سانحہ کربلا پر صحیح موقف
*سانحہ کربلا پر صحیح موقف*
توجہ سے پڑھیئے----!
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ھے،
اسلام زندہ ہوتا ھے ہر کربلا کے بعد---!
یہ شعر آپ اکثر سنتے ہیں، مطلب یہ کہ سانحہ کربلا سے پہلے اسلام مردہ تھا؟ گویا اللہ کا دین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد محض 50 سال میں ہی دم توڑ گیا؟؟؟ یہ ھے وہ زہر جو یہود ہمارے زہن میں حب اہل بیت کے نام پر ڈال چکے ہیں اور امت کی اکثریت اسکے زیر اثر ھے---! یہ زہر اس کثرت سے پھلایا گیا ھے کہ اب کوئی اس کی حقیقت بیان کرے تو مخالفین کے منہ سے جھاگ اڑنے لگتی ھے اور وہ غریب دبک کر چپ ہو جاتا ھے---!
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ میں یزید کا وکیل نہیں اور نہ ہی سیدنا حسین کے مقابلے میں مجھے یزید سے محبت ھے----! مگر میں اس پر لعن طعن کر کے یا بےبنیاد الزام لگا کر اصل قاتلین حسین کو ریلیف دینے کا بھی قائل نہیں----! اب سوال یہ ھے کہ جب محبت نہیں تو اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟؟؟ تو جواب ھے کہ یزید ایک دیوار ھے----! جو بھی اس کو پھلانگتا ھے وہ صحابہ کرام کے گریبان تک ضرور پہنچتا ھے، اسکی بہت سی مثالیں ہیں-! لہذا میں اس معاملے میں از حد محتاط ہوں-!
×××××××××××××××××××
اب بنا کسی لگی لپٹی کے سیدھی بات پر آتا ہوں، اور نمبروار مختصرا پوری بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
یزید کی بیعت:
کیا ضروری تھا کہ یزید کو ہی خلیفہ بنایا جاتا؟
جی ہاں! یہ ضروری تھا کیونکہ اصحاب معاویہ و اہل شام بنو امیہ کے علاوہ کسی اور کی امارت کو قبول نہ کرتے اور امت بیس سال بعد ایک بار پھر باہمی خانہ جنگی کی طرف چلی جاتی---!
کیا معاویہ رض نے یزید کی نامزدگی کے لئے کسی سے مشورہ لیا؟
جی ہاں! آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا، ان میں چند اصحاب رسول بھی شامل تھے---!
کیا یزید کی بیعت تلوار کے زور پر لی گئی؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
یزید کا کردار کیسا تھا؟
کہا جاتا ھے کہ یزید زانی، شرابی، جواری، ہم جنس پرست، تارکِ نماز، تارکِ صوم اور قاطع شریعت تھا---! تو جناب اس متعلق میں چیلنج بھی کر چکا ھوں کہ ثابت کریں کہ سیدنا حسین رض نے یزید کی نامزدگی سے لے کر اپنی شہادت سے پہلے تک یزید کی وہ برائیاں گنوائیں ہوں جو سب ہی گنواتے ہیں-----!
×××××××××××××××××××
سیدنا حسین رض کا مدینے سے مکہ اور مکے سے کوفے کو کوچ:
آپ رض کو مدینہ سے کسی نے بےدخل کیا تھا؟
نہیں! آپ اپنی مرضی سے گئے تھے!
آپ رض کو مکے سے کسی نے بےدخل کیا تھا؟
نہیں! آپ اپنی مرضی سے گئے تھے، حلانکہ آپ کو آپکے عزیزوں و اصحاب رسول نے روکا بھی تھا---!
آپ رض کو کوفہ کس نے بلایا تھا؟ یزید نے؟
نہیں! کوفیوں نے آپ کو ہزاروں خطوط لکھ کر بلایا کہ ان پر ظلم ہو رہا ھے---!
کیا کوفیوں پر مظالم کئے جا رہے تھے؟
نہیں! جب سیدنا حسین کو خطوط لکھے گئے اس وقت کوفے کے گورنر نعمان بن بشیر رض ایک صحابی رسول تھے جو نہایت عادل و شفیق تھے---!
×××××××××××××××××××××××
قتل حسین رض:
کیا یزید نے قتل حسین کا حکم دیا تھا؟
نہیں! ایسی تمام روایات ضعیف ہیں، یزید نے ابن زیاد کو صرف سیدنا حسین کو کوفہ میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم دیا---!
کیا یزید نے اس مہم کیلئے شامی فوج بھیجی تھی؟
نہیں! قتل حسین میں کوئی ایک بھی شامی یا حجازی شامل نہیں تھا، سب کوفی تھے-! ان میں وہ بھی تھے کہ جن نے آپ کو خطوط لکھے تھے---!
سیدنا حسین کی منزل تو کوفہ تھی مگر آپ کربلا کیوں گئے؟
جب کوفیوں کی اصلیت سیدنا حسین پر کھلی تو آپ نے کوفہ کے بجائے دمشق (شام) کا رخ کیا، کربلا کوفہ سے آگے شمال مغرب میں دمشق کے راستے پر واقع ھے---!
سیدنا حسین دمشق کیوں جانا چاہتے تھے؟
یزید سے ملنے---! کیونکہ وہ کوفیوں کی اصلیت جان گئے تھے---!
تو سیدنا حسین دمشق کیوں نہ گئے؟
کوفیوں نے انہیں کربلا کے مقام روک لیا تھا جبکہ ان نے دمشق جانے کا پیغام بھی ابن زیاد کو بھیجا تھا----!
ابن زیاد نے سیدنا حسین کو کیوں دمشق جانے نہ دیا؟
اس نے یزید کو خوش کرنے کی لالچ میں سیدنا حسین سے جبرا بیعت لینے یا جنگ کرنے کا حکم دیا نیز شمر (یہ علی رض کا قریبی ساتھی تھا) نے بھی ابن زیاد کو اس امر پہ ابھارا----!
یزید نے سیدنا حسین کو کربلا میں شھید ہونے سے کیوں نہ بچایا؟
وہ جدید مواصلات کا دور نہیں تھا، کربلا سے تو کوئی کوفی یزید کو اطلاع کرنے سے رہا اور کوفہ سے دمشق اطلاع پہنچنے میں بھی کم سے کم 3 سے 4 روز لگ جاتے---! جب کہ سیدنا حسین 8 یا 9 محرم کو کربلا پہنچے---! یزید کے پاس ایک یا دو دن میں اطلاع پہنچنا ناممکن تھی، اور نہ ہی یزید کو ایسی کسی اطلاع پہنچنے کی کوئی روایت موجود ھے---! یزید کو اطلاع تب پہنچی جب سیدنا حسین قتل ہو چکے تھے، رضی اللہ عنہ-!
××××××××××××××××××
بعد از قتل:
کیا مستورات اہل بیت کو بے پردہ مجرموں کی طرح گھمایا گیا؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
کیا سیدنا حسین کا سر مبارک یزید کے دربار میں پیش کیا گیا، جس کی اس نے گستاخی کی اور فخریہ اشعار پڑھے؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
کیا یزید نے مستورات اہل بیت سے بدکلامی کی؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
کیا یزید نے لٹے کٹے اہل بیت کو جیل میں ڈالا؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----! یزید نے انہیں اپنے گھر میں رکھا---!
یزید نے اہل بیت کے ساتھ کیسا برتاو کیا؟
بہت اچھا، اتنا اچھا کہ سیدہ زینب وہیں رہ گئیں، وہیں ان کی وفات ہوئی اور وہیں تدفین---! یزید انکا داماد بھی تھا-! یزید کی بیوی سیدہ کی سوتیلی بیٹی تھیں---!
کیا یزید نے ابن زیاد کو کوئی سزا یا شاباشی دی؟
نہیں، یزید نے سزا نہیں دی---! کیونکہ اسکے فورا بعد بغاوت ہو گئی سو اسے رفع کرنے میں یزید کو ابن زیاد جیسے ایڈمنسٹریٹر کی حاجت تھی، مگر اس نے کوئی شاباش یا انعام بھی نہ دیا----! البتہ یزید نے ابن زیاد پر لعن طعن ضرور کی---! ٹھیک اس ہی طرح جیسے مالک اشتر ملعون (قاتل عثمان رض) کی علی رض کو حاجت تھی----! یزید نے تو صرف قاتلین حسین کو سزا نہیں دی تھی, جبکہ سیدنا علی کو تو قاتلین عثمان کو عہدے بھی دینے پڑے، سیاسی حالات ہی ایسے تھے کہ سیدنا علی رض قاتلین عثمان سے چاہ کر بھی بدلہ نہ لے سکے! ایسے ہی حالات یزید کو بھی درپیش تھے---!
×××××××××××××××××××××××××
اس سب کے پیچھے کوفیوں کا مقصد:
دراصل کوفی روز اول سے اسلامی سلطنت کے لئے درد سر بنے رہے ہیں، یہ انتہائی مکار، كینہ پرور و فتنہ پرور ہیں----! ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں، ان کے متعلق اہل علم کی رائے پڑھیں---! عبداللہ ابن سبا یہودی کی تحریک یہیں سے اٹھی، عثمان رض کو شھید کرنے والے بھی یہی تھے، دراصل ان نے اہل ہجاز و قریش کی حکومت کو کبھی تسلیم ہی نہ کیا---! یہ یا تو اپنی حکومت چاھتے یا پھر حاکم کو اپنا غلام بنانے کی خواہش رکھتے تھے---!
سیدنا علی رض کو بھی یہ گھیر گھار کر کوفہ لے آئے مگر جب دیکھا کہ وہ انکے کام کے نہیں تو شھید کر ڈالا، سیدنا حسن کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ سیدنا معاویہ سے صلح کرنے جا رھے تھے----! سیدنا معاویہ انکی فطرت سے بخوبی آگاہ تھے لہذا ان نے انہیں دبائے رکھا، لیکن انکے فوت ہوتے ہی ان نے پر پرزے نکال لئے---! مقصد یہی تھا کہ کسی طرح بغاوت ہو جائے اور حکومت ان کے ہاتھ آجائے ورنہ سیدنا حسین کے ساتھ بھی وہی معاملہ کریں جو ان کے والد گرامی کے ساتھ کیا گیا تاکہ انہیں سیاست و بغاوت کیلئے ایک اور ہائی ویلیو لاش مل جاوے اور ان نے سیدنا حسین کو قتل کرنے بعد بغاوت کی بھی اور آج تک یہ مکر کرتے آ رھے ہیں---!
×××××××××××××××××××××××
سیدنا حسین رض کے متعلق میرا موقف:
نواسائے رسول ہیں، نبی پاک کے پھول ہیں، جگر گوشہ بتول رض ہیں----! کروڑوں یزید بھی آپ رض کی قدموں تلی آئی خاک کے برابر نہیں! آپ رض سے محبت ایمان اور بغض کفر ھے----!
یزید کے متعلق میرا موقف:
میرا موقف صرف یہ ھے کہ نہ تو یزید پر لعن طعن کی جائے, البتہ صحابہ اکرام اور ثقہ تابعین کی ایک بڑی جماعت نے یزید کو نہایت نیک سیرت گردانا ہے لہٰذا یزید کو مجموعہ برائیوں سے بَرِی الذِّمہ سمجھنا چاہیے! لیکن اس بات سے یہ سمجھ لینا بھی غلط ہے کہ یزید حضرتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر تھے بلکہ صحیح مؤقف یہ ہے کہ یزید حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاک برابر نہیں اور آج کے علماء و فضلاء یزید کی پائے خاک کے برابر نہیں...
×××××
نوٹ: جن روایات کو ضعیف کہا گیا ہے اگر آپ کو اس پر شک ھے تو مذکورہ روایات مکمل عربی متن، ترجمے، حوالے اور اسناد کے ساتھ نقل کر دیں، ضعف نکال کر دکھانا ہمارا کام----! ان شاءللہ...
توجہ سے پڑھیئے----!
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ھے،
اسلام زندہ ہوتا ھے ہر کربلا کے بعد---!
یہ شعر آپ اکثر سنتے ہیں، مطلب یہ کہ سانحہ کربلا سے پہلے اسلام مردہ تھا؟ گویا اللہ کا دین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد محض 50 سال میں ہی دم توڑ گیا؟؟؟ یہ ھے وہ زہر جو یہود ہمارے زہن میں حب اہل بیت کے نام پر ڈال چکے ہیں اور امت کی اکثریت اسکے زیر اثر ھے---! یہ زہر اس کثرت سے پھلایا گیا ھے کہ اب کوئی اس کی حقیقت بیان کرے تو مخالفین کے منہ سے جھاگ اڑنے لگتی ھے اور وہ غریب دبک کر چپ ہو جاتا ھے---!
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ میں یزید کا وکیل نہیں اور نہ ہی سیدنا حسین کے مقابلے میں مجھے یزید سے محبت ھے----! مگر میں اس پر لعن طعن کر کے یا بےبنیاد الزام لگا کر اصل قاتلین حسین کو ریلیف دینے کا بھی قائل نہیں----! اب سوال یہ ھے کہ جب محبت نہیں تو اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟؟؟ تو جواب ھے کہ یزید ایک دیوار ھے----! جو بھی اس کو پھلانگتا ھے وہ صحابہ کرام کے گریبان تک ضرور پہنچتا ھے، اسکی بہت سی مثالیں ہیں-! لہذا میں اس معاملے میں از حد محتاط ہوں-!
×××××××××××××××××××
اب بنا کسی لگی لپٹی کے سیدھی بات پر آتا ہوں، اور نمبروار مختصرا پوری بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
یزید کی بیعت:
کیا ضروری تھا کہ یزید کو ہی خلیفہ بنایا جاتا؟
جی ہاں! یہ ضروری تھا کیونکہ اصحاب معاویہ و اہل شام بنو امیہ کے علاوہ کسی اور کی امارت کو قبول نہ کرتے اور امت بیس سال بعد ایک بار پھر باہمی خانہ جنگی کی طرف چلی جاتی---!
کیا معاویہ رض نے یزید کی نامزدگی کے لئے کسی سے مشورہ لیا؟
جی ہاں! آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا، ان میں چند اصحاب رسول بھی شامل تھے---!
کیا یزید کی بیعت تلوار کے زور پر لی گئی؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
یزید کا کردار کیسا تھا؟
کہا جاتا ھے کہ یزید زانی، شرابی، جواری، ہم جنس پرست، تارکِ نماز، تارکِ صوم اور قاطع شریعت تھا---! تو جناب اس متعلق میں چیلنج بھی کر چکا ھوں کہ ثابت کریں کہ سیدنا حسین رض نے یزید کی نامزدگی سے لے کر اپنی شہادت سے پہلے تک یزید کی وہ برائیاں گنوائیں ہوں جو سب ہی گنواتے ہیں-----!
×××××××××××××××××××
سیدنا حسین رض کا مدینے سے مکہ اور مکے سے کوفے کو کوچ:
آپ رض کو مدینہ سے کسی نے بےدخل کیا تھا؟
نہیں! آپ اپنی مرضی سے گئے تھے!
آپ رض کو مکے سے کسی نے بےدخل کیا تھا؟
نہیں! آپ اپنی مرضی سے گئے تھے، حلانکہ آپ کو آپکے عزیزوں و اصحاب رسول نے روکا بھی تھا---!
آپ رض کو کوفہ کس نے بلایا تھا؟ یزید نے؟
نہیں! کوفیوں نے آپ کو ہزاروں خطوط لکھ کر بلایا کہ ان پر ظلم ہو رہا ھے---!
کیا کوفیوں پر مظالم کئے جا رہے تھے؟
نہیں! جب سیدنا حسین کو خطوط لکھے گئے اس وقت کوفے کے گورنر نعمان بن بشیر رض ایک صحابی رسول تھے جو نہایت عادل و شفیق تھے---!
×××××××××××××××××××××××
قتل حسین رض:
کیا یزید نے قتل حسین کا حکم دیا تھا؟
نہیں! ایسی تمام روایات ضعیف ہیں، یزید نے ابن زیاد کو صرف سیدنا حسین کو کوفہ میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم دیا---!
کیا یزید نے اس مہم کیلئے شامی فوج بھیجی تھی؟
نہیں! قتل حسین میں کوئی ایک بھی شامی یا حجازی شامل نہیں تھا، سب کوفی تھے-! ان میں وہ بھی تھے کہ جن نے آپ کو خطوط لکھے تھے---!
سیدنا حسین کی منزل تو کوفہ تھی مگر آپ کربلا کیوں گئے؟
جب کوفیوں کی اصلیت سیدنا حسین پر کھلی تو آپ نے کوفہ کے بجائے دمشق (شام) کا رخ کیا، کربلا کوفہ سے آگے شمال مغرب میں دمشق کے راستے پر واقع ھے---!
سیدنا حسین دمشق کیوں جانا چاہتے تھے؟
یزید سے ملنے---! کیونکہ وہ کوفیوں کی اصلیت جان گئے تھے---!
تو سیدنا حسین دمشق کیوں نہ گئے؟
کوفیوں نے انہیں کربلا کے مقام روک لیا تھا جبکہ ان نے دمشق جانے کا پیغام بھی ابن زیاد کو بھیجا تھا----!
ابن زیاد نے سیدنا حسین کو کیوں دمشق جانے نہ دیا؟
اس نے یزید کو خوش کرنے کی لالچ میں سیدنا حسین سے جبرا بیعت لینے یا جنگ کرنے کا حکم دیا نیز شمر (یہ علی رض کا قریبی ساتھی تھا) نے بھی ابن زیاد کو اس امر پہ ابھارا----!
یزید نے سیدنا حسین کو کربلا میں شھید ہونے سے کیوں نہ بچایا؟
وہ جدید مواصلات کا دور نہیں تھا، کربلا سے تو کوئی کوفی یزید کو اطلاع کرنے سے رہا اور کوفہ سے دمشق اطلاع پہنچنے میں بھی کم سے کم 3 سے 4 روز لگ جاتے---! جب کہ سیدنا حسین 8 یا 9 محرم کو کربلا پہنچے---! یزید کے پاس ایک یا دو دن میں اطلاع پہنچنا ناممکن تھی، اور نہ ہی یزید کو ایسی کسی اطلاع پہنچنے کی کوئی روایت موجود ھے---! یزید کو اطلاع تب پہنچی جب سیدنا حسین قتل ہو چکے تھے، رضی اللہ عنہ-!
××××××××××××××××××
بعد از قتل:
کیا مستورات اہل بیت کو بے پردہ مجرموں کی طرح گھمایا گیا؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
کیا سیدنا حسین کا سر مبارک یزید کے دربار میں پیش کیا گیا، جس کی اس نے گستاخی کی اور فخریہ اشعار پڑھے؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
کیا یزید نے مستورات اہل بیت سے بدکلامی کی؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----!
کیا یزید نے لٹے کٹے اہل بیت کو جیل میں ڈالا؟
نہیں! ایسی تمام روایات شدید ضعیف ہیں----! یزید نے انہیں اپنے گھر میں رکھا---!
یزید نے اہل بیت کے ساتھ کیسا برتاو کیا؟
بہت اچھا، اتنا اچھا کہ سیدہ زینب وہیں رہ گئیں، وہیں ان کی وفات ہوئی اور وہیں تدفین---! یزید انکا داماد بھی تھا-! یزید کی بیوی سیدہ کی سوتیلی بیٹی تھیں---!
کیا یزید نے ابن زیاد کو کوئی سزا یا شاباشی دی؟
نہیں، یزید نے سزا نہیں دی---! کیونکہ اسکے فورا بعد بغاوت ہو گئی سو اسے رفع کرنے میں یزید کو ابن زیاد جیسے ایڈمنسٹریٹر کی حاجت تھی، مگر اس نے کوئی شاباش یا انعام بھی نہ دیا----! البتہ یزید نے ابن زیاد پر لعن طعن ضرور کی---! ٹھیک اس ہی طرح جیسے مالک اشتر ملعون (قاتل عثمان رض) کی علی رض کو حاجت تھی----! یزید نے تو صرف قاتلین حسین کو سزا نہیں دی تھی, جبکہ سیدنا علی کو تو قاتلین عثمان کو عہدے بھی دینے پڑے، سیاسی حالات ہی ایسے تھے کہ سیدنا علی رض قاتلین عثمان سے چاہ کر بھی بدلہ نہ لے سکے! ایسے ہی حالات یزید کو بھی درپیش تھے---!
×××××××××××××××××××××××××
اس سب کے پیچھے کوفیوں کا مقصد:
دراصل کوفی روز اول سے اسلامی سلطنت کے لئے درد سر بنے رہے ہیں، یہ انتہائی مکار، كینہ پرور و فتنہ پرور ہیں----! ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں، ان کے متعلق اہل علم کی رائے پڑھیں---! عبداللہ ابن سبا یہودی کی تحریک یہیں سے اٹھی، عثمان رض کو شھید کرنے والے بھی یہی تھے، دراصل ان نے اہل ہجاز و قریش کی حکومت کو کبھی تسلیم ہی نہ کیا---! یہ یا تو اپنی حکومت چاھتے یا پھر حاکم کو اپنا غلام بنانے کی خواہش رکھتے تھے---!
سیدنا علی رض کو بھی یہ گھیر گھار کر کوفہ لے آئے مگر جب دیکھا کہ وہ انکے کام کے نہیں تو شھید کر ڈالا، سیدنا حسن کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ سیدنا معاویہ سے صلح کرنے جا رھے تھے----! سیدنا معاویہ انکی فطرت سے بخوبی آگاہ تھے لہذا ان نے انہیں دبائے رکھا، لیکن انکے فوت ہوتے ہی ان نے پر پرزے نکال لئے---! مقصد یہی تھا کہ کسی طرح بغاوت ہو جائے اور حکومت ان کے ہاتھ آجائے ورنہ سیدنا حسین کے ساتھ بھی وہی معاملہ کریں جو ان کے والد گرامی کے ساتھ کیا گیا تاکہ انہیں سیاست و بغاوت کیلئے ایک اور ہائی ویلیو لاش مل جاوے اور ان نے سیدنا حسین کو قتل کرنے بعد بغاوت کی بھی اور آج تک یہ مکر کرتے آ رھے ہیں---!
×××××××××××××××××××××××
سیدنا حسین رض کے متعلق میرا موقف:
نواسائے رسول ہیں، نبی پاک کے پھول ہیں، جگر گوشہ بتول رض ہیں----! کروڑوں یزید بھی آپ رض کی قدموں تلی آئی خاک کے برابر نہیں! آپ رض سے محبت ایمان اور بغض کفر ھے----!
یزید کے متعلق میرا موقف:
میرا موقف صرف یہ ھے کہ نہ تو یزید پر لعن طعن کی جائے, البتہ صحابہ اکرام اور ثقہ تابعین کی ایک بڑی جماعت نے یزید کو نہایت نیک سیرت گردانا ہے لہٰذا یزید کو مجموعہ برائیوں سے بَرِی الذِّمہ سمجھنا چاہیے! لیکن اس بات سے یہ سمجھ لینا بھی غلط ہے کہ یزید حضرتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر تھے بلکہ صحیح مؤقف یہ ہے کہ یزید حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاک برابر نہیں اور آج کے علماء و فضلاء یزید کی پائے خاک کے برابر نہیں...
×××××
نوٹ: جن روایات کو ضعیف کہا گیا ہے اگر آپ کو اس پر شک ھے تو مذکورہ روایات مکمل عربی متن، ترجمے، حوالے اور اسناد کے ساتھ نقل کر دیں، ضعف نکال کر دکھانا ہمارا کام----! ان شاءللہ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں