اجتماعی دعا کی حقیقت
اجتماعی دعا کی حقیقت:-
اسلام میں دعا کی بہت فضیلت ہے بلکہ دعا کو سب سے افضل عبادات میں سے قرار دیا گیا ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: "وقال ربكم ادعوني أستجب لكم،، الآية" (سورة غافر : 60)
تم لوگوں کا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو سنونگا اور قبول کرونگا۔
حدیث میں بھی دعا کی فضیلت وارد ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "دعا عبادت ہے"
(ترمذی : 2969، ابوداود : 1479، ابن ماجہ : 3828 علامہ البانی اور امام ترمذی نے حدیث کو صحیح قرار دیا ہے)
عام طور پر لوگ "اجتماعی ذکر" اور "اجتماعی دعا" کو ایک ہی سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں جبکہ اجتماعی ذکر یعنی ایک ساتھ بیٹھکر ایک ہی آواز میں اللہ کا ذکر و ازکار کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا سلف صالحین سے یہ بات ثابت نہیں ہے اور نہ ہی اس بات کا ثبوت ملتا ہیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کبھی اپنے صحابہ کے ساتھ صرف ذکر الہی کے غرض سے کوئی مجلس منعقد کیا ہو یا ایک آواز سے ذکر الہی کیا ہو جیساکہ موجودہ دور میں مبتدعین اور صوفیہ حضرات کرتے ہیں۔
اجتماعی دعا کی دو شکلیں ہیں ایک وہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جیسے قنوت نازلہ، وتر میں قنوت کا پڑھنا اور پیچھے سے صحابہ کرام کا اس پر آمین کہنا، یا اسی طرح جمہور علماء کے نزدیک خطبہ جمعہ کے درمیان امام کے دعائیہ کلمات پر مصلی کا آمین کہنا مستحب ہے مگر خطبہ جمعہ کے دوران دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا صحیح نہیں ہے۔
مذکورہ بالا شکل کا ثبوت شریعت اسلامیہ میں پائی جاتی ہے لہذا یہ شکل ثابت ہے مگر موجودہ دور میں کچھ ایسی بھی شکلیں ہیں جو اجتماعی دعا کے لئے اپنائی جاتی ہیں جو صحیح نہیں ہے بلکہ بدعت ہے۔ اجتماعی دعا جو بدعت ہے اس کی دو شکلیں ہیں:
1- صرف اجتماعی دعا کے لئے ہی لوگوں کو جمع کرنا، ابو عثمان سے مروی ہیکہ ایک عامل نے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ یہاں کچھ لوگ ہیں جو صرف مسلمانوں یا اپنے امیر کے لئے دعا کرنے کے غرض سے جمع ہوتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس عامل کو ان تمام لوگوں (جو صرف دعاء کے غرض سے جمع ہوتے ہیں) کے ساتھ آنے کو کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دربان سے ایک کوڑا لانے کو کہا اور جب وہ لوگ آگئے تو انکے امیر کو کوڑا لگایا (مصنف ابن ابی شیبہ 13/360 اور اس کی سند حسن ہے)
2- لوگوں کو ایک آواز میں دعا کرنے کے لئے جمع کرنا۔ بکر ابوزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آواز میں اجتماعی دعا کرنا خواہ وہ سری ہو یا جہری، دعائیہ کلمات جو ثابت ہیں پر شامل ہو یا دیگر کلمات پر، تمام حاضرین مجلس کی جانب سے دعائیہ کلمات وارد ہوں یا صرف ایک کی جانب سے، ہاتھ اٹھاکر ہو یا نہ اٹھاکر، دعا کی یہ سب شکلیں دلائل قطعیہ کی محتاج ہیں کیونکہ دعا عبادات میں سے ہے اور عبادات توقیف اور اتباع پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ خود سے جو چاہا وہ ایجاد کرلیا اور جیسا چاہا ویسی شکل میں عبادت کرلیا، اسلئے ہمیں اجتماعی دعا کہ اس صورت اور طریقے پر دلیل نہیں ملی اور اس کا ثبوت شریعت میں نہیں ملتا لہذا اجتماعی دعا کی یہ صورت بدعت ہے، ہر مسلمان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء واجب ہے اور جس چیز کا ثبوت کتاب و سنت میں نہیں ہے اس کا ترک کرنا اور مشروع اعمال کو ہی کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آواز میں اجتماعی دعا کرنا خواہ وہ تلاوت قرآن کے بعد ہو یا دینی مجلس کے اخیر میں سب کے سب بدعت ہے (تصحیح الدعاء : 134-135 )
معلوم ہوا کہ جلسہ یا مذاکرہ علمیہ کے اخیر میں خاص طور پر دعا کا اہتمام کرنا بدعت ہے، موجودہ دور میں دیکھا جاتا ہے کہ جلسہ کا خاتمہ خصوصی طور پر دعا کا اہتمام کرکے کیا جاتا ہے جو کہ خلاف شرع بات ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محاضرہ کے بعد محاضر کا دعائیہ کلمات کا استعمال کرنا، موعظات کے بعد واعظ کا دعائیہ کلمات استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ہاتھ اٹھاکر اس نیت سے دعا کرنا کہ اس طرح کرنے سے دعا قبول ہوتی ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ دعا کی یہ صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، آپ نے کسی دینی مجلس کے اخیر میں ہاتھ اٹھاکر دعا کا اہتمام کیا ہو یا آپ کے صحابہ نے کیا ہو اس کی دلیل نہیں ملتی"
احادیث صحیحہ اس بات پر بین ثبوت ہیں کہ سب سے زیادہ دعا سجدہ کی حالت میں قبول ہوتی ہے کیونکہ اس وقت بندہ اپنے مالک سے بہت ہی قریب ہوتا ہے۔ سفر کی دعا کی بھی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔ اسی طرح والدین اگر اپنے بچوں کی حق میں اور بچے اپنے والدین کی حق میں دعا کریں تو اس کی بھی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔ رات کے آخری پہر جب اللہ تعالی سماء دنیا پر ہوتا ہے اور اسوقت منادی دعاء و مغفرت کرنے کے لئے آواز لگاتا ہے اسوقت اگر بندہ نفلی رکعات ادا کرنے کے بعد اللہ کے سامنے عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرے تو دعا کی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔
داعی اگر حرام کھانے، پینے اور پہننے کا عادی ہو اور وہ اللہ کے سامنے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی جیساکہ حدیث میں اسکی وضاحت ہے۔ اگر حرام کھانے والا صدق دل سے توبہ کرلے اور حرام ترک کرنے کا عزم مصمم کرلے تو اسکی بھی دعا قبول ہوگی۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اجتماعی دعا کی جو شکل ثابت ہے اسی کو کیا جائے نہ کہ دینی مجلس کے بعد الگ سے خصوصی طور پر دعا کا اہتمام کیا جائے اور پھر مجلس کے خاتمہ کا اعلان کیا جائے۔
(عابد جمال الدين السلفي)
اسلام میں دعا کی بہت فضیلت ہے بلکہ دعا کو سب سے افضل عبادات میں سے قرار دیا گیا ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: "وقال ربكم ادعوني أستجب لكم،، الآية" (سورة غافر : 60)
تم لوگوں کا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو سنونگا اور قبول کرونگا۔
حدیث میں بھی دعا کی فضیلت وارد ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "دعا عبادت ہے"
(ترمذی : 2969، ابوداود : 1479، ابن ماجہ : 3828 علامہ البانی اور امام ترمذی نے حدیث کو صحیح قرار دیا ہے)
عام طور پر لوگ "اجتماعی ذکر" اور "اجتماعی دعا" کو ایک ہی سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں جبکہ اجتماعی ذکر یعنی ایک ساتھ بیٹھکر ایک ہی آواز میں اللہ کا ذکر و ازکار کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا سلف صالحین سے یہ بات ثابت نہیں ہے اور نہ ہی اس بات کا ثبوت ملتا ہیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کبھی اپنے صحابہ کے ساتھ صرف ذکر الہی کے غرض سے کوئی مجلس منعقد کیا ہو یا ایک آواز سے ذکر الہی کیا ہو جیساکہ موجودہ دور میں مبتدعین اور صوفیہ حضرات کرتے ہیں۔
اجتماعی دعا کی دو شکلیں ہیں ایک وہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جیسے قنوت نازلہ، وتر میں قنوت کا پڑھنا اور پیچھے سے صحابہ کرام کا اس پر آمین کہنا، یا اسی طرح جمہور علماء کے نزدیک خطبہ جمعہ کے درمیان امام کے دعائیہ کلمات پر مصلی کا آمین کہنا مستحب ہے مگر خطبہ جمعہ کے دوران دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا صحیح نہیں ہے۔
مذکورہ بالا شکل کا ثبوت شریعت اسلامیہ میں پائی جاتی ہے لہذا یہ شکل ثابت ہے مگر موجودہ دور میں کچھ ایسی بھی شکلیں ہیں جو اجتماعی دعا کے لئے اپنائی جاتی ہیں جو صحیح نہیں ہے بلکہ بدعت ہے۔ اجتماعی دعا جو بدعت ہے اس کی دو شکلیں ہیں:
1- صرف اجتماعی دعا کے لئے ہی لوگوں کو جمع کرنا، ابو عثمان سے مروی ہیکہ ایک عامل نے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ یہاں کچھ لوگ ہیں جو صرف مسلمانوں یا اپنے امیر کے لئے دعا کرنے کے غرض سے جمع ہوتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس عامل کو ان تمام لوگوں (جو صرف دعاء کے غرض سے جمع ہوتے ہیں) کے ساتھ آنے کو کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دربان سے ایک کوڑا لانے کو کہا اور جب وہ لوگ آگئے تو انکے امیر کو کوڑا لگایا (مصنف ابن ابی شیبہ 13/360 اور اس کی سند حسن ہے)
2- لوگوں کو ایک آواز میں دعا کرنے کے لئے جمع کرنا۔ بکر ابوزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آواز میں اجتماعی دعا کرنا خواہ وہ سری ہو یا جہری، دعائیہ کلمات جو ثابت ہیں پر شامل ہو یا دیگر کلمات پر، تمام حاضرین مجلس کی جانب سے دعائیہ کلمات وارد ہوں یا صرف ایک کی جانب سے، ہاتھ اٹھاکر ہو یا نہ اٹھاکر، دعا کی یہ سب شکلیں دلائل قطعیہ کی محتاج ہیں کیونکہ دعا عبادات میں سے ہے اور عبادات توقیف اور اتباع پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ خود سے جو چاہا وہ ایجاد کرلیا اور جیسا چاہا ویسی شکل میں عبادت کرلیا، اسلئے ہمیں اجتماعی دعا کہ اس صورت اور طریقے پر دلیل نہیں ملی اور اس کا ثبوت شریعت میں نہیں ملتا لہذا اجتماعی دعا کی یہ صورت بدعت ہے، ہر مسلمان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء واجب ہے اور جس چیز کا ثبوت کتاب و سنت میں نہیں ہے اس کا ترک کرنا اور مشروع اعمال کو ہی کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آواز میں اجتماعی دعا کرنا خواہ وہ تلاوت قرآن کے بعد ہو یا دینی مجلس کے اخیر میں سب کے سب بدعت ہے (تصحیح الدعاء : 134-135 )
معلوم ہوا کہ جلسہ یا مذاکرہ علمیہ کے اخیر میں خاص طور پر دعا کا اہتمام کرنا بدعت ہے، موجودہ دور میں دیکھا جاتا ہے کہ جلسہ کا خاتمہ خصوصی طور پر دعا کا اہتمام کرکے کیا جاتا ہے جو کہ خلاف شرع بات ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محاضرہ کے بعد محاضر کا دعائیہ کلمات کا استعمال کرنا، موعظات کے بعد واعظ کا دعائیہ کلمات استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ہاتھ اٹھاکر اس نیت سے دعا کرنا کہ اس طرح کرنے سے دعا قبول ہوتی ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ دعا کی یہ صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، آپ نے کسی دینی مجلس کے اخیر میں ہاتھ اٹھاکر دعا کا اہتمام کیا ہو یا آپ کے صحابہ نے کیا ہو اس کی دلیل نہیں ملتی"
احادیث صحیحہ اس بات پر بین ثبوت ہیں کہ سب سے زیادہ دعا سجدہ کی حالت میں قبول ہوتی ہے کیونکہ اس وقت بندہ اپنے مالک سے بہت ہی قریب ہوتا ہے۔ سفر کی دعا کی بھی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔ اسی طرح والدین اگر اپنے بچوں کی حق میں اور بچے اپنے والدین کی حق میں دعا کریں تو اس کی بھی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔ رات کے آخری پہر جب اللہ تعالی سماء دنیا پر ہوتا ہے اور اسوقت منادی دعاء و مغفرت کرنے کے لئے آواز لگاتا ہے اسوقت اگر بندہ نفلی رکعات ادا کرنے کے بعد اللہ کے سامنے عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرے تو دعا کی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔
داعی اگر حرام کھانے، پینے اور پہننے کا عادی ہو اور وہ اللہ کے سامنے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی جیساکہ حدیث میں اسکی وضاحت ہے۔ اگر حرام کھانے والا صدق دل سے توبہ کرلے اور حرام ترک کرنے کا عزم مصمم کرلے تو اسکی بھی دعا قبول ہوگی۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اجتماعی دعا کی جو شکل ثابت ہے اسی کو کیا جائے نہ کہ دینی مجلس کے بعد الگ سے خصوصی طور پر دعا کا اہتمام کیا جائے اور پھر مجلس کے خاتمہ کا اعلان کیا جائے۔
(عابد جمال الدين السلفي)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں