ہم اپنے آپ کو سلفی کیوں کہتے ہیں؟
اللہ نے ہمارا نام مسلمان رکھا تو پھر ہم اپنے آپ کو سلفی کیوں کہیں؟
اس شبہ کا جواب امام علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بہت ہی خوبصورتی سے دیا۔ کسی نے اس موضوع پر آپ سے گفتگو کی تھی جو کہ کیسٹ میں ریکارڈ ہے جس کا عنوان ہے "میں سلفی ہوں"۔
ہم یہاں پر اس کیسٹ کے کچھ اہم حصے کا اردو ترجمہ پیش کرتے ہیں۔
شیخ البانیؒ: جب کوئی آپ سے یہ سوال کرے کہ تمہارا مذہب کیا ہے تو تم کیا جواب دو گے؟
سائل: میں مسلم ہوں۔
شیخ البانیؒ: یہ کافی نہیں ہے۔
سائل: اللہ نے ہمارا نام مسلم رکھا اور پھر اس نے اللہ کے اس فرمان کی تلاوت کی
هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ (سورہ حج۔ 78) اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔
شیخ البانیؒ: آپ کا یہ جواب اس وقت صحیح ہو سکتا تھا جب ہم اسلام کے اول دور میں ہوتے، قبل اس کے کہ فرقے اٹھتے، گروہ بندیاں ہوتیں اور پھیل جاتی۔ مگر اب اس وقت ہم کسی ایسے شخص کو جو فرقوں سے تعلق رکھتا ہو، جن سے ہم عقیدہ کی بنیاد پر اختلاف رکھتے ہیں سوال کریں کہ اس کا مذہب کیا ہے؟ اس کا جواب بھی آپ کے جواب سے مختلف نہ ہو گا۔ وہ یہی کہے گا کہ وہ مسلمان ہے۔ شیعہ رافضی، خارجی، نصیری، علوی تمام ہی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ چنانچہ آج کسی کے لیے اتنا کہنا کافی نہ ہو گا کہ "میں مسلمان ہوں"۔
سائل: جب معاملہ ایسا ہے (گمراہ فرقے بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں) تو میں کہوں گا، میں مسلمان ہوں قرآن و سنت پہ چلتا ہوں۔
شیخ البانیؒ: یہ جواب بھی ناکافی ہے۔
سائل: کیوں؟
شیخ البانیؒ: بھلا کیا تم ان فرقوں میں سے کسی کو پاتے ہو جو یہ کہتا ہو کہ مسلمان تو ہوں مگر قرآن و سنت پر نہیں ہوں (ہر فرقہ یہی کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، قرآن و سنت پر ہے)۔ یہاں پہنچ کر شیخ نے تفصیل کے ساتھ قرآن و سنت کو سلف صالحین کے مطابق لینے کے متعلق بتایا، اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
سائل: جب معاملہ ایسا ہے (یعنی ہر فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور قرآن و حدیث پر چلنے کا دعوی کرتا ہے) تو میں یہ کہوں گا "میں مسلمان ہوں، سلف صالحین کی سمجھ کے مطابق قرآن وسنت پر چلنے والا ہوں"۔
شیخ البانیؒ: اگر کوئی آپ سے آپ کے مذہب کے متعلق دریافت کرے تو کیا آپ یہی جواب دیں گے؟
سائل: جی ہاں
شیخ البانیؒ: آپ کی رائے کیا ہے اگر ہم اس لمبے فقرہ کو چھوٹا کر دیں کیوں کہ بہترین الفاظ وہی ہیں جو تھوڑے ہوں مگر بولنے والے کے مقصد کو ظاہر کریں۔ اس لیے ہم کہتے ہیں "سلفی "
(اس شبہ کا جواب یہاں ختم ہوا)
نوٹ: سلفی لوگ کتاب و سنت کو سلف صالحین کے منہج کے مطابق سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ سلفی دعوت منجملہ جن چیزوں کے گرد گھومتی ہے ان میں سے سلف صالحین کے منہج کے مطابق کتاب وسنت کی فہم ہے۔ سلفی لوگ مسلمانوں کو فقط کتاب و سنت کی جانب لوٹنے کی دعوت دینے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس پر اتنا اضافہ کرتے ہیں کہ سلف صالحین کے منہج کے مطابق کتاب و سنت کی طرف لوٹنا ۔ اسی لیے امام ابن القیم ؒتاکید کے طور پر اور فہم کتاب و سنت کے سلسلے میں اس قید کے متعلق ایک سرسری اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا، اس کے رسولﷺ نے فرمایا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا۔ انہوں نے بھی اپنے اس قول، علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا، اس کے رسولﷺ نے فرمایا پر اکتفا نہیں کیا جیسا کہ جمہور (عام) مسلمان کہتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ صحابہ نے فرمایا کا اضافہ کیا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان سلف صالحین کے منہج کے مطابق ہی کتاب و سنت کے ساتھ تمسک کرے۔ مزید تفصیل کے لیے کتاب "سلفی دعوت" ایک تعارف از شیخ عید عباسی اور علامہ ناصر الدین البانیؒ کا ضرور مطالعہ کریں۔
اس شبہ کا جواب امام علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بہت ہی خوبصورتی سے دیا۔ کسی نے اس موضوع پر آپ سے گفتگو کی تھی جو کہ کیسٹ میں ریکارڈ ہے جس کا عنوان ہے "میں سلفی ہوں"۔
ہم یہاں پر اس کیسٹ کے کچھ اہم حصے کا اردو ترجمہ پیش کرتے ہیں۔
شیخ البانیؒ: جب کوئی آپ سے یہ سوال کرے کہ تمہارا مذہب کیا ہے تو تم کیا جواب دو گے؟
سائل: میں مسلم ہوں۔
شیخ البانیؒ: یہ کافی نہیں ہے۔
سائل: اللہ نے ہمارا نام مسلم رکھا اور پھر اس نے اللہ کے اس فرمان کی تلاوت کی
هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ (سورہ حج۔ 78) اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔
شیخ البانیؒ: آپ کا یہ جواب اس وقت صحیح ہو سکتا تھا جب ہم اسلام کے اول دور میں ہوتے، قبل اس کے کہ فرقے اٹھتے، گروہ بندیاں ہوتیں اور پھیل جاتی۔ مگر اب اس وقت ہم کسی ایسے شخص کو جو فرقوں سے تعلق رکھتا ہو، جن سے ہم عقیدہ کی بنیاد پر اختلاف رکھتے ہیں سوال کریں کہ اس کا مذہب کیا ہے؟ اس کا جواب بھی آپ کے جواب سے مختلف نہ ہو گا۔ وہ یہی کہے گا کہ وہ مسلمان ہے۔ شیعہ رافضی، خارجی، نصیری، علوی تمام ہی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ چنانچہ آج کسی کے لیے اتنا کہنا کافی نہ ہو گا کہ "میں مسلمان ہوں"۔
سائل: جب معاملہ ایسا ہے (گمراہ فرقے بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں) تو میں کہوں گا، میں مسلمان ہوں قرآن و سنت پہ چلتا ہوں۔
شیخ البانیؒ: یہ جواب بھی ناکافی ہے۔
سائل: کیوں؟
شیخ البانیؒ: بھلا کیا تم ان فرقوں میں سے کسی کو پاتے ہو جو یہ کہتا ہو کہ مسلمان تو ہوں مگر قرآن و سنت پر نہیں ہوں (ہر فرقہ یہی کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، قرآن و سنت پر ہے)۔ یہاں پہنچ کر شیخ نے تفصیل کے ساتھ قرآن و سنت کو سلف صالحین کے مطابق لینے کے متعلق بتایا، اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
سائل: جب معاملہ ایسا ہے (یعنی ہر فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور قرآن و حدیث پر چلنے کا دعوی کرتا ہے) تو میں یہ کہوں گا "میں مسلمان ہوں، سلف صالحین کی سمجھ کے مطابق قرآن وسنت پر چلنے والا ہوں"۔
شیخ البانیؒ: اگر کوئی آپ سے آپ کے مذہب کے متعلق دریافت کرے تو کیا آپ یہی جواب دیں گے؟
سائل: جی ہاں
شیخ البانیؒ: آپ کی رائے کیا ہے اگر ہم اس لمبے فقرہ کو چھوٹا کر دیں کیوں کہ بہترین الفاظ وہی ہیں جو تھوڑے ہوں مگر بولنے والے کے مقصد کو ظاہر کریں۔ اس لیے ہم کہتے ہیں "سلفی "
(اس شبہ کا جواب یہاں ختم ہوا)
نوٹ: سلفی لوگ کتاب و سنت کو سلف صالحین کے منہج کے مطابق سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ سلفی دعوت منجملہ جن چیزوں کے گرد گھومتی ہے ان میں سے سلف صالحین کے منہج کے مطابق کتاب وسنت کی فہم ہے۔ سلفی لوگ مسلمانوں کو فقط کتاب و سنت کی جانب لوٹنے کی دعوت دینے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس پر اتنا اضافہ کرتے ہیں کہ سلف صالحین کے منہج کے مطابق کتاب و سنت کی طرف لوٹنا ۔ اسی لیے امام ابن القیم ؒتاکید کے طور پر اور فہم کتاب و سنت کے سلسلے میں اس قید کے متعلق ایک سرسری اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا، اس کے رسولﷺ نے فرمایا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا۔ انہوں نے بھی اپنے اس قول، علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا، اس کے رسولﷺ نے فرمایا پر اکتفا نہیں کیا جیسا کہ جمہور (عام) مسلمان کہتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ صحابہ نے فرمایا کا اضافہ کیا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان سلف صالحین کے منہج کے مطابق ہی کتاب و سنت کے ساتھ تمسک کرے۔ مزید تفصیل کے لیے کتاب "سلفی دعوت" ایک تعارف از شیخ عید عباسی اور علامہ ناصر الدین البانیؒ کا ضرور مطالعہ کریں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں