اہل فقہ کے یہاں ”أدلہ أربعہ“ کا مفہوم
اہل فقہ کے یہاں ”أدلہ أربعہ“ کا مفہوم
========
دین(كتاب وسنت )کے دلائل یا تو صریح ہوتے ہیں یا غیر صریح ۔
--------
پہلی قسم: صریح دلائل:
دین کے جو دلائل صریح ہیں وہاں اجتہاد یعنی استدلال واستنباط اور قیل وقال کی ضرورت ہی نہیں بلکہ فی الفور اتباع و تسلیم لازم ہے۔اس طرح کے دلائل کے سامنے چونکہ ”لا اجتهاد مع النص“ کا اصول کار فرما ہے اس لئے ان دلائل کو براہ راست ”دلیل الکتاب“ یا ”دلیل السنہ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
--------
دوسری قسم غیرصریح دلائل:
اور دین کے جو دلائل دوسری قسم کے ہیں وہاں اجہتاد یعنی بحث و نظر اور استدلال و استنباط کی ضرورت ہے
اور ان دلائل کے ساتھ اجتہاد کی دو صورت ہوتی ہے ایک وہ جس پر پوری امت متفق ہوجائے اور دوسری وہ جس پر پوری کا اتفاق ثابت نہ ہو ۔
پہلے صورت (دلیل +متفق علیہ اجتہاد) میں دلائل کو ”لا يجمع الله أمتي على ضلالة أبدا“(تمام مجتہدین امت کا متفقہ فہم غلط نہیں ہوسکتا) کے پیش نظر ”دلیل اجماع“ سے تعبیر کیا جاتاہے اور دوسری صورت (دلیل + غیر متفق علیہ اجتہاد) میں دلائل کو ”المجتهد قد يخطي ويصيب“(ایک مجتہد کا فہم کبھی غلط ہوتاہے کبھی صحیح ہوتاہے) کے پیش نظر ”دلیل قیاس“ سے تعبیر کیا جاتاہے۔
--------
اس طرح دین (كتاب وسنت ) کے دلائل چار قسموں میں منقسم ہوجاتے ہیں۔
دلیل کتاب (صریح نص قرآنی)
دلیل سنت (صریح نص حدیث)
دلیل اجماع (غیر صریح نص کتاب وسنت + متفق علیہ اجتہاد)
دلیل قیاس (غیر صریح نص کتاب وسنت + غیرمتفق علیہ اجتہاد)
اہل فقہ کے یہاں جب ادلہ اربعہ کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد دلائل کی یہی چار قسمیں ہوتی ہیں ۔بعض حضرات اس تفصیل سے غافل ہونے کے سبب یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اجماع اور قیاس یہ قرآن و حدیث سے بالکل الگ کسی علیحدہ دلیل کا نام ہے جب کہ یہ غلط ہے۔
اگر دلیل سے خالی اجماع کی بات کہی جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ”اجماع معصوم“ نہیں بلکہ ”اجماع مزعوم“ ہے یعنی فقط دعوائے اجماع ہے اور فی الحقیقت اجماع ثابت نہیں ہے۔
اور اگر دلیل سے خالی قیاس کی بات کہی جائے تو جان لینا چاہئے کہ وہ ”قیاس صحیح“ نہیں بلکہ محض ایک رائے ہے۔
نوٹ:
دلیل کتاب (صریح نص قرآنی) اور دلیل سنت (صریح نص حدیث) سے ثابت بعض احکام پر بھی اجماع ہوتا ہے جیسے پنجوقتہ نمازوں کی فرضیت پر اجماع لیکن اس طرح کا اجماع اجتہادی نہیں بلکہ اتباعی ہوتا ہے، یعنی یہاں مجتہدین کے اجتہاد(استدلال واستنباط) کادخل نہیں ہوتا ہے بلکہ براہ راست نص کی اتباع پراتفاق ہوتاہے۔ اور اہل فقہ کی اصطلاح میں ”اجماع“ ، مجتہدین کے اس اتفاق کو کہتے ہیں جواستدلال واستنباط كے ساتھ اجتہاد کے بعد عمل میں آیا ہو۔
(كفايت الله سنابلي)
========
دین(كتاب وسنت )کے دلائل یا تو صریح ہوتے ہیں یا غیر صریح ۔
--------
پہلی قسم: صریح دلائل:
دین کے جو دلائل صریح ہیں وہاں اجتہاد یعنی استدلال واستنباط اور قیل وقال کی ضرورت ہی نہیں بلکہ فی الفور اتباع و تسلیم لازم ہے۔اس طرح کے دلائل کے سامنے چونکہ ”لا اجتهاد مع النص“ کا اصول کار فرما ہے اس لئے ان دلائل کو براہ راست ”دلیل الکتاب“ یا ”دلیل السنہ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
--------
دوسری قسم غیرصریح دلائل:
اور دین کے جو دلائل دوسری قسم کے ہیں وہاں اجہتاد یعنی بحث و نظر اور استدلال و استنباط کی ضرورت ہے
اور ان دلائل کے ساتھ اجتہاد کی دو صورت ہوتی ہے ایک وہ جس پر پوری امت متفق ہوجائے اور دوسری وہ جس پر پوری کا اتفاق ثابت نہ ہو ۔
پہلے صورت (دلیل +متفق علیہ اجتہاد) میں دلائل کو ”لا يجمع الله أمتي على ضلالة أبدا“(تمام مجتہدین امت کا متفقہ فہم غلط نہیں ہوسکتا) کے پیش نظر ”دلیل اجماع“ سے تعبیر کیا جاتاہے اور دوسری صورت (دلیل + غیر متفق علیہ اجتہاد) میں دلائل کو ”المجتهد قد يخطي ويصيب“(ایک مجتہد کا فہم کبھی غلط ہوتاہے کبھی صحیح ہوتاہے) کے پیش نظر ”دلیل قیاس“ سے تعبیر کیا جاتاہے۔
--------
اس طرح دین (كتاب وسنت ) کے دلائل چار قسموں میں منقسم ہوجاتے ہیں۔
دلیل کتاب (صریح نص قرآنی)
دلیل سنت (صریح نص حدیث)
دلیل اجماع (غیر صریح نص کتاب وسنت + متفق علیہ اجتہاد)
دلیل قیاس (غیر صریح نص کتاب وسنت + غیرمتفق علیہ اجتہاد)
اہل فقہ کے یہاں جب ادلہ اربعہ کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد دلائل کی یہی چار قسمیں ہوتی ہیں ۔بعض حضرات اس تفصیل سے غافل ہونے کے سبب یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اجماع اور قیاس یہ قرآن و حدیث سے بالکل الگ کسی علیحدہ دلیل کا نام ہے جب کہ یہ غلط ہے۔
اگر دلیل سے خالی اجماع کی بات کہی جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ”اجماع معصوم“ نہیں بلکہ ”اجماع مزعوم“ ہے یعنی فقط دعوائے اجماع ہے اور فی الحقیقت اجماع ثابت نہیں ہے۔
اور اگر دلیل سے خالی قیاس کی بات کہی جائے تو جان لینا چاہئے کہ وہ ”قیاس صحیح“ نہیں بلکہ محض ایک رائے ہے۔
نوٹ:
دلیل کتاب (صریح نص قرآنی) اور دلیل سنت (صریح نص حدیث) سے ثابت بعض احکام پر بھی اجماع ہوتا ہے جیسے پنجوقتہ نمازوں کی فرضیت پر اجماع لیکن اس طرح کا اجماع اجتہادی نہیں بلکہ اتباعی ہوتا ہے، یعنی یہاں مجتہدین کے اجتہاد(استدلال واستنباط) کادخل نہیں ہوتا ہے بلکہ براہ راست نص کی اتباع پراتفاق ہوتاہے۔ اور اہل فقہ کی اصطلاح میں ”اجماع“ ، مجتہدین کے اس اتفاق کو کہتے ہیں جواستدلال واستنباط كے ساتھ اجتہاد کے بعد عمل میں آیا ہو۔
(كفايت الله سنابلي)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں