قادیانیوں کے لئے چور دروازے کس نے کھولے؟
قادیانیوں کے کے لیے چور دروازے کهولنے والے بریلوی ہی تهے بریلویوں نے اپنا الگ کلمہ بنایا تها
چشتی رسول اللہ
1) مشہور سُنی بزرگ پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے لکھا ہے: ’’وجودِ سالک بعینہ مظہر حقیقۃ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام شدہ در ترنم لاالہ الاللہ چشتی رسول اللہ‘‘
سالک کا وجود بعینہ مظہر حقیقت محمدیہؐ ہو کر’’لا الہ الاللہ چشتی (سالک) رسول اللہ‘‘ کے ترنم میں آتا ہے۔
(تحقیق الحق فی کلمۃ الحق ص127، گولڑہ راولپنڈی)
گویا ختمِ نبوت کے عظیم مجاہد پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے نزدیک ’’لاالہ الاللہ چشتی رسول اللہ‘‘ میں کچھ حرج نہیں بلکہ اس کا قائل و مترنم سلوک کی منزلیں طے کرنے والا ہے جو عین حقیقت محمدیہ کا مظہر بن جائے۔
2) خواجہ غلام فرید چشتی نے لکھا ہے: ’’ایک شخص خواجہ معین الدین چشتی کے پاس آیا اور عرض کیا کہ مجھے اپنا مرید بنائیں۔
فرمایا کہہ لا الہ الاللہ چشتی رسول اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں چشتی اللہ کا رسول ہے۔‘‘
( فوائدِ فریدیہ ص 83)
خواجہ غلام فرید کی کتاب’’فوائد فریدیہ‘‘ کے متعلق علامہ عبد الحکیم شرف قادری نے لکھا: ’’مسلکِ توحید اور اعتقادی مسائل پر بہترین کتاب۔‘‘ (تذکرۂ اکابر اہلسنت ص324)
3) خواجہ معین الدین چشتی نے مرید ہونے کے لئے آنے والے شخص کو کہا:
’’آپ نے فرمایا کہ تو کلمہ کس طرح پڑھتا ہے؟ اس نے کہا لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا یوں کہو! لا الہ الاللہ چشتی رسول اللہ۔ اس نے اسی طرح کہا۔ خواجہ صاحب نے اسے بیعت کر لیااور خلعت و نعمت دی اور بیعت کے شرف سے مشرف کیا۔‘‘
(فوائد السالکین ص27، اکبر بک سیلرز لاہور)
اس کے بعد موجود ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی نے وضاحت کی کہ کلمہ اصلی وہی ہے اور چشتی رسول اللہ کا کلمہ صرف مرید کا اعتقاد جانچنے کے لئے جان بوجھ کر پڑھایا گیا۔ نیز چشتی رسول اللہ کا کلمہ پڑھانے اور مرید کا اسے پڑھ لینے کے بارے میں کہا: ’’چونکہ تو مرید ہونے کیلئے آیا ہے اور تجھے مجھ پر یقین کامل تھا۔ اس لئے فوراً تو نے ایسا کہہ دیا اس لئے سچا مرید ہو گیا۔ اور درحقیقت مرید کا صدق بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ اپنے پیرکی خدمت میں صادق اور راسخ رہے۔‘‘ (فوائد السالکین ص27)
بریلویوں کے ترجمان مسلک اعلیٰ حضرت حسن علی رضوی نے خواجہ غلام فرید کی کتاب ’’فوائد فریدیہ‘‘ سے پیش کیے گئے ’’چشتی رسول اللہ‘‘ کے کلمہ کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’پھر خواجہ غلام فرید علیہ الرحمۃ پر کیا اعتراض ہے جبکہ یہ کلمہ اپنی تفصیل کے ساتھ ’’فوائد السالکین‘‘ملفوظات خواجہ قطب الدین بختیار کاکی مرتبہ خواجہ بابا فرید الدین گنج شکر میں موجود ہے۔‘‘ (برقِ آسمانی بر فتنہ شیطانی ص138، البرہان پبلیکیشنز لاہور)
بریلویوں کی معروف تنظیم ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے علماء و محققین پر مشتمل مجلس المدینۃ العلمیہ نے بھی ’’فوائد السالکین‘‘ کو خواجہ معین الدین چشتی کے خلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ملفوظات تسلیم کر رکھا ہے۔ (دیکھئے ملفوظات اعلیٰ حضرت مع تخریج و تسہیل ص42)
4) اہلسنت بریلوی گروپ کے’ زبدۃ العارفین‘ میرعبدالواحد بلگرامی نے خواجہ معین الدین چشتی کے حوالے سے لکھ رکھا ہے کہ بیعت کی غرض سے حاضر ہونے والے شخص کے کمال ،اعتقاد اور صدق کوآزمانے کے لیے خود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار کے کمینے غلاموں میں سے ماننے کے باوجود کہا:
’’اگر تم کہو کہ’’لا الہ الاللہ چشتی رسول اللہ‘‘ تو میں تمہیں مرید کر لوں۔ وہ شخص چونکہ دھن کا پکا اور سچا تھااس نے فوراً اقرار کر لیا۔ خواجہ نے بیعت کے لیے اسے اپنا ہاتھ دیااور اسے بیعت کر لیا۔‘‘
(سبع سنابل ص278-279، فرید بک سٹال لاہور)
میر عبدالواحد بلگرامی نے’ چشتی رسول اللہ‘ کا کلمہ پڑھنے والے مرید کی تائید کرتے ہوئے کہا: ’’لہٰذا پیر کے ساتھ صدق یہی ہے کہ ظاہر و باطن کی کسی حالت پر زرہ برابر اعتراض نہ کرے۔‘‘ (سبع سنابل ص279)
گویا اگر پیر اپنے نام کا کلمہ بھی پڑھائے تو مرید کو چاہئے کہ پڑھ لے اور اپنے پیر پر اعتراض نہ کرے، سبحان اللہ۔ بھلا بتائیے ایسے میں صرف ایک فرقے پر ہی ختم نبوت کے انکار کا الزام کہاں کا انصاف ہے؟ اصلی اصول تو آپ کی کتب میں درج ہیں، دوسروں نے تو عمل کیا ہے۔ یاد رہے کہ خود کو نبی صلعم کا غلام وغیرہ ماننے جیسی باتیں تو خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب میں بھی موجود ہیں۔
اکثریتی سُنی عوام کے مجدد و امام احمد رضا خان بریلوی نے اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے:
’’سید سادات بلگرام حضرت مرجع الفریقین ، مجمع الطریقین، حبر شریعت، بحر طریقت، بقیۃ السلف،حجۃ الخلف سیدنا و مولانا میر عبدالواحد حسینی زیدی واسطی بلگرامی قدس اللہ تعالیٰ سرہ السامی نے کتاب مستطاب سبع سنابل شریف تصنیف فرمائی کہ بارگاہِ عالم پناہ حضور سید المرسلین ﷺ میں موقع قبولِ عظیم پر واقع ہوئی۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ ج28 ص484-485) نیز دیکھئے فتاویٰ رضویہ (ج14 ص657)
مشہور سُنی محقق علامہ عبدالحکیم شرف قادری نے بھی لکھا: ’’سبع سنابل عمدہ ترین کتابے است در عقائدو تصوف … عظیم ترین امتیاز کہ سبع سنابل را حاصل شد این است کہ درگاہِ محبوب رب ا یہلعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقبول و منظور شد۔‘‘ (عظمتوں کے پاسبان ص16، الممتاز پبلیکیشنز لاہور)
اس فارسی عبارت کا سلیس مطلب بھی یہی ہے کہ (میر عبدالواحد بلگرامی کی کتاب) سبع سنابل عقائد و تصوف کی عمدہ ترین کتاب ہے اور اس کا عظیم ترین امتیاز یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے قبول و منظور شدہ ہے۔۔۔
چشتی رسول اللہ
1) مشہور سُنی بزرگ پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے لکھا ہے: ’’وجودِ سالک بعینہ مظہر حقیقۃ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام شدہ در ترنم لاالہ الاللہ چشتی رسول اللہ‘‘
سالک کا وجود بعینہ مظہر حقیقت محمدیہؐ ہو کر’’لا الہ الاللہ چشتی (سالک) رسول اللہ‘‘ کے ترنم میں آتا ہے۔
(تحقیق الحق فی کلمۃ الحق ص127، گولڑہ راولپنڈی)
گویا ختمِ نبوت کے عظیم مجاہد پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے نزدیک ’’لاالہ الاللہ چشتی رسول اللہ‘‘ میں کچھ حرج نہیں بلکہ اس کا قائل و مترنم سلوک کی منزلیں طے کرنے والا ہے جو عین حقیقت محمدیہ کا مظہر بن جائے۔
2) خواجہ غلام فرید چشتی نے لکھا ہے: ’’ایک شخص خواجہ معین الدین چشتی کے پاس آیا اور عرض کیا کہ مجھے اپنا مرید بنائیں۔
فرمایا کہہ لا الہ الاللہ چشتی رسول اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں چشتی اللہ کا رسول ہے۔‘‘
( فوائدِ فریدیہ ص 83)
خواجہ غلام فرید کی کتاب’’فوائد فریدیہ‘‘ کے متعلق علامہ عبد الحکیم شرف قادری نے لکھا: ’’مسلکِ توحید اور اعتقادی مسائل پر بہترین کتاب۔‘‘ (تذکرۂ اکابر اہلسنت ص324)
3) خواجہ معین الدین چشتی نے مرید ہونے کے لئے آنے والے شخص کو کہا:
’’آپ نے فرمایا کہ تو کلمہ کس طرح پڑھتا ہے؟ اس نے کہا لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا یوں کہو! لا الہ الاللہ چشتی رسول اللہ۔ اس نے اسی طرح کہا۔ خواجہ صاحب نے اسے بیعت کر لیااور خلعت و نعمت دی اور بیعت کے شرف سے مشرف کیا۔‘‘
(فوائد السالکین ص27، اکبر بک سیلرز لاہور)
اس کے بعد موجود ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی نے وضاحت کی کہ کلمہ اصلی وہی ہے اور چشتی رسول اللہ کا کلمہ صرف مرید کا اعتقاد جانچنے کے لئے جان بوجھ کر پڑھایا گیا۔ نیز چشتی رسول اللہ کا کلمہ پڑھانے اور مرید کا اسے پڑھ لینے کے بارے میں کہا: ’’چونکہ تو مرید ہونے کیلئے آیا ہے اور تجھے مجھ پر یقین کامل تھا۔ اس لئے فوراً تو نے ایسا کہہ دیا اس لئے سچا مرید ہو گیا۔ اور درحقیقت مرید کا صدق بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ اپنے پیرکی خدمت میں صادق اور راسخ رہے۔‘‘ (فوائد السالکین ص27)
بریلویوں کے ترجمان مسلک اعلیٰ حضرت حسن علی رضوی نے خواجہ غلام فرید کی کتاب ’’فوائد فریدیہ‘‘ سے پیش کیے گئے ’’چشتی رسول اللہ‘‘ کے کلمہ کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’پھر خواجہ غلام فرید علیہ الرحمۃ پر کیا اعتراض ہے جبکہ یہ کلمہ اپنی تفصیل کے ساتھ ’’فوائد السالکین‘‘ملفوظات خواجہ قطب الدین بختیار کاکی مرتبہ خواجہ بابا فرید الدین گنج شکر میں موجود ہے۔‘‘ (برقِ آسمانی بر فتنہ شیطانی ص138، البرہان پبلیکیشنز لاہور)
بریلویوں کی معروف تنظیم ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے علماء و محققین پر مشتمل مجلس المدینۃ العلمیہ نے بھی ’’فوائد السالکین‘‘ کو خواجہ معین الدین چشتی کے خلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ملفوظات تسلیم کر رکھا ہے۔ (دیکھئے ملفوظات اعلیٰ حضرت مع تخریج و تسہیل ص42)
4) اہلسنت بریلوی گروپ کے’ زبدۃ العارفین‘ میرعبدالواحد بلگرامی نے خواجہ معین الدین چشتی کے حوالے سے لکھ رکھا ہے کہ بیعت کی غرض سے حاضر ہونے والے شخص کے کمال ،اعتقاد اور صدق کوآزمانے کے لیے خود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار کے کمینے غلاموں میں سے ماننے کے باوجود کہا:
’’اگر تم کہو کہ’’لا الہ الاللہ چشتی رسول اللہ‘‘ تو میں تمہیں مرید کر لوں۔ وہ شخص چونکہ دھن کا پکا اور سچا تھااس نے فوراً اقرار کر لیا۔ خواجہ نے بیعت کے لیے اسے اپنا ہاتھ دیااور اسے بیعت کر لیا۔‘‘
(سبع سنابل ص278-279، فرید بک سٹال لاہور)
میر عبدالواحد بلگرامی نے’ چشتی رسول اللہ‘ کا کلمہ پڑھنے والے مرید کی تائید کرتے ہوئے کہا: ’’لہٰذا پیر کے ساتھ صدق یہی ہے کہ ظاہر و باطن کی کسی حالت پر زرہ برابر اعتراض نہ کرے۔‘‘ (سبع سنابل ص279)
گویا اگر پیر اپنے نام کا کلمہ بھی پڑھائے تو مرید کو چاہئے کہ پڑھ لے اور اپنے پیر پر اعتراض نہ کرے، سبحان اللہ۔ بھلا بتائیے ایسے میں صرف ایک فرقے پر ہی ختم نبوت کے انکار کا الزام کہاں کا انصاف ہے؟ اصلی اصول تو آپ کی کتب میں درج ہیں، دوسروں نے تو عمل کیا ہے۔ یاد رہے کہ خود کو نبی صلعم کا غلام وغیرہ ماننے جیسی باتیں تو خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب میں بھی موجود ہیں۔
اکثریتی سُنی عوام کے مجدد و امام احمد رضا خان بریلوی نے اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے:
’’سید سادات بلگرام حضرت مرجع الفریقین ، مجمع الطریقین، حبر شریعت، بحر طریقت، بقیۃ السلف،حجۃ الخلف سیدنا و مولانا میر عبدالواحد حسینی زیدی واسطی بلگرامی قدس اللہ تعالیٰ سرہ السامی نے کتاب مستطاب سبع سنابل شریف تصنیف فرمائی کہ بارگاہِ عالم پناہ حضور سید المرسلین ﷺ میں موقع قبولِ عظیم پر واقع ہوئی۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ ج28 ص484-485) نیز دیکھئے فتاویٰ رضویہ (ج14 ص657)
مشہور سُنی محقق علامہ عبدالحکیم شرف قادری نے بھی لکھا: ’’سبع سنابل عمدہ ترین کتابے است در عقائدو تصوف … عظیم ترین امتیاز کہ سبع سنابل را حاصل شد این است کہ درگاہِ محبوب رب ا یہلعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقبول و منظور شد۔‘‘ (عظمتوں کے پاسبان ص16، الممتاز پبلیکیشنز لاہور)
اس فارسی عبارت کا سلیس مطلب بھی یہی ہے کہ (میر عبدالواحد بلگرامی کی کتاب) سبع سنابل عقائد و تصوف کی عمدہ ترین کتاب ہے اور اس کا عظیم ترین امتیاز یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے قبول و منظور شدہ ہے۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں