اسلام میں عقیدہ حلول کی ابتداء
. * بسم اللہ الرحمن الرحیم *
.
{{{ اسلام میں عقیدہ }}}
حلول کی ابتداء
.
اسلام میں اس عقیدہ کی داغ بیل عبداللہ بن سبا یہودی نے ڈالی تھی-
.
یہ شخص یمن کے شہر صنعاء کا رہنے والا نہایت ذہین وفطین آدمی تھا-
.
قرون اولی میں یہود یوں کو جو ذلت نصیب ھو ئی اس کا انتقام لینے کے لئے منافقانہ طور پر مسلمان ھوا
.
کیونکہ وہ سمجھتا تھاکہ عملی میدان میں اب مسلمانوں سے انتقام لینے کی یہود یوں میں سکت باقی نہیں رہ گئی-
.
لہذا وہ مسلما نوں کے عقائید میں تفر قہ کے بیج بو کر تشتت و انتشار پید ا کر نا چا ہتا تھا-
.
یہ شخص در ویشی کا لبا دہ اوڑھ کر زہد و تقوا کے روپ میں سامنے آیا
.
اور اسی زہد و تقوا کی ریا کا ری سے نو مسلمیوں کو اپنا گر ویدہ بنا لیا-
.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زما نہ میں مسلمان ہوا اور حالات کے دھار ے کا انتظار کر تا رہا -
.
اس کی یہ سازشی تحریک انتہا ئی خفیہ طور پر مکہ اور مدینہ سے دور دور کو فہ، بصرہ، اور مصر میں کام کر رہی تھی-
.
با لآخر اسی یہودی کے حامیو ں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر مختلف الزامات عا ید کئے
.
اور موقعہ پاکر غنڈاگر دی کر کے انہیں شہید کر دیا -(انا للہ و انا الیہ راجعون)
.
اسلام کے جسم پر اس نے دوطرح کے" وار " کئے اور اپنی سازش کی کا میا بی کے لئے حصرت علی رضی اللہ عنہ کو بطور ہیرو متخب کیا-
.
((( پہلا وار )))
.
نو مسلم عجمی، لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابتداری کی بناء پر خلا فت کے اصل حقدار حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں-
.
اور پہلے تین خلیفو ں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق غصب کیا ہے
.
نئے مسلمان جو ابھی اسلامی تعلیمات سے پوری طرح آشنا نہ تھے-
.
دنیا کے عام دستور وراثت و نیابت کے مطا بق اس کی چال میں آگئے-
.
((( دوسرا وار )))
.
چونکہ خود درویشی کے روپ مں آیا تھا-لہذا ظاہر اور باطن کی تفریق کر کے اور شریعت و طریقت کے رموز بتلا کر
.
ان نو مسلموں میں دین طریقت کے ملحدانہ اور کافرانہ نظریات داخل کر دیئے
.
اور بتلا یا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خدا کی ذات کا مظہراور روپ ہیں ، اورخدا ان کے بدن میں حلول کر گیا ھے-
.
ایک دفعہ خود اس نے کو فہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخا طب کر کے رمز وکنایہ کی زبان میں کہا "انت ھو" تو وہی ھے -
.
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے نظریہ کو بھا نپ گئے اور اسے سخت سرزنش کی.
.
بعد میں اسے سزا دینےکے لئے بلا بھیجا، لیکن معلوم ھوا کہ وہ کو فہ سے راہ فرار اختیار کر چکا ھے.
.
بہر حال اس نے اپنے معتقدین کی ایک جماعت تیار کر لی تھی -
.
اہک دفعہ یہ لو گ علی الاعلان با زار میں کھڑے ھو کر اپنے نظریہ کا پر چار کر رہےتھے-
.
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا غلام قنبر نے بھی یہ با تیں سنیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جا کر اطلا ع دی کہ
.
کچھ لوگ آپ کو خدا کہہ رہے ہیں اور آپ میں خدائی صفات مانتے ہیں- آپ نے ان کو بلا یا یہ قوم زط کے (70) ستر اشخاص تھے -
.
ان سے آپ نے پو چھا ؛ تم کیا کہتے ھو ؟ انہو نے کہا ! " آپ ہما رے رب ہیں اور خالق و رازق ہیں "
.
آپ نے فر مایا " تم پر افسوس ھے - میں تو تم جیسا ایک بندہ ہوں ،تمھاری طرح کھا تا پیتا ہوں،
.
اگر اللہ کی اطاعت کروں گا تو مجھے آجر دے گا اور اس کی نا فر ما نی کرو ں گا، تو مجھے سزا دےگا،
.
لہذا تم خدا سے ڈرو اور اس عقیدے کو چھو ڑدو -"
.
دوسرے دن قنبر نے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ وہ لوگ تو وہی کچھ کہہ رہے ہیں
.
آپ نے دو بارہ انہیں بلا یا اور پھر تنبیہ اور سر زنش کی، لیکن پھر بھی یہ لوگ باز نہ آئے-
.
تیسرے دن آپ نے بلا کر ان کو دھمکی بھی دی کہ اگر تم نے پھر یہی بات کہی تو
.
میں تم کو بد ترین طریقہ سے سزا دوں گامگروہ اپنی بات پر اڑے ریے -آپ نے ایک گڈھا کھد وایا اور اس میں آگ جلو ائی اور ان سے کہا-
.
"دیکھو ! اب بھی بازآجائو-ورنہ اس گڑھے میں پھیک دوں گا، مگر وہ اپنے عقیدہ پر قائیم رہے
.
تب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے آگ میں پھینک دیئے گئے-"
.
(فتح الباری شرح صحیح
بخاری. ص 238 ج13 )
.
امام بخا ری نے یہ حدیث مختصرا صحیح بخاری کتاب استتابہ المرتدین میں درج
فر ما ئی ھے ،
.
اور حلولیوں کے لئے "زنادقہ"کا لفظ استعمال کیا ھے اوریہ بھی صرا حت کی ہے
.
کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اگر میں حا کم ہو تا، تو ان لو گوں کو جلا نے کہ بجائے قتل کر ڈالتا-
.
اللہ رب العلمین سے دعاء ہے کہ ہم سب مسلما نوں کو ایسے بد عقید گی اور کقر یا عقیدہ سےبچا ئے
.
اور خاتمہ قر آن وسنت کے عقیدہ پہ نصیب فر مائیں ، آمین .
.
=============؛
.
{{{ اسلام میں عقیدہ }}}
حلول کی ابتداء
.
اسلام میں اس عقیدہ کی داغ بیل عبداللہ بن سبا یہودی نے ڈالی تھی-
.
یہ شخص یمن کے شہر صنعاء کا رہنے والا نہایت ذہین وفطین آدمی تھا-
.
قرون اولی میں یہود یوں کو جو ذلت نصیب ھو ئی اس کا انتقام لینے کے لئے منافقانہ طور پر مسلمان ھوا
.
کیونکہ وہ سمجھتا تھاکہ عملی میدان میں اب مسلمانوں سے انتقام لینے کی یہود یوں میں سکت باقی نہیں رہ گئی-
.
لہذا وہ مسلما نوں کے عقائید میں تفر قہ کے بیج بو کر تشتت و انتشار پید ا کر نا چا ہتا تھا-
.
یہ شخص در ویشی کا لبا دہ اوڑھ کر زہد و تقوا کے روپ میں سامنے آیا
.
اور اسی زہد و تقوا کی ریا کا ری سے نو مسلمیوں کو اپنا گر ویدہ بنا لیا-
.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زما نہ میں مسلمان ہوا اور حالات کے دھار ے کا انتظار کر تا رہا -
.
اس کی یہ سازشی تحریک انتہا ئی خفیہ طور پر مکہ اور مدینہ سے دور دور کو فہ، بصرہ، اور مصر میں کام کر رہی تھی-
.
با لآخر اسی یہودی کے حامیو ں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر مختلف الزامات عا ید کئے
.
اور موقعہ پاکر غنڈاگر دی کر کے انہیں شہید کر دیا -(انا للہ و انا الیہ راجعون)
.
اسلام کے جسم پر اس نے دوطرح کے" وار " کئے اور اپنی سازش کی کا میا بی کے لئے حصرت علی رضی اللہ عنہ کو بطور ہیرو متخب کیا-
.
((( پہلا وار )))
.
نو مسلم عجمی، لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابتداری کی بناء پر خلا فت کے اصل حقدار حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں-
.
اور پہلے تین خلیفو ں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق غصب کیا ہے
.
نئے مسلمان جو ابھی اسلامی تعلیمات سے پوری طرح آشنا نہ تھے-
.
دنیا کے عام دستور وراثت و نیابت کے مطا بق اس کی چال میں آگئے-
.
((( دوسرا وار )))
.
چونکہ خود درویشی کے روپ مں آیا تھا-لہذا ظاہر اور باطن کی تفریق کر کے اور شریعت و طریقت کے رموز بتلا کر
.
ان نو مسلموں میں دین طریقت کے ملحدانہ اور کافرانہ نظریات داخل کر دیئے
.
اور بتلا یا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خدا کی ذات کا مظہراور روپ ہیں ، اورخدا ان کے بدن میں حلول کر گیا ھے-
.
ایک دفعہ خود اس نے کو فہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخا طب کر کے رمز وکنایہ کی زبان میں کہا "انت ھو" تو وہی ھے -
.
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے نظریہ کو بھا نپ گئے اور اسے سخت سرزنش کی.
.
بعد میں اسے سزا دینےکے لئے بلا بھیجا، لیکن معلوم ھوا کہ وہ کو فہ سے راہ فرار اختیار کر چکا ھے.
.
بہر حال اس نے اپنے معتقدین کی ایک جماعت تیار کر لی تھی -
.
اہک دفعہ یہ لو گ علی الاعلان با زار میں کھڑے ھو کر اپنے نظریہ کا پر چار کر رہےتھے-
.
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا غلام قنبر نے بھی یہ با تیں سنیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جا کر اطلا ع دی کہ
.
کچھ لوگ آپ کو خدا کہہ رہے ہیں اور آپ میں خدائی صفات مانتے ہیں- آپ نے ان کو بلا یا یہ قوم زط کے (70) ستر اشخاص تھے -
.
ان سے آپ نے پو چھا ؛ تم کیا کہتے ھو ؟ انہو نے کہا ! " آپ ہما رے رب ہیں اور خالق و رازق ہیں "
.
آپ نے فر مایا " تم پر افسوس ھے - میں تو تم جیسا ایک بندہ ہوں ،تمھاری طرح کھا تا پیتا ہوں،
.
اگر اللہ کی اطاعت کروں گا تو مجھے آجر دے گا اور اس کی نا فر ما نی کرو ں گا، تو مجھے سزا دےگا،
.
لہذا تم خدا سے ڈرو اور اس عقیدے کو چھو ڑدو -"
.
دوسرے دن قنبر نے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ وہ لوگ تو وہی کچھ کہہ رہے ہیں
.
آپ نے دو بارہ انہیں بلا یا اور پھر تنبیہ اور سر زنش کی، لیکن پھر بھی یہ لوگ باز نہ آئے-
.
تیسرے دن آپ نے بلا کر ان کو دھمکی بھی دی کہ اگر تم نے پھر یہی بات کہی تو
.
میں تم کو بد ترین طریقہ سے سزا دوں گامگروہ اپنی بات پر اڑے ریے -آپ نے ایک گڈھا کھد وایا اور اس میں آگ جلو ائی اور ان سے کہا-
.
"دیکھو ! اب بھی بازآجائو-ورنہ اس گڑھے میں پھیک دوں گا، مگر وہ اپنے عقیدہ پر قائیم رہے
.
تب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے آگ میں پھینک دیئے گئے-"
.
(فتح الباری شرح صحیح
بخاری. ص 238 ج13 )
.
امام بخا ری نے یہ حدیث مختصرا صحیح بخاری کتاب استتابہ المرتدین میں درج
فر ما ئی ھے ،
.
اور حلولیوں کے لئے "زنادقہ"کا لفظ استعمال کیا ھے اوریہ بھی صرا حت کی ہے
.
کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اگر میں حا کم ہو تا، تو ان لو گوں کو جلا نے کہ بجائے قتل کر ڈالتا-
.
اللہ رب العلمین سے دعاء ہے کہ ہم سب مسلما نوں کو ایسے بد عقید گی اور کقر یا عقیدہ سےبچا ئے
.
اور خاتمہ قر آن وسنت کے عقیدہ پہ نصیب فر مائیں ، آمین .
.
=============؛
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں