دوسری جماعت کی شرعی حیثیت
دوسری جماعت کی شرعی حیثیت
غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
جماعت اگر ہوچکی ہو تو اسی مسجد میں دوبارہ جماعت کرواناکیسا ہے؟
جو اب : بلا کراہت جائز ہے، صحابہ کرام اور بعد والوں کا اسی پر عمل رہا ہے ۔دلائل ملاحظہ ہوں :
دلیل نمبر 1 : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا ، وہ اکیلا نماز پڑھ رہا تھا ، فرمایا :
ألا رجل یتصدّق ( وفی لفظ یتّجر ) علی ھذا ، فیصلّی معہ ۔
''کیا آپ میں سے کوئی ان صاحب پر صدقہ کرے گا؟ وہ ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔''
کیا کوئی آدمی ہے جو اس شخص پر صدقہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔''
ایک حدیث کے الفاظ ہیں:
أنّ رجلا دخل المسجد ، وقد صلّی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بأصحابہ ، فقال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : (( من یتصدّق علی ھذا ، فیصلّی معہ )) ، فقام رجل من القوم ، فصلّی معہ ۔
''ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو نماز پڑھا چکے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس پر کوئی صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز ادا کر لے، ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس کے ساتھ نماز ادا کی۔''
(مسند الامام احمد : ٣/٥، ٤٥، ٦٤، ٨٥، مسند عبد بن حمید : ٩٣٦، مسند الدارمی : ١٣٧٥، مسند ابی یعلی : ١٠٥٧، سنن ابی داو،د : ٥٧٤، سنن الترمذی : ٢٢٠، وسندہ، صحیحٌ)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ''حسن'' اور امام ابن الجارود(٣٣) ، امام ابنِ خزیمہ (١٦٣٢)، امام ابنِ حبان (٢٣٩٧)، امام الضیاء المقدسی (٧٦٣)، امام حاکم (١/٢٠٩)، حافظ ذہبی اور حافظ ابنِ حجر(فتح الباری : ٢/١٤٢) Sنے ''صحیح'' کہا ہے ۔
امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حدیث أبی سعید ثابت ۔۔۔
''سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح وثابت ہے ۔۔۔''(الاوسط لابن المنذر : ٤/٢١٨)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ورجالہ رجال الصّحیح ۔
''اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں ۔''(مجمع الزوائد للہیثمی : ٢/٤٥)
یہ حدیث دوسری جماعت کے جواز پر نص ہے ۔
دلیل نمبر 2 : سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
انّ رجلا جاء ، وقد صلّی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، فقام یصلّی وحدہ ، فقال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : (( من یتّجر علی ھذا ، فلیصلّ معہ ))
''ایک آدمی آیا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرماچکے تھے ۔ اس نے اکیلے نماز شروع کردی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اجر و ثواب کی تجارت کیجئے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوکر کوئی نماز پڑھ لے۔''
(المعجم الاوسط للطبرانی : ٧٢٨٢، سنن الدارقطنی : ١/٢٧٦، وسندہ، حسنٌ)
b ابوعثمان یشکری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
مرّ بنا أنس بن مالک ، وقد صلّینا صلاۃ الغداۃ ، ومعہ رھط ، فأمر رجلا منھم ، فأذن ، ثمّ صلّوا رکعتین قبل الفجر ، قال : ثمّ أمروہ ، فأقام ، ثمّ تقدّم ، فصلّی بھم ۔
''ہم فجر کی نماز ادا کر چکے تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہاں سے گزر ہوا، ایک جماعت آپ کے ساتھ تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے ایک شخص کو اذان کا کہا، اذان کے بعد سب نے دو سنتیں ادا کیں، پھر موذن کو تکبیر کا کہا گیا، اس نے تکبیر کہی، آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھانے لگے۔''
(مصنف ابن ابی شیبۃ : ٢/٣٢١، وسندہ، صحیحٌ)
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے یہ روایت ابویعلیٰ کے طریق سے مختصر روایت کی ہے، فرماتے ہیں :
ھذا إسناد صحیح موقوف ۔ ''یہ سند صحیح اور موقوف(فعل صحابی)ہے ۔''
(تغلیق التعلیق لابن حجر : ٢/٢٧٦۔٢٧٧)
علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ھذا ممّا لا یعرف فیہ لأنس مخالف من الصّحابۃ ۔
''اس مسئلے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی کسی صحابی نے مخالفت نہیں کی۔''
(المحلی لابن حزم : ٣/١٥٦)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے اس فعل پر کسی صحابی نے اعتراض نہیں کیا، امام اور مقتدی دونوں فرض پڑھ رہے ہیں اور اذان واقامت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں ۔ کسی صحابی نے اس کے خلاف کوئی فتوی نہیں دیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جماعت کے جواز پر صحابہ کا اجماع ہے۔
مولانااشرف علی تھانوی کہتے ہیں :
''کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا مذہب جماعت ِ ثانیہ کا تھا ۔ اب چونکہ اس کے خلاف اجماع ہوگیا ہے ، اس واسطے پہلے کا عمل مرتفع ہوجائے گا۔''(الکلام الحسن از تھانوی : ٢/٨١)
یہ دعوی بالکل خلاف واقعہ ہے کہ اب اس کے خلاف اجماع ہوگیا ہے، وائے حیرت کہ صحابہ کے اجماع کے خلاف بھی کبھی اجماع ہوا ہے؟
مولاناسرفراز خان صفدر لکھتے ہیں : ـ
'' العرف الشذی (از انور شاہ کشمیری) ص ١١٩ میں ہے کہ دوبارہ جماعت مع الاذان والاقامت مکروہ تحریمی ہے ۔''(خزائن السنن از صفدر : ٣١٠)
مولاناانور شاہ کشمیری سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں :
''علامہ شامی کے حوالے سے (انور شاہ صاحب نے)لکھا ہے کہ ٥٥١ ہجری میں مقلدین ائمہ اربعہ کا مکہ مکرمہ میں اجتماع ہوا اور اس پر اتفاق ہوا کہ دوبارہ مسجد میں جماعت نہیں ہونی چاہیے ، کیونکہ اگر دوبارہ جماعت کی گنجائش ہو تو مسلمانوں کے اتفاق واتحاد کی وہ مثال باقی نہیں رہ سکتی ، جو ایک جماعت میں ہے ۔''(خزائن السنن از صفدر : ٣١٠)
قارئین ! انصاف شرط ہے ، کیا چھٹی صدی میں ایسا اجماع ممکن ہے، جو صحابہ کے اجماع کو ساقط کر سکے؟ کیا اجماع پر اجماع ہوجاتا ہے؟
متاخرین میں اتفاق ویسے ہی ناممکن ہے، خصو صا ان حالات میں جب منبر ومحراب کے وارث باہم دست وگریباں رہے ہوں۔حرم میں چا ر مصلے بچھ گئے ہوں اور مناظرے ایک دوسرے کو گمراہ کہنے پر ہوتے رہے ہوں، ان حالات میں بھلا کیسے ممکن ہے کہ کسی مسئلہ پر اتفاق ہو جائے؟
پھر ٥٥١ھ کا اجماع شامی صاحب نے بیان کیا، مگر اس کی سند بیان نہیں کی۔یعنی باوثوق تاریخی حوالے سے یہ بات ہم تکپہنچی ہی نہیں۔
محدثین اور ائمہ دین میں سے کوئی بھی دوسری جماعت کو مکروہ نہیں کہتا ، بلکہ وہ اسے دینی رخصت سمجھتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بعض ائمہ دوسری جماعت کی بجائے اکیلے نماز کو اختیار کرتے ہیں ۔ واجب ہم بھی نہیں سمجھتے ۔ہم بھی جواز واستحباب کے قائل ہیں ۔ جوچاہے دوسری جماعت کرائے اور جوچاہے اکیلے پڑھ لے ۔
مولاناعبدالشکورلکھنوی صاحب لکھتے ہیں :
''احادیث سے بھی دوسری جماعت کا جواز نکلتا ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر دوسری جماعت کی اجازت دی جائے گی تو پہلی جماعت کے کم ہوجانے کا خوف ہے ، حالانکہ یہ امر جب لازم ہوگا کہ دوسری جماعت بطور ِ التزام کے قائم کردی جائے اورجب بطور التزام کے ایک ہی جماعت مقرر ہے اور اتفاقاً کبھی کچھ لوگ اس میں شامل نہ ہوئے تو ان کے جماعت کرنے سے یہ امر لازم نہیں آتا ۔ علاوہ اس کے جب پہلی جماعت کے برابر دوسری جماعت کا ثواب نہیں رکھا گیا تو طالبانِ ثواب کسی طرح پہلی جماعت میں کمی نہ کریں گے اوریوں تو لوگ جماعت نہیں کرتے ، اس کا کیا علاج ؟''
(علم الفقہ از عبد الشکور اللکھنوی : ٢٤٩)
دوسری جماعت کی کراہت پر بعض احباب کی طرف سے یہ دلیل پیش کی جاتی ہے۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
انّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أقبل من نواحی المدینۃ ، یرید الصّلاۃ ، فوجد النّاس قد صلّوا ، فمال إلی منزلہ ، فجمع أھلہ ، فصلّی بھم ۔
''رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اطراف سے تشریف لائے ۔ آپ نماز پڑھنا چاہتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے اورگھروالوں کو جمع کرکے انہیں نماز پڑھائی ۔''
(المعجم الاوسط للطبرانی : ٤٥٩٨، المعجم الکبیر للطبرانی : (مجمع الزوائد : ٥/٤٨) ، الکامل لابن عدی : ٦/٢٣٩٨)
تبصرہ : سند ''ضعیف'' ہے ۔الولید بن مسلم ''مدلس'' ہے اورکثرت سے ''تدلیس التسویہ'' کرتا تھا ۔ سماع کی تصریح کہیں نہیں ملی ۔
لہٰذا علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کا اس کے راویوں کو ''ثقہ'' قرار دینا درست نہیں، جب تک سماع کی بالتسلسل تصریح نہ مل جائے ۔اس روایت کی بنیاد پر ایک جائز کام کو ''مکروہ'' قرار دینا کوئی مستحسن فعل نہیں۔
مولاناعبدالشکور فاروقی صاحب لکھتے ہیں : ''قاضی ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگر ہیئت بدل دی جائے تو مکروہ نہیں اورانہی کے قول پر فتویٰ ہے ۔''(علم الفقہ از عبد الشکور اللکھنوی : ٢٤٩)
ہیئت بدلنے کی شرط لگانا بے دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل التفات ہے ۔ یہ شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام ] ، ثقہ تابعین عظام اور ان کے بعد آنے والے مسلمانوں سے ثابت نہیں ۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
سلیمان بن یسار مولیٰ میمونہ کہتے ہیں کہ میں بلاط(جگہ کانام) پر سیدنا عبد اللہ بن عمر w کے پاس آیا ۔ لوگ نماز(عصر)پڑھ رہے تھے ۔ میں نے کہا ،آپ لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے :
لا تصلّوا صلاۃ فی یوم مرّتین ۔ ''ایک نماز کو ایک ہی دن میں دودفعہ ادا نہ کرو۔''
(مسند الامام احمد : ٢/١٩،٤١، سنن ابی داو،د : ٥٧٩، سنن النسائی : ٨٦١، وسندہ، صحیحٌ)
امام ابنِ خزیمہ(١٦٤١) ، امام ابنِ حبان (٢٣٩٦)، علامہ ابنِ حزم(المحلی : ٢/٣٥١) Sنے اس حدیث کو''صحیح'' اور حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصۃ الاحکام للنووی : ٢/٦٦٨)نے اس کی سند کو ''صحیح'' قرار دیا ہے ۔
تبصرہ :
اس صحیح حدیث سے دوسری جماعت کی کراہت ثابت نہیں ہوتی۔امت ِ مسلمہ کے عظیم فقہائے کرام ومحدثین عظام اس حدیث کا معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھ چکا ہوتو دوبارہ وہی نماز کسی دوسری جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔
سنن نسائی میں لا تعاد اور سنن دارقطنی میں مکتوبۃ کے الفاظ بھی اسی معنی پر قرینہ ہیں۔
تنبیہ بلیغ : بلاوجہ پہلی جماعت ترک کرکے دوسری جماعت کرانا غیر مستحسن عمل ہے، جسے قطعا جائز نہیں کہا جاسکتا۔
الحاصل : مسجد میں دوسری جماعت جائز، بلکہ مستحب ہے اور اس میں اذان واقامت بھی کہی جاسکتی ہے ۔
غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
جماعت اگر ہوچکی ہو تو اسی مسجد میں دوبارہ جماعت کرواناکیسا ہے؟
جو اب : بلا کراہت جائز ہے، صحابہ کرام اور بعد والوں کا اسی پر عمل رہا ہے ۔دلائل ملاحظہ ہوں :
دلیل نمبر 1 : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا ، وہ اکیلا نماز پڑھ رہا تھا ، فرمایا :
ألا رجل یتصدّق ( وفی لفظ یتّجر ) علی ھذا ، فیصلّی معہ ۔
''کیا آپ میں سے کوئی ان صاحب پر صدقہ کرے گا؟ وہ ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔''
کیا کوئی آدمی ہے جو اس شخص پر صدقہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔''
ایک حدیث کے الفاظ ہیں:
أنّ رجلا دخل المسجد ، وقد صلّی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بأصحابہ ، فقال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : (( من یتصدّق علی ھذا ، فیصلّی معہ )) ، فقام رجل من القوم ، فصلّی معہ ۔
''ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو نماز پڑھا چکے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس پر کوئی صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز ادا کر لے، ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس کے ساتھ نماز ادا کی۔''
(مسند الامام احمد : ٣/٥، ٤٥، ٦٤، ٨٥، مسند عبد بن حمید : ٩٣٦، مسند الدارمی : ١٣٧٥، مسند ابی یعلی : ١٠٥٧، سنن ابی داو،د : ٥٧٤، سنن الترمذی : ٢٢٠، وسندہ، صحیحٌ)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ''حسن'' اور امام ابن الجارود(٣٣) ، امام ابنِ خزیمہ (١٦٣٢)، امام ابنِ حبان (٢٣٩٧)، امام الضیاء المقدسی (٧٦٣)، امام حاکم (١/٢٠٩)، حافظ ذہبی اور حافظ ابنِ حجر(فتح الباری : ٢/١٤٢) Sنے ''صحیح'' کہا ہے ۔
امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حدیث أبی سعید ثابت ۔۔۔
''سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح وثابت ہے ۔۔۔''(الاوسط لابن المنذر : ٤/٢١٨)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ورجالہ رجال الصّحیح ۔
''اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں ۔''(مجمع الزوائد للہیثمی : ٢/٤٥)
یہ حدیث دوسری جماعت کے جواز پر نص ہے ۔
دلیل نمبر 2 : سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
انّ رجلا جاء ، وقد صلّی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، فقام یصلّی وحدہ ، فقال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : (( من یتّجر علی ھذا ، فلیصلّ معہ ))
''ایک آدمی آیا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرماچکے تھے ۔ اس نے اکیلے نماز شروع کردی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اجر و ثواب کی تجارت کیجئے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوکر کوئی نماز پڑھ لے۔''
(المعجم الاوسط للطبرانی : ٧٢٨٢، سنن الدارقطنی : ١/٢٧٦، وسندہ، حسنٌ)
b ابوعثمان یشکری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
مرّ بنا أنس بن مالک ، وقد صلّینا صلاۃ الغداۃ ، ومعہ رھط ، فأمر رجلا منھم ، فأذن ، ثمّ صلّوا رکعتین قبل الفجر ، قال : ثمّ أمروہ ، فأقام ، ثمّ تقدّم ، فصلّی بھم ۔
''ہم فجر کی نماز ادا کر چکے تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہاں سے گزر ہوا، ایک جماعت آپ کے ساتھ تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے ایک شخص کو اذان کا کہا، اذان کے بعد سب نے دو سنتیں ادا کیں، پھر موذن کو تکبیر کا کہا گیا، اس نے تکبیر کہی، آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھانے لگے۔''
(مصنف ابن ابی شیبۃ : ٢/٣٢١، وسندہ، صحیحٌ)
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے یہ روایت ابویعلیٰ کے طریق سے مختصر روایت کی ہے، فرماتے ہیں :
ھذا إسناد صحیح موقوف ۔ ''یہ سند صحیح اور موقوف(فعل صحابی)ہے ۔''
(تغلیق التعلیق لابن حجر : ٢/٢٧٦۔٢٧٧)
علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ھذا ممّا لا یعرف فیہ لأنس مخالف من الصّحابۃ ۔
''اس مسئلے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی کسی صحابی نے مخالفت نہیں کی۔''
(المحلی لابن حزم : ٣/١٥٦)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے اس فعل پر کسی صحابی نے اعتراض نہیں کیا، امام اور مقتدی دونوں فرض پڑھ رہے ہیں اور اذان واقامت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں ۔ کسی صحابی نے اس کے خلاف کوئی فتوی نہیں دیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جماعت کے جواز پر صحابہ کا اجماع ہے۔
مولانااشرف علی تھانوی کہتے ہیں :
''کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا مذہب جماعت ِ ثانیہ کا تھا ۔ اب چونکہ اس کے خلاف اجماع ہوگیا ہے ، اس واسطے پہلے کا عمل مرتفع ہوجائے گا۔''(الکلام الحسن از تھانوی : ٢/٨١)
یہ دعوی بالکل خلاف واقعہ ہے کہ اب اس کے خلاف اجماع ہوگیا ہے، وائے حیرت کہ صحابہ کے اجماع کے خلاف بھی کبھی اجماع ہوا ہے؟
مولاناسرفراز خان صفدر لکھتے ہیں : ـ
'' العرف الشذی (از انور شاہ کشمیری) ص ١١٩ میں ہے کہ دوبارہ جماعت مع الاذان والاقامت مکروہ تحریمی ہے ۔''(خزائن السنن از صفدر : ٣١٠)
مولاناانور شاہ کشمیری سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں :
''علامہ شامی کے حوالے سے (انور شاہ صاحب نے)لکھا ہے کہ ٥٥١ ہجری میں مقلدین ائمہ اربعہ کا مکہ مکرمہ میں اجتماع ہوا اور اس پر اتفاق ہوا کہ دوبارہ مسجد میں جماعت نہیں ہونی چاہیے ، کیونکہ اگر دوبارہ جماعت کی گنجائش ہو تو مسلمانوں کے اتفاق واتحاد کی وہ مثال باقی نہیں رہ سکتی ، جو ایک جماعت میں ہے ۔''(خزائن السنن از صفدر : ٣١٠)
قارئین ! انصاف شرط ہے ، کیا چھٹی صدی میں ایسا اجماع ممکن ہے، جو صحابہ کے اجماع کو ساقط کر سکے؟ کیا اجماع پر اجماع ہوجاتا ہے؟
متاخرین میں اتفاق ویسے ہی ناممکن ہے، خصو صا ان حالات میں جب منبر ومحراب کے وارث باہم دست وگریباں رہے ہوں۔حرم میں چا ر مصلے بچھ گئے ہوں اور مناظرے ایک دوسرے کو گمراہ کہنے پر ہوتے رہے ہوں، ان حالات میں بھلا کیسے ممکن ہے کہ کسی مسئلہ پر اتفاق ہو جائے؟
پھر ٥٥١ھ کا اجماع شامی صاحب نے بیان کیا، مگر اس کی سند بیان نہیں کی۔یعنی باوثوق تاریخی حوالے سے یہ بات ہم تکپہنچی ہی نہیں۔
محدثین اور ائمہ دین میں سے کوئی بھی دوسری جماعت کو مکروہ نہیں کہتا ، بلکہ وہ اسے دینی رخصت سمجھتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بعض ائمہ دوسری جماعت کی بجائے اکیلے نماز کو اختیار کرتے ہیں ۔ واجب ہم بھی نہیں سمجھتے ۔ہم بھی جواز واستحباب کے قائل ہیں ۔ جوچاہے دوسری جماعت کرائے اور جوچاہے اکیلے پڑھ لے ۔
مولاناعبدالشکورلکھنوی صاحب لکھتے ہیں :
''احادیث سے بھی دوسری جماعت کا جواز نکلتا ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر دوسری جماعت کی اجازت دی جائے گی تو پہلی جماعت کے کم ہوجانے کا خوف ہے ، حالانکہ یہ امر جب لازم ہوگا کہ دوسری جماعت بطور ِ التزام کے قائم کردی جائے اورجب بطور التزام کے ایک ہی جماعت مقرر ہے اور اتفاقاً کبھی کچھ لوگ اس میں شامل نہ ہوئے تو ان کے جماعت کرنے سے یہ امر لازم نہیں آتا ۔ علاوہ اس کے جب پہلی جماعت کے برابر دوسری جماعت کا ثواب نہیں رکھا گیا تو طالبانِ ثواب کسی طرح پہلی جماعت میں کمی نہ کریں گے اوریوں تو لوگ جماعت نہیں کرتے ، اس کا کیا علاج ؟''
(علم الفقہ از عبد الشکور اللکھنوی : ٢٤٩)
دوسری جماعت کی کراہت پر بعض احباب کی طرف سے یہ دلیل پیش کی جاتی ہے۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
انّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أقبل من نواحی المدینۃ ، یرید الصّلاۃ ، فوجد النّاس قد صلّوا ، فمال إلی منزلہ ، فجمع أھلہ ، فصلّی بھم ۔
''رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اطراف سے تشریف لائے ۔ آپ نماز پڑھنا چاہتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے اورگھروالوں کو جمع کرکے انہیں نماز پڑھائی ۔''
(المعجم الاوسط للطبرانی : ٤٥٩٨، المعجم الکبیر للطبرانی : (مجمع الزوائد : ٥/٤٨) ، الکامل لابن عدی : ٦/٢٣٩٨)
تبصرہ : سند ''ضعیف'' ہے ۔الولید بن مسلم ''مدلس'' ہے اورکثرت سے ''تدلیس التسویہ'' کرتا تھا ۔ سماع کی تصریح کہیں نہیں ملی ۔
لہٰذا علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کا اس کے راویوں کو ''ثقہ'' قرار دینا درست نہیں، جب تک سماع کی بالتسلسل تصریح نہ مل جائے ۔اس روایت کی بنیاد پر ایک جائز کام کو ''مکروہ'' قرار دینا کوئی مستحسن فعل نہیں۔
مولاناعبدالشکور فاروقی صاحب لکھتے ہیں : ''قاضی ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگر ہیئت بدل دی جائے تو مکروہ نہیں اورانہی کے قول پر فتویٰ ہے ۔''(علم الفقہ از عبد الشکور اللکھنوی : ٢٤٩)
ہیئت بدلنے کی شرط لگانا بے دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل التفات ہے ۔ یہ شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام ] ، ثقہ تابعین عظام اور ان کے بعد آنے والے مسلمانوں سے ثابت نہیں ۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
سلیمان بن یسار مولیٰ میمونہ کہتے ہیں کہ میں بلاط(جگہ کانام) پر سیدنا عبد اللہ بن عمر w کے پاس آیا ۔ لوگ نماز(عصر)پڑھ رہے تھے ۔ میں نے کہا ،آپ لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے :
لا تصلّوا صلاۃ فی یوم مرّتین ۔ ''ایک نماز کو ایک ہی دن میں دودفعہ ادا نہ کرو۔''
(مسند الامام احمد : ٢/١٩،٤١، سنن ابی داو،د : ٥٧٩، سنن النسائی : ٨٦١، وسندہ، صحیحٌ)
امام ابنِ خزیمہ(١٦٤١) ، امام ابنِ حبان (٢٣٩٦)، علامہ ابنِ حزم(المحلی : ٢/٣٥١) Sنے اس حدیث کو''صحیح'' اور حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصۃ الاحکام للنووی : ٢/٦٦٨)نے اس کی سند کو ''صحیح'' قرار دیا ہے ۔
تبصرہ :
اس صحیح حدیث سے دوسری جماعت کی کراہت ثابت نہیں ہوتی۔امت ِ مسلمہ کے عظیم فقہائے کرام ومحدثین عظام اس حدیث کا معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھ چکا ہوتو دوبارہ وہی نماز کسی دوسری جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔
سنن نسائی میں لا تعاد اور سنن دارقطنی میں مکتوبۃ کے الفاظ بھی اسی معنی پر قرینہ ہیں۔
تنبیہ بلیغ : بلاوجہ پہلی جماعت ترک کرکے دوسری جماعت کرانا غیر مستحسن عمل ہے، جسے قطعا جائز نہیں کہا جاسکتا۔
الحاصل : مسجد میں دوسری جماعت جائز، بلکہ مستحب ہے اور اس میں اذان واقامت بھی کہی جاسکتی ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں