ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام :


(۱) امام بخاری رحمہ اللہ [المتوفیٰ ۲۵۶؁ھ] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی اثر کے تحت رقمطراز ہیں:

’’اسی طرح ابی بن کعب، حذیفہ بن الیمان اور عبادۃبن الصامت رضی اللہ عنہم نے فرمایا ہے اور سیدنا علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہم اور متعدد اصحابِ نبی سے اسی طرح مذکور [و مروی] ہے۔‘‘

(جزء القرأۃ،حدیث: ۲۵۔ وسندہ صحیح نصر الباری ص۷۸)

(۲) امام ترمذی حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ کے تحت رقمطراز ہیں:

’’اکثر صحابہ اور تابعین کا قرأۃ خلف الامام کے بارے میں اس حدیث پر عمل ہے۔ مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد بن حنبل اور اسحٰق [رحمہم اللہ] بھی اسی کے قائل ہیں کہ قرأۃ خلف الامام جائز ہے۔‘‘

(سنن ترمذی، تحت حدیث: ۳۱۱)

(۳) سیدنا حسن البصری تابعی رحمہ اللہ [المتوفی ۱۱۰؁ھ] نے فرمایا:

’’ امام کے پیچھے ہر نماز میں، سورۂ فاتحہ اپنے دل میں پڑھ۔‘‘

(کتاب القرأۃ،حدیث:۲۴۲۔ مصَنف ابن ابی شیبۃ، حدیث: ۳۷۶۲۔ وسندہ صحیح: الکواکب ص ۲۷)

(۴)امام شافعی رحمہ اللہ[المتوفی ۱۵۰؁ھ] فرماتے ہیں:

’’کسی آدمی کی نماز جائز نہیںجب تک وہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھ لے، چاہے وہ امام ہو یا مقتدی، امام جہری قرأۃ کررہا ہو یا سری، مقتدی پر یہ لازم ہے کہ سری اور جہری [دونوں نمازوں میں] سورۂ فاتحہ پڑھے۔‘‘

(معرفہ السنن و الآثار للبیہقی[جلد۲،باب القراء ت خلف الامام ] حدیث ۹۲۸، نصر الباری ص ۲۴۸تحت حدیث:۲۲۶)

(۵)امام ترمذی، امام اہل السنہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’اس کے باوجود امام احمد بن حنبل [رحمہ اللہ] نے قراۃخلف الامام کو اختیار کیا اور یہ کہ آدمی سورۂ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔‘‘

(ترمذی، تحت حدیث:۳۱۱)

(۶) امام بخاری اور امام بیہقی رحمہما اللہ :

امام بخاری اور امام بیہقی رحمہما اللہ نے اس موضوع کے ثبوت پر مستقل دو کتابیں تحریر فرمائی ہے۔ یعنی یہ دونوں نہ صرف فاتحہ خلف الامام کے قائل ہیں بلکہ اسکے قائل و داعی بھی ہیں۔

(۷) امام الاوذاعی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۵۰؁ھ) نے فرمایا:

’’امام پر یہ [لازم و] حق ہے کہ وہ نماز شروع کرتے وقت، تکبیر اولیٰ کے بعد سکتہ کرے اور سورۂ فاتحہ کی قرأۃ کے بعد ایک سکتہ کرے تاکہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے سورۂ فاتحہ پڑھ لیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ [مقتدی] اسی کے ساتھ سورۂ فاتحہ پڑھے اور جلدی پڑھ کر ختم کرے پھر کان لگا کر سنے۔‘‘

(کتاب القرأۃ، حدیث: ۲۴۷۔ وسندہ صحیح: نصر الباری ص۱۱۷)

(۸) شاہ محدث دہلوی رحمہ اللہ [المتوفیٰ: ھ]

’’اور مقتدی پر واجب ہے کہ چپ کھڑا رہے اور قرآن کو سنتا رہے۔ پھر اگر امام جہر سے پڑھتا ہے تو جب وہ سکوت کیا کرے اس وقت وہ پڑھ لیا کرے اور اگر آہستہ پڑھ رہا ہے تو مقتدی کو اختیار ہے (کہ اگر فاتحہ بھی پڑھے یا ضم بھی ملالے)اگر مقتدی پڑھے تو سورۂ فاتحہ پڑھ لے مگر اس طرح سے پڑھے کہ امام اس کے پڑھنے سے اپنا پڑھنا نہ بھول جائے اور یہی میرے نزدیک سب سے بہتر قول ہے اور تمام احادیث کی تطبیق اس کے مطابق ہوسکتی ہے۔

(حجۃ اللہ بالغۃ[اردو] ص۳۳۵،باب نماز کے اذکار سات مستحنہ کا بیان)

(۹) شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ بھی فاتحہ خلف الامام کے قائل و فاعل تھے۔ (حوالہ گذر چکا ہے)

(۱۰) اشرف علی تھانوی دیوبندی [المتوفی ] کا فتویٰ:

’’اب رہا یہ امر کہ مقتدیوں کو جو قرأۃ خلف الامام سے منع کیا جاتا ہے تو اس باب میں کوئی حدیث نہیں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منع ثابت ہو۔‘‘

(تقریر ترمذی ص۶۸)

ایک اور جگہ اس شخص کے بارے میں، جو وہاں جمعہ پڑھتا ہے جہاں حنفیہ کی اکثر شرائط مفقود ہوتی ہیں،کہا:’’ ایسے موقعہ پر فاتحہ خلف الامام پڑھ لینا چاہئے تاکہ امام شافعی کے مذہب کے بناء پر نماز ہوجائے۔‘‘

(تجلیات رحمانی ص۲۳۳، بحوالہ آینئہ دیوبندیت ص ۱۸۷)

(۱۱) محدث دیوبند انور شاہ لولابی کشمیری فرماتے ہیں:

’’لَمْ اَرِ فِیْ نَقْلِ عَنِ الْاِمَامِ اَنَّ الْقِرْأۃَ فِیْ السِّرِیَّۃِ لَا تَجُوْزُ‘‘

(فیض الباری ج۲ص۲۸۱، تحت حدیث:۵۳۰)

یعنی میں نے کسی جگہ یہ لکھا ہوا نہیں دیکھا کہ سری میں امام ابوحنیفہ نے قرأۃ کوناجائز کہا ہے۔

آگے فرماتے ہیں:

’’ واَمَّا الامام اَبو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی فالمحقَّق عندی من مذھبہ: اَنہ حَجَرَ عن القراء ۃ فی الجھریہ، واَجاز بھا فی السِّریۃ‘‘ انہوں نے صرف جہری میں قرأۃ سے روکا ہے اور سری میں پڑھنے کی اجازت دی ہے۔‘‘

(فیض الباری ،کتاب الاذان،ج۳ ص۳۲،تحت حدیث:۷۵۱)

حنفیوں کی سب سے معتبر کتاب’’الھدایہ‘‘میں لکھا ہے:

’’محمد بن حسن الشیبانی [تلمیذ ابو حنیفہ] سے مروی ہے کہ امام کے پیچھے الحمد …پڑھنا احتیاتاً مستحسن [بہتر] ہے۔‘‘

(الھدایہ [درسی] ج۱ص۱۲۲، باب فصل فی القرأۃ)

یہی قول الفقیہ ابو اللیث سمرقندی حنفی [متوفیٰ ۳۷۵؁ھ]نے بھی کتاب ’’فتاویٰ النوازل‘‘ میں نقل کیا ہے۔

(فتاوی النوازل، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ،ص۷۵۔مکتبہ دار الایمان دیوبند)

(۱۲) امام کے پیچھے سراً قرأۃ کرنے میں کوئی نقصان نہیں۔ علامہ ابن عبدالبَر رحمہ اللہ [المتوفی: ۴۶۴؁ھ] فرماتے ہیں۔

’’وقد اجمع العلماء علی ان من قرأ خلف الامام فصلاتہ تامۃ ولا اعادۃ علیہ‘‘[یعنی اس بات پرعلَماء کا اجماع ہے کہ جس نے قراء ت خلف الامام کی تو اس کی نماز مکمل ہے، دوبارہ نہیں پڑھنی]

(الاستذکار،کتاب الصلوۃ،باب ترک القراء ۃ خلف الامام فیما جھر فیہ، ج۱ص۴۷۰)

(۱۳) رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں:

’’ارشاد خدا وندی میں جو حدیث قدسی میں واقع ہے قسمت الصلوٰۃ بینی و بین عبدی نصفین۔ پس جب اس کو اس قدر خصوصیت بالصلوٰۃ ہے تو اگر سکتات میں اس کو پڑھ لو تو رخصت ہے اور یہ قدر قلیل آیات میں محل ثنا میں ختم بھی ہوسکتی ہیں اور خلط قرأۃ امام کی نوبت نہیں آتی۔‘‘

(تالیفات رشیدیہ ، ص۵۱۲ [سبیل الرشاد])

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟