شیعہ مکر کا مختلف ادوار میں جائزہ
بسم اللہ الررحمن الرحیم
شیعی مکر کا مختلف ادوار میں ایک جائزہ
الحمد اللہ رب العالمین والصلاۃ السلام علیٰ رسولہ الکریم ، ا ما بعد ۔
لفظ شیعہ کا مفہوم
لفظ شیعہ لغت میں :۔(۱)لفظ شیعہ کے بارے میں مشہور زبان داں زبیدی کہتا
ہے: ’ہر وہ گروہ جو کسی ایک چیز پرمتفق ہو جائے اسے شیعہ کہا جا ئیگا ،جو
بھی کسی دوسرے آدمی کی مدد کرے یا اس گروہ میں شامل ہو جائے اسے کہا
جائیگا ’’شیعۃ لہ‘‘ شیعہ یہ مشایعہ سے مأخوذ ہے جس کے معنیٰ اطاعت گزاری
اور اتباع کے ہیں۔(تاج العروس ؛ج ،۵ ص ۴۰۵)
(۲)مشہور عربی داں ابن منظور افریقی لکھتا ہے :’شیعہ لوگوں کے اس گروہ کو
کہا جاتا ہے جو کسی ایک چیز پر اتفاق رکھتے ہوں ۔ لیکن اب زیادہ تر ان
لوگو ں کے بارے میں بولا جانے لگا جو علی اور ان کے اہل بیت کے پیرو کار
ہیں ۔(لسان العرب ؛ج،۸ ص ۱۸۸)
لفظ شیعہ اصطلاح میں :۔ ملل ونحل کے محققین اور مؤرخین نے ’’شیعہ‘‘کے
عنوان کو کلی طور پر بارہ اماموں کے ماننے والوں پر اطلاق کیا ہے جن میں
سے بعض مندرجہ ذیل ہیں ۔
(۱)شہرستانی کہتے ہیں :’’وہ لوگ جو علی کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی
امامت اور خلافت کو نص اور وصیت پیغمر کے سبب مانتے ہیں انہیں شیعہ کہا
جاتا ہے ‘‘(الملل والنحل؛ ج،۱ ص۴۷)
(۲)ابن خلدون لکھتے ہیں : ’’لغت میں شیعہ پیرو اور ساتھی کے معنیٰ میں ہے
لیکن عرف میں علی کی پیروی کرنے والے فقہا ء اور متکلمین کو کہا جاتا ہے
‘‘(مقدمہ ابن خلدون ؛ ص ،۱۳۸)
(۳)میر سید شریف جرجانی رقمطراز ہیں :’’شیعہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو
علی کی پیروی کرتے اور رسول اللہﷺ کے بعد ان کی امامت و خلافت کو قبول
کرتے ہیں اور معتقد ہیں کہ امامت علی اور اولاد علی سے باہر نہیں جا سکتی
‘‘۔(کتاب التعریفات ؛ص ،۵۷۸)
(۴) ابو الحسن اشعری کہتے ہیں :’’شیعوں کو اس وجہ سے شیعہ کہا جاتا ہے
کیونکہ وہ علی کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں تمام اصحاب پر مقدم جانتے ہیں
‘‘۔(مقالات اسلامیین ؛ ص،۶۵)
شیعیت کا آغاز
اسلامی عقائد کی دیوار میں سب سے پہلے جس شخص نے نقب لگانے کی کوشش کی وہ
منافق’’ عبد اللہ بن سبا یہودی‘‘کے نام سے معروف ہے عہد عثمانی میں خود
کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوا اور کفریہ عقائد کی
ترویج کے لئے اپنی کوششیں شروع کر دی ۔یہ ناپاک و بد طینت شخصاپنے سینے
میں اسلام کے خلاف بغض وحقد چھپائے اہل بیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مکروہ
چہرے پر اسلام کا ماسک لگا ئے ہوئے ان سادہ لوح افراد کو مکر و دجل کے
جال میں پھنسا کر کر صحیح اسلامی عقائدسے منحرف کرنے لگا جو اللہ تعالیٰ
کے وعدہ کے مطابق روم وفارس کے سلطنتوں کے فتح ہونے کے بعد اسلام میں
داخل ہو گئے تھے اللہ جلہ شأنہ کا ارشاد ہے(وعد اللہ الذین آمنوا منکم
وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضیٰ لھم
و لیبدلنھم من بعد خوفھم امنا )(سورۃ النور ۵۵)۔
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا اور روم و فارس کی سلطنتوں پر اسلام کا
پرچم لہرانے لگا تو یہ عظیم الشان فتوحات یہودیوں اور مجوسیوں کو ایک
آنکھ نہ بھائی ۔چناچہ انہوں نے مسلمانوں کے عقائدوافکار میں نقب زنی کرکے
غیر اسلامی افکار ونظریات داخل کرنا چاہے اور دونوں کے باہمی اشتراکت عمل
نے عبد اللہ بن سبا کو جنم دیا اور یہی سے تشیع یعنی شیعہ ازم کا آغاز
ہوا۔(الشیعہ والسنہ لعلامہ احسان الہی ظہیر ،ص ۲۱،۲۲)
شیعہ مذہب کا بانی عبداللہ بن سبا
شیعیت کے نام سے مشہور اس فتنے جڑیں بڑی مضبوط ،گہریاور بہت لمبی ہے اس
فتنے کا راح رواں عبداللہ بن سبا نامی یہودی ہے در حقیقت یہ مسلمان نہیں
ہوا تھا ،بلکہ اس نے اسلام کا لبادہ اوڑہ کر مسلمانوں کو مسلمانوں کے
خلاف لا کھڑا کیا اور بعد میں اس کا جو کردار سامنے آیا اس سے یہ صاف
معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے بیت بد سے ہی یہودیت ترک کرکے اسلام قبول کیا
تھااس کا اصل مقصد مسلمانوں میں شامل ہو کر اپنے ناز و ادا سے ان میں
مقبولیت حاصل کرکے اندر سے اسلام کی تخریب وتحریف اور و اہل اسلام کے
درمیان اختلاف و شقاق پیداکرکے فتنہ وفساد برپا کرنا تھا ۔اس طرح سے عبد
اللہ بن سبا یہودی اور مجوسی معاونین کے تعاون سے امت اسلامیہ میں ایک
ایسا فرقہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا جو اسلام اور اہل اسلام کے لئے
اگے چل کر ناسور کی حیثیت اختیار کر گیا
عبداللہ بن سبا شیعی عقائد کا بانی ہے اس کا اعتراف خود شیعہ کے بعض
مؤرخین نے بھی کیا ہے ۔چنانچہ شیعہ مؤرخ’’الکشی‘‘اپنی کتاب میں رقمطراز
ہیں: بعض اہل علم سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن سبا یہودی تھا ۔پھر وہ
مسلمان ہو گیا اور حضرت علیؓ سے محبت کرنے لگا وہ سب سے پہلا شخص تھا جس
نے علیؓ کے مخالفین کی تکفیر کی ،اسی بنا پر شیعہ کے مخالفین کے کہتے ہیں
کہ تشیع (شیعہ ازم )یہودیت سے مأخوذ ہے(رجال الکشی،ص ۱۰۱)۔
یہی روایت شیعہ محدث و مؤرخ مامقانی نے الکشی سے اپنی کتاب’’تنقیح
المقال‘‘ میں نقل کیا ہے۔(تنقیح المقال ،ص: ۱۸۴)
شیعہ مؤرخ نو بختی اپنی کتاب’’ فرق الشیعہ ‘‘میں لکھتا ہے : عبد اللہ بن
سبا ابو بکرؓ ،عمرؓ،عثمانؓاور دیگر صحابہ پر طعن وتشنیع کا اغاز کرنے
والوں میں سے تھا ۔(الشیعہ و السنہ ؛ص ۲۳تا ۲۵)
شیعی ائمہ
شیعہ کے نزدیک ان کے بارہ امام ہیں ان کے عقیدے کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے
بعد حضرت علی پہلے واجب الاطاعت اور معصوم تھے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل
ہے۔
۱۔ شیعہ ائمہ کے امام میں سب سے پہلا امام خلیفۂ راشد علی بن ابی طالب
رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
۲۔ حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی کنیت ابو محمد اور لقب الزکی ہے۔
۳۔ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب شہید ہے۔
۴۔ علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رحمۃ اللہ علیہ ان کی کنیت ابو محمد
اور لقب زین العابدین ہے۔
۵۔ محمد بن علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ ان کی کنیت ابو جعفر اور لقب باقر ہے۔
۶۔ جعفر بن محمد بن علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ ان کی کنیت ابو عبداللہ
اور لقب الصادق ہے۔
۷۔ موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ان کی کنیت
ابو ابراہیم اور لقب الکاظم ہے۔
۸۔ علی بن موسیٰ بن جعفران کا لقب الرضا ہے۔
۹۔ محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر کنیت ابو جعفراور لقب الجواد ہے۔
۱۰۔ علی بن محمد بن علی کنیت ابوالحسن الہادی ہے ۔
۱۱۔ حسن بن علی بن محمد ان کی کنیت ابو محمد اور لقب العسکری ہے۔
۱۲۔ محمد بن حسن بن علی بن محمد شیعہ ان کو ابو القاسم کنیت اور المہدی
لقب دیتے ہیں ۔(اصول الکافی،ج:۱۔ص:۶۰۱،۶۰۲)
شیعی عقائد
۱۔ نماز ،زکوٰۃ،حج جو اسلام کے اراکین میں سے ہیں ان کے بارے میں شیعہ کا
عقیدہ کیا ہے اس کے بارے میں جعفر صادق سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے کہا
:(اور درحقیقت یہ ان پر بہتان ہے)’’اللہ ہماری جماعت میں سے اس آدمی کو
جو نماز نہیں پرھتا اس آدمی کی وجہ سے معاف کر دیتا ہے جو نماز پڑھتا ہے
،اس آدمی کو جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس آدمی کی وجہ سے معاف کر دیتا ہے
جو زکوٰۃ ادا کرتا ہے ،ہماری جماعت کے اس آدمی کو جو حج نہیں کرتا اس
آدمی کی وجہ سے جو حج ادا کرتا ہے معاف کر دیا جا تا ہے ۔(تفسیرقمی لعلی
بن ابراہیم ،ج:۱۔ص۸۳ ،۸۴ ۔تفسیر العیاشی لمحمد بن مسعود سلمی،ج:۱۔ص:۱۳۵)۔
۲۔ ان کے عقیدے کے مطابق علی کی محبت دنیا کی تمام نیکیوں سے بہتر ہے
کہتے ہیں علی کی محبت ایک ایسی نیکی ہے جس کو کوئی بھی برائی ضرر نہیں
پہونچا سکتی ۔(تفسیر منہج الصادقین،ج:۸۔ص:۱۱۰)اور ایک جگہ ہے کہ اہل بیت
کی محبت سے لوگوں کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح تیز آندھی میں درخت
سے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔(ایضاً،ج:۸۔ص:۱۱۱)
۳۔ شیعوں کے نزدیک ان کے ائمہ کے قبور کی زیارت ارکان اسلام کی ادائیگی
سے زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔روایت کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ
نے فرمایا :’’ایک شخص عین سے الحسین کی قبر کی زیارت کے لئے آیا تو انہوں
نے اس سے فر مایا کہ ابو عبد اللہ الاسلام کی زیارت رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ
ادا شدہ اور قبول شدہ و گناہوں سے پاک صاف کرنے والے حج کے برابر ہے اسے
اس پر تعجب ہوا تو وہ حج کی تعداد بڑھاتے گئے حتی کہ فرما یا ابو عبداللہ
کی زیارت رسول کے ساتھ ادا کی گئی تین مقبول و مبرور حج کے برابر ہے‘‘
۔(ثواب الاعمال لابن بابویہ القمی،ص:۹۳،۹۴)۔
۴۔ شیعیت کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی معرفت ان کے ائمہ کی
وجہ سے ہی ہوا ہے ،چنانچہ ابو جعفر کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں
کہ:ہماری وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوئی ہمارے ذریعے ہی سے اللہ
تعالیٰ کو پہچانا گیا ،ہمارے ساتھ اللہ کی توحید کا پرچار ہوا۔(اصول
الکافی،ج:۱۔ص:۱۰۴)
۵۔ ان کے نزدیک ان کے ائمہ کے واسطے کے بغیر دعا مقبول نہیں ہوتی روایت
کرتے ہیں کہ ابو جعفر نے فرمایا جس نے ہمارے واسطے سے اللہ سے دعا کی وہ
کامیاب ہو گیا اور جس نے کسی اور واسطے سے دعا کی وہ ہلاک ہو گیا اور اس
نے ہلاکت کو دعوت دی ۔(بشارت المصطفیٰ لشیعیہ المصطفیٰ،ص:۱۵۶)۔
۶۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ملائکہ اور حیوانات اور دیگر اشیاء کے افعال کو
پیدا نہیں کیا بلکہ حوادث انکی خلق و قدرت کے بغیر رونما ہوتے ہیں ،اللہ
تعالیٰ کسی گمراہ کو راہ راست پر نہیں لا سکتا اور نہ ہی اس کے برعکس اور
کوئی شخص ہدایت ربانی کا محتاج بھی نہیں ۔(منہاج السنۃ لابن
تیمیہ،ج:۱۔ص:۸۷)۔
۷۔ روافض (شیعہ)سابقین اولین صحابہ کو کافر یا فاسق قرار دیتے ہیں اور
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ہر لڑنے والے کی تکفیر کرتے ہیں
۔(ایضاً،ج:۱۔ص:۱۲۱)
۸۔ شیخین کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ دونوں اندرونی طور پر منافق تھے
نبی سے دشمنی رکھتے تھے ان سے جتنا ہو سکا انہوں نے دین کو خراب کیا
۔(ایضاً،ج:۱۔ص:۱۵۸)اس کے علاوہ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب ان کا آخری
امام ظاہر ہوگا تو وہ شیخین کو ان کے قبروں سے نکال کر سولی پہ چڑھائیں
گے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سنگسار کریں گے ۔
۹۔ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن مجید مکمل نہیں ہے اس میں ترمیم و
تحریف کی گئی ہے اصل قرآن چالیس پارہ کا تھا دس پارہ حذف کر دیا گیا ہے
اور نبوت اصل میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملنی تھی مگر جبرئیل
علیہ السلاۃ والصلام نے غلطی سے محمد ﷺ پر قرآن کو نازل کر دیا ۔
شیعی دجل وتخریب کاریاں
اگر ہم شیعوں کی تخریب کاریوں اور جرائم پر نظر ڈالیں تو ایسی جارحانہ
پالسیاں اور کوششیں عیاں ہوتی ہیں جو ان کے اہلسنت والجماعت پر جھوٹے
الزامات اور عقائد کو پاش پاش کرنے کے لئے کافی ہے ویسے تو ان کے گھناؤنے
جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے سمجھ میں نہیں
آتا ۔بہر حال ہم ان کے چند قبیح جرائم کو حوالہء قرطاس کرنے کی کوشش کرتے
ہیں جن سے قارئین کے سامنے ان کی خباثت کھل کر سامنے آجائے گی ۔ ان شاء
اللہ
۱۔ ۳۸ ھ میں جب جنگ جمل کا سانحہ ہوا اور اس سے قبل فریقین میں صلح کی
بات طئے ہو گئی تو صورت حال اس گروہ کو ایک آنکھ نہ بھائی جو اسلام کا
شیرازہ منتشر کرنا چاہتے تھے ،اور جس نے لوگوں کو بر آنگیختہ کرکے قتل
عثمان پر آمادہ کیا تھا ان سب کا سردار عبد اللہ بن سبا نے اپنے گروہ کو
مشورہ دیا کہ اگر فریقین میں صلح عمل میں آگئی تو تم لوگ کہیں کے نہیں
رہوگے اس لئے اگر تم لوگ خیریت چاہتے ہو تو میری بات مانو اور وہ یہ کہ
فریقین میں شامل ہو کر ان کو آپس میں لڑا دو ۔ لہذا ان لوگوں نے رات کا
فائدہ اٹھا کر دونو ں کے درمیان لڑائی کرا دی اس لڑائی میں فریقین کے دس
ہزار لوگ شہیدہوئے اور زخمیوں کا کوئی اندازہ نہیں تھا ۔(حضرت علی بن ابی
طالب لارمان سرحدی ،ص۸۰)
(۲) ۳۱۷ ھ میں شیعی قرامطہ نے یوم الترویہ(۸ ذی الحجہ) کو ایسی قتل و
غارت گری مچائی کہ کعبہ سے لیکر مکہ کی گلیوں تک انسانی لاشوں کا انبار
لگا ہوا تھا طواف کرنے والے ،خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ نے والے سب تہ تیغ کر
دئے گئے پھر انہیں مکہ کی مختلف جگہوں میں اور مسجد حرام میں دفن کر دیا
گیا بلکہ زمزم کا کنواں انسانی لاشوں سے پاٹ دیا گیا ان بد بحتوں نے خانہ
کعبہ کا دروازہ اکھاڑ دیا اور حجر اسود تک کو اپنے ساتھ لے گئے پھر اللہ
کی مشیت سے ۲۲ سال بعد ۱۰ ذوالحجہ ۳۳۹ ھ کو ’’سنبر بن حسن‘‘ نامی شخص نے
حجر اسود کو آزاد کرا کر اس کے اصل مقام میں پیوست کرایا ۔
(۳) عروس البلاد بغداد ،اسلامی دنیا کا دل ،دنیاکے علم وفن کا گہوارہ جو
لاتعداد کتب خانوں ،مدرسوں اور دارالعلوموں کے لئے ساری دنیا میں مشہور و
معروف تھا اور جو اپنے شہرہ افاق فلاسفہ،مؤرخین ریاضی دانوں اور دیگر
علوم و فنون کے ماہر اساتذہ سے عالمی شہرت رکھتی تھی شیعوں کے ایک عظیم
سازش کے تحت علقمی اور طوسی کے ذریعہ اس شہر علم وفن کو تہ و بالا کرکے
رکھ دیا گیا اس میں تقریبا دس لاکھ مسلمان کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا یہ
واقعہ ۶۵۶ ھ میں پیش آیا ۔(دعوت فکر و عمل ،ص:۲۰)
(۴) ۹۰۷ ھ میں اسمٰعیل بن حیدر صفوی نے ایران میں صفوی شیعی حکومت قائم
کرنے کے لئے وہاں تقریبا دس لاکھ سنی مسلمانوں کو قتل کیا جن کی قبروں پر
صفوی شیعی حکومت قائم ہوئی اورپھر آج اسی بنیاد پر امامت و خلافت اور
ولایت فقیہ پر خمینی کی مذہبی حکومت قائم ہے۔(ایران ،اخوان اور فیصلہ کن
طوفان ممتاز بن عبد اللطیف ،ص:۱۰۰)۔
(۵) جنوب ہند میں سلطان ٹیپو جیسے بہادر مسلمان بادشاہ کو جب انگریز اپنی
فوجی قوت و طاقت کے باوجود زیر نہ کر سکی تو ان کے دو شیعہ وزیر میر صادق
اور میر غلام علی نے ہی قصر شاہی کے ذیلی دروازوں سے انگریزی فوج کو داخل
کرکے سلطان کا قتل کرایا اور اس طرح سے سلطان ٹیپو نے ۱۷۹۹ ء میں جام
شہات نوش فر مایا ۔(ایضاً،ص:۱۰۱)
۶۔ ۱۹۷۹ ء میں ایران کی زمین پر خمینی انقلاب آیا جس کی اہم خارجہ
پالیسیوں میں سے یہ ہے کہ خمینی فکر کو پڑوسی ممالک اور پھر پوری دنیا
میں عام کیا جائے،اسی مقصد کے خاطر ایران نے خلیجی ممالک میں شیعی
اقلیتوں کو ورغلایا ،ایران اور ایران سے باہر دہشت گرد تنظیموں کی بنیاد
ڈالی جیسے ،القدس فورس،پاسداران انقلاب اور حزب اللات وغیرہ۔
۷۔ ۱۹۸۵ ء میں کویت کے امیر مرحوم ’’جابر احمد الصباح‘‘ کے قافلے کو
دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں متعدد خلیجی اور عام شہری
ہلاک ہو گئے ۔
۸۔ ۱۴۰۶ ھ مطابق ۱۹۸۶ ء میں حرمین شریفین میں بارودی مواد داخل کرنے کی
ناکام کوشش کا گھناؤنا منظر سامنے آیا ،۳؍۱۲؍۱۴۰۶ ھ کو جدہ انٹرنیشنل
ایرپورٹ میں ۹۵ ایسے سوٹ کیس پکڑے گئے جن میں بارود رکھا ہوا تھا ،جس کا
کل وزن ۵۱کلو گرام تھا ،تحقیق کے دوران اس گروپ کے بڑے ذمہ دار نے اعتراف
کیا کہ ہمارے مجموعے کو ایرانی قیادت نے حرمین شریفین اور مقدس مقامات پر
بلاسٹ کرنے کے لئے مکلف کیا تھا ۔
۹۔ ۱۹۸۷ ء کو سعودی عرب کے مشرقی علاقے ’’راس تنورہ‘‘میں ایران کی حمایت
یافتہ تنظیم حزب اللہ الحجازی نے ایک آئل کملیکش کے ورکشاپ کو آگ لگا دی
اور اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے عناصر نے حبیل کے صنعتی علاقے میں
سعودی عرب کی کمپنی صدف پر حملہ کیا۔
۱۰۔ ۵؍۱۲؍ ۱۴۰۷ ھ مطابق ۳۱؍جولائی ۱۹۸۷ ء کو ایرانی حاجیوں نے مکہ میں
مسجد حرام سے قریب بہت بڑا ہنگامی جلوس نکالا انہوں نے اپنے کپڑوں میں
چاقو اور خنجر چھپا رکھا تھا ،خمینی کی تصویر اور مسجد اقصیٰ کا مجسمہ
اٹھا ئے ہوئے خمینی انقلاب کے نارے لگا رہے تھے ساریراستوں اور گزرگاہوں
کو بند کر دیا تھا ،جس نے نتیجے میں ایک زبرد ست بھگدڑ اور افراتفریح مچ
گئی جس کی وجہ سے ۴۰۲لوگوں کی جانیں چلی گئیں،جس کی بر وقت ۴۴ملکوں نے
مذمت کی ۔
۱۱۔ ۱۹۸۹ ء سے ۱۹۹۵ ء کے دوران ایرانی حکومت تھائی لینڈ میں چار سعودی
سفارت کاروں ’’عبداللہ المالکی ، عبداللہ البصری،فہد الباہلی،اور احمد
السیف ‘‘کی ہلاکت میں ملوث رہی ۔
۱۲۔ ۶؍ذی الحجہ ۱۴۰۹ ھ مطابق ۱۰؍جولائی ۱۸۸۹ ء کو مکہ میں دو بم بلاسٹ
ہوئے ایک مسجد حرام کے راستے میں اور دوسرا مسجد سے قریب والے بریج میں
،جس میں آدمی کی وفات ہوئی اور سولہ لوگ زخمی ہوئے،یہ دونوں بلاسٹ کویت
میں مقیم بعض ایرانی سفارت کاروں کی منصوبہ بند سازش کے تحت کویت کے کئی
رافضہ اور احسا ء کے ایک سعودی رافضی نے ملکر انجام دیا تھا ،۳۱؍دسمبر
۱۹۸۹ ء کو شاہ فہد رحمۃاللہ علیہ کے حکم سے سولہ مجرموں کو پھانسی دی
گئی جنہیں آج تک رافضہ شہدا ئے حرم مکی کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
۱۳۔ ۱۰؍ذی الحجہ ۱۴۱۰ ھ مطابق ۲؍جولائی ۱۹۹۰ ء کو مکہ کے معیصم ٹیونل
(سرنگ) میں بھگدڑ مچی جس میں ۱۴۲۶ حاجی جاں بحق ہوئے اس کا سبب وہ زہریلی
گیس تھی جسے کویت کے حزب اللات کے ٹرینڈ جوانوں نے سرنگ میں چھوڑا تھا ۔
۱۴۔ ماضی قریب میں ۱۰؍ذی الحجہ ۱۴۳۶ ھ مطابق ۲۴؍ستمبر ۲۰۱۵ ء کو منیٰ
میں بروز جمعرات عین یوم النحر کو منیٰ میں ایک زبردست افرا تفری کا
سانحہ پیش آیا ’’جریدہ الشرق الاوسط‘‘ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ
قریب ۳۰۰ایرانی حاجیوں کے سمت مخالف سے یا حسین یا حسین کا نعرہ لگاتے
ہوئے لوٹنے کی وجہ سے پیش آیا ،اخبار والوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کنکری
مارنے کا جو وقت ان کا مقرر تھا انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی ،جس کے
نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا اور ایک معروف ایرانی سیاستداں فرزاد
فرہنگیان نے انکشاف کیا تھا کہ یہ حادثہ پاسداران انقلاب کے چھ کمانڈروں
کے زیر سرپرستی انجام پایا ہے جس میں کل ۷۱۷لوگوں کی وفات ہوئی اور ۸۶۳
افراد زخمی ہوئے ۔
۱۵۔ ۲۶؍محرم ۱۴۳۸ ھ مطابق ۲۷؍اکتوبر ۲۰۱۶ ء بروز جمعرات رات نو بجے
حوثی باغیوں نے یمن کے صعدہ نامی شہر سے خانۂ کعبہ پر پبلیسٹک میزائل سے
حملہ کیا جسے اللہ رب العالمین کی توفیق سے سعودی جانبازوں نے مکہ سے
۶۵کلو میٹر کی دوری پر فضا ہی میں تباہ کر دیا اور اللہ کے فضل سے کوئی
نقصان نہیں ہوا،حادثہ ہوتے ہی ’’قومی کونسل برائے مزاحمت ایران‘‘ کے
صدارتی بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ خامنائی کے حکم سے ایرانی فوجی ونگ
القدس کی نگرانی میں یمن کی سرزمین سے انجام پایا ۔
۱۶۔ حال ہی میں نمر النمر جسے ایرانی حکومت پر امن سیاسی کارکن کہتی تھی
اس پر ۴۶؍دیگر دہشت گردوں کے ساتھ فر د جرم عائد کی گئی اس کی جانب سے
ایک دہشت گر د تنظیم کی تشکیل بھی ثابت ہو گئی تھی ،بالخصوص نمر النمر کو
آٹھ وجوہات کی بنا پر سزائے موت دے دی گئی،جو کہ ایک شیعہ رہنما تھا ۔
یہ تھی شیعیت کی ایک مختصر تصویر جو ہم نے آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش
کی ہے چونکہ شیعہ کی تخریب کاریوں کا مرکز و محور ہمیشہ سے ہی حرمین
شریفین اور مقامات مقدسہ رہی ہیں، اس لئے میں نے اس مقالہ میں عموما تمام
چیزوں کو اور خصوصا ان چیزوں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو اس سے متعلق
تھیں۔ویسے تو اگر ان کے جرائم کی فہرست تیار کی جائے تو ایک مکمل کتاب
بھی تنگ ئداماں کا شکار ہوگی ،مگر میں انہیں چند چیزوں پر اپنے مقالے کا
اختتام کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے دعا گو
ہوں کہ تو ان شیعہ حضرات کو ہدایت کی راہ دکھا اور ہمیں ان کے شرور و فتن
سے محفوظ رکھ۔آمین تقبل یا رب العالمین ۔
شیعی مکر کا مختلف ادوار میں ایک جائزہ
الحمد اللہ رب العالمین والصلاۃ السلام علیٰ رسولہ الکریم ، ا ما بعد ۔
لفظ شیعہ کا مفہوم
لفظ شیعہ لغت میں :۔(۱)لفظ شیعہ کے بارے میں مشہور زبان داں زبیدی کہتا
ہے: ’ہر وہ گروہ جو کسی ایک چیز پرمتفق ہو جائے اسے شیعہ کہا جا ئیگا ،جو
بھی کسی دوسرے آدمی کی مدد کرے یا اس گروہ میں شامل ہو جائے اسے کہا
جائیگا ’’شیعۃ لہ‘‘ شیعہ یہ مشایعہ سے مأخوذ ہے جس کے معنیٰ اطاعت گزاری
اور اتباع کے ہیں۔(تاج العروس ؛ج ،۵ ص ۴۰۵)
(۲)مشہور عربی داں ابن منظور افریقی لکھتا ہے :’شیعہ لوگوں کے اس گروہ کو
کہا جاتا ہے جو کسی ایک چیز پر اتفاق رکھتے ہوں ۔ لیکن اب زیادہ تر ان
لوگو ں کے بارے میں بولا جانے لگا جو علی اور ان کے اہل بیت کے پیرو کار
ہیں ۔(لسان العرب ؛ج،۸ ص ۱۸۸)
لفظ شیعہ اصطلاح میں :۔ ملل ونحل کے محققین اور مؤرخین نے ’’شیعہ‘‘کے
عنوان کو کلی طور پر بارہ اماموں کے ماننے والوں پر اطلاق کیا ہے جن میں
سے بعض مندرجہ ذیل ہیں ۔
(۱)شہرستانی کہتے ہیں :’’وہ لوگ جو علی کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی
امامت اور خلافت کو نص اور وصیت پیغمر کے سبب مانتے ہیں انہیں شیعہ کہا
جاتا ہے ‘‘(الملل والنحل؛ ج،۱ ص۴۷)
(۲)ابن خلدون لکھتے ہیں : ’’لغت میں شیعہ پیرو اور ساتھی کے معنیٰ میں ہے
لیکن عرف میں علی کی پیروی کرنے والے فقہا ء اور متکلمین کو کہا جاتا ہے
‘‘(مقدمہ ابن خلدون ؛ ص ،۱۳۸)
(۳)میر سید شریف جرجانی رقمطراز ہیں :’’شیعہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو
علی کی پیروی کرتے اور رسول اللہﷺ کے بعد ان کی امامت و خلافت کو قبول
کرتے ہیں اور معتقد ہیں کہ امامت علی اور اولاد علی سے باہر نہیں جا سکتی
‘‘۔(کتاب التعریفات ؛ص ،۵۷۸)
(۴) ابو الحسن اشعری کہتے ہیں :’’شیعوں کو اس وجہ سے شیعہ کہا جاتا ہے
کیونکہ وہ علی کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں تمام اصحاب پر مقدم جانتے ہیں
‘‘۔(مقالات اسلامیین ؛ ص،۶۵)
شیعیت کا آغاز
اسلامی عقائد کی دیوار میں سب سے پہلے جس شخص نے نقب لگانے کی کوشش کی وہ
منافق’’ عبد اللہ بن سبا یہودی‘‘کے نام سے معروف ہے عہد عثمانی میں خود
کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوا اور کفریہ عقائد کی
ترویج کے لئے اپنی کوششیں شروع کر دی ۔یہ ناپاک و بد طینت شخصاپنے سینے
میں اسلام کے خلاف بغض وحقد چھپائے اہل بیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مکروہ
چہرے پر اسلام کا ماسک لگا ئے ہوئے ان سادہ لوح افراد کو مکر و دجل کے
جال میں پھنسا کر کر صحیح اسلامی عقائدسے منحرف کرنے لگا جو اللہ تعالیٰ
کے وعدہ کے مطابق روم وفارس کے سلطنتوں کے فتح ہونے کے بعد اسلام میں
داخل ہو گئے تھے اللہ جلہ شأنہ کا ارشاد ہے(وعد اللہ الذین آمنوا منکم
وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضیٰ لھم
و لیبدلنھم من بعد خوفھم امنا )(سورۃ النور ۵۵)۔
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا اور روم و فارس کی سلطنتوں پر اسلام کا
پرچم لہرانے لگا تو یہ عظیم الشان فتوحات یہودیوں اور مجوسیوں کو ایک
آنکھ نہ بھائی ۔چناچہ انہوں نے مسلمانوں کے عقائدوافکار میں نقب زنی کرکے
غیر اسلامی افکار ونظریات داخل کرنا چاہے اور دونوں کے باہمی اشتراکت عمل
نے عبد اللہ بن سبا کو جنم دیا اور یہی سے تشیع یعنی شیعہ ازم کا آغاز
ہوا۔(الشیعہ والسنہ لعلامہ احسان الہی ظہیر ،ص ۲۱،۲۲)
شیعہ مذہب کا بانی عبداللہ بن سبا
شیعیت کے نام سے مشہور اس فتنے جڑیں بڑی مضبوط ،گہریاور بہت لمبی ہے اس
فتنے کا راح رواں عبداللہ بن سبا نامی یہودی ہے در حقیقت یہ مسلمان نہیں
ہوا تھا ،بلکہ اس نے اسلام کا لبادہ اوڑہ کر مسلمانوں کو مسلمانوں کے
خلاف لا کھڑا کیا اور بعد میں اس کا جو کردار سامنے آیا اس سے یہ صاف
معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے بیت بد سے ہی یہودیت ترک کرکے اسلام قبول کیا
تھااس کا اصل مقصد مسلمانوں میں شامل ہو کر اپنے ناز و ادا سے ان میں
مقبولیت حاصل کرکے اندر سے اسلام کی تخریب وتحریف اور و اہل اسلام کے
درمیان اختلاف و شقاق پیداکرکے فتنہ وفساد برپا کرنا تھا ۔اس طرح سے عبد
اللہ بن سبا یہودی اور مجوسی معاونین کے تعاون سے امت اسلامیہ میں ایک
ایسا فرقہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا جو اسلام اور اہل اسلام کے لئے
اگے چل کر ناسور کی حیثیت اختیار کر گیا
عبداللہ بن سبا شیعی عقائد کا بانی ہے اس کا اعتراف خود شیعہ کے بعض
مؤرخین نے بھی کیا ہے ۔چنانچہ شیعہ مؤرخ’’الکشی‘‘اپنی کتاب میں رقمطراز
ہیں: بعض اہل علم سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن سبا یہودی تھا ۔پھر وہ
مسلمان ہو گیا اور حضرت علیؓ سے محبت کرنے لگا وہ سب سے پہلا شخص تھا جس
نے علیؓ کے مخالفین کی تکفیر کی ،اسی بنا پر شیعہ کے مخالفین کے کہتے ہیں
کہ تشیع (شیعہ ازم )یہودیت سے مأخوذ ہے(رجال الکشی،ص ۱۰۱)۔
یہی روایت شیعہ محدث و مؤرخ مامقانی نے الکشی سے اپنی کتاب’’تنقیح
المقال‘‘ میں نقل کیا ہے۔(تنقیح المقال ،ص: ۱۸۴)
شیعہ مؤرخ نو بختی اپنی کتاب’’ فرق الشیعہ ‘‘میں لکھتا ہے : عبد اللہ بن
سبا ابو بکرؓ ،عمرؓ،عثمانؓاور دیگر صحابہ پر طعن وتشنیع کا اغاز کرنے
والوں میں سے تھا ۔(الشیعہ و السنہ ؛ص ۲۳تا ۲۵)
شیعی ائمہ
شیعہ کے نزدیک ان کے بارہ امام ہیں ان کے عقیدے کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے
بعد حضرت علی پہلے واجب الاطاعت اور معصوم تھے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل
ہے۔
۱۔ شیعہ ائمہ کے امام میں سب سے پہلا امام خلیفۂ راشد علی بن ابی طالب
رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
۲۔ حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی کنیت ابو محمد اور لقب الزکی ہے۔
۳۔ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب شہید ہے۔
۴۔ علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رحمۃ اللہ علیہ ان کی کنیت ابو محمد
اور لقب زین العابدین ہے۔
۵۔ محمد بن علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ ان کی کنیت ابو جعفر اور لقب باقر ہے۔
۶۔ جعفر بن محمد بن علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ ان کی کنیت ابو عبداللہ
اور لقب الصادق ہے۔
۷۔ موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ان کی کنیت
ابو ابراہیم اور لقب الکاظم ہے۔
۸۔ علی بن موسیٰ بن جعفران کا لقب الرضا ہے۔
۹۔ محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر کنیت ابو جعفراور لقب الجواد ہے۔
۱۰۔ علی بن محمد بن علی کنیت ابوالحسن الہادی ہے ۔
۱۱۔ حسن بن علی بن محمد ان کی کنیت ابو محمد اور لقب العسکری ہے۔
۱۲۔ محمد بن حسن بن علی بن محمد شیعہ ان کو ابو القاسم کنیت اور المہدی
لقب دیتے ہیں ۔(اصول الکافی،ج:۱۔ص:۶۰۱،۶۰۲)
شیعی عقائد
۱۔ نماز ،زکوٰۃ،حج جو اسلام کے اراکین میں سے ہیں ان کے بارے میں شیعہ کا
عقیدہ کیا ہے اس کے بارے میں جعفر صادق سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے کہا
:(اور درحقیقت یہ ان پر بہتان ہے)’’اللہ ہماری جماعت میں سے اس آدمی کو
جو نماز نہیں پرھتا اس آدمی کی وجہ سے معاف کر دیتا ہے جو نماز پڑھتا ہے
،اس آدمی کو جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس آدمی کی وجہ سے معاف کر دیتا ہے
جو زکوٰۃ ادا کرتا ہے ،ہماری جماعت کے اس آدمی کو جو حج نہیں کرتا اس
آدمی کی وجہ سے جو حج ادا کرتا ہے معاف کر دیا جا تا ہے ۔(تفسیرقمی لعلی
بن ابراہیم ،ج:۱۔ص۸۳ ،۸۴ ۔تفسیر العیاشی لمحمد بن مسعود سلمی،ج:۱۔ص:۱۳۵)۔
۲۔ ان کے عقیدے کے مطابق علی کی محبت دنیا کی تمام نیکیوں سے بہتر ہے
کہتے ہیں علی کی محبت ایک ایسی نیکی ہے جس کو کوئی بھی برائی ضرر نہیں
پہونچا سکتی ۔(تفسیر منہج الصادقین،ج:۸۔ص:۱۱۰)اور ایک جگہ ہے کہ اہل بیت
کی محبت سے لوگوں کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح تیز آندھی میں درخت
سے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔(ایضاً،ج:۸۔ص:۱۱۱)
۳۔ شیعوں کے نزدیک ان کے ائمہ کے قبور کی زیارت ارکان اسلام کی ادائیگی
سے زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔روایت کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ
نے فرمایا :’’ایک شخص عین سے الحسین کی قبر کی زیارت کے لئے آیا تو انہوں
نے اس سے فر مایا کہ ابو عبد اللہ الاسلام کی زیارت رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ
ادا شدہ اور قبول شدہ و گناہوں سے پاک صاف کرنے والے حج کے برابر ہے اسے
اس پر تعجب ہوا تو وہ حج کی تعداد بڑھاتے گئے حتی کہ فرما یا ابو عبداللہ
کی زیارت رسول کے ساتھ ادا کی گئی تین مقبول و مبرور حج کے برابر ہے‘‘
۔(ثواب الاعمال لابن بابویہ القمی،ص:۹۳،۹۴)۔
۴۔ شیعیت کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی معرفت ان کے ائمہ کی
وجہ سے ہی ہوا ہے ،چنانچہ ابو جعفر کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں
کہ:ہماری وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوئی ہمارے ذریعے ہی سے اللہ
تعالیٰ کو پہچانا گیا ،ہمارے ساتھ اللہ کی توحید کا پرچار ہوا۔(اصول
الکافی،ج:۱۔ص:۱۰۴)
۵۔ ان کے نزدیک ان کے ائمہ کے واسطے کے بغیر دعا مقبول نہیں ہوتی روایت
کرتے ہیں کہ ابو جعفر نے فرمایا جس نے ہمارے واسطے سے اللہ سے دعا کی وہ
کامیاب ہو گیا اور جس نے کسی اور واسطے سے دعا کی وہ ہلاک ہو گیا اور اس
نے ہلاکت کو دعوت دی ۔(بشارت المصطفیٰ لشیعیہ المصطفیٰ،ص:۱۵۶)۔
۶۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ملائکہ اور حیوانات اور دیگر اشیاء کے افعال کو
پیدا نہیں کیا بلکہ حوادث انکی خلق و قدرت کے بغیر رونما ہوتے ہیں ،اللہ
تعالیٰ کسی گمراہ کو راہ راست پر نہیں لا سکتا اور نہ ہی اس کے برعکس اور
کوئی شخص ہدایت ربانی کا محتاج بھی نہیں ۔(منہاج السنۃ لابن
تیمیہ،ج:۱۔ص:۸۷)۔
۷۔ روافض (شیعہ)سابقین اولین صحابہ کو کافر یا فاسق قرار دیتے ہیں اور
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ہر لڑنے والے کی تکفیر کرتے ہیں
۔(ایضاً،ج:۱۔ص:۱۲۱)
۸۔ شیخین کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ دونوں اندرونی طور پر منافق تھے
نبی سے دشمنی رکھتے تھے ان سے جتنا ہو سکا انہوں نے دین کو خراب کیا
۔(ایضاً،ج:۱۔ص:۱۵۸)اس کے علاوہ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب ان کا آخری
امام ظاہر ہوگا تو وہ شیخین کو ان کے قبروں سے نکال کر سولی پہ چڑھائیں
گے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سنگسار کریں گے ۔
۹۔ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن مجید مکمل نہیں ہے اس میں ترمیم و
تحریف کی گئی ہے اصل قرآن چالیس پارہ کا تھا دس پارہ حذف کر دیا گیا ہے
اور نبوت اصل میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملنی تھی مگر جبرئیل
علیہ السلاۃ والصلام نے غلطی سے محمد ﷺ پر قرآن کو نازل کر دیا ۔
شیعی دجل وتخریب کاریاں
اگر ہم شیعوں کی تخریب کاریوں اور جرائم پر نظر ڈالیں تو ایسی جارحانہ
پالسیاں اور کوششیں عیاں ہوتی ہیں جو ان کے اہلسنت والجماعت پر جھوٹے
الزامات اور عقائد کو پاش پاش کرنے کے لئے کافی ہے ویسے تو ان کے گھناؤنے
جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے سمجھ میں نہیں
آتا ۔بہر حال ہم ان کے چند قبیح جرائم کو حوالہء قرطاس کرنے کی کوشش کرتے
ہیں جن سے قارئین کے سامنے ان کی خباثت کھل کر سامنے آجائے گی ۔ ان شاء
اللہ
۱۔ ۳۸ ھ میں جب جنگ جمل کا سانحہ ہوا اور اس سے قبل فریقین میں صلح کی
بات طئے ہو گئی تو صورت حال اس گروہ کو ایک آنکھ نہ بھائی جو اسلام کا
شیرازہ منتشر کرنا چاہتے تھے ،اور جس نے لوگوں کو بر آنگیختہ کرکے قتل
عثمان پر آمادہ کیا تھا ان سب کا سردار عبد اللہ بن سبا نے اپنے گروہ کو
مشورہ دیا کہ اگر فریقین میں صلح عمل میں آگئی تو تم لوگ کہیں کے نہیں
رہوگے اس لئے اگر تم لوگ خیریت چاہتے ہو تو میری بات مانو اور وہ یہ کہ
فریقین میں شامل ہو کر ان کو آپس میں لڑا دو ۔ لہذا ان لوگوں نے رات کا
فائدہ اٹھا کر دونو ں کے درمیان لڑائی کرا دی اس لڑائی میں فریقین کے دس
ہزار لوگ شہیدہوئے اور زخمیوں کا کوئی اندازہ نہیں تھا ۔(حضرت علی بن ابی
طالب لارمان سرحدی ،ص۸۰)
(۲) ۳۱۷ ھ میں شیعی قرامطہ نے یوم الترویہ(۸ ذی الحجہ) کو ایسی قتل و
غارت گری مچائی کہ کعبہ سے لیکر مکہ کی گلیوں تک انسانی لاشوں کا انبار
لگا ہوا تھا طواف کرنے والے ،خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ نے والے سب تہ تیغ کر
دئے گئے پھر انہیں مکہ کی مختلف جگہوں میں اور مسجد حرام میں دفن کر دیا
گیا بلکہ زمزم کا کنواں انسانی لاشوں سے پاٹ دیا گیا ان بد بحتوں نے خانہ
کعبہ کا دروازہ اکھاڑ دیا اور حجر اسود تک کو اپنے ساتھ لے گئے پھر اللہ
کی مشیت سے ۲۲ سال بعد ۱۰ ذوالحجہ ۳۳۹ ھ کو ’’سنبر بن حسن‘‘ نامی شخص نے
حجر اسود کو آزاد کرا کر اس کے اصل مقام میں پیوست کرایا ۔
(۳) عروس البلاد بغداد ،اسلامی دنیا کا دل ،دنیاکے علم وفن کا گہوارہ جو
لاتعداد کتب خانوں ،مدرسوں اور دارالعلوموں کے لئے ساری دنیا میں مشہور و
معروف تھا اور جو اپنے شہرہ افاق فلاسفہ،مؤرخین ریاضی دانوں اور دیگر
علوم و فنون کے ماہر اساتذہ سے عالمی شہرت رکھتی تھی شیعوں کے ایک عظیم
سازش کے تحت علقمی اور طوسی کے ذریعہ اس شہر علم وفن کو تہ و بالا کرکے
رکھ دیا گیا اس میں تقریبا دس لاکھ مسلمان کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا یہ
واقعہ ۶۵۶ ھ میں پیش آیا ۔(دعوت فکر و عمل ،ص:۲۰)
(۴) ۹۰۷ ھ میں اسمٰعیل بن حیدر صفوی نے ایران میں صفوی شیعی حکومت قائم
کرنے کے لئے وہاں تقریبا دس لاکھ سنی مسلمانوں کو قتل کیا جن کی قبروں پر
صفوی شیعی حکومت قائم ہوئی اورپھر آج اسی بنیاد پر امامت و خلافت اور
ولایت فقیہ پر خمینی کی مذہبی حکومت قائم ہے۔(ایران ،اخوان اور فیصلہ کن
طوفان ممتاز بن عبد اللطیف ،ص:۱۰۰)۔
(۵) جنوب ہند میں سلطان ٹیپو جیسے بہادر مسلمان بادشاہ کو جب انگریز اپنی
فوجی قوت و طاقت کے باوجود زیر نہ کر سکی تو ان کے دو شیعہ وزیر میر صادق
اور میر غلام علی نے ہی قصر شاہی کے ذیلی دروازوں سے انگریزی فوج کو داخل
کرکے سلطان کا قتل کرایا اور اس طرح سے سلطان ٹیپو نے ۱۷۹۹ ء میں جام
شہات نوش فر مایا ۔(ایضاً،ص:۱۰۱)
۶۔ ۱۹۷۹ ء میں ایران کی زمین پر خمینی انقلاب آیا جس کی اہم خارجہ
پالیسیوں میں سے یہ ہے کہ خمینی فکر کو پڑوسی ممالک اور پھر پوری دنیا
میں عام کیا جائے،اسی مقصد کے خاطر ایران نے خلیجی ممالک میں شیعی
اقلیتوں کو ورغلایا ،ایران اور ایران سے باہر دہشت گرد تنظیموں کی بنیاد
ڈالی جیسے ،القدس فورس،پاسداران انقلاب اور حزب اللات وغیرہ۔
۷۔ ۱۹۸۵ ء میں کویت کے امیر مرحوم ’’جابر احمد الصباح‘‘ کے قافلے کو
دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں متعدد خلیجی اور عام شہری
ہلاک ہو گئے ۔
۸۔ ۱۴۰۶ ھ مطابق ۱۹۸۶ ء میں حرمین شریفین میں بارودی مواد داخل کرنے کی
ناکام کوشش کا گھناؤنا منظر سامنے آیا ،۳؍۱۲؍۱۴۰۶ ھ کو جدہ انٹرنیشنل
ایرپورٹ میں ۹۵ ایسے سوٹ کیس پکڑے گئے جن میں بارود رکھا ہوا تھا ،جس کا
کل وزن ۵۱کلو گرام تھا ،تحقیق کے دوران اس گروپ کے بڑے ذمہ دار نے اعتراف
کیا کہ ہمارے مجموعے کو ایرانی قیادت نے حرمین شریفین اور مقدس مقامات پر
بلاسٹ کرنے کے لئے مکلف کیا تھا ۔
۹۔ ۱۹۸۷ ء کو سعودی عرب کے مشرقی علاقے ’’راس تنورہ‘‘میں ایران کی حمایت
یافتہ تنظیم حزب اللہ الحجازی نے ایک آئل کملیکش کے ورکشاپ کو آگ لگا دی
اور اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے عناصر نے حبیل کے صنعتی علاقے میں
سعودی عرب کی کمپنی صدف پر حملہ کیا۔
۱۰۔ ۵؍۱۲؍ ۱۴۰۷ ھ مطابق ۳۱؍جولائی ۱۹۸۷ ء کو ایرانی حاجیوں نے مکہ میں
مسجد حرام سے قریب بہت بڑا ہنگامی جلوس نکالا انہوں نے اپنے کپڑوں میں
چاقو اور خنجر چھپا رکھا تھا ،خمینی کی تصویر اور مسجد اقصیٰ کا مجسمہ
اٹھا ئے ہوئے خمینی انقلاب کے نارے لگا رہے تھے ساریراستوں اور گزرگاہوں
کو بند کر دیا تھا ،جس نے نتیجے میں ایک زبرد ست بھگدڑ اور افراتفریح مچ
گئی جس کی وجہ سے ۴۰۲لوگوں کی جانیں چلی گئیں،جس کی بر وقت ۴۴ملکوں نے
مذمت کی ۔
۱۱۔ ۱۹۸۹ ء سے ۱۹۹۵ ء کے دوران ایرانی حکومت تھائی لینڈ میں چار سعودی
سفارت کاروں ’’عبداللہ المالکی ، عبداللہ البصری،فہد الباہلی،اور احمد
السیف ‘‘کی ہلاکت میں ملوث رہی ۔
۱۲۔ ۶؍ذی الحجہ ۱۴۰۹ ھ مطابق ۱۰؍جولائی ۱۸۸۹ ء کو مکہ میں دو بم بلاسٹ
ہوئے ایک مسجد حرام کے راستے میں اور دوسرا مسجد سے قریب والے بریج میں
،جس میں آدمی کی وفات ہوئی اور سولہ لوگ زخمی ہوئے،یہ دونوں بلاسٹ کویت
میں مقیم بعض ایرانی سفارت کاروں کی منصوبہ بند سازش کے تحت کویت کے کئی
رافضہ اور احسا ء کے ایک سعودی رافضی نے ملکر انجام دیا تھا ،۳۱؍دسمبر
۱۹۸۹ ء کو شاہ فہد رحمۃاللہ علیہ کے حکم سے سولہ مجرموں کو پھانسی دی
گئی جنہیں آج تک رافضہ شہدا ئے حرم مکی کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
۱۳۔ ۱۰؍ذی الحجہ ۱۴۱۰ ھ مطابق ۲؍جولائی ۱۹۹۰ ء کو مکہ کے معیصم ٹیونل
(سرنگ) میں بھگدڑ مچی جس میں ۱۴۲۶ حاجی جاں بحق ہوئے اس کا سبب وہ زہریلی
گیس تھی جسے کویت کے حزب اللات کے ٹرینڈ جوانوں نے سرنگ میں چھوڑا تھا ۔
۱۴۔ ماضی قریب میں ۱۰؍ذی الحجہ ۱۴۳۶ ھ مطابق ۲۴؍ستمبر ۲۰۱۵ ء کو منیٰ
میں بروز جمعرات عین یوم النحر کو منیٰ میں ایک زبردست افرا تفری کا
سانحہ پیش آیا ’’جریدہ الشرق الاوسط‘‘ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ
قریب ۳۰۰ایرانی حاجیوں کے سمت مخالف سے یا حسین یا حسین کا نعرہ لگاتے
ہوئے لوٹنے کی وجہ سے پیش آیا ،اخبار والوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کنکری
مارنے کا جو وقت ان کا مقرر تھا انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی ،جس کے
نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا اور ایک معروف ایرانی سیاستداں فرزاد
فرہنگیان نے انکشاف کیا تھا کہ یہ حادثہ پاسداران انقلاب کے چھ کمانڈروں
کے زیر سرپرستی انجام پایا ہے جس میں کل ۷۱۷لوگوں کی وفات ہوئی اور ۸۶۳
افراد زخمی ہوئے ۔
۱۵۔ ۲۶؍محرم ۱۴۳۸ ھ مطابق ۲۷؍اکتوبر ۲۰۱۶ ء بروز جمعرات رات نو بجے
حوثی باغیوں نے یمن کے صعدہ نامی شہر سے خانۂ کعبہ پر پبلیسٹک میزائل سے
حملہ کیا جسے اللہ رب العالمین کی توفیق سے سعودی جانبازوں نے مکہ سے
۶۵کلو میٹر کی دوری پر فضا ہی میں تباہ کر دیا اور اللہ کے فضل سے کوئی
نقصان نہیں ہوا،حادثہ ہوتے ہی ’’قومی کونسل برائے مزاحمت ایران‘‘ کے
صدارتی بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ خامنائی کے حکم سے ایرانی فوجی ونگ
القدس کی نگرانی میں یمن کی سرزمین سے انجام پایا ۔
۱۶۔ حال ہی میں نمر النمر جسے ایرانی حکومت پر امن سیاسی کارکن کہتی تھی
اس پر ۴۶؍دیگر دہشت گردوں کے ساتھ فر د جرم عائد کی گئی اس کی جانب سے
ایک دہشت گر د تنظیم کی تشکیل بھی ثابت ہو گئی تھی ،بالخصوص نمر النمر کو
آٹھ وجوہات کی بنا پر سزائے موت دے دی گئی،جو کہ ایک شیعہ رہنما تھا ۔
یہ تھی شیعیت کی ایک مختصر تصویر جو ہم نے آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش
کی ہے چونکہ شیعہ کی تخریب کاریوں کا مرکز و محور ہمیشہ سے ہی حرمین
شریفین اور مقامات مقدسہ رہی ہیں، اس لئے میں نے اس مقالہ میں عموما تمام
چیزوں کو اور خصوصا ان چیزوں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو اس سے متعلق
تھیں۔ویسے تو اگر ان کے جرائم کی فہرست تیار کی جائے تو ایک مکمل کتاب
بھی تنگ ئداماں کا شکار ہوگی ،مگر میں انہیں چند چیزوں پر اپنے مقالے کا
اختتام کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے دعا گو
ہوں کہ تو ان شیعہ حضرات کو ہدایت کی راہ دکھا اور ہمیں ان کے شرور و فتن
سے محفوظ رکھ۔آمین تقبل یا رب العالمین ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں