سانحہء کربلا اور حضرت یزید اور رافضی سازش مکمل حقیقت
سانحہء کربلا اور حضرت یزید اور رافضی سازش مکمل حقیقت
قتل ِ حسین (رض) میں یزید کا نہ کوئی ہاتھ ہے ، نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی کوئی رضامندی ہی شامل تھی ۔
یزید اور اس کے خاندان کو جب شہادتِ حسین (رضی اللہ عنہ) کی خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور روئے بلکہ یزید نے یہاں تک کہا :
'' عبید اللہ بن زیاد پر اللہ کی پھٹکار ! واللہ ! اگر وہ خود حسین ص کارشتہ دار ہوتا تو ہر گز قتل نہ کرتا۔''
( تاریخ الطبری : ٤ / ٣٥٣ اور البدایہ : ٨ / ١٩٣ )
پھر یزید نے حضرت حسین کے پسماندگان کی کی بڑی خاطر تواضع کی اور عزت کے ساتھ انھیں مدینہ واپس پہنچا دیا ۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ آخر وقت تک دمشق میں یزید کے پاس رہیں اور آج بھی ان کی قبر دمشق ہی میں ہے۔ مزید برآن حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولادوں میں سے کئی کی شادیاں یزید کی اولادوں سے ہوئیں۔ اگر یزید شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا مرتکب ہوتا تو کیا اس وقت کی قبائلی حمیت ان شادیوں کی اجازت دیتی تھی یا ایسا ممکن ہو سکتا تھا کہ ایک قاتل کے خاندان میں شادیاں کی جاتیں۔
بدقسمتی سے آج کل یہ رواج عام ہو گیا ہے کہ بڑے بڑے علما ء بھی یزید کا نام برے الفاظ سے لیتے ہیں اور اُس پر لعنت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے اور اس کو '' حب حسین (رض)'' اور '' حب اہل ِ بیت (رض)'' کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں ۔ جب کہ محققین علمائے اہل سنت نے اس امر کی صراحت کی ہے کہ قتل ِ حسین (رض) میں یزید کا نہ کوئی ہاتھ ہے ، نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی کوئی رضامندی ہی شامل تھی ۔
امام غزالی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب '' وفیات الاعیان '' میں ایک جگہ فرماتے ہیں :
'' یزید کی طرف سے حضرت حسین (رض) کو قتل کرنا ، یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قتل پر راضی ہونا ... تینوں باتیں درست نہیں ۔ اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق ایسی بد گمانی رکھی جائے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ کا فرمان ہے کہ مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے ... '' ( وفیات الاعیان : ٢ / ٤٥٠ )
اسی طرح امام غزالی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب '' احیاء العلوم '' میں ایک جگہ فرماتے ہیں :
'' اگر سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنی جائز ہے کیونکہ وہ ( حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا) قاتل ہے یا قتل کا حکم دینے والا تھا ؟ تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ باتیں قطعاً ثابت نہیں ہیں اور جب تک یہ باتیں ثابت نہ ہوں ، یزید کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ اس نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا ۔ '' ( احیاء العلوم : ٣ / ١٣١ )
مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی ، یزید کے بارے میں یہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ اُس کو کافر جانتے ہیں اور امام غزالی رحمہ اللہ وغیرہ اس کو مسلمان کہتے ہیں ، اپنا مسلک یہ بیان کرتے ہیں : ( احکام شریعت ، حصہ دوم ص : ٨٨ )
'' اور ہمارے امام (ابو حنیفہ رحمہ اللہ) سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر ، لہٰذا یہاں بھی سکوت کریں گے ... ''
اور یزید کے فسق و فجور کے افسانوں کی تردید میں خود حضرت حسین کے برادرِ اکبر محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ کا یہ بیان کافی ہے :
'' تم یزید کے متعلق جو کچھ کہتے ہو ، میں نے ان میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، میں نے ان کے ہاں قیام کیا ہے اور میں نے انھیں پکا نمازی ، خیر کا متلاشی ، مسائی شریعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پایا ہے ۔ '' ( البدایۃ و النہایۃ ، جلد : ٨ ص : ٢٣٣ )
ساری باتوں کو ایک طرف رکھیں صرف یہ دیکھیں کہ کربلا کے میدان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا اور اگر یزید اتنا ہی فاسق و فاجر تھا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے موقف سے رجوع کیوں کیا؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر یزید کو کافر سمجھتے اور اس سے دشمنتی رکھتے تو یہ شرائط کیوں پیش کرتے
١۔ مجھے یا تو مدینہ واپس جانے دو۔۔۔
٢۔ یا مجھے کسی اسلامی ریاست کے سرحدوں تک پہنچا دو۔۔۔
٣۔ یا پھر مجھے میرے بھائی (ابن عم) یزید کے پاس جانے دو۔۔۔
اگر یہ حق اور باطل کا معرکہ تھا جیسا کہ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے تو پھر اس معرکہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس طرح کی شرطیں کیوں رکھتے؟؟؟
قتل ِ حسین (رض) میں یزید کا نہ کوئی ہاتھ ہے ، نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی کوئی رضامندی ہی شامل تھی ۔
یزید اور اس کے خاندان کو جب شہادتِ حسین (رضی اللہ عنہ) کی خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور روئے بلکہ یزید نے یہاں تک کہا :
'' عبید اللہ بن زیاد پر اللہ کی پھٹکار ! واللہ ! اگر وہ خود حسین ص کارشتہ دار ہوتا تو ہر گز قتل نہ کرتا۔''
( تاریخ الطبری : ٤ / ٣٥٣ اور البدایہ : ٨ / ١٩٣ )
پھر یزید نے حضرت حسین کے پسماندگان کی کی بڑی خاطر تواضع کی اور عزت کے ساتھ انھیں مدینہ واپس پہنچا دیا ۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ آخر وقت تک دمشق میں یزید کے پاس رہیں اور آج بھی ان کی قبر دمشق ہی میں ہے۔ مزید برآن حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولادوں میں سے کئی کی شادیاں یزید کی اولادوں سے ہوئیں۔ اگر یزید شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا مرتکب ہوتا تو کیا اس وقت کی قبائلی حمیت ان شادیوں کی اجازت دیتی تھی یا ایسا ممکن ہو سکتا تھا کہ ایک قاتل کے خاندان میں شادیاں کی جاتیں۔
بدقسمتی سے آج کل یہ رواج عام ہو گیا ہے کہ بڑے بڑے علما ء بھی یزید کا نام برے الفاظ سے لیتے ہیں اور اُس پر لعنت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے اور اس کو '' حب حسین (رض)'' اور '' حب اہل ِ بیت (رض)'' کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں ۔ جب کہ محققین علمائے اہل سنت نے اس امر کی صراحت کی ہے کہ قتل ِ حسین (رض) میں یزید کا نہ کوئی ہاتھ ہے ، نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی کوئی رضامندی ہی شامل تھی ۔
امام غزالی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب '' وفیات الاعیان '' میں ایک جگہ فرماتے ہیں :
'' یزید کی طرف سے حضرت حسین (رض) کو قتل کرنا ، یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قتل پر راضی ہونا ... تینوں باتیں درست نہیں ۔ اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق ایسی بد گمانی رکھی جائے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ کا فرمان ہے کہ مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے ... '' ( وفیات الاعیان : ٢ / ٤٥٠ )
اسی طرح امام غزالی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب '' احیاء العلوم '' میں ایک جگہ فرماتے ہیں :
'' اگر سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنی جائز ہے کیونکہ وہ ( حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا) قاتل ہے یا قتل کا حکم دینے والا تھا ؟ تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ باتیں قطعاً ثابت نہیں ہیں اور جب تک یہ باتیں ثابت نہ ہوں ، یزید کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ اس نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا ۔ '' ( احیاء العلوم : ٣ / ١٣١ )
مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی ، یزید کے بارے میں یہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ اُس کو کافر جانتے ہیں اور امام غزالی رحمہ اللہ وغیرہ اس کو مسلمان کہتے ہیں ، اپنا مسلک یہ بیان کرتے ہیں : ( احکام شریعت ، حصہ دوم ص : ٨٨ )
'' اور ہمارے امام (ابو حنیفہ رحمہ اللہ) سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر ، لہٰذا یہاں بھی سکوت کریں گے ... ''
اور یزید کے فسق و فجور کے افسانوں کی تردید میں خود حضرت حسین کے برادرِ اکبر محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ کا یہ بیان کافی ہے :
'' تم یزید کے متعلق جو کچھ کہتے ہو ، میں نے ان میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، میں نے ان کے ہاں قیام کیا ہے اور میں نے انھیں پکا نمازی ، خیر کا متلاشی ، مسائی شریعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پایا ہے ۔ '' ( البدایۃ و النہایۃ ، جلد : ٨ ص : ٢٣٣ )
ساری باتوں کو ایک طرف رکھیں صرف یہ دیکھیں کہ کربلا کے میدان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا اور اگر یزید اتنا ہی فاسق و فاجر تھا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے موقف سے رجوع کیوں کیا؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر یزید کو کافر سمجھتے اور اس سے دشمنتی رکھتے تو یہ شرائط کیوں پیش کرتے
١۔ مجھے یا تو مدینہ واپس جانے دو۔۔۔
٢۔ یا مجھے کسی اسلامی ریاست کے سرحدوں تک پہنچا دو۔۔۔
٣۔ یا پھر مجھے میرے بھائی (ابن عم) یزید کے پاس جانے دو۔۔۔
اگر یہ حق اور باطل کا معرکہ تھا جیسا کہ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے تو پھر اس معرکہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس طرح کی شرطیں کیوں رکھتے؟؟؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں