یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر لگے الزامات کی حقیقت
یزیدبن معاویہ پر ترک صلاۃ ، شراب نوشی اوربے جا لہو ولعب کی جوبھی روایت نقل کی جاتی وہ سب کی سب موضوع اور من گھڑت ہیں ۔ذیل میں ہم اس سلسلے کی تمام روایات کا جائزہ لیتے ہیں:
اس سلسلے کی تمام روایات کے مرکزی راوی درج رواۃ ہیں ذیل ہیں:
ابومخنف لوط بن یحیی
محمدبن عمر الواقدی
عوانہ بن الحکم الكوفي
عمر بن شبة النميرى
محمد بن زكريا الغلابي
يحيى بن فليح بن سليمان
محمدبن داب المدینی
روایات ابو مخنف لوط بن یحیی کذاب
امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
قال لوط: وحدثني أيضا محمد بن عبد العزيز بن عبد الرحمن بن عوف: ۔۔۔فأتى أهل المدينة، فكان فيمن يحرض الناس على يزيد، وكان من قوله يومئذ: إن يزيد والله لقد أجازني بمائة ألف درهم، وإنه لا يمنعني ما صنع إلي أن أخبركم خبره، وأصدقكم عنه، والله إنه ليشرب الخمر، وإنه ليسكر حتى يدع الصلاة،
منذربن الزبیر اہل مدینہ کے پاس آئے تو یہ ان لوگوں میں سے تھے جو لوگوں کو یزید بن معاویہ کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ اور یہ اس دن کہتے تھے : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دئے، لیکن اس نے مجھ پر جو نوازش کی ہے وہ مجھے اس چیز سے نہیں روک سکتی کہ میں تمہیں اس کی خبر بتلاؤں اور اس کے تعلق سے سچائی بیان کردوں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یزید شراب پیتا ہے اور شراب کے نشے میں نماز بھی چھوڑ دیتاہے[تاريخ الطبري: 5/ 481]
یہ روایت جھوٹی اورمن گھڑت ہے اسے بیان کرنے ولا لوط بن یحیی ابو مخنف ہے جو بہت بڑا کذاب رافضی شیعہ اور جھوٹا ہے ۔
امام حاتم الرازی رحمتہ اللہ نے کہا : "متروک الحدیث " یہ متروک الحدیث ہے (الجرح والتعادل لابن حاتم ١٨٢/٧)
امام ابن معین رحمتہ اللہ نے کہا : أَبُو مخنف وَأَبُو مَرْيَم وَعَمْرو بن شمر لَيْسُوا هم بِشَيْء
ابو محنف ابو مریم اور عمر بن شمر کی کوئی حشیت نہیں (تاریخ ابن معین ٤٣٩/٣)
امام ابن عدی رحمتہ اللہ نے کہا : شیعي محترق صاحب أخبارهم
یہ کٹر شیعہ اور شیعوں کا مورخ ہے (کامل فی ضعفاء ٢٤١/٧)۔
امام اسمائل صبہانی رحمتہ اللہ نے کہا : فَأَما مَا رَوَاهُ أَبُو مخنف وَغَيره من الروافض فَلَا اعْتِمَاد بروايتهم،
ابو محنف وغیرہ روافض نے جو روایت کیا ہے وہ ناقابل اعتماد ہے (الحجة في بيان المحجة ٥٦٨/٢ ) .
امام ابن جوزی رحمتہ اللہ نے کہا : وفی حدیث ابن عباس ابو صالح الکلبی وابو محنف وکلھم کذابون
ابو عباس والی روایت میں ابو صالح اور ابو محنف ہے اور یہ سب کے سب کذاب ہے (موضوعات لابن جوزی ٤٠٦/١)۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے کہا : لُوطِ بْنِ يَحْيَى (1) ، وَهُشَامِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ (2) ، وَأَمْثَالِهِمَا مِنَ الْمَعْرُوفِينَ بِالْكَذِبِ
لوط بن یحیی (ابو محنف ) ہشام بن محمد السائب اور ان جیسے لوگ جو جھوٹے ہونے میں معروف ہے (منهاج السنة النبوية ٥٩/١ ) ٍ
امام ذہبی رحمتہ اللہ نے کہا : لوط بن يحيى، أبو مخنف، أخباري تالف، لا يوثق به.
لوط بن یحیی ابو مخنف " یہ اخباری" مترو اور ناقابل اعتماد ہے (میزان الاتدال ٤١٩/٣)
امام ذہبی رحمتہ اللہ نے دوسرے مقام پر کہا : أبو مخنف.
اسمه لوط بن يحيى.
هالك.
ابو مخنف اس کا نام لوط بن یحیی ہے یہ ہالک ہے (میزان الاتدال ٥٧١/٤)۔
امام ابن العراق الکنانی رحمتہ اللہ نے کہا : لوط بن یحیی ابو مخنف کذاب تالف
لوط بن یحیی یہ کذاب اور متروک ہے (تنزیہ الشریعتہ المرفوعتہ ٩٨/١)۔
اس سلسلے کی تمام روایات کے مرکزی راوی درج رواۃ ہیں ذیل ہیں:
ابومخنف لوط بن یحیی
محمدبن عمر الواقدی
عوانہ بن الحکم الكوفي
عمر بن شبة النميرى
محمد بن زكريا الغلابي
يحيى بن فليح بن سليمان
محمدبن داب المدینی
روایات ابو مخنف لوط بن یحیی کذاب
امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
قال لوط: وحدثني أيضا محمد بن عبد العزيز بن عبد الرحمن بن عوف: ۔۔۔فأتى أهل المدينة، فكان فيمن يحرض الناس على يزيد، وكان من قوله يومئذ: إن يزيد والله لقد أجازني بمائة ألف درهم، وإنه لا يمنعني ما صنع إلي أن أخبركم خبره، وأصدقكم عنه، والله إنه ليشرب الخمر، وإنه ليسكر حتى يدع الصلاة،
منذربن الزبیر اہل مدینہ کے پاس آئے تو یہ ان لوگوں میں سے تھے جو لوگوں کو یزید بن معاویہ کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ اور یہ اس دن کہتے تھے : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دئے، لیکن اس نے مجھ پر جو نوازش کی ہے وہ مجھے اس چیز سے نہیں روک سکتی کہ میں تمہیں اس کی خبر بتلاؤں اور اس کے تعلق سے سچائی بیان کردوں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یزید شراب پیتا ہے اور شراب کے نشے میں نماز بھی چھوڑ دیتاہے[تاريخ الطبري: 5/ 481]
یہ روایت جھوٹی اورمن گھڑت ہے اسے بیان کرنے ولا لوط بن یحیی ابو مخنف ہے جو بہت بڑا کذاب رافضی شیعہ اور جھوٹا ہے ۔
امام حاتم الرازی رحمتہ اللہ نے کہا : "متروک الحدیث " یہ متروک الحدیث ہے (الجرح والتعادل لابن حاتم ١٨٢/٧)
امام ابن معین رحمتہ اللہ نے کہا : أَبُو مخنف وَأَبُو مَرْيَم وَعَمْرو بن شمر لَيْسُوا هم بِشَيْء
ابو محنف ابو مریم اور عمر بن شمر کی کوئی حشیت نہیں (تاریخ ابن معین ٤٣٩/٣)
امام ابن عدی رحمتہ اللہ نے کہا : شیعي محترق صاحب أخبارهم
یہ کٹر شیعہ اور شیعوں کا مورخ ہے (کامل فی ضعفاء ٢٤١/٧)۔
امام اسمائل صبہانی رحمتہ اللہ نے کہا : فَأَما مَا رَوَاهُ أَبُو مخنف وَغَيره من الروافض فَلَا اعْتِمَاد بروايتهم،
ابو محنف وغیرہ روافض نے جو روایت کیا ہے وہ ناقابل اعتماد ہے (الحجة في بيان المحجة ٥٦٨/٢ ) .
امام ابن جوزی رحمتہ اللہ نے کہا : وفی حدیث ابن عباس ابو صالح الکلبی وابو محنف وکلھم کذابون
ابو عباس والی روایت میں ابو صالح اور ابو محنف ہے اور یہ سب کے سب کذاب ہے (موضوعات لابن جوزی ٤٠٦/١)۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے کہا : لُوطِ بْنِ يَحْيَى (1) ، وَهُشَامِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ (2) ، وَأَمْثَالِهِمَا مِنَ الْمَعْرُوفِينَ بِالْكَذِبِ
لوط بن یحیی (ابو محنف ) ہشام بن محمد السائب اور ان جیسے لوگ جو جھوٹے ہونے میں معروف ہے (منهاج السنة النبوية ٥٩/١ ) ٍ
امام ذہبی رحمتہ اللہ نے کہا : لوط بن يحيى، أبو مخنف، أخباري تالف، لا يوثق به.
لوط بن یحیی ابو مخنف " یہ اخباری" مترو اور ناقابل اعتماد ہے (میزان الاتدال ٤١٩/٣)
امام ذہبی رحمتہ اللہ نے دوسرے مقام پر کہا : أبو مخنف.
اسمه لوط بن يحيى.
هالك.
ابو مخنف اس کا نام لوط بن یحیی ہے یہ ہالک ہے (میزان الاتدال ٥٧١/٤)۔
امام ابن العراق الکنانی رحمتہ اللہ نے کہا : لوط بن یحیی ابو مخنف کذاب تالف
لوط بن یحیی یہ کذاب اور متروک ہے (تنزیہ الشریعتہ المرفوعتہ ٩٨/١)۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں