہ نہ ہو تو وہ ’’علیک ایھاالنبی‘‘ بھی پڑھ سکتا ہے۔ اس میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر وناظر جان کر سلام نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ہماری سلام پہنچانے کا بندوبست فرمایا ہے۔ تو جس طرح ہم خط و کتابت میں صیغہ حاضر استعمال کرتے ہیں اسی طرح یہاں بھی ہے۔ کیونکہ نہ تو خط میں ’’السلام علیکم‘‘ لکھتے وقت ہمارا دوست ہمارے سامنے ہوتا ہے اور نہ ہی ’’وعلیکم السلام‘‘ کہتے وقت ہم اپنے دوست کے سامنے ہوتے ہیں۔ الغرض تشہد کے الفاظ ’’علیک ایھا النبی‘‘ سے شرکیہ عقیدے کی قطعاً تائید نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
حملہ نمبر ۷:۔ آدم علیہ السلام نے حوا علیہا السلام سے نکاح میں بطور مہر کیا چیز رکھی؟ اور آدم علیہ السلام کی توبہ کس طرح قبول ہوئی؟
دفاع:۔ ’’کہتے ہیں کہ جب آدم اور حوا علیہما السلام کا نکاح ہوا توآدم علیہ السلام نے بطور مہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ’’دس درود‘‘ ادا کئے۔ اسی طرح جب آدم علیہ السلام نے توبہ کے قبول ہونے کی کوئی سبیل نہ پائی تو اس نے عرش کی طرف دیکھا اور وہاں ’’لا اِلہ الا اللہ ‘‘کے ساتھ ’’محمد رسول اللہ ‘‘لکھا پا یا ۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ جس کو آپ نے اپنے ساتھ مجھ سے پہلے بھی جوڑا ہے۔ اسی کے وسیلے میری مغفرت فرما۔ چنانچہ اللہ نے توبہ قبول فرمائی ۔‘‘
ایک زمانہ تھا کہ اہل الشرک مساجد کے منبروں پر بیٹھ کر یہ واقعات سُناسُنا کر لوگوں کے عقائد پر ڈاکہ ڈالتے تھے۔ محبت رسول کا ڈھونگ رچا کر اپنی پیٹ پوجا کر تے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے علم عام ہوگیا ہے۔ اب ان پیروں اور درویشوں کا جادو ٹوٹ چکا ہے ۔ اب بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ جس حدیث کو سلف صالحین نے ضعیف قرار دیا وہ قطعاً قابل عمل نہیں ہو سکتی پھر کہنے والا کتنا بڑا درویش ہی کیوں نہ ہو۔ رہی بات اوپر کے دو حدیثوں کی، تویہ بناسپتی مولویوں نے گھڑلیئے ہیں۔ پھر طُرہ یہ کہ جب کوئی اُن سے دلیل طلب کرتا ہے۔ تو اس پر بھی ایک حدیث گھڑتے ہیں۔ ایک خوش بیان ’’وازوان مولوی صاحب‘‘ اپنی ایک تقریر میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے موقعے پر نوے (90) ہزار عُلوم عطا کئے۔ پھر حکم فرمایا کہ ان میں سے تیس ہزار خاص میں، تیس ہزار عام میں تقسیم کر دے اور پھر تیس ہزار کو اندھی بانٹ بانٹنا۔ جس کی جو قسمت ہوگی اسکووہی ملے گا تو یہ جو احادیث ہم بیان کرتے ہیں یہ انہی تیس ہزار میں سے ہونگے۔یہ آپ کو احادیث کی کتابوں میں کہاں ملیںگی۔
میں ان بناسپتی مولویوں سے پوچھتا ہوں۔ کہ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ ان تیس ہزار میں سے کچھ احادیث مجھے بھی مل گئیں۔ تو تم لوگ مجھے کس پیمانے سے جھوٹا ثابت کر سکتے ہو۔
پانچ منٹ کے لئے میرا دعویٰ ہے کہ ’’میرے پاس چند احادیث پہونچی ہیں جن میں ایک درج ذیل ہے۔‘‘
’’آخر زمانہ میں کچھ مشرک لوگ اُٹھیں گے اور ضعیف و موضوع احادیث گھڑ یں گے۔ پھر ان موضوع احادیث کو ثابت کرنے کے لئے ’’90 ہزار علوم ‘‘ والی روایت گھڑیں گے۔ جو مسلمان بھی ایسا زمانہ پائے اسکو چاہئے کہ ان پر بھروسہ نہ کرے بلکہ ان کے خلاف اعلان جہاد کرے ۔ خواہ کیسے بھی کرے‘‘
عرض ہے کہ اہل الشرک میں سے کون ساٹھگ اس روایت کو غلط ثابت کر سکتا ہے۔ اگر ضعیف احادیث کو پہچاننے کا کوئی پیمانہ نہ ہوتا توجو جیسے چاہتاکہہ دیتا۔ الغرض یہ اور اس طرح کی حرکات دین پر ڈاکہ ہے۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمایے۔
رہی دوسری حدیث تو یہ بھی موضوع(گھڑی ہوئی) ہونے کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ اسکا گھڑ نے والا ضرور کوئی پادری یا پنڈت ہوگا جو نصوص قرآنیہ سے ناواقف ہوگا۔ کیونکہ ایسی آیات اکثر و بیشتر دین داروں کی زبان پر ہوتی رہتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ آیت نمبر 37 میں ارشاد فرماتا ہے:
فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
(پس آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کرلی۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے)
اس آیت مبارکہ سے پتا چلا کہ آدم علیہ السلام نے توبہ خود ہی نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے سکھائی ۔ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ان کلمات کا ذکرفرمایا
اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر 23 میں فرماتا ہے:
قَالَارَبَّنَا ظَلَمْنآ اَنْفُسَنَاوَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَاوَتَرْحَمْنَالَنَ کُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo
(دونوں کہنے لگے اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی نفسوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نقصان زدہ لوگوں میں ہو جائیں گے)
تو یہ ہے آدم علیہ السلام کے توبہ کی حقیقت ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علماء ِ سو کے شر سے محفوظ رکھے۔آمین
نہیں۔
اہل الشرک کا یہ عقیدہ اتنی کمزور بنیادوں پر قائم ہے کہ اگر معمولی عقل رکھنے والا بھی اس پر غور کرے تو وہ اسکو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ عقیدہ قرآن کے خلاف بھی ہے۔ حدیث کے بھی اور عقل کے خلاف بھی ۔ پہلے یہ جان لیں کہ یہ حاضر و ناظر کا عقیدہ ہے کیا؟
اہل الشرک کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ اسکے بعد باقی کائنات اور انسان۔ سوجب سے انسان پیدا کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت سے زندہ ہیں اور تمام عالموں کا ادراک رکھتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اور ہر جگہ حاضر تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجالس میں بھی حاضر وناظر ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے سارے اعمال کی خبر ہے!!
اس طرح کا عقیدہ رکھنا ایمان کے منافی ہے۔ اس عقیدے کا اسلام سے دُور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ قرآن وحدیث اس عقیدے کا رد کرتی ہیں۔
قرآن سے دلیل
۱) اللہ تعالیٰ سورۃ القصص آیت نمبر 46 میں فرماتا ہے:
وَمَاکُنْتَ بَجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْنَادَیْنَاوَلٰکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَقَوَمًا مَّآاَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ
{اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طور کی جانب تھے جب ہم نے آواز دی بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس لئے کہ تو ان کو ہوشیار کردے جنکے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا}
واضح ہوا کہ آپ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں حاضر وناظر نہ تھے اور آیت کے آخر میں کہا گیا ’’مِنْ قَبْلِکَ( یعنی تم سے پہلے) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی ہوتے تو ایسا نہ کہا جاتا۔
۲) اللہ تعالیٰ سورۃ یوسف آیت نمبر 3 میں فرماتا ہے۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآاَوْحَیْنَآاِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ o
(ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا ہے اور یقینا آپ اس سے پہلے بے خبر وں میں سے تھے)
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے میں حاضر و ناظر ہوتے تو یقینا سیدنا یوسف علیہ السلام کے حالات سے واقف ہوتے ۔ لیکن اس آیت سے صاف صاف واضح ہے کہ آپ قصّہ یوسف علیہ السلام سے ناواقف تھے۔
۳) اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران آیت نمبر 44 میں فرماتا ہے۔
ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْیُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْیَخْتَصِمُوْنَo
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! {یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔ تُو ان کے پاس نہ تھا جبکہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ اُن میں سے مریم (علیہا السلام) کی کفالت کون کرے گا؟ اور نہ تُوانکے جھگڑے کے وقت ان کے پاس تھا}روشنی خود اپنے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ دلائل واضح ہیں ان میں تاویل کی گنجائش بھی نہیں ۔ حق تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر نہ تھے۔
۴) اللہ تعالیٰ سورۃ الانفال آیت نمبر 33 میں فرماتا ہے:
وَمَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَo
{اور اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دے گا جب کہ آپ اُن میں موجود ہوں اور اللہ انہیں عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار کرتے ہوں}
یعنی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’حاضر‘‘ (موجود ) ہوں وہاں عذاب نہیں آسکتا ۔ اب شرک کے ٹھیکہ داروں سے میرے چند سوالات ہیں:۔
(1) 26 جنوری 2001 ء میں گجرات میں جو زلزلہ آیا ۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
(2) 26 دسمبر 2004 ء میں ہندوستان اور دیگر ساحلی ملکوں میں سونامی کا قہر بپا کر دینے والا عذاب آیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
(3)8 اکتوبر 2005 ء کو مظفر آباد پاکستان میں خطر ناک زلزلہ آیا جس میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ جانیں ہلاک ہوگئیں ۔کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے؟
(4) 12 جنوری 2010 ء میں ہیٹی (Hati ) میں زلزلہ کی شکل میں عذاب آیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
(5) پچھلی امتیں مثلًا قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ نوح، قومِ لوط وغیرہ پر کیوں عذاب آیا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حاضر تھے؟
امید ہے اللہ تعالیٰ کی یہ آیت مبارکہ(انفال/ ۳۳) بہت سے بھائیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے گی ۔ ان شاء اللہ
۵) اللہ تعالیٰ سورۃ النساء آیت نمبر 102 میں فرماتا ہے:
وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ … الخ
(جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں تو انہیں نماز پڑھائیں)
اب غور کریں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل الشرک کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں تو یہ لوگ امامت کرنے کی جُرأت کیسے کرتے ہیں۔ کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان جیسے شکم پرستوں کے پیچھے نماز ادا کریں گے؟
……٭٭٭……
احادیث سے دلیل
۱) صحیح بخاری شریف ،کتاب الجھاد حدیث نمبر2801 میں سید نا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ستر آدمی (جو قاری تھے) بنو عامر کے یہاں بھیجے جب یہ سب حضرات (بئر معونہ پر) پہنچے تو میرے ماموں حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا میں (بنو سُلَیم کے یہاں )آگے جاتا ہوں اگرمجھے انہوں نے اس بات کا امن دے دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ان تک پہنچائوں تو بہتر ورنہ تم لوگ میرے قریب تو ہوہی۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں گئے اور انہوں نے امن دے دیا۔ ابھی وہ قبیلہ کے لوگوں کو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنا ہی رہے تھے کہ قبیلہ والوں نے اپنے ایک آدمی (عامر بن طفیل) کو اشارہ کیا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے برچھا پیوست کر دیا جو آرپا ر ہوگیا۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا ’’ اللہ اکبر میں کامیاب ہو گیا ۔کعبہ کے رب کی قسم! ‘‘ اس کے بعد قبیلہ والے حرام رضی اللہ عنہ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف (جو ستر کی تعدادمیں تھے) بڑھے اور سب کوشہید کر دیا ۔ البتہ ایک صاحب جو لنگڑے تھے، پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ہمام (راوی حدیث) نے بیان کیا میں سمجھتا ہوں کہ ایک صاحب اور ان کے ساتھی (پہاڑ پر چڑھے تھے) اس کے بعد جبریل (علیہ السلام) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے جاملے ہیں… آخر حدیث تک۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود ہوتے ہیں تو پھر جبریل کو آنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قتل وغارت گری پر وہاں صرف تماشہ ہی کیوں دیکھا؟ کیوں نہ مدینہ سے اپنے صحابہ کا لشکر لے کر ان غریبوںکو بچایا ؟ گوکہ اس حدیث سے واضح ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نہ تھے۔ ورنہ آپ کچھ ضرور کرتے اور جبریل علیہ السلام کو بھی خبر دینے کی ضرورت نہ پڑئی۔
(۲) واقع افک۔ صحیح بخاری شریف ،کتاب الجھاد حدیث نمبر 4750 میں سے روایت ہے: (چونکہ پورا واقع کئی صفحات پر پھیلا ہوا ہے اسلئے ہم واقع کو مختصر اً بیان کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ تفصیلات خود ملا حظہ فرمائیں)
اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:
’’میں ایک جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ تھی ہم واپس آرہے تھے ایک جگہ قافلہ نے پڑا ؤ ڈالا۔ میں رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے قافلے سے تھوڑی دور چلی گئی۔ لَوٹتے وقت میں نے محسوس کیا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ہے ۔ چنانچہ میں اسی کی تلاش میں رہی یہاں تک کہ قافلے نے سفر شروع کیا جب میں وہاں پہنچی تو دیکھا قافلہ چھوٹ گیا ہے ۔ میںنے اپنی چادر لی اور یہ سوچ کر وہیں لیٹ گئی کہ جاکر لوگوں کو میرا پتہ چلے گا تو تلاش کر کے یہیں پہنچ جائیں گے۔ لیٹتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جو پیچھے رہ گیا تھا، اس جگہ پہنچا ۔جوں ہی اُسنے مجھے پا یا تو بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ میں انکی آواز سن کر جاگی اور فوراً منہ کا پردہ کیا۔ آپ نے کچھ کہے بغیر میرے سامنے اپنا اونٹ بٹھا یا میں اس پر سوار ہو گئی تو آپ خود پیدل چل کر قافلے کی طرف روانہ ہوئے ۔جب ہم قافلے میں پہنچے تو منافقوں نے یہ باتیں پھیلانی شروع کر دی کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے یہ رات صفوان کے ساتھ گذاری ہے (نعوذباللہ)۔ منافقوں نے ہمیں ایک خطر ناک سازش کے تحت بدنام کر دیا ۔ جس میں اکثر مسلمان سُوئے ظن کے شکار ہوئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شک میں پڑ گئے اور کئی دنوں تک شک ہی میں رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میری برأت کے سلسلہ میں سورۃ نور کی دس آیات نازل فرمائی۔ ‘‘
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، تو پھر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذ باللہ ) امی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر خواہ مخواہ شک کیا؟اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہی تھے، کہ اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہااس گناہ سے بَری ہے۔ (اس حدیث کے بعد جو چند حدیثیں آتی ہیں ان میں اس بات کی وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ افک کی حقیقت سے قطعاً لا علم تھے۔)
۳) صحیح مسلم شریف ،کتاب الجھاد والسیر حدیث نمبر4640 (ترقیم) میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:
غزوہ احزاب (۵ ھجری) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک رات ہَوا بہت تیز چل رہی تھی اور سردی بھی خوب تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا ’’کوئی ہے جو جاکر کافروں کی خبر لائے اللہ تعالیٰ اسکو قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے گا۔‘‘ یہ سن کر ہم لوگ خاموش ہو رہے اور کسی نے جواب نہ دیا ۔ پھر آپ نے فرمایا ’’کوئی ہے جو کافروں …‘‘پھر تیسری بار بھی یہی فرمایا کسی نے جواب نہ دیا ۔ آخر آپ نے فرمایا خذیفہ تم اُٹھواور جا کر کفار کی خبر لائو۔ جب آپ نے میرا نام لے کر حکم دیا تو مجھے اُٹھے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کرتے ہوئے یہ ہدایت فرمائی کہ کفار کی خبر لائو ۔ لیکن انہیں اشتعال (غصہ) دلانے والی کوئی حرکت نہ کرنا جب میں روانہ ہوا تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے میں گرم حمام میں چلا جا رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچ کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا اُس وقت مجھے پھر سردی محسوس ہونے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا ایک زائد کمبل عنایت فرما دیا جسے اوڑھ کر آپ نماز پڑھا کرتے تھے ۔ میں اُس کمبل کو اوڑ ھ کرسویا تو صبح تک سویا رہا ۔ صُبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اُٹھو نومان ! (بہت زیادہ سونے والے!)
غزوہ احزاب میں حالات اس قدر خطرناک تھے کہ قیامت کے دن رفاقت نبوی کا انعام حاصل کرنے کے لئے بھی صحابہ کرام نے تأمل کیا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر وناظر تھے ، تو پھر کفار کے حالات سے ناواقف کیوں تھے؟ اگر واقف تھے تو پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو وہاں خطرے میں کیوں بھیجا؟
۴) جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ، اس وقت اگر آپ حاضر ناظر تھے تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بروقت اطلاع کیوں نہ دی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیوں نہ بچایا؟ اسی طرح عثمان ، علی ،حسین رضی اللہ عنہم کو کیوں نہ بچایا ؟ کیا آپ صرف تماشا دیکھتے رہے؟
۵) صحیح بخاری شریف ، کتاب الھبۃ و فضلھا حدیث نمبر 2617 میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
’’ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہو ا بکری کا گوشت لائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا (لیکن فوراً ہی فرمایا اس میں زہر ملا ہوا ہے) پھر جب اس عورت کو لایا گیا (اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کرلیا) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ نہیں ! (راوی نے کہا) اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیاـ۔‘‘
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہوتے تو اُس وقت کہاں تھے جب یہودن نے آپ کے کھانے میں زہر ملا یا ؟
……٭٭٭……
عقلی دلائل
۱) یہ نظریہ سراسر عقل کے خلاف بھی ہے۔ کیونکہ جب صحابہ کرام کے پاس اس شخص کی موجود گی تھی جو تمام قسم کے حالات سے واقف تھے تو پھر انہیں جگہ جگہ تکالیف نہ اُٹھانے پڑتے ۔ میرے بھائی ! ذرا غور تو کر! کیا یہ عقیدہ عقل میں سماسکتا ہے ؟؟!!
۲) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل الشرک کی مجالس میں حاضر یعنی موجود ہوتے ہیں تو اہل الشرک زور زور سے درود کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا اس سے ان لوگوں کے اعمال برباد نہیں ہوتے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات آیت نمبر 2 میں فرماتا ہے۔یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَرْفَعُوْٓا اَصَْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْھَرُوْالَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ 0
اس آیت کا شان نزول مشہور ہے۔ وہ یہ کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک مسئلے پربحث ہوئی دونوں دربار نبوی میں تھے۔ سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتے تھے۔ بحث وتکرار میں دونوں کی آوازیں قدرے بلند ہوئیں جس پر یہ آیت نازل ہوئی(تفسیر ابن کثیر)۔ اب اہل الشرک کے پاس دو ہی راستے ہیں یااس عقیدے کو چھوڑ کر اپنے اعمال بچائیں۔ یا پھر زور زور سے چلّانا چھوڑ دیں۔لیکن افسوس اُنکی ہٹ دھرمی نے اُنکو چکی کے دوپاٹوں کے درمیان لا کھڑا کیا۔
(یہاں شیخ بشیر احمد نہامی حفظہ اللہ کا ایک لطیفہ یاد آیا۔ فرمایا یہ لوگ اس مرغی کی طرح ہیں جو دو روپیئے کا انڈا دیتی ہے اور پھر اتنا شور کرتی ہے کہ تمام گائوں کو پتا چلتا ہے کہ فلاں مرغی نے انڈا دیا۔ یہ لوگ بھی زیادہ سے زیادہ تین منٹ میں دور رکعت نمازفجر پڑھتے ہیں پھر برابر دو گھنٹوں تک سپیکر کھول کر چلّاتے رہتے ہیں کہ ’’سنو سنو ہم نے دورکعت نماز پڑھ کر بڑا کمال کیا ہے‘‘)
۳)اس عقیدے کی بنا پر بریلوی ’’ہجرتِ مدینہ جیسے عظیم واقعہ ‘‘ کے منکر ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ مکہ میںبھی موجود ہیں اور مدینہ میں بھی۔ تو پھر مکہ سے مدینہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
۴) اگر آپ مجلس میں حاضر ہیں تو پھر آتے کون ہیں؟ سیدھی سی بات ہے جو شخص موجود نہ ہو وہ آتا ہے وہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا ۔ مگر اسی عقیدے کے لوگ سب میلاد، رات 12 بجے روشنی بند کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور ’’سرکار کی آمد مرحبا‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔
۵) اگر آپ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور سب کچھ دیکھ لیتے ہیں تو مرد و عورت کی ہم بستری کے وقت آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں کسی غیر محرم عورت کا چہرہ دیکھنے سے کتراتے ہیں کیا وہ زوجین کی مباشرت کا تماشہ دیکھیں گے (نعوذباللہ)
۶) اس عقیدے کی بنا پر اہل الشرک ’’اسراء اور معراج‘‘ کے واقعہ کے منکر ہوجاتے ہیں جو شخص حرم شریف میں بھی موجود ہے، راستے میں بھی موجود ہے اور بیت المقدس میں بھی موجود ہے۔ اس کے بارے میں کیسے ممکن ہے کہ وہ حرم شریف سے بیت المقدس کا سفر کرے۔
اسی طرح جو زمین پر بھی حاضر ہوا اور آسمان پر بھی حاضر ہو تو اسکے لئے کوئی یہ کہے کہ اُسنے معراج کیا ؟ تو یہ عجیب بات ہوئی ! عقل کے اندھو ! غور تو کرو۔ ذراہوش کے ناخن تو لو!
……٭٭٭……
شرک کی یلغار اور توحید کی دیوار
حملہ نمبر۱:۔ قرآن میں ہے:وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ شَہِیْداً عَلَیْْہِم مِّنْ أَنفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیْداً عَلَی ہَـؤُلٓائِ (سورۃ النحل ،آیت نمبر89)نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر امت پر کیسے گواہ ہونگے اگر وہ حاضر وناظر نہ ہونگے؟
دفاع:عرض ہے کہ شاہد یا شہید کے لئے ضروری نہیں کہ وہ جس کی گواہی دے رہا ہو وہ اس پر حاضر وناظر بھی ہو۔ چند دلائل درج ذیل ہیں:
[۱] سورۃ یوسف، آیت نمبر 26میں ہے:وَشَہِدَ شَاہِدٌمِّنْ اَہْلِھَا (اس کے گھر والوں میں سے [جو ایک شیرخوار بچہ تھا] نے گواہی دی)
[۲] وَکَذَلِکَ جَعَلْنٰکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْداً (سورۃ البقرہ آیت نمبر 143)
(یعنی ہم نے اس طرح تمہیں درمیانہ امت بنایا ہیں تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول تم پر گواہ ہوجائے )
[۳] صحیح بخاری شریف، کتاب التفسیرحدیث نمبر4487میں سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا، وہ عرض کریں گے لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ یَا رَب! اللہ رب العزت فرمائے گا، کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ میں نے پہنچا دیا تھا۔پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گاکیا انہوں نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے یہاں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ (نوح علیہ السلام سے)فرمائے گاکہ آپ کے حق میں کوئی گواہی بھی دے سکتا ہے ؟ وہ کہیں گے کہ محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ]اور ان کی امت میری گواہ ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان کے حق میں گواہی دے گی کہ انہوں نے پیغام دیا تھا۔۔۔۔الخ
اب بتائے کیا ہم بھی سیدنا نوح علیہ السلام کے زمانے میں حاضر وناضر تھے؟
حملہ نمبر ۲:جب قبر میں میت کو رکھا جاتا ہے تو فرشتے میت سے پوچھتے ہیں: مَا کُنْتَ تَقْوْلُ فَیْ ھَذَا الرَّجُل یعنی تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا ہیں؟کیا اس جملے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قبر میں حاضر وناظر ہونا ثابت نہ ہوا؟
دفاع: ان الفاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قبر میں حاضر وناظر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ’’ھَذَا الرَّجُل‘‘کا صیغہ دور کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً:
صحیح بخاری شریف ، کتاب بدء الوحَی حدیث نمبر 7میں ہے کہ ہِرَقْل نے ملکِ شام میں ابوسفیان سے کہا ۔ اَیُّکُمْ اَقْرَبُ نَسَبًا بِھَذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ یَزْعُمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ؟یعنی تم میں سے کون اس آدمی کا قریبی رشتہ دار ہے جس نے نبی ہونے کا دعوی کیا ہے؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اور ہرقل شام میں تھا۔
اسی طرح صحیح بخاری شریف ، کتاب الصلح حدیث نمبر2704میں ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنی فوج لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف نکلے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دو آدمی ان کی طرف بھیج کر کہا: اِذْھَبَا اِلَی ھَذَا الرَّجُلیعنی تم دونوں اس آدمی کی طرف جاو۔
یہاں بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سامنے نہیں تھے۔
اسی طرح صلح الحدیبیہ کے موقع پر بُدیل رضی اللہ عنہ نے کفارِ مکہ سے ھَذَا الرَّجُل کے الفاظ کہے تھے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے باہر تھے۔
اسی طرح صحیح بخاری شریف ، کتاب فتن حدیث نمبر7111میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے اپنے بچوں سے کہا اِنَّا قَدْ بَایَعْنَا ھَذَا الرَّجُلَ یعنی بیشک ہم نے اس آدمی (یزید) کی بیعت کی۔
حالانکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مدنیہ میں اور یزید شام میں تھا
[یہاںایک غور طلب نقطہ بھی دیکھ لیںکہ فرشتے الرَّجُلُ (یعنی آدمی نہ کہ نوری)کہیں گے۔]
٭ بعض الناس کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ دکھائے جاتے تو مسئول کہتا : ’’کون سے آدمی؟‘‘
ہم کہتے ہیں کہ یہ سوال کم علمی کا نتیجہ ہے کیونکہ صحیح ابن حبان،کتاب الجنائز حدیث نمبر 3103 میں ہے، کہ جب کافر سے کہا جائے گا کہ تو اُس آدمی کے بارے میں کیا جانتا ہے جو تم میں تھا؟ تو وہ کہے گا ، اَیُّ رَجُلٍ؟ کون سا آدمی ؟ فرشتے کہیں گے ،جو تم میں [پیغمبر] تھا…
الغرض قبر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نہیں کرایا جاتااور آپ ﷺ وہاں حاضر وناظر نہیں ہوتے۔
حملہ نمبر ۳:۔ اللہ تعالیٰ ’’رب العالمین‘‘ ہے۔ یعنی تمام (اگلوں پچھلوں ) کار ب اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’رحمۃٌ للعٰلمین‘‘ ہے یعنی تمام (اگلوں پچھلوں) کے لئے رحمت ۔ ہم جانتے ہیں کہ آج اور بعد کی امت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم رحمت ہے مگر پچھلوں کے لئے آپ کیسے رحمت بن سکتے ہیں؟ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان امتوں میں موجود نہ ہوتے ۔ کیا اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت بھی موجود (حاضر وناظر ) تھے؟
دفاع:۔ یہ بھی اہل الشرک کی جہالت کا ایک بیّن ثبوت ہے ۔ اللہ تو بے شک تمام عالموں (اگلے پچھلے) کا رب ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درجہ ذیل آیات کی بنا پر تمام (اگلوں پچھلوں )کے لئے رحمت کیسے بن سکتے ہیں؟۔(بلکہ جن کے لیے آپﷺ اس دنیا میں رحمت نہیں ان کے لیے آپ آخرت میں رحمت ہیں،وہ اس وقت جب آپﷺ کی سفارش سے حساب میں جلدی ہوگی۔) کیونکہ عالمین کا لفظ بندوں کے لئے محدود معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے ثبوت میں درجہ ذیل آیات پیش ِ خدمت ہیں۔
۱) اللہ تعالیٰ سورۃ الفرقان آیت نمبر 1میں فرماتا ہے:
تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًاo
(بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ ’’عالمین‘‘ کو ڈرائے)
غور طلب بات ہے ۔ عالمین میں فرشتے بھی ہیں۔ غیر ذی العقول جانور پرندے وغیرہ بھی ہیں۔ بے جان چیز یں بھی ہیں۔ بتایئے ان کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ڈرانے والا بنا؟!
۲) اللہ تعالیٰ سورۃ الانبیاء آیت نمبر91میںسیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
اٰ یَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (عالَموں کے لیے نشانی)
۳) اگر اب بھی شک رہا تو لو اب فیصلہ کُن آیت آگئی:
اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ آیت نمبر 47 میں فرماتا ہے:
وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلمِیْنَ o
{اور میں نے تم کو (یعنی بنی اسرائیل کو) عالمین پر فضیلت دی}
اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت افضل ہے یا بنی اسرائیل؟ ؟!!
ان آیات سے واضح ہو گیا کہ عالَمین کا لفظ بندوں کے لئے محدود ہے اور اس جہالت سے حاضر وناظر کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔
حملہ نمبر۴:۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الفیل آیت نمبر1میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ o (یعنی کیا آپ نے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اس واقعہ کے تقریباً50 دن بعد ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہاتھی والوں کا قصہ کیسے دیکھا۔ معلوم ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی حاضر و ناظر تھے!‘‘
دفاع:۔ یہ اُن مفسرین قرآن کی جہالت کا بیّن ثبوت ہے جن کو عربی بلاغہ کی ہَوا تک نہ لگی ہے اور اللہ کے کلام کی تفسیر لکھ رہے ہیں۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہے مگر حقیقت میں اللہ ان سے مخاطب نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے بطور عربی زبان کی فصاحت کے استعمال کیا ہے۔ اس حملے کے دفاع سے پہلے ایک آیت پیش خدمت ہے: اللہ تعالیٰ سورۃ نوح آیت نمبر 15 میں فرماتا ہے۔
اَلَمْ تَرَوْاکَیْفَ خَلَقَ اللہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا
(کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے)
تَرَوْا اصل میں تَرَوْنَ تھا جو جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے اور لَمْجو حرف جازم ہے، کی وجہ سے تَرَوْنَ کا ’’نون اعرابی‘‘ گر گیا اور الف زائد جمع کی علامت باقی رکھنے کے لئے لا یا گیا ۔ الغرض لَمْ تَرَوْا کے معنی ہیں’’کیا تم (لوگوں) نے نہیں دیکھا‘‘۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کن لوگوں سے مخاطب ہے؟ یا تو اللہ تعالیٰ مکہ کے مشرکین سے مخاطب ہے یا تمام لوگوں سے ۔ اصحاب الفیل تو کَل کی بات ہے۔ لیکن زمین وآسمان کی تخلیق کروڑوں سال پہلے کی ہے۔ تو کیا مشرکینِ مکہ کروڑوں سالوں سے حاضر و ناظر تھے؟؟!!
جسے عربی بلاغہ کی تھوڑی بھی ہَوا لگی ہو وہ بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کیا فرمارہا ہے۔ اس انداز بیان کے کئی مطالب ہو سکتے ہیں:
(۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے مشرکین مکہ سے کہا گیا ہے کہ تم لوگ تو اصحاب الفیل کے واقعہ سے واقف ہو۔ تم نے تو اسکو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ پھر تم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالف ہونے کی جُرأت کیسے کرتے ہو؟
(۲) یہ واقعہ اس قدر مشہور تھا کہ وہ شخص بھی جس نے اس واقعہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا تھا اس کی شہرت کی وجہ سے جانتا تھا کہ اس واقعہ کے اسباب کیا تھے۔
(۳) قرآن کا ایک خاص انداز بیان ہے کہ تنبیہ اس کو کی جاتی ہے جس سے غلطی سرزد ہو۔ تاکہ وہ غلطی سے باز آئے(مثلاً: اللہ تعالی سورۃ الملک آیت نمبر3اور4 میں بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطت ہے لیکن اصل میں حکم ان لوگوں کو دیا جارہا ہے جو اللہ کی ربوبیت میں شک میں پڑے ہوئے ہیں) معلوم ہوا یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ’’یاد رکھو! اللہ تعالیٰ سے ٹکر لینے کا انجام اصحاب الفیل جیسا ہو گا۔ اگر تم بھی باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی انجام ہو گا۔
تو معلوم ہوا کہ یہاں اس آیت میں وہ معنی نہیں ہے جو اہل الشرک نکالتے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔ آمین۔
حملہ نمبر ۵:۔اللہ تعالیٰ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سورۃ الانعام ، آیت نمبر 163 میں اعلان کر واتا ہے کہ کہو’’اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (یعنی میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔ گویا آپ سب سے پہلے انسان تھے)
دفاع:۔ یہ بھی جہالت کا ایک بیّن ثبوت ہے اسی طرح کی بات اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر 143 میں موسیٰ علیہ السلام سے کہلواتا ہے فرمایا :
…سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ
اے اللہ!(تمہاری ذات منزہ ہے میں تمہاری جناب میں معذرت کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں)
تو کیا خیال ہے؟ اب سیدناموسیٰ علیہ السلام پہلے ہیں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ؟نیز یہی بات ان جادوگروں نے بھی کہی تھی۔ جنہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کیاتھا اورسیدنا موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الشعراء آیت نمبر 51 میں فرماتا ہے کہ جب فرعون نے ان لوگوں کو سزا دینے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا:
اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلَنَارَبُّنَاخَطٰیٰنَ
(ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فر ما دے گا۔ کیونکہ ہم سب سے پہلے مومن ہیں)
الغرض ان آیات کو جمع کرنے کے بعد ہم جو معنی صاف طور سے سمجھ سکتے ہیں۔ اس کو حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے اپنی مشہور تفسیر ’’احسن البیان میں سورۃ الزمر آیت نمبر12‘‘ کے تحت لکھا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کر کے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔‘‘ (صفحہ نمبر1295)
حملہ نمبر ۶:۔ تشہُّد (التحیات کی حالت ) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر کے صیغہ کے ساتھ درود بھیجتے ہیں۔ کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حاضر وناظر ہونا ثابت نہیں ہوتا ؟
دفاع:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایسی تو حیدی تربیت فرمائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال پُر ملال کے بعد ہی اُنہوںنے اس خطرے کو محسوس فرمایا کہ تشہد میں صیغہ حاضر کے الفاظ سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر وناظر ہونے کا شک نہ ہوجائے ۔ اس لئے انتقال کے فورًا بعد ہی اس مسئلہ پر بحث چھڑ گئی۔
صحیح بخاری شریف ، کتاب الا ستئذان حدیث نمبر 6265 میں سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ (جی ہاں! وہی صحابی جس کی طرف منسوب، بریلوی اور دیوبندی حضرات رفع الیدین نہ کرنے کی دلیل پیش کرتے ہیں)سے روایت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھا یا ۔ اس وقت میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا۔ جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِاللہِ الصّٰلِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
(اس کے بعد سید نا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ بات فرمائی جو ہمارے ہدایت کا سبب بن سکتی ہے۔) فرمایا:وَھُوَ بَیْنَ ظَھْرَانَیْنَافَلَمَّاقُبِضَ قُلْنَا : السَّلَامُ ۔یَعْنِیْ۔ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے۔ جب آپ کی وفات ہوگئی تو ہم (حاضر کے صیغہ کے بجائے ) اس طرح پڑھنے لگے۔ ’’السلام علی النبی ‘‘یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے ورنہ وہ ایک لمحہ بھی’’علیک ایھاالنبی‘‘ کی جگہ’’ علی النبی ‘‘ نہ پڑھتے۔
اگر کسی کے دل میں مذکورہ شرکیہ عقیدہ نہ ہو تو وہ ’’علیک ایھاالنبی‘‘ بھی پڑھ سکتا ہے۔ اس میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر وناظر جان کر سلام نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ہماری سلام پہنچانے کا بندوبست فرمایا ہے۔ تو جس طرح ہم خط و کتابت میں صیغہ حاضر استعمال کرتے ہیں اسی طرح یہاں بھی ہے۔ کیونکہ نہ تو خط میں ’’السلام علیکم‘‘ لکھتے وقت ہمارا دوست ہمارے سامنے ہوتا ہے اور نہ ہی ’’وعلیکم السلام‘‘ کہتے وقت ہم اپنے دوست کے سامنے ہوتے ہیں۔ الغرض تشہد کے الفاظ ’’علیک ایھا النبی‘‘ سے شرکیہ عقیدے کی قطعاً تائید نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
حملہ نمبر ۷:۔ آدم علیہ السلام نے حوا علیہا السلام سے نکاح میں بطور مہر کیا چیز رکھی؟ اور آدم علیہ السلام کی توبہ کس طرح قبول ہوئی؟
دفاع:۔ ’’کہتے ہیں کہ جب آدم اور حوا علیہما السلام کا نکاح ہوا توآدم علیہ السلام نے بطور مہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ’’دس درود‘‘ ادا کئے۔ اسی طرح جب آدم علیہ السلام نے توبہ کے قبول ہونے کی کوئی سبیل نہ پائی تو اس نے عرش کی طرف دیکھا اور وہاں ’’لا اِلہ الا اللہ ‘‘کے ساتھ ’’محمد رسول اللہ ‘‘لکھا پا یا ۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ جس کو آپ نے اپنے ساتھ مجھ سے پہلے بھی جوڑا ہے۔ اسی کے وسیلے میری مغفرت فرما۔ چنانچہ اللہ نے توبہ قبول فرمائی ۔‘‘
ایک زمانہ تھا کہ اہل الشرک مساجد کے منبروں پر بیٹھ کر یہ واقعات سُناسُنا کر لوگوں کے عقائد پر ڈاکہ ڈالتے تھے۔ محبت رسول کا ڈھونگ رچا کر اپنی پیٹ پوجا کر تے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے علم عام ہوگیا ہے۔ اب ان پیروں اور درویشوں کا جادو ٹوٹ چکا ہے ۔ اب بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ جس حدیث کو سلف صالحین نے ضعیف قرار دیا وہ قطعاً قابل عمل نہیں ہو سکتی پھر کہنے والا کتنا بڑا درویش ہی کیوں نہ ہو۔ رہی بات اوپر کے دو حدیثوں کی، تویہ بناسپتی مولویوں نے گھڑلیئے ہیں۔ پھر طُرہ یہ کہ جب کوئی اُن سے دلیل طلب کرتا ہے۔ تو اس پر بھی ایک حدیث گھڑتے ہیں۔ ایک خوش بیان ’’وازوان مولوی صاحب‘‘ اپنی ایک تقریر میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے موقعے پر نوے (90) ہزار عُلوم عطا کئے۔ پھر حکم فرمایا کہ ان میں سے تیس ہزار خاص میں، تیس ہزار عام میں تقسیم کر دے اور پھر تیس ہزار کو اندھی بانٹ بانٹنا۔ جس کی جو قسمت ہوگی اسکووہی ملے گا تو یہ جو احادیث ہم بیان کرتے ہیں یہ انہی تیس ہزار میں سے ہونگے۔یہ آپ کو احادیث کی کتابوں میں کہاں ملیںگی۔
میں ان بناسپتی مولویوں سے پوچھتا ہوں۔ کہ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ ان تیس ہزار میں سے کچھ احادیث مجھے بھی مل گئیں۔ تو تم لوگ مجھے کس پیمانے سے جھوٹا ثابت کر سکتے ہو۔
پانچ منٹ کے لئے میرا دعویٰ ہے کہ ’’میرے پاس چند احادیث پہونچی ہیں جن میں ایک درج ذیل ہے۔‘‘
’’آخر زمانہ میں کچھ مشرک لوگ اُٹھیں گے اور ضعیف و موضوع احادیث گھڑ یں گے۔ پھر ان موضوع احادیث کو ثابت کرنے کے لئے ’’90 ہزار علوم ‘‘ والی روایت گھڑیں گے۔ جو مسلمان بھی ایسا زمانہ پائے اسکو چاہئے کہ ان پر بھروسہ نہ کرے بلکہ ان کے خلاف اعلان جہاد کرے ۔ خواہ کیسے بھی کرے‘‘
عرض ہے کہ اہل الشرک میں سے کون ساٹھگ اس روایت کو غلط ثابت کر سکتا ہے۔ اگر ضعیف احادیث کو پہچاننے کا کوئی پیمانہ نہ ہوتا توجو جیسے چاہتاکہہ دیتا۔ الغرض یہ اور اس طرح کی حرکات دین پر ڈاکہ ہے۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمایے۔
رہی دوسری حدیث تو یہ بھی موضوع(گھڑی ہوئی) ہونے کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ اسکا گھڑ نے والا ضرور کوئی پادری یا پنڈت ہوگا جو نصوص قرآنیہ سے ناواقف ہوگا۔ کیونکہ ایسی آیات اکثر و بیشتر دین داروں کی زبان پر ہوتی رہتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ آیت نمبر 37 میں ارشاد فرماتا ہے:
فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
(پس آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کرلی۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے)
اس آیت مبارکہ سے پتا چلا کہ آدم علیہ السلام نے توبہ خود ہی نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے سکھائی ۔ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ان کلمات کا ذکرفرمایا
اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر 23 میں فرماتا ہے:
قَالَارَبَّنَا ظَلَمْنآ اَنْفُسَنَاوَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَاوَتَرْحَمْنَالَنَ
(دونوں کہنے لگے اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی نفسوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نقصان زدہ لوگوں میں ہو جائیں گے)
تو یہ ہے آدم علیہ السلام کے توبہ کی حقیقت ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علماء ِ سو کے شر سے محفوظ رکھے۔آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں