ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں
ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں
راجح قول كے مطابق تين طلاق كى ايک ہى واقع ہوگى
ایک دوست کے پوچھے گئے سوال کا جواب
ميرے ايك دوست نے اپنى بيوى كو غصہ كى حالت ميں طلاق دے دى، اس نے اسے ايك ہى بارہ تين طلاقيں ديں، ليكن ميں نے انٹرنيٹ پر پڑھا ہے كہ تين طلاقيں ايك ہى شمار ہوتى ہے، كيا يہ بات صحيح ہے كہ ايك مجلس كى تين طلاقيں ايك ہى شمار ہو گى، اور ميں نے غصہ كى بھى تين قسميں پڑھى ہيں كيا يہ بھى صحيح ہے ؟
الحمد للہ:
اول:
تين طلاق كے مسئلہ ميں فقھاء كا اختلاف ہے، اور راجح يہى ہے كہ يہ ايك طلاق ہى شمار كى جائيگى، چاہے ايك ہى كلمہ ميں " تجھے تين طلاق " كہا جائے، يا پھر عليحدہ عليحدہ مثلا " تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق " شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اسے ہى اختيار كيا ہے، اور شيخ سعدى اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار ديا ہے.
انہوں نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى اس حديث سے استدلال كيا ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت ميں، اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت كے دو برس ميں تين طلاقيں ايك ہى شمار كى جاتى رہى، چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: لوگوں نے اس معاملہ ميں جلدبازى كى ہے جس ميں ان كے ليے وسعت تھى اس ليے اگر ہم اسے جارى كر ديں تو انہوں نے اسے ان پرجارى كر ديا "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1472 ).
دوم:
غصہ كى حالت ميں طلاق دينے والے كى تين حالتيں ہيں:
پہلى حالت:
غصہ تھوڑا سا ہو كہ وہ اس كے ارادہ و اختيار پر اثرانداز نہ ہو تو اس كى طلاق صحيح اور واقع ہوگى.
دوسرى حالت:
اگر غصہ اتنا شديد ہو كہ پتہ ہى نہ چلے وہ كيا كہہ رہا ہے اور اسے شعور ہى نہ رہے تو اس حالت ميں دى گئى طلاق واقع نہيں ہو گى كيونكہ يہ پاگل و مجنون كى طرح ہے جس كے قوال كو نہيں ليا جائيگا.
ان دونوں حالتوں كے حكم ميں علماء كرام كا كوئى اختلاف نہيں.
تيسرى حالت:
اتنا شديد غصہ كہ آدمى كے ارادہ پر اثرانداز ہو اور وہ ايسى كلام كرنے لگے گويا كہ اسے اس كلام پرمجبور كيا جا رہا ہے پھر كچھ ہى دير ميں غصہ زائل ہونے پر وہ اس پر نادم ہو ليكن يہ غصہ اس حديث تك نہ پہنچا ہو كہ اس احساس و شعور اور ادراك ہى ختم ہو جائے، اور اپنے قول و فعل پر كنٹرول نہ كر سكے.
تو غصہ كى اس قسم كے حكم ميں علماء كا اختلاف پايا جاتا ہے، اور راجح يہى ہے جيسا كہ شيخ ابن باز رحمہ اللہ كا كہنا ہے كہ اس ميں بھى طلاق واقع نہيں ہوگى.
كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" مدہوشى كى حالت ميں نہ تو طلاق ہے اور نہ ہى آزاد كرنا "
سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2046 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل ( 2047 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
علماء كرام نے " الاغلاق " كى شرح كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس كا معنى جبر اور شديد غصہ ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كے شاگرد ابن قيم نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، اور اس ميں " اغاثۃ اللھفان فى حكم طلاق الغضبان " كے نام سے ايك مشہور كتابچہ بھى تاليف كيا ہے.
مزيد آپ سوال نمبر ( 45174 ) كے جواب كا بھى مطالعہ كريں.
اس قول كى بنا پر اگر آپ كے دوست نے شديد غصہ كى حالت ميں طلاق كى طلام كى تو يہ طلاق واقع نہيں ہوئى، اور اگر اس كا غصہ اتنا شديد نہ تھا بكلہ تھوڑا سا تھا تو ايك طلاق واقع ہو چكى ہے.
واللہ اعلم .
جو لوگ تین کو تین ہی باور کرتے ہیں وہ
ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى اس حديث کے بارے میں آپ کیا کہے گے
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت ميں، اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت كے دو برس ميں تين طلاقيں ايك ہى شمار كى جاتى رہى، چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: لوگوں نے اس معاملہ ميں جلدبازى كى ہے جس ميں ان كے ليے وسعت تھى اس ليے اگر ہم اسے جارى كر ديں تو انہوں نے اسے ان پرجارى كر ديا "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 147
تین طلاق سے یہاں طوالت کے خوف سے صرف دلائل کا جائزہ لوں گا اور جو غیر ضروری بحث ہے ایک سانس میں تین طلاق یا دو سانس میں ، اسی طرح مسلم شریف کے متعلق مدخولہ غیرمدخولہ کی زبردستی بحث سے درگذرکرتا ہوں۔
پہلی دلیل : اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظہرکم؟حتی قام رجل وقال: یارسول اللہ الا اقتلہ؟(نسائی)
اس حدیث کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضورعلیہ السلام کو بتایا گیا کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاقیں دے دی ہیں،اس پر حضور شدید ناراض ہوے اور فرمایا: کیا میری زندگی میں ہی اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کیا جاے گا؟ آپ کی ناراضگی دیکھ کر ایک صحابی نے درخواست کی کہ حضور! آپ اجازت دیں تو اس کی گردن اڑادوں۔
اس حدیث میں ایک ساتھ تین طلاق ، تینوں واقع ہوجاتی ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ اس میں صرف تین طلاق دینے کا ذکر ہے جس پر آپ ﷺ غضبناک ہوگئے ۔ بہت ساری احادیث سے ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہونے کا صراحت کے ساتھ ثبوت ملتا ہے۔
دوسری دلیل : عن ابن عباس کان الطلاق علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر و سنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضیناہ علیہم فامضاہ علیہم۔(مسلم)
یعنی حضور علیہ السلام، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، لیکن جلدبازی میں تین طلاقیں دیا کرتے تھے، اس لیے حضرت عمر نے تین طلاقوں کے نفاذ کا فیصلہ صادر فرما دیا۔
یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے ،اس پر عہدرسول میں عمل ہوتارہاہے اور اس کے بعد بھی مگر مقلد نے اس حدیث کے متعلق کہا کہ یہ موقوف ہے جبکہ اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے عہد کا عمل بیان کررہے اس لئے یہ مرفوع ہے ۔ دوسری بات موصوف نے کہی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اوروہ اس حدیث کے خلاف فتوی دیتے ہیں ۔
لاحول ولاقوہ ۔ کبھی تو یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ صحابی حدیث کے خلاف عمل ہی نہیں کرسکتے ، یہاں کہتے ہیں حدیث کے خلاف عمل بھی کرتے اور فتوی بھی دیتے ہیں ۔ ایسے عالم میں کیا کہا جائے؟ گویا یہاں صحابی پر صرف اپنی بات منوانے کے لئے دبی زبان کیا حکم لگانا چاہتے ہیں ؟ سوچ لیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ والی مسلم کی حدیث مرفوع ہے یعنی اس میں نبی ﷺ کا عمل بیان کیاگیاہے ، جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے راوی کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اور فتوی بھی اس کے خلاف دیتے تھے۔ موصوف کی پیش کردہ حدیث دیکھیں :
عن مجاھد قال کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظننت انہ رادھا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یا ابن عباس یا ابن عباس! وان اللہ قال ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا وانک لم تتق اللہ فلا اجد لک مخرجا عصیت ربک وبانت منک امرأتک(ابوداؤد)
ترجمہ: حضرت مجاھد کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں تھا کہ ایک صاحب آے اور کہنے لگے: میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں. مجاھد کہتے ہیں کہ یہ سن کر ابن عباس خاموش رہے.مجھے ایسا لگا کہ شاید حضرت اس کی بیوی سے رجعت کا فیصلہ سنائیں گے .پھر ابن عباس غصے میں فرمانے لگے! لوگ بڑے عجیب ہیں، حماقت کر جاتے ہیں اور پھر دہائی دیتے ہیں: اے ابن عباس! اے ابن عباس! رحم کیجیے! میں کیا کروں؟ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو متقی ہوتا ہے، اسی کے لیے راہیں بنتی ہیں.تم نے خلافِ تقویٰ کام کیا ہے.تیرے لیے کوئی گنجائش نہیںتم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے.جاؤ تمہاری بیوی تم سے علحدہ ہوگئی.تمہارا نکاح ختم ہو چکا ہے۔
موصوف نے تو خود ہی کہہ دیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل مسلم شریف کے خلاف ہے تو میرے کہنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ یہاں صحابی کا عمل ہے اور مسلم شریف میں نبی ﷺ کا عمل آپ ہی فیصلہ کریں نبی ﷺ کا عمل لیا جائے گا یا صحابی کا؟
تیسری دلیل : حدیث رکانہ جسے اہل حدیث پیش کرتے ہیں جو مسند احمد کی روایت ہے ، موصوف اس روایت کے متعلق ضعف اور علت بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت بالکل صحیح ہے اور قابل استدلال ہے ۔
(1)علامہ ابن تیمیہ نے کہا کہ ابوعبداللہ مقدسی نے اپنی کتاب المختارہ میں اسےروایت کیا ہے اور یہ کتاب مستدرک حاکم سے زیادہ صحیح ہے ۔ (مجموع الفتاوی 13/33)
(2) مسند احمد کی تحقیق میں احمد شاکرنے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ (مسنداحمد4/123)
(3) علامہ ناصرالدین البانی نے اس کے تمام طرق کو جمع کرکے اس پر حسن ہونے کا حکم لگایا ہے ۔(ارواء الغلیل 7/144)
(4) شمس الحق عظیم آبادی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے ۔(عون المعبود 6/138)
(5) علامہ ابن القیم نے اسے صحیح کہا ہے ۔(الصواعق المرسلہ 2/625)
(6) امام شوکانی نے امام احمد سے صحیح ہونے کا قول ذکر کیا ہے ۔ (الفتح الربانی 7/3469)
(7) حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا کہ اس کے شواہد مسلم وغیرہ میں ہے جس سے اس کو تقویت مل جاتی ہے ۔ (فتح الباری 9/275)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس حدیث کے متعلق فیصلہ کن تبصرہ دیکھیں :
وھذا الحدیث نص فی المسئلۃ لا یقبل التاویل الذی فی غیرہ من الروایات الاتی ذکرھا(فتح الباری 9/316طبع بیروت)
یعنی ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک ہونے میں یہ حدیث نص صریح ہے دیگر روایات میں جو تاویلیں کی جاتی ہیں اس حدیث میں وہ تاویلیں بالکل غیر مقبول ہیں۔
چوتھی دلیل : بعض لوگوں نے اپنی تائید میں رکانہ کی ایک دوسری روایت ذکر کی ہے ۔
عن عبداللہ بن یزید بن رکانۃ عن ابیہ عن جدہ قال: اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت یا رسول اللہ انی طلقت امرأتی البتۃ فقال ما اردت بہا؟ قلت واحدۃ قال واللہ؟ قلت واللہ قال فھو ما اردت - (ترمذی)
حضرت رکانہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو "طلاق البتۃ "دی ہےحضور نے پوچھا، تمہاری کیا نيت تھی؟ میں نے کہا: ایک طلاق دینے کی نیت کی تھی-آپ نے پوچھا: واللہ سچ کہہ رہے ہو؟ تو میں نے کہا واللہ سچ کہہ رہا ہوں.آپ نے فرمایا کہ پھر تمہاری نیت کا اعتبار ہے۔
اولا: یہ حدیث استدلال کے قابل ہی نہیں ہے کیونکہ سخت ضعیف ہے ۔
سند میں زبیربن سعیداورعبداللہ بن علی ضعیف ہیں،اورعلی بن یزیدبن رکانہ مجہول ہیں۔امامترمذی کہتےہیں کہ اس حدیث کوہم صرف اسی طریق سےجانتےہیں،میں نےمحمدبن اسماعیل بخاری سےاس حدیث کےبارےمیں پوچھاتوانہوں نےکہااس میں اضطراب ہے۔
ابن القیم نے اسے غیرصحیح کہا، علامہ البانی نے کہ اس میں علتیں ہیں ، امام بخاری نے کہا اس میں اضطراب ہے ،ابن العربی نے کہا اس میں اضطراب ہے ،حافظ ابن حجر نے کہا اس کی سند میں اختلاف ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے ۔
ثانیا: یہاں طلاق بتہ سے مراد ایک طلاق رجعی ہے نہ کہ تین طلاق ، لفظ واحدۃ سے بھی بتہ کی صراحت ہوتی ہے ۔
اس طرح یہ روایت ضعیف بھی ہے ، مضطرب بھی ہے ، اور صحیح حدیث جو مسلم شریف کی ہے اس کے خلاف بھی ہے ۔ رکانہ کی وہی حدیث صحیح ہے جواوپر مسند احمد کے حوالے سے ذکر ہوئی ہے ۔
اب اس کے بعد بعض لوگ نے کہا ہے کہ تمام صحابہ کی نظر میں بھی ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی ہواکرتی تھی ہے ، اس بات کی تائید میں بعض لوگ پانچ دلائل دئے ہیں، ان دلائل پہ ایک نظر ڈالتے ہیں۔
(1) پہلی دلیل: موصوف نے نسائی کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں فاطمہ بنت قیس کے طلاق کا واقعہ ہے ۔ انہیں تین طلاق دی گئی تو ان کا نان ونفقہ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ فَاعْتَدِّي عِنْدَ فُلَانَةَ(نسائی)
ترجمہ: تیرے لیے (دوران عدت میں) رہائش اور خرچہ نہیں ہے۔ تو فلاں عورت (ام شریک) کے ہاں عدت گزارلے۔
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے ،یہاں تین طلاق کا ذکر ہے ، بعض روایت میں ہے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی گئی ،اور بعض روایت میں ہے انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی ۔ ان تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فاطمہ کو اکٹھی تین طلاق نہیں بلکہ ایک طلاق دی گئی تھی جو تیسری یعنی آخری طلاق تھی ۔
(2) دوسری دلیل : عن عائشۃ ان رجلاً طلق امرأتہ ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول؟ قال لا، حتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول رواہ البخاری ( ج، ۲ ص، ۷۹۱)
یعنی ایک شخص نے اپنی بیگم کو تین طلاقیں دے دیں، عورت نے کہیں شادی کر لی اور صحبت سے قبل ہی طلاق پا گئی آپ سے پوچھا گیا کہ یہ عورت اپنے شوہر سابق کے لیے حلال ہوگئی؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ شوہر ثانی صحبت نہ کر لے.
تجزیہ: یہ حدیث اصل میں رفاعہ قرظی کے متعلق ہے ، یہاں طلاق کا مختصر ذکرہے جبکہ امام بخاری نے اسی حدیث کو دوسری جگہ مفصل ذکر کیا ہے جس میں صراحت ہے کہ رفاعہ نے اکٹھی تین طلاق نہیں دی تھی بلکہ وقفہ وقفہ سے دی تھی ،بخاری کے یہ الفاظ "فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ" اس بات کا ثبوت ہے کہ رفاعہ نے پہلے دوطلاقیں دے دی تھی یہ آخری طلاق تھی ۔
(3) تیسری دلیل : حضرت عبداللہ ابن عمر نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں طلاق دی اور حضور علیہ السلام سے پوچھا: یا رسول اللہ لوطلقتہا ثلاثاً کان لی ان اراجعہا قال: اذاً بانت منک وکانت معصیۃ.
یعنی اگر میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دوں تو حقِ رجعت باقی رہے گا؟ فرمایا: نہیں، عورت کا رشتہ ختم ہو جاے گا اور حالت حیض میں طلاق دینے کی وجہ سے گناہ ہوگا.یہ حدیث امام طبرانی نے نقل کی ہے ( مجمع الزوائد، ج 4, ص، ۳۳۶ )
یہاں حدیث کو مختصر بیان کیا ہے اسی حدیث میں پہلے والا ٹکڑا دلالت کرتا ہے کہ ابن عمر نے حالت حیض میں بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور بقیہ دو طلاق ،دوالگ الگ طہریا حیض میں دینے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اس حدیث کے الفاظ دیکھیں:أنَّهُ طلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وهِيَ حائِضٌ ثمَّ أرادَ أنْ يُتْبِعَها بطلْقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عندَ القُرْءَيْنِ الباقِيَيْنِ۔
کچھ لوگ اپنی مرضی کی بات لے لیتے ہیں اور مخالف کو چھوڑ دیاہے۔ یہ حدیث دراصل اسی کے موقف کے خلاف ہے ۔ نیز یہ حدیث ضعیف بھی ہے ، اسی مجمع الزوائد میں ہے کہ دارقطنی نے اس کے ایک روای علی بن سعید رازی پر کلام کیا ہے۔ البانی نے اسے منکراورابن القیم نے ضعیف کہا ہے۔
(4) چوتھی دلیل : معجم طبرانی میں حضرت عبادہ ابن صامت کی روایت آئی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میرے کسی باپ دادا نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں ،ان کے بیٹے حضور علیہ السلام کے پاس آے اور صورت حال بتا کر پوچھا کہ اب کوئی راستہ بچا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان اباکم لم یتق اللہ تعالیٰ فیجعل لہ من امرہ مخرجاً بانت منہ بثلاث علی غیرالسنۃ و تسع مائۃ وسبع و تسعون اثم فی عنقہ.
تمہارے آبا نے تقویٰ کی راہ اختیار نہیں کی، اس لیے کوئی صورت نہیں رہی،عورت تین طلاقوں سے ہی رشتے سے الگ ہوگئی اور بقیہ نو سو ستانوے طلاقوں کا گناہ طلاق دینے والے کی گردن پر ہوگا.
یہ روایت انتہائی ضعیف ہے ۔
٭دارقطنی نے کہا اس کے رواۃ مجہول اور ضعیف ہیں( سنن الدارقطنی 3/271)
٭ہیثمی نے کہا اس میں عبید بن ولید وصافی عجلی ضعیف ہے ۔(مجمع الزوائد4/341)
٭ علامہ البانی نے اسے سخت ضعیف کہا۔(السلسلۃ الضعیفہ :1211)
٭علامہ شوکانی نے کہا اس میں یحی بن علاء ضعیف ہے ، عبیداللہ بن ولید برباد ہونے والاہے، ابراہیم بن عبیداللہ مجہول ہے ،پھر عبادہ بن صامت کے والد نے اسلام نہیں لایا تو ان کے دادا کا کیا حال ہوگا؟ (نیل الاوطار7/17)
٭ محمد امین شنقیطی نے کہا کہ اس میں یحی بن علا، عبیداللہ بن ولید،ابراہیم بن عبیداللہ ہیں ان میں سے کسی سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔(اضواء البیان 1/200)
٭ ابن عدی نے کہا اس میں عبیداللہ وصافی بہت ضعیف ہے۔ (الکامل فی الضعفاء 5/522)
٭ حافظ ابن حجر نے کہا اس میں بہت سے ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ۔(الکافی الشاف :296)
(5) پانچویں دلیل: حضرت سوید ابن غفلۃ کہتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں.حضرت علی شہید ہوگئے تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا: خلافت مبارک ہو!! حضرت حسن نے کہا: کیا تم میرے والد کی شہادت پر خوشی منا رہی ہو؟ جاؤ، تجھے تین طلاق....راوی کہتے ہیں کہ عورت نے ان سے علحدہ ہو گئی .عدت گزر گئی تو حضرت حسن نے بقیہ مہر اور دس ہزار درہم بطور صدقہ بھجوایا .جب قاصد اس کے پاس آیا تو عورت نے کہا: متاع قلیل من حبیب مفارق .جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ بے حد کم ہےیعنی دوبارہ شادی کرلیں.یہ بات جب حضرت حسن تک پہونچی تو رونے لگے اور فرمایا: لولا انی سمعت جدی یقول ایما رجل طلق امرأتہ ثلاثاً عندالاقراءاو ثلاثاً مبھمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ لراجعتہا، رواہ البیہقی ( سنن الکبریٰ، ج 7، ص، 336) اگر میں اپنے نانا کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا تو اس سے رجوع کر لیتا ....نانا جان نے فرمایا تھا: جو شخص اپنی بیوی کو حیض کے وقت تین طلاقیں دے تو یہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ دوسری جگہ شادی نہ کر لے.
تجزیہ : یہ روایت بھی ناقابل استدلال ہے کیونکہ اس میں سخت ضعف پایا جاتا ہے ۔ بیہقی نے اس حدیث کو دو سندوں سے ذکرکیاہے پہلی سند میں محمد بن حمید رازی اور سلمہ بن فضل قرشی پر کلام ہے اور دوسری سند کے راوی پر بھی سخت قسم کی جرح ہے ۔ خلفائے راشدین کے موقف کے لئے ذیل کا موضوع دیکھیں۔
تین طلاق سے متعلق خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا موقف
باقی دیگر کئی ایسے صحابہ ہیں جن کی طرف یہ فتوی منسوب ہے کہ وہ تین طلاق کو تین مانتے تھے لیکن ان سے یہ فتاوی بسند صحیح ثابت نہیں ہے ذیل میں ایسی روایات پر تبصرہ پیش خدمت ہے:
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ
ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا سهل بن يوسف ، عن حميد ، عن واقع بن سحبان قال : سئل عمران بن حصين عن رجل طلق امرأته ثلاثا في مجلس ؟ قال : أثم بربه ، وحرمت عليه امرأته.(وازدا لبیہقی :فانطلق الرجل فذكر ذلك لأبى موسى رضى الله عنه يريد بذلك عيبه فقال : ألا ترى أن عمران بن حصين قال كذا وكذا فقال أبو موسى أكثر الله فينا مثل أبى نجيد)
واقع بن سحبان کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تو انہوں نے فرمایا: اس نے اپنے رب کے ساتھ گناہ کیا اور اس پر اس کی بیوی حرام ہوگئی (بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اس شخص نے وہاں سے جاکر ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا اس امید پر کہ یہ بات غلط نکلے چنانچہ اس نے کہا: ابے ابو موسی الاشعری ! کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ عمران بن حصین ایسا ایسا کہہ رہے ہیں ! تو ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ہمارے بیچ ابو نجید جیسے لوگوں کی کثرت کرے) [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 5/ 10 و اخرجہ ایضا الحاکم فی لمستدرك 3/ 472 -و صریح حمید بالسماع عندہ- من طریق یحیی بن سعید ۔واخرجہ البیہقی فی السنن الكبرى ط الهند: 7/ 332 من طریق عبد الوهاب بن عطاء۔ واخرجہ الدو لابی فی الكنى والأسماء 1/ 175 من طریق حماد بن مسعدة ، وفیہ 1/ 278 ایضا من طریق حماد بن سلمة۔ کلھم (یحیی بن سعیدوعبد الوهاب بن عطاءوحماد بن مسعدة وحماد بن سلمة) من طریق حمید بہ]
اس سندمیں حمید کے شیخ کا نام ابن ابی شیبہ ، بیہقی اور دولابی کی ایک روایت میں واقع بن سحبان ہے جبکہ حاکم اور دولابی کی دوسری روایت میں اس کانام رافع بن سحبان ہے، کتب رجال سے پتہ چلتا ہےکہ واقع بن سحبان ہی صحیح ہے مثلا دیکھئے:[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 9/ 49]
اسے ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے [الثقات لابن حبان ط العلمية: ص: 2]۔
اورکسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا أبو أسامة ، عن هشام قال : سئل محمد عن الرجل يطلق امرأته ثلاثا في مقعد واحد ؟ قال : لا أعلم بذلك بأسا ، قد طلق عبد الرحمن بن عوف امرأته ثلاثا ، فلم يعب ذلك عليه
محمدبن سیرین سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کوایک مجلس میں تین طلاق دے دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس میں حرج معلوم نہیں ہوتا اور عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تو ان پر عیب شمار نہیں ہوا[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 5/ 11]
یہ روایت منقطع ہے محمدبن سیرین نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات 31 یا 32 ہجری میں ہوئی ہے دیکھئے:[تهذيب الكمال للمزي: 17/ 328]
اور محمدبن سیرین کی پیدائش 33 ہجری میں ہوئی ہے دیکھئے:[الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 5/ 349]
شیخ سعد بن ناصر الشثري اپنے نسخہ میں اس روایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
منقطع، ابن سیرین عن عبد الرحمن بن عوف منقطع
یہ روایت منقطع ہے ابن سیرین کی عبدالرحمن بن عوف سے ملاقات نہیں ہے[مصنف ابن أبي شيبة. إشبيليا: 10/ 103 حاشہ 5]
مزید یہ کہ اس روایت میں تین طلاق کو تین شمار کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا عبدة ، عن سعيد ، عن قتادة ؛ أن رجلا طلق امرأته ثلاثا ، ثم جعل يغشاها بعد ذلك ، فسئل عن ذلك عمار ؟ فقال : لئن قدرت على هذا لأرجمنه.
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی پھر وہ اس سے ہمبستری کرنے لگا تو اس بارے میں میں عماربن یاسررضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اگر میں قدرت رکھتا تو اسے رجم کردیتا [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 9/ 565]
یہ روایت ضعیف ہے اس میں کئی علتیں ہیں:
اول:
قتادہ نے عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت صفین میں 37 ہجری میں ہوئی ہے۔دیکھئے:[الوافي بالوفيات للصفدي: 22/ 232]
اور قتادہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ان کی وفات کے چوبیس (24) سال بعد ہوئی ہے چنانچہ:
أبو بكر ابن منجويه(المتوفى428) نے کہا:
ولد سنة إحدى وستين
ان کی پیدائش اکسٹھ (61)ہجری میں ہوئی ہے[رجال صحيح مسلم لابن منجويه 2/ 150]
دوم:
قتادہ سے اس روایت کرنقل کرنے والے سعید یہ سعيد بن أبي عروبة ہیں ۔انہوں نے عن سے روایت کیا ہے اور یہ کثیر التدلیس ہیں اور کثیر التدلیس کا عنعنہ غیر مقبول ہوتا ہے ۔
صلاح الدين العلائي رحمه الله (المتوفى 761)نے کہا:
سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[جامع التحصيل للعلائي: ص: 106]
امام أبو زرعة ولي الدين ابن العراقي رحمه الله (المتوفى 826) نے کہا:
سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[المدلسين لابن العراقي: ص: 51]
امام سبط ابن العجمي الحلبي رحمه الله (المتوفى:841)نے کہا:
سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[التبيين لأسماء المدلسين للحلبي: ص: 26]
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
كثير التدليس
یہ کثیر التدلیس ہیں [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم 2365]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبقات المدلسین میں انہیں دوسرے طبقہ میں رکھا ہےلیکن یہاں تقریب میں اسے کثیر التدلیس بتلارہے ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ تیسرے طبقہ میں ہونا چاہے اوریہ بات مناسب ہے کیونکہ یہ کثرت سے تدلیس کرتے ہوے پائے گئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے استاذ قتادہ سے بھی بکثرت تدلیس کی ہے چنانچہ:
عفان بن مسلم الصفاررحمه الله (المتوفى بعد 219)نے کہا:
كان سعيد بن أبي عروبة يروي عن قتادة مما لم يسمع شيئا كثيرا، ولم يكن يقول فيه: حدثنا
سعیدبن عروبہ ، قتادہ سے نہ سنی ہوئی بہت ساری روایات بیان کرتے تھے اور انہیں بیان کرتے وقت حدثنا نہیں کہتے [الطبقات الكبرى ط دار صادر 7/ 273 واسنادہ صحیح]
یہی وجہ کہ امام بزار رحمہ اللہ نے بھی یہ شرط لگائی ہے کہ یہ جب سماع کی صراحت کریں گے تبھی ان کی روایت مأمون یعنی قابل اعتبار ہوگی چنانچہ:
امام بزار رحمه الله (المتوفى292):
إذا قال : أخبرنا وسمعت كان مأمونا على ما قال
یہ جب اخبرنا اور سمعت کہیں تو اپنی بیان کردہ بات پرمأمون ہوں گے [مسند البزار: 1/ 113]
دکتو مسفر بن الدمینی نے بھی یہی تحقیق پیش کی ہے کہ یہ بکثرت تدلیس کرنے والے ہیں اس لئے ان کا شمار تیسرے طبقہ میں ہی ہوگا[التدليس في الحديث ت د دميني: ص: 301]
امام ابن أبي شيبة رحمه الله نے اسی طریق کی ایک دوسری سند پیش کی ہے جس میں قتادہ کے بعد خلاس نامی راوی کا واسطہ ہے۔
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا محمد بن سواء ، عن سعيد ، عن قتادة ، عن خلاس ، عن عمار ؛ بنحوه.[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 9/ 565 واخرجہ ایضا البلاذري فی أنساب الأشراف للبلاذري: 1/ 165 من طریق سعد بہ]
عرض ہے کہ اس میں بھی سعید بن عروبہ کا عنعنہ موجود ہے اور ماقبل میں بتایا جاچکا ہے کہ یہ کثیر التدلیس ہیں اس لئے ان کا عنعنہ غیر مقبول ہے۔
نیز اس میں قتادہ بھی عنعنہ ہے اور یہ بھی مشہور مدلس ہیں۔
خلیفہ راشد ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کا موقف
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
حدثنا إسحاق بن إبراهيم، ومحمد بن رافع، واللفظ لابن رافع، قال إسحاق: أخبرنا، وقال ابن رافع: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس، قال: " كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم "
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنمہا نے کہا کہ طلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بھی دو برس تک ایسا امر تھا کہ جب کوئی ایک بارگی تین طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے جلدی کرنا شروع کی اس میں جس میں ان کو مہلت ملی تھی سو ہم اس کو اگر جاری کر دیں تو مناسب ہے، پھر انہوں نے جاری کر دیا (یعنی حکم دے دیا کہ جو ایک بارگی تین طلاق دے تو تینوں واقع ہو گئیں)۔[صحيح مسلم 3/ 1099 رقم 1472]
صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عہد رسالت میں بیک وقت دی گئی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بھی اسی بات پراجماع رہا ہے۔
یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف بھی یہی تھا کہ ایک وقت دی گی تین طلاق ایک ہی شمار ہوگی ۔
اس کے برخلاف کسی ضعیف سند بھی سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کوئی دوسرا فتوی ثابت نہیں ہے۔
امام ابن قيم رحمه الله (المتوفى751)فرماتے ہیں:
وكل صحابي من لدن خلافة الصديق إلى ثلاث سنين من خلافة عمر كان على أن الثلاث واحدة
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے لیکر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی دو سال تک ہرصحابی کا یہی موقف تھا کہ تین طلاق ایک شمارہوگی [إعلام الموقعين عن رب العالمين 3/ 38]
خلیفہ راشد عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا موقف
اوپر صحیح مسلم کی حدیث پیش کی جاچکی ہے کہ عہدابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں اس بات پر اجماع تھا کہ ایک وقت کی تین طلاق ایک ہی شمار ہوگی اس اجماعی موقف سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اختلاف کرنا ثابت نہیں ہے بلکہ صحیح مسلم کی اسی حدیث میں وضاحت ہے کہ خود عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دو سال تک سب کا اسی بات پر اتفاق رہا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا موقف بھی یہی تھا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں شرعا ایک ہی شمار ہوں گی ۔
رہی یہ بات کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں دو سال کے بعد تین طلاق کو تین شمار کرنے کا فرمان جاری کردیا تو اسی روایت میں یہ صراحت موجود ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ حکم ان کا شرعی فتوی نہیں تھا بلکہ انہوں بطور تعزیر و سزا یہ قانون جاری کیا تھا ۔اس لئے اس کی حیثیت شرعی فتوی کی نہیں بلکہ سیاسی فرمان کی ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے اس سیاسی فرمان سے بھی رجوع کرلیا تھا ][إغاثة اللهفان 1/ 336 لابن القیم]۔
لیکن یہ روایت منقطع ہے۔
فائدہ:
علامہ محمدرئیس ندوی رحمہ اللہ نے اپنی ممتاز کتاب ’’تنویرالآفاق فی مسئلة الطلاق‘‘ میں ص ٢٣٦ سے ص٢٤٩٩ تک اس کی سند پر بڑی لمبی گفتگو کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ اس روایت کے سارے رواۃ ثقہ ہیں اورحنفی اصول کے مطابق یہ روایت صحیح ہے ۔
خلیفہ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا موقف
ماقبل میں صحیح مسلم کے حوالے سے گذرچکا ہے کہ عہد رسالت میں بیک وقت دی گئی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو سال تک بھی اس بات پر امت کا اجماع رہا ،اس اجماعی موقف سے عثمان رضی اللہ عنہ کا اختلاف کرنا کسی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔
بعض لوگ دو ضعیف ومردود سندوں سے روایت پیش کرتےہیں کہ بیک وقت دی گئی تین طلاق کو عثمان رضی اللہ عنہ نے تین طلاق شمار کیا ہے ذیل میں ان دونوں روایات کی حقیقت ملاحظہ ہو:
پہلی روایت:
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا وكيع، والفضل بن دكين، عن جعفر بن برقان، عن معاوية بن أبي تحيا قال: جاء رجل إلى عثمان فقال: إني طلقت امرأتي مائة قال: «ثلاث تحرمها عليك، وسبعة وتسعون عدوان»
معاویہ بن ابی تحیا کہتے ہیں کہ ایک شخص عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو سو طلاق دے دی ہے ۔اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین طلاق نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کردیا ہے اور ستانوے طلاق سرکشی ہے۔[مصنف ابن أبي شيبة، ت الحوت: 4/ 62 اسنادہ منقطع وضعیف واخرجہ ابن حزم فی المحلی ت بيروت: 9/ 399 من طریق وکیع نحوہ و ذکرہ ابن القیم فی زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 236]
یہ روایت ضعیف ہے۔
ظفرتھانوی حنفی صاحب ابن القیم کی کتاب زاد المعاد سے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرماتےہیں:
وماعثرت علی ترجمۃ معاوية بن أبي يحيى
معاویہ بن ابی یحیی کے ترجمہ پر میں واقف نہیں ہوسکا[اعلاء السنن، ت تقی عثمانی: 11/ 156]
عرض ہے کہ زاد المعاد میں معاوية بن أبي يحيى ہے لیکن صحیح معاوية بن أبي تحيا ہے جیساکہ كمال يوسف الحوت اور شیخ سعد بن ناصر الشثري کے محقق نسخے میں ہے ۔کتب رجال میں بھی ایسا ہی ہے دیکھئے: [التاريخ الكبير للبخاري، ط العثمانية: 7/ 332، الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 8/ 379]
ثقات ابن حبان میں معاوية بن أبي يحيى ہے لیکن حاشیہ میں محقق نے وضاحت کردی ہے کہ دیگر کتب رجال میں معاوية بن أبي تحيا ہے ۔ دیکھئے:[الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 7/ 468]
ابن حبان نے اس راوی کو ثقات میں ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ کسی بھی محدث نے اسے ثقہ نہیں کہا ہے لہٰذا اس کے نامعلوم التوثیق ہونے کےسبب یہ روایت ضعیف ہے ۔
نیز اس کے ساتھ ساتھ سند منقطع بھی ہے کیونکہ معاوية بن أبي تحيا کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے اس لئے یہ تابعی نہیں بلکہ تبع تابعی ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں أتباع التابعين میں گنایا ہے اس لئے صحابہ سے اس کی روایت مرسل ومنقطع ہے اسی لئے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کرنے کےساتھ یہ بھی کہا:
يروي المراسيل
یہ مرسل روایات بیان کرتاہے[الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 7/ 468]
اور زیر نظر روایت کو یہ صحابی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کررہا ہے جب کہ یہ کسی بھی صحابی سے نہیں سنا اس لئے عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کی یہ روایت مرسل ومنقطع ہے ۔
بلکہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے تو عثمان رضی ا للہ کے نام کی صراحت کرتے ہوئے کہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت مرسل یعنی منقطع ہے چنانچہ امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277) نے کہا:
معاوية بن أبي تحيا روى عن عثمان، رضي الله عنه، مرسل
معاوية بن أبي تحيا نے عثمان سے روایت نقل کی ہے جو مرسل (یعنی منقطع) ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 8/ 379]
محمدعوامہ حنفی صاحب نے بھی مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت پر حاشیہ میں امام ابوحاتم کا یہ قول نقل کررکھا ہے اور اس روایت کا کوئی دفاع نہیں کیا ہے دیکھئے:[مصنف بن أبي شيبة ت عوامة: 9/ 522 رقم 18104]
شیخ سعد بن ناصر الشثري اپنے نسخہ میں اس روایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
مجھول لجھالۃ معاوية بن أبي تحيا
یہ مجہول راوی سےہے معاویہ بن ابی تحیا کی جہالت کی وجہ سے[مصنف ابن أبي شيبة. إشبيليا: 10/ 106 حاشہ 10]
معلوم ہوا کہ یہ روایت ضعیف و منقطع بھی ہے لہٰذا ضعیف و مردود ہے۔
بعض لوگ اس کی ایک اور سند پیش کرتے ہیں لیکن وہ بھی منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ موضوع اورمن گھڑت بھی ہے چنانچہ:
دوسری روایت:
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211)نے کہا:
عن إبراهيم بن محمد، عن شريك بن أبي نمر قال: جاء رجل إلى علي، فقال: إني طلقت امرأتي عدد العرفج قال: «تأخذ من العرفج ثلاثا، وتدع سائره» .قال إبراهيم: وأخبرني أبو الحويرث، عن عثمان بن عفان مثل لك
شریک بن ابی نمر کہتے ہیں کہ ایک شخص علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے اپنی بیوی کو عرفج (ایک پودے کانام) کی تعداد کے برابر طلاق دی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: عرفج سے تین کی عدد لے لو اور باقی چھوڑ دو۔ابراہم بن محمد نے کہا کہ مجھ سے ابوالحویرث نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اسی طرح کی روایت بیان کی ۔[مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 6/ 394]
اس روایت میں علی رضی اللہ عنہ کے اثر کے بعد ابراہیم نے ابوالحویرث کے طریق سے اسی اثر کو عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھی منسوب کیا ہے۔لیکن یہ سند موضوع اور من گھڑت ہے ۔اسے بیان کرنے والا امام عبدالرزاق کا استاذ إبراهيم بن محمد یہ إبراهيم بن محمد بن أبى يحيى الأسلمى ہے اور یہ کذاب ہے ۔
امام يحيى بن سعيد رحمه الله (المتوفى 198)نے کہا:
كنا نتهمه بالكذب
ہم اسے کذب سے متہم کرتے تھے [ضعفاء العقيلي: 1/ 63 واسنادہ صحیح]۔
امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
إبراهيم بن أبي يحيى ليس بثقة كذاب
ابراہم بن ابی یحی ثقہ نہیں ہے یہ بہت بڑا جھوٹا ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/ 126]۔
امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى234)نے کہا:
ابراهيم بن أبي يحيى كَذَّاب
ابراہم بن ابی یحیی بہت بڑا جھوٹا ہے[سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني: ص: 124]۔
امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
إبراهيم بن أبي يحيى كذاب متروك الحديث
ابراہیم بن ابی یحیی بہت بڑا جھوٹا اور متروک الحدیث ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/ 126]۔
یہاں طوالت کے خوف سے صرف دلائل کا جائزہ لوں گا اور جو غیر ضروری بحث ہے ایک سانس میں تین طلاق یا دو سانس میں ، اسی طرح مسلم شریف کے متعلق مدخولہ غیرمدخولہ کی زبردستی بحث سے درگذرکرتا ہوں۔
پہلی دلیل : اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظہرکم؟حتی قام رجل وقال: یارسول اللہ الا اقتلہ؟(نسائی)
اس حدیث کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضورعلیہ السلام کو بتایا گیا کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاقیں دے دی ہیں،اس پر حضور شدید ناراض ہوے اور فرمایا: کیا میری زندگی میں ہی اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کیا جاے گا؟ آپ کی ناراضگی دیکھ کر ایک صحابی نے درخواست کی کہ حضور! آپ اجازت دیں تو اس کی گردن اڑادوں۔
اس حدیث میں ایک ساتھ تین طلاق ، تینوں واقع ہوجاتی ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ اس میں صرف تین طلاق دینے کا ذکر ہے جس پر آپ ﷺ غضبناک ہوگئے ۔ بہت ساری احادیث سے ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہونے کا صراحت کے ساتھ ثبوت ملتا ہے۔
دوسری دلیل : عن ابن عباس کان الطلاق علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر و سنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضیناہ علیہم فامضاہ علیہم۔(مسلم)
یعنی حضور علیہ السلام، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، لیکن جلدبازی میں تین طلاقیں دیا کرتے تھے، اس لیے حضرت عمر نے تین طلاقوں کے نفاذ کا فیصلہ صادر فرما دیا۔
یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے ،اس پر عہدرسول میں عمل ہوتارہاہے اور اس کے بعد بھی مگر مقلد نے اس حدیث کے متعلق کہا کہ یہ موقوف ہے جبکہ اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے عہد کا عمل بیان کررہے اس لئے یہ مرفوع ہے ۔ دوسری بات موصوف نے کہی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اوروہ اس حدیث کے خلاف فتوی دیتے ہیں ۔
لاحول ولاقوہ ۔ کبھی تو یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ صحابی حدیث کے خلاف عمل ہی نہیں کرسکتے ، یہاں کہتے ہیں حدیث کے خلاف عمل بھی کرتے اور فتوی بھی دیتے ہیں ۔ ایسے عالم میں کیا کہا جائے؟ گویا یہاں صحابی پر صرف اپنی بات منوانے کے لئے دبی زبان کیا حکم لگانا چاہتے ہیں ؟ سوچ لیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ والی مسلم کی حدیث مرفوع ہے یعنی اس میں نبی ﷺ کا عمل بیان کیاگیاہے ، جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے راوی کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اور فتوی بھی اس کے خلاف دیتے تھے۔ موصوف کی پیش کردہ حدیث دیکھیں :
عن مجاھد قال کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظننت انہ رادھا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یا ابن عباس یا ابن عباس! وان اللہ قال ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا وانک لم تتق اللہ فلا اجد لک مخرجا عصیت ربک وبانت منک امرأتک(ابوداؤد)
ترجمہ: حضرت مجاھد کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں تھا کہ ایک صاحب آے اور کہنے لگے: میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں. مجاھد کہتے ہیں کہ یہ سن کر ابن عباس خاموش رہے.مجھے ایسا لگا کہ شاید حضرت اس کی بیوی سے رجعت کا فیصلہ سنائیں گے .پھر ابن عباس غصے میں فرمانے لگے! لوگ بڑے عجیب ہیں، حماقت کر جاتے ہیں اور پھر دہائی دیتے ہیں: اے ابن عباس! اے ابن عباس! رحم کیجیے! میں کیا کروں؟ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو متقی ہوتا ہے، اسی کے لیے راہیں بنتی ہیں.تم نے خلافِ تقویٰ کام کیا ہے.تیرے لیے کوئی گنجائش نہیںتم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے.جاؤ تمہاری بیوی تم سے علحدہ ہوگئی.تمہارا نکاح ختم ہو چکا ہے۔
موصوف نے تو خود ہی کہہ دیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل مسلم شریف کے خلاف ہے تو میرے کہنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ یہاں صحابی کا عمل ہے اور مسلم شریف میں نبی ﷺ کا عمل آپ ہی فیصلہ کریں نبی ﷺ کا عمل لیا جائے گا یا صحابی کا؟
تیسری دلیل : حدیث رکانہ جسے اہل حدیث پیش کرتے ہیں جو مسند احمد کی روایت ہے ، موصوف اس روایت کے متعلق ضعف اور علت بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت بالکل صحیح ہے اور قابل استدلال ہے ۔
(1)علامہ ابن تیمیہ نے کہا کہ ابوعبداللہ مقدسی نے اپنی کتاب المختارہ میں اسےروایت کیا ہے اور یہ کتاب مستدرک حاکم سے زیادہ صحیح ہے ۔ (مجموع الفتاوی 13/33)
(2) مسند احمد کی تحقیق میں احمد شاکرنے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ (مسنداحمد4/123)
(3) علامہ ناصرالدین البانی نے اس کے تمام طرق کو جمع کرکے اس پر حسن ہونے کا حکم لگایا ہے ۔(ارواء الغلیل 7/144)
(4) شمس الحق عظیم آبادی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے ۔(عون المعبود 6/138)
(5) علامہ ابن القیم نے اسے صحیح کہا ہے ۔(الصواعق المرسلہ 2/625)
(6) امام شوکانی نے امام احمد سے صحیح ہونے کا قول ذکر کیا ہے ۔ (الفتح الربانی 7/3469)
(7) حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا کہ اس کے شواہد مسلم وغیرہ میں ہے جس سے اس کو تقویت مل جاتی ہے ۔ (فتح الباری 9/275)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس حدیث کے متعلق فیصلہ کن تبصرہ دیکھیں :
وھذا الحدیث نص فی المسئلۃ لا یقبل التاویل الذی فی غیرہ من الروایات الاتی ذکرھا(فتح الباری 9/316طبع بیروت)
یعنی ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک ہونے میں یہ حدیث نص صریح ہے دیگر روایات میں جو تاویلیں کی جاتی ہیں اس حدیث میں وہ تاویلیں بالکل غیر مقبول ہیں۔
چوتھی دلیل : بعض لوگوں نے اپنی تائید میں رکانہ کی ایک دوسری روایت ذکر کی ہے ۔
عن عبداللہ بن یزید بن رکانۃ عن ابیہ عن جدہ قال: اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت یا رسول اللہ انی طلقت امرأتی البتۃ فقال ما اردت بہا؟ قلت واحدۃ قال واللہ؟ قلت واللہ قال فھو ما اردت - (ترمذی)
حضرت رکانہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو "طلاق البتۃ "دی ہےحضور نے پوچھا، تمہاری کیا نيت تھی؟ میں نے کہا: ایک طلاق دینے کی نیت کی تھی-آپ نے پوچھا: واللہ سچ کہہ رہے ہو؟ تو میں نے کہا واللہ سچ کہہ رہا ہوں.آپ نے فرمایا کہ پھر تمہاری نیت کا اعتبار ہے۔
اولا: یہ حدیث استدلال کے قابل ہی نہیں ہے کیونکہ سخت ضعیف ہے ۔
سند میں زبیربن سعیداورعبداللہ بن علی ضعیف ہیں،اورعلی بن یزیدبن رکانہ مجہول ہیں۔امامترمذی کہتےہیں کہ اس حدیث کوہم صرف اسی طریق سےجانتےہیں،میں نےمحمدبن اسماعیل بخاری سےاس حدیث کےبارےمیں پوچھاتوانہوں نےکہااس میں اضطراب ہے۔
ابن القیم نے اسے غیرصحیح کہا، علامہ البانی نے کہ اس میں علتیں ہیں ، امام بخاری نے کہا اس میں اضطراب ہے ،ابن العربی نے کہا اس میں اضطراب ہے ،حافظ ابن حجر نے کہا اس کی سند میں اختلاف ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے ۔
ثانیا: یہاں طلاق بتہ سے مراد ایک طلاق رجعی ہے نہ کہ تین طلاق ، لفظ واحدۃ سے بھی بتہ کی صراحت ہوتی ہے ۔
اس طرح یہ روایت ضعیف بھی ہے ، مضطرب بھی ہے ، اور صحیح حدیث جو مسلم شریف کی ہے اس کے خلاف بھی ہے ۔ رکانہ کی وہی حدیث صحیح ہے جواوپر مسند احمد کے حوالے سے ذکر ہوئی ہے ۔
اب اس کے بعد بعض لوگ نے کہا ہے کہ تمام صحابہ کی نظر میں بھی ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی ہواکرتی تھی ہے ، اس بات کی تائید میں بعض لوگ پانچ دلائل دئے ہیں، ان دلائل پہ ایک نظر ڈالتے ہیں۔
(1) پہلی دلیل: موصوف نے نسائی کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں فاطمہ بنت قیس کے طلاق کا واقعہ ہے ۔ انہیں تین طلاق دی گئی تو ان کا نان ونفقہ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ فَاعْتَدِّي عِنْدَ فُلَانَةَ(نسائی)
ترجمہ: تیرے لیے (دوران عدت میں) رہائش اور خرچہ نہیں ہے۔ تو فلاں عورت (ام شریک) کے ہاں عدت گزارلے۔
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے ،یہاں تین طلاق کا ذکر ہے ، بعض روایت میں ہے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی گئی ،اور بعض روایت میں ہے انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی ۔ ان تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فاطمہ کو اکٹھی تین طلاق نہیں بلکہ ایک طلاق دی گئی تھی جو تیسری یعنی آخری طلاق تھی ۔
(2) دوسری دلیل : عن عائشۃ ان رجلاً طلق امرأتہ ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول؟ قال لا، حتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول رواہ البخاری ( ج، ۲ ص، ۷۹۱)
یعنی ایک شخص نے اپنی بیگم کو تین طلاقیں دے دیں، عورت نے کہیں شادی کر لی اور صحبت سے قبل ہی طلاق پا گئی آپ سے پوچھا گیا کہ یہ عورت اپنے شوہر سابق کے لیے حلال ہوگئی؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ شوہر ثانی صحبت نہ کر لے.
تجزیہ: یہ حدیث اصل میں رفاعہ قرظی کے متعلق ہے ، یہاں طلاق کا مختصر ذکرہے جبکہ امام بخاری نے اسی حدیث کو دوسری جگہ مفصل ذکر کیا ہے جس میں صراحت ہے کہ رفاعہ نے اکٹھی تین طلاق نہیں دی تھی بلکہ وقفہ وقفہ سے دی تھی ،بخاری کے یہ الفاظ "فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ" اس بات کا ثبوت ہے کہ رفاعہ نے پہلے دوطلاقیں دے دی تھی یہ آخری طلاق تھی ۔
(3) تیسری دلیل : حضرت عبداللہ ابن عمر نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں طلاق دی اور حضور علیہ السلام سے پوچھا: یا رسول اللہ لوطلقتہا ثلاثاً کان لی ان اراجعہا قال: اذاً بانت منک وکانت معصیۃ.
یعنی اگر میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دوں تو حقِ رجعت باقی رہے گا؟ فرمایا: نہیں، عورت کا رشتہ ختم ہو جاے گا اور حالت حیض میں طلاق دینے کی وجہ سے گناہ ہوگا.یہ حدیث امام طبرانی نے نقل کی ہے ( مجمع الزوائد، ج 4, ص، ۳۳۶ )
یہاں حدیث کو مختصر بیان کیا ہے اسی حدیث میں پہلے والا ٹکڑا دلالت کرتا ہے کہ ابن عمر نے حالت حیض میں بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور بقیہ دو طلاق ،دوالگ الگ طہریا حیض میں دینے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اس حدیث کے الفاظ دیکھیں:أنَّهُ طلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وهِيَ حائِضٌ ثمَّ أرادَ أنْ يُتْبِعَها بطلْقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عندَ القُرْءَيْنِ الباقِيَيْنِ۔
کچھ لوگ اپنی مرضی کی بات لے لیتے ہیں اور مخالف کو چھوڑ دیاہے۔ یہ حدیث دراصل اسی کے موقف کے خلاف ہے ۔ نیز یہ حدیث ضعیف بھی ہے ، اسی مجمع الزوائد میں ہے کہ دارقطنی نے اس کے ایک روای علی بن سعید رازی پر کلام کیا ہے۔ البانی نے اسے منکراورابن القیم نے ضعیف کہا ہے۔
(4) چوتھی دلیل : معجم طبرانی میں حضرت عبادہ ابن صامت کی روایت آئی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میرے کسی باپ دادا نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں ،ان کے بیٹے حضور علیہ السلام کے پاس آے اور صورت حال بتا کر پوچھا کہ اب کوئی راستہ بچا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان اباکم لم یتق اللہ تعالیٰ فیجعل لہ من امرہ مخرجاً بانت منہ بثلاث علی غیرالسنۃ و تسع مائۃ وسبع و تسعون اثم فی عنقہ.
تمہارے آبا نے تقویٰ کی راہ اختیار نہیں کی، اس لیے کوئی صورت نہیں رہی،عورت تین طلاقوں سے ہی رشتے سے الگ ہوگئی اور بقیہ نو سو ستانوے طلاقوں کا گناہ طلاق دینے والے کی گردن پر ہوگا.
یہ روایت انتہائی ضعیف ہے ۔
٭دارقطنی نے کہا اس کے رواۃ مجہول اور ضعیف ہیں( سنن الدارقطنی 3/271)
٭ہیثمی نے کہا اس میں عبید بن ولید وصافی عجلی ضعیف ہے ۔(مجمع الزوائد4/341)
٭ علامہ البانی نے اسے سخت ضعیف کہا۔(السلسلۃ الضعیفہ :1211)
٭علامہ شوکانی نے کہا اس میں یحی بن علاء ضعیف ہے ، عبیداللہ بن ولید برباد ہونے والاہے، ابراہیم بن عبیداللہ مجہول ہے ،پھر عبادہ بن صامت کے والد نے اسلام نہیں لایا تو ان کے دادا کا کیا حال ہوگا؟ (نیل الاوطار7/17)
٭ محمد امین شنقیطی نے کہا کہ اس میں یحی بن علا، عبیداللہ بن ولید،ابراہیم بن عبیداللہ ہیں ان میں سے کسی سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔(اضواء البیان 1/200)
٭ ابن عدی نے کہا اس میں عبیداللہ وصافی بہت ضعیف ہے۔ (الکامل فی الضعفاء 5/522)
٭ حافظ ابن حجر نے کہا اس میں بہت سے ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ۔(الکافی الشاف :296)
(5) پانچویں دلیل: حضرت سوید ابن غفلۃ کہتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں.حضرت علی شہید ہوگئے تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا: خلافت مبارک ہو!! حضرت حسن نے کہا: کیا تم میرے والد کی شہادت پر خوشی منا رہی ہو؟ جاؤ، تجھے تین طلاق....راوی کہتے ہیں کہ عورت نے ان سے علحدہ ہو گئی .عدت گزر گئی تو حضرت حسن نے بقیہ مہر اور دس ہزار درہم بطور صدقہ بھجوایا .جب قاصد اس کے پاس آیا تو عورت نے کہا: متاع قلیل من حبیب مفارق .جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ بے حد کم ہےیعنی دوبارہ شادی کرلیں.یہ بات جب حضرت حسن تک پہونچی تو رونے لگے اور فرمایا: لولا انی سمعت جدی یقول ایما رجل طلق امرأتہ ثلاثاً عندالاقراءاو ثلاثاً مبھمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ لراجعتہا، رواہ البیہقی ( سنن الکبریٰ، ج 7، ص، 336) اگر میں اپنے نانا کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا تو اس سے رجوع کر لیتا ....نانا جان نے فرمایا تھا: جو شخص اپنی بیوی کو حیض کے وقت تین طلاقیں دے تو یہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ دوسری جگہ شادی نہ کر لے.
تجزیہ : یہ روایت بھی ناقابل استدلال ہے کیونکہ اس میں سخت ضعف پایا جاتا ہے ۔ بیہقی نے اس حدیث کو دو سندوں سے ذکرکیاہے پہلی سند میں محمد بن حمید رازی اور سلمہ بن فضل قرشی پر کلام ہے اور دوسری سند کے راوی پر بھی سخت قسم کی جرح ہے ۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد نبویﷺ سے لیکر خلفاء راشدین نے بهی ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوںکو ایک ہی شمار کیا تها
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں حق بیان کرنے اور سمجهنے اور عمل کرنے کی توفیق دے آمین
ان شاء اللہ جلد ہی پوسٹ تیار کی جائے گی کہ طلاق کیسے دی جائے
طلاق کا شرعی طریقہ
اگر اللہ تعالیٰ نے ہمت دی تو ان شاء اللہ
راجح قول كے مطابق تين طلاق كى ايک ہى واقع ہوگى
ایک دوست کے پوچھے گئے سوال کا جواب
ميرے ايك دوست نے اپنى بيوى كو غصہ كى حالت ميں طلاق دے دى، اس نے اسے ايك ہى بارہ تين طلاقيں ديں، ليكن ميں نے انٹرنيٹ پر پڑھا ہے كہ تين طلاقيں ايك ہى شمار ہوتى ہے، كيا يہ بات صحيح ہے كہ ايك مجلس كى تين طلاقيں ايك ہى شمار ہو گى، اور ميں نے غصہ كى بھى تين قسميں پڑھى ہيں كيا يہ بھى صحيح ہے ؟
الحمد للہ:
اول:
تين طلاق كے مسئلہ ميں فقھاء كا اختلاف ہے، اور راجح يہى ہے كہ يہ ايك طلاق ہى شمار كى جائيگى، چاہے ايك ہى كلمہ ميں " تجھے تين طلاق " كہا جائے، يا پھر عليحدہ عليحدہ مثلا " تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق " شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اسے ہى اختيار كيا ہے، اور شيخ سعدى اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار ديا ہے.
انہوں نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى اس حديث سے استدلال كيا ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت ميں، اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت كے دو برس ميں تين طلاقيں ايك ہى شمار كى جاتى رہى، چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: لوگوں نے اس معاملہ ميں جلدبازى كى ہے جس ميں ان كے ليے وسعت تھى اس ليے اگر ہم اسے جارى كر ديں تو انہوں نے اسے ان پرجارى كر ديا "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1472 ).
دوم:
غصہ كى حالت ميں طلاق دينے والے كى تين حالتيں ہيں:
پہلى حالت:
غصہ تھوڑا سا ہو كہ وہ اس كے ارادہ و اختيار پر اثرانداز نہ ہو تو اس كى طلاق صحيح اور واقع ہوگى.
دوسرى حالت:
اگر غصہ اتنا شديد ہو كہ پتہ ہى نہ چلے وہ كيا كہہ رہا ہے اور اسے شعور ہى نہ رہے تو اس حالت ميں دى گئى طلاق واقع نہيں ہو گى كيونكہ يہ پاگل و مجنون كى طرح ہے جس كے قوال كو نہيں ليا جائيگا.
ان دونوں حالتوں كے حكم ميں علماء كرام كا كوئى اختلاف نہيں.
تيسرى حالت:
اتنا شديد غصہ كہ آدمى كے ارادہ پر اثرانداز ہو اور وہ ايسى كلام كرنے لگے گويا كہ اسے اس كلام پرمجبور كيا جا رہا ہے پھر كچھ ہى دير ميں غصہ زائل ہونے پر وہ اس پر نادم ہو ليكن يہ غصہ اس حديث تك نہ پہنچا ہو كہ اس احساس و شعور اور ادراك ہى ختم ہو جائے، اور اپنے قول و فعل پر كنٹرول نہ كر سكے.
تو غصہ كى اس قسم كے حكم ميں علماء كا اختلاف پايا جاتا ہے، اور راجح يہى ہے جيسا كہ شيخ ابن باز رحمہ اللہ كا كہنا ہے كہ اس ميں بھى طلاق واقع نہيں ہوگى.
كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" مدہوشى كى حالت ميں نہ تو طلاق ہے اور نہ ہى آزاد كرنا "
سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2046 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل ( 2047 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
علماء كرام نے " الاغلاق " كى شرح كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس كا معنى جبر اور شديد غصہ ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كے شاگرد ابن قيم نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، اور اس ميں " اغاثۃ اللھفان فى حكم طلاق الغضبان " كے نام سے ايك مشہور كتابچہ بھى تاليف كيا ہے.
مزيد آپ سوال نمبر ( 45174 ) كے جواب كا بھى مطالعہ كريں.
اس قول كى بنا پر اگر آپ كے دوست نے شديد غصہ كى حالت ميں طلاق كى طلام كى تو يہ طلاق واقع نہيں ہوئى، اور اگر اس كا غصہ اتنا شديد نہ تھا بكلہ تھوڑا سا تھا تو ايك طلاق واقع ہو چكى ہے.
واللہ اعلم .
جو لوگ تین کو تین ہی باور کرتے ہیں وہ
ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى اس حديث کے بارے میں آپ کیا کہے گے
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت ميں، اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت كے دو برس ميں تين طلاقيں ايك ہى شمار كى جاتى رہى، چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: لوگوں نے اس معاملہ ميں جلدبازى كى ہے جس ميں ان كے ليے وسعت تھى اس ليے اگر ہم اسے جارى كر ديں تو انہوں نے اسے ان پرجارى كر ديا "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 147
تین طلاق سے یہاں طوالت کے خوف سے صرف دلائل کا جائزہ لوں گا اور جو غیر ضروری بحث ہے ایک سانس میں تین طلاق یا دو سانس میں ، اسی طرح مسلم شریف کے متعلق مدخولہ غیرمدخولہ کی زبردستی بحث سے درگذرکرتا ہوں۔
پہلی دلیل : اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظہرکم؟حتی قام رجل وقال: یارسول اللہ الا اقتلہ؟(نسائی)
اس حدیث کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضورعلیہ السلام کو بتایا گیا کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاقیں دے دی ہیں،اس پر حضور شدید ناراض ہوے اور فرمایا: کیا میری زندگی میں ہی اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کیا جاے گا؟ آپ کی ناراضگی دیکھ کر ایک صحابی نے درخواست کی کہ حضور! آپ اجازت دیں تو اس کی گردن اڑادوں۔
اس حدیث میں ایک ساتھ تین طلاق ، تینوں واقع ہوجاتی ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ اس میں صرف تین طلاق دینے کا ذکر ہے جس پر آپ ﷺ غضبناک ہوگئے ۔ بہت ساری احادیث سے ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہونے کا صراحت کے ساتھ ثبوت ملتا ہے۔
دوسری دلیل : عن ابن عباس کان الطلاق علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر و سنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضیناہ علیہم فامضاہ علیہم۔(مسلم)
یعنی حضور علیہ السلام، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، لیکن جلدبازی میں تین طلاقیں دیا کرتے تھے، اس لیے حضرت عمر نے تین طلاقوں کے نفاذ کا فیصلہ صادر فرما دیا۔
یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے ،اس پر عہدرسول میں عمل ہوتارہاہے اور اس کے بعد بھی مگر مقلد نے اس حدیث کے متعلق کہا کہ یہ موقوف ہے جبکہ اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے عہد کا عمل بیان کررہے اس لئے یہ مرفوع ہے ۔ دوسری بات موصوف نے کہی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اوروہ اس حدیث کے خلاف فتوی دیتے ہیں ۔
لاحول ولاقوہ ۔ کبھی تو یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ صحابی حدیث کے خلاف عمل ہی نہیں کرسکتے ، یہاں کہتے ہیں حدیث کے خلاف عمل بھی کرتے اور فتوی بھی دیتے ہیں ۔ ایسے عالم میں کیا کہا جائے؟ گویا یہاں صحابی پر صرف اپنی بات منوانے کے لئے دبی زبان کیا حکم لگانا چاہتے ہیں ؟ سوچ لیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ والی مسلم کی حدیث مرفوع ہے یعنی اس میں نبی ﷺ کا عمل بیان کیاگیاہے ، جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے راوی کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اور فتوی بھی اس کے خلاف دیتے تھے۔ موصوف کی پیش کردہ حدیث دیکھیں :
عن مجاھد قال کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظننت انہ رادھا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یا ابن عباس یا ابن عباس! وان اللہ قال ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا وانک لم تتق اللہ فلا اجد لک مخرجا عصیت ربک وبانت منک امرأتک(ابوداؤد)
ترجمہ: حضرت مجاھد کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں تھا کہ ایک صاحب آے اور کہنے لگے: میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں. مجاھد کہتے ہیں کہ یہ سن کر ابن عباس خاموش رہے.مجھے ایسا لگا کہ شاید حضرت اس کی بیوی سے رجعت کا فیصلہ سنائیں گے .پھر ابن عباس غصے میں فرمانے لگے! لوگ بڑے عجیب ہیں، حماقت کر جاتے ہیں اور پھر دہائی دیتے ہیں: اے ابن عباس! اے ابن عباس! رحم کیجیے! میں کیا کروں؟ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو متقی ہوتا ہے، اسی کے لیے راہیں بنتی ہیں.تم نے خلافِ تقویٰ کام کیا ہے.تیرے لیے کوئی گنجائش نہیںتم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے.جاؤ تمہاری بیوی تم سے علحدہ ہوگئی.تمہارا نکاح ختم ہو چکا ہے۔
موصوف نے تو خود ہی کہہ دیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل مسلم شریف کے خلاف ہے تو میرے کہنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ یہاں صحابی کا عمل ہے اور مسلم شریف میں نبی ﷺ کا عمل آپ ہی فیصلہ کریں نبی ﷺ کا عمل لیا جائے گا یا صحابی کا؟
تیسری دلیل : حدیث رکانہ جسے اہل حدیث پیش کرتے ہیں جو مسند احمد کی روایت ہے ، موصوف اس روایت کے متعلق ضعف اور علت بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت بالکل صحیح ہے اور قابل استدلال ہے ۔
(1)علامہ ابن تیمیہ نے کہا کہ ابوعبداللہ مقدسی نے اپنی کتاب المختارہ میں اسےروایت کیا ہے اور یہ کتاب مستدرک حاکم سے زیادہ صحیح ہے ۔ (مجموع الفتاوی 13/33)
(2) مسند احمد کی تحقیق میں احمد شاکرنے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ (مسنداحمد4/123)
(3) علامہ ناصرالدین البانی نے اس کے تمام طرق کو جمع کرکے اس پر حسن ہونے کا حکم لگایا ہے ۔(ارواء الغلیل 7/144)
(4) شمس الحق عظیم آبادی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے ۔(عون المعبود 6/138)
(5) علامہ ابن القیم نے اسے صحیح کہا ہے ۔(الصواعق المرسلہ 2/625)
(6) امام شوکانی نے امام احمد سے صحیح ہونے کا قول ذکر کیا ہے ۔ (الفتح الربانی 7/3469)
(7) حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا کہ اس کے شواہد مسلم وغیرہ میں ہے جس سے اس کو تقویت مل جاتی ہے ۔ (فتح الباری 9/275)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس حدیث کے متعلق فیصلہ کن تبصرہ دیکھیں :
وھذا الحدیث نص فی المسئلۃ لا یقبل التاویل الذی فی غیرہ من الروایات الاتی ذکرھا(فتح الباری 9/316طبع بیروت)
یعنی ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک ہونے میں یہ حدیث نص صریح ہے دیگر روایات میں جو تاویلیں کی جاتی ہیں اس حدیث میں وہ تاویلیں بالکل غیر مقبول ہیں۔
چوتھی دلیل : بعض لوگوں نے اپنی تائید میں رکانہ کی ایک دوسری روایت ذکر کی ہے ۔
عن عبداللہ بن یزید بن رکانۃ عن ابیہ عن جدہ قال: اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت یا رسول اللہ انی طلقت امرأتی البتۃ فقال ما اردت بہا؟ قلت واحدۃ قال واللہ؟ قلت واللہ قال فھو ما اردت - (ترمذی)
حضرت رکانہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو "طلاق البتۃ "دی ہےحضور نے پوچھا، تمہاری کیا نيت تھی؟ میں نے کہا: ایک طلاق دینے کی نیت کی تھی-آپ نے پوچھا: واللہ سچ کہہ رہے ہو؟ تو میں نے کہا واللہ سچ کہہ رہا ہوں.آپ نے فرمایا کہ پھر تمہاری نیت کا اعتبار ہے۔
اولا: یہ حدیث استدلال کے قابل ہی نہیں ہے کیونکہ سخت ضعیف ہے ۔
سند میں زبیربن سعیداورعبداللہ بن علی ضعیف ہیں،اورعلی بن یزیدبن رکانہ مجہول ہیں۔امامترمذی کہتےہیں کہ اس حدیث کوہم صرف اسی طریق سےجانتےہیں،میں نےمحمدبن اسماعیل بخاری سےاس حدیث کےبارےمیں پوچھاتوانہوں نےکہااس میں اضطراب ہے۔
ابن القیم نے اسے غیرصحیح کہا، علامہ البانی نے کہ اس میں علتیں ہیں ، امام بخاری نے کہا اس میں اضطراب ہے ،ابن العربی نے کہا اس میں اضطراب ہے ،حافظ ابن حجر نے کہا اس کی سند میں اختلاف ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے ۔
ثانیا: یہاں طلاق بتہ سے مراد ایک طلاق رجعی ہے نہ کہ تین طلاق ، لفظ واحدۃ سے بھی بتہ کی صراحت ہوتی ہے ۔
اس طرح یہ روایت ضعیف بھی ہے ، مضطرب بھی ہے ، اور صحیح حدیث جو مسلم شریف کی ہے اس کے خلاف بھی ہے ۔ رکانہ کی وہی حدیث صحیح ہے جواوپر مسند احمد کے حوالے سے ذکر ہوئی ہے ۔
اب اس کے بعد بعض لوگ نے کہا ہے کہ تمام صحابہ کی نظر میں بھی ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی ہواکرتی تھی ہے ، اس بات کی تائید میں بعض لوگ پانچ دلائل دئے ہیں، ان دلائل پہ ایک نظر ڈالتے ہیں۔
(1) پہلی دلیل: موصوف نے نسائی کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں فاطمہ بنت قیس کے طلاق کا واقعہ ہے ۔ انہیں تین طلاق دی گئی تو ان کا نان ونفقہ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ فَاعْتَدِّي عِنْدَ فُلَانَةَ(نسائی)
ترجمہ: تیرے لیے (دوران عدت میں) رہائش اور خرچہ نہیں ہے۔ تو فلاں عورت (ام شریک) کے ہاں عدت گزارلے۔
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے ،یہاں تین طلاق کا ذکر ہے ، بعض روایت میں ہے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی گئی ،اور بعض روایت میں ہے انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی ۔ ان تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فاطمہ کو اکٹھی تین طلاق نہیں بلکہ ایک طلاق دی گئی تھی جو تیسری یعنی آخری طلاق تھی ۔
(2) دوسری دلیل : عن عائشۃ ان رجلاً طلق امرأتہ ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول؟ قال لا، حتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول رواہ البخاری ( ج، ۲ ص، ۷۹۱)
یعنی ایک شخص نے اپنی بیگم کو تین طلاقیں دے دیں، عورت نے کہیں شادی کر لی اور صحبت سے قبل ہی طلاق پا گئی آپ سے پوچھا گیا کہ یہ عورت اپنے شوہر سابق کے لیے حلال ہوگئی؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ شوہر ثانی صحبت نہ کر لے.
تجزیہ: یہ حدیث اصل میں رفاعہ قرظی کے متعلق ہے ، یہاں طلاق کا مختصر ذکرہے جبکہ امام بخاری نے اسی حدیث کو دوسری جگہ مفصل ذکر کیا ہے جس میں صراحت ہے کہ رفاعہ نے اکٹھی تین طلاق نہیں دی تھی بلکہ وقفہ وقفہ سے دی تھی ،بخاری کے یہ الفاظ "فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ" اس بات کا ثبوت ہے کہ رفاعہ نے پہلے دوطلاقیں دے دی تھی یہ آخری طلاق تھی ۔
(3) تیسری دلیل : حضرت عبداللہ ابن عمر نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں طلاق دی اور حضور علیہ السلام سے پوچھا: یا رسول اللہ لوطلقتہا ثلاثاً کان لی ان اراجعہا قال: اذاً بانت منک وکانت معصیۃ.
یعنی اگر میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دوں تو حقِ رجعت باقی رہے گا؟ فرمایا: نہیں، عورت کا رشتہ ختم ہو جاے گا اور حالت حیض میں طلاق دینے کی وجہ سے گناہ ہوگا.یہ حدیث امام طبرانی نے نقل کی ہے ( مجمع الزوائد، ج 4, ص، ۳۳۶ )
یہاں حدیث کو مختصر بیان کیا ہے اسی حدیث میں پہلے والا ٹکڑا دلالت کرتا ہے کہ ابن عمر نے حالت حیض میں بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور بقیہ دو طلاق ،دوالگ الگ طہریا حیض میں دینے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اس حدیث کے الفاظ دیکھیں:أنَّهُ طلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وهِيَ حائِضٌ ثمَّ أرادَ أنْ يُتْبِعَها بطلْقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عندَ القُرْءَيْنِ الباقِيَيْنِ۔
کچھ لوگ اپنی مرضی کی بات لے لیتے ہیں اور مخالف کو چھوڑ دیاہے۔ یہ حدیث دراصل اسی کے موقف کے خلاف ہے ۔ نیز یہ حدیث ضعیف بھی ہے ، اسی مجمع الزوائد میں ہے کہ دارقطنی نے اس کے ایک روای علی بن سعید رازی پر کلام کیا ہے۔ البانی نے اسے منکراورابن القیم نے ضعیف کہا ہے۔
(4) چوتھی دلیل : معجم طبرانی میں حضرت عبادہ ابن صامت کی روایت آئی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میرے کسی باپ دادا نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں ،ان کے بیٹے حضور علیہ السلام کے پاس آے اور صورت حال بتا کر پوچھا کہ اب کوئی راستہ بچا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان اباکم لم یتق اللہ تعالیٰ فیجعل لہ من امرہ مخرجاً بانت منہ بثلاث علی غیرالسنۃ و تسع مائۃ وسبع و تسعون اثم فی عنقہ.
تمہارے آبا نے تقویٰ کی راہ اختیار نہیں کی، اس لیے کوئی صورت نہیں رہی،عورت تین طلاقوں سے ہی رشتے سے الگ ہوگئی اور بقیہ نو سو ستانوے طلاقوں کا گناہ طلاق دینے والے کی گردن پر ہوگا.
یہ روایت انتہائی ضعیف ہے ۔
٭دارقطنی نے کہا اس کے رواۃ مجہول اور ضعیف ہیں( سنن الدارقطنی 3/271)
٭ہیثمی نے کہا اس میں عبید بن ولید وصافی عجلی ضعیف ہے ۔(مجمع الزوائد4/341)
٭ علامہ البانی نے اسے سخت ضعیف کہا۔(السلسلۃ الضعیفہ :1211)
٭علامہ شوکانی نے کہا اس میں یحی بن علاء ضعیف ہے ، عبیداللہ بن ولید برباد ہونے والاہے، ابراہیم بن عبیداللہ مجہول ہے ،پھر عبادہ بن صامت کے والد نے اسلام نہیں لایا تو ان کے دادا کا کیا حال ہوگا؟ (نیل الاوطار7/17)
٭ محمد امین شنقیطی نے کہا کہ اس میں یحی بن علا، عبیداللہ بن ولید،ابراہیم بن عبیداللہ ہیں ان میں سے کسی سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔(اضواء البیان 1/200)
٭ ابن عدی نے کہا اس میں عبیداللہ وصافی بہت ضعیف ہے۔ (الکامل فی الضعفاء 5/522)
٭ حافظ ابن حجر نے کہا اس میں بہت سے ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ۔(الکافی الشاف :296)
(5) پانچویں دلیل: حضرت سوید ابن غفلۃ کہتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں.حضرت علی شہید ہوگئے تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا: خلافت مبارک ہو!! حضرت حسن نے کہا: کیا تم میرے والد کی شہادت پر خوشی منا رہی ہو؟ جاؤ، تجھے تین طلاق....راوی کہتے ہیں کہ عورت نے ان سے علحدہ ہو گئی .عدت گزر گئی تو حضرت حسن نے بقیہ مہر اور دس ہزار درہم بطور صدقہ بھجوایا .جب قاصد اس کے پاس آیا تو عورت نے کہا: متاع قلیل من حبیب مفارق .جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ بے حد کم ہےیعنی دوبارہ شادی کرلیں.یہ بات جب حضرت حسن تک پہونچی تو رونے لگے اور فرمایا: لولا انی سمعت جدی یقول ایما رجل طلق امرأتہ ثلاثاً عندالاقراءاو ثلاثاً مبھمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ لراجعتہا، رواہ البیہقی ( سنن الکبریٰ، ج 7، ص، 336) اگر میں اپنے نانا کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا تو اس سے رجوع کر لیتا ....نانا جان نے فرمایا تھا: جو شخص اپنی بیوی کو حیض کے وقت تین طلاقیں دے تو یہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ دوسری جگہ شادی نہ کر لے.
تجزیہ : یہ روایت بھی ناقابل استدلال ہے کیونکہ اس میں سخت ضعف پایا جاتا ہے ۔ بیہقی نے اس حدیث کو دو سندوں سے ذکرکیاہے پہلی سند میں محمد بن حمید رازی اور سلمہ بن فضل قرشی پر کلام ہے اور دوسری سند کے راوی پر بھی سخت قسم کی جرح ہے ۔ خلفائے راشدین کے موقف کے لئے ذیل کا موضوع دیکھیں۔
تین طلاق سے متعلق خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا موقف
باقی دیگر کئی ایسے صحابہ ہیں جن کی طرف یہ فتوی منسوب ہے کہ وہ تین طلاق کو تین مانتے تھے لیکن ان سے یہ فتاوی بسند صحیح ثابت نہیں ہے ذیل میں ایسی روایات پر تبصرہ پیش خدمت ہے:
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ
ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا سهل بن يوسف ، عن حميد ، عن واقع بن سحبان قال : سئل عمران بن حصين عن رجل طلق امرأته ثلاثا في مجلس ؟ قال : أثم بربه ، وحرمت عليه امرأته.(وازدا لبیہقی :فانطلق الرجل فذكر ذلك لأبى موسى رضى الله عنه يريد بذلك عيبه فقال : ألا ترى أن عمران بن حصين قال كذا وكذا فقال أبو موسى أكثر الله فينا مثل أبى نجيد)
واقع بن سحبان کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تو انہوں نے فرمایا: اس نے اپنے رب کے ساتھ گناہ کیا اور اس پر اس کی بیوی حرام ہوگئی (بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اس شخص نے وہاں سے جاکر ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا اس امید پر کہ یہ بات غلط نکلے چنانچہ اس نے کہا: ابے ابو موسی الاشعری ! کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ عمران بن حصین ایسا ایسا کہہ رہے ہیں ! تو ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ہمارے بیچ ابو نجید جیسے لوگوں کی کثرت کرے) [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 5/ 10 و اخرجہ ایضا الحاکم فی لمستدرك 3/ 472 -و صریح حمید بالسماع عندہ- من طریق یحیی بن سعید ۔واخرجہ البیہقی فی السنن الكبرى ط الهند: 7/ 332 من طریق عبد الوهاب بن عطاء۔ واخرجہ الدو لابی فی الكنى والأسماء 1/ 175 من طریق حماد بن مسعدة ، وفیہ 1/ 278 ایضا من طریق حماد بن سلمة۔ کلھم (یحیی بن سعیدوعبد الوهاب بن عطاءوحماد بن مسعدة وحماد بن سلمة) من طریق حمید بہ]
اس سندمیں حمید کے شیخ کا نام ابن ابی شیبہ ، بیہقی اور دولابی کی ایک روایت میں واقع بن سحبان ہے جبکہ حاکم اور دولابی کی دوسری روایت میں اس کانام رافع بن سحبان ہے، کتب رجال سے پتہ چلتا ہےکہ واقع بن سحبان ہی صحیح ہے مثلا دیکھئے:[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 9/ 49]
اسے ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے [الثقات لابن حبان ط العلمية: ص: 2]۔
اورکسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا أبو أسامة ، عن هشام قال : سئل محمد عن الرجل يطلق امرأته ثلاثا في مقعد واحد ؟ قال : لا أعلم بذلك بأسا ، قد طلق عبد الرحمن بن عوف امرأته ثلاثا ، فلم يعب ذلك عليه
محمدبن سیرین سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کوایک مجلس میں تین طلاق دے دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس میں حرج معلوم نہیں ہوتا اور عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تو ان پر عیب شمار نہیں ہوا[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 5/ 11]
یہ روایت منقطع ہے محمدبن سیرین نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات 31 یا 32 ہجری میں ہوئی ہے دیکھئے:[تهذيب الكمال للمزي: 17/ 328]
اور محمدبن سیرین کی پیدائش 33 ہجری میں ہوئی ہے دیکھئے:[الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 5/ 349]
شیخ سعد بن ناصر الشثري اپنے نسخہ میں اس روایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
منقطع، ابن سیرین عن عبد الرحمن بن عوف منقطع
یہ روایت منقطع ہے ابن سیرین کی عبدالرحمن بن عوف سے ملاقات نہیں ہے[مصنف ابن أبي شيبة. إشبيليا: 10/ 103 حاشہ 5]
مزید یہ کہ اس روایت میں تین طلاق کو تین شمار کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا عبدة ، عن سعيد ، عن قتادة ؛ أن رجلا طلق امرأته ثلاثا ، ثم جعل يغشاها بعد ذلك ، فسئل عن ذلك عمار ؟ فقال : لئن قدرت على هذا لأرجمنه.
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی پھر وہ اس سے ہمبستری کرنے لگا تو اس بارے میں میں عماربن یاسررضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اگر میں قدرت رکھتا تو اسے رجم کردیتا [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 9/ 565]
یہ روایت ضعیف ہے اس میں کئی علتیں ہیں:
اول:
قتادہ نے عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت صفین میں 37 ہجری میں ہوئی ہے۔دیکھئے:[الوافي بالوفيات للصفدي: 22/ 232]
اور قتادہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ان کی وفات کے چوبیس (24) سال بعد ہوئی ہے چنانچہ:
أبو بكر ابن منجويه(المتوفى428) نے کہا:
ولد سنة إحدى وستين
ان کی پیدائش اکسٹھ (61)ہجری میں ہوئی ہے[رجال صحيح مسلم لابن منجويه 2/ 150]
دوم:
قتادہ سے اس روایت کرنقل کرنے والے سعید یہ سعيد بن أبي عروبة ہیں ۔انہوں نے عن سے روایت کیا ہے اور یہ کثیر التدلیس ہیں اور کثیر التدلیس کا عنعنہ غیر مقبول ہوتا ہے ۔
صلاح الدين العلائي رحمه الله (المتوفى 761)نے کہا:
سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[جامع التحصيل للعلائي: ص: 106]
امام أبو زرعة ولي الدين ابن العراقي رحمه الله (المتوفى 826) نے کہا:
سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[المدلسين لابن العراقي: ص: 51]
امام سبط ابن العجمي الحلبي رحمه الله (المتوفى:841)نے کہا:
سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[التبيين لأسماء المدلسين للحلبي: ص: 26]
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
كثير التدليس
یہ کثیر التدلیس ہیں [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم 2365]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبقات المدلسین میں انہیں دوسرے طبقہ میں رکھا ہےلیکن یہاں تقریب میں اسے کثیر التدلیس بتلارہے ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ تیسرے طبقہ میں ہونا چاہے اوریہ بات مناسب ہے کیونکہ یہ کثرت سے تدلیس کرتے ہوے پائے گئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے استاذ قتادہ سے بھی بکثرت تدلیس کی ہے چنانچہ:
عفان بن مسلم الصفاررحمه الله (المتوفى بعد 219)نے کہا:
كان سعيد بن أبي عروبة يروي عن قتادة مما لم يسمع شيئا كثيرا، ولم يكن يقول فيه: حدثنا
سعیدبن عروبہ ، قتادہ سے نہ سنی ہوئی بہت ساری روایات بیان کرتے تھے اور انہیں بیان کرتے وقت حدثنا نہیں کہتے [الطبقات الكبرى ط دار صادر 7/ 273 واسنادہ صحیح]
یہی وجہ کہ امام بزار رحمہ اللہ نے بھی یہ شرط لگائی ہے کہ یہ جب سماع کی صراحت کریں گے تبھی ان کی روایت مأمون یعنی قابل اعتبار ہوگی چنانچہ:
امام بزار رحمه الله (المتوفى292):
إذا قال : أخبرنا وسمعت كان مأمونا على ما قال
یہ جب اخبرنا اور سمعت کہیں تو اپنی بیان کردہ بات پرمأمون ہوں گے [مسند البزار: 1/ 113]
دکتو مسفر بن الدمینی نے بھی یہی تحقیق پیش کی ہے کہ یہ بکثرت تدلیس کرنے والے ہیں اس لئے ان کا شمار تیسرے طبقہ میں ہی ہوگا[التدليس في الحديث ت د دميني: ص: 301]
امام ابن أبي شيبة رحمه الله نے اسی طریق کی ایک دوسری سند پیش کی ہے جس میں قتادہ کے بعد خلاس نامی راوی کا واسطہ ہے۔
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا محمد بن سواء ، عن سعيد ، عن قتادة ، عن خلاس ، عن عمار ؛ بنحوه.[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 9/ 565 واخرجہ ایضا البلاذري فی أنساب الأشراف للبلاذري: 1/ 165 من طریق سعد بہ]
عرض ہے کہ اس میں بھی سعید بن عروبہ کا عنعنہ موجود ہے اور ماقبل میں بتایا جاچکا ہے کہ یہ کثیر التدلیس ہیں اس لئے ان کا عنعنہ غیر مقبول ہے۔
نیز اس میں قتادہ بھی عنعنہ ہے اور یہ بھی مشہور مدلس ہیں۔
خلیفہ راشد ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کا موقف
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
حدثنا إسحاق بن إبراهيم، ومحمد بن رافع، واللفظ لابن رافع، قال إسحاق: أخبرنا، وقال ابن رافع: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس، قال: " كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم "
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنمہا نے کہا کہ طلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بھی دو برس تک ایسا امر تھا کہ جب کوئی ایک بارگی تین طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے جلدی کرنا شروع کی اس میں جس میں ان کو مہلت ملی تھی سو ہم اس کو اگر جاری کر دیں تو مناسب ہے، پھر انہوں نے جاری کر دیا (یعنی حکم دے دیا کہ جو ایک بارگی تین طلاق دے تو تینوں واقع ہو گئیں)۔[صحيح مسلم 3/ 1099 رقم 1472]
صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عہد رسالت میں بیک وقت دی گئی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بھی اسی بات پراجماع رہا ہے۔
یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف بھی یہی تھا کہ ایک وقت دی گی تین طلاق ایک ہی شمار ہوگی ۔
اس کے برخلاف کسی ضعیف سند بھی سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کوئی دوسرا فتوی ثابت نہیں ہے۔
امام ابن قيم رحمه الله (المتوفى751)فرماتے ہیں:
وكل صحابي من لدن خلافة الصديق إلى ثلاث سنين من خلافة عمر كان على أن الثلاث واحدة
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے لیکر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی دو سال تک ہرصحابی کا یہی موقف تھا کہ تین طلاق ایک شمارہوگی [إعلام الموقعين عن رب العالمين 3/ 38]
خلیفہ راشد عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا موقف
اوپر صحیح مسلم کی حدیث پیش کی جاچکی ہے کہ عہدابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں اس بات پر اجماع تھا کہ ایک وقت کی تین طلاق ایک ہی شمار ہوگی اس اجماعی موقف سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اختلاف کرنا ثابت نہیں ہے بلکہ صحیح مسلم کی اسی حدیث میں وضاحت ہے کہ خود عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دو سال تک سب کا اسی بات پر اتفاق رہا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا موقف بھی یہی تھا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں شرعا ایک ہی شمار ہوں گی ۔
رہی یہ بات کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں دو سال کے بعد تین طلاق کو تین شمار کرنے کا فرمان جاری کردیا تو اسی روایت میں یہ صراحت موجود ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ حکم ان کا شرعی فتوی نہیں تھا بلکہ انہوں بطور تعزیر و سزا یہ قانون جاری کیا تھا ۔اس لئے اس کی حیثیت شرعی فتوی کی نہیں بلکہ سیاسی فرمان کی ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے اس سیاسی فرمان سے بھی رجوع کرلیا تھا ][إغاثة اللهفان 1/ 336 لابن القیم]۔
لیکن یہ روایت منقطع ہے۔
فائدہ:
علامہ محمدرئیس ندوی رحمہ اللہ نے اپنی ممتاز کتاب ’’تنویرالآفاق فی مسئلة الطلاق‘‘ میں ص ٢٣٦ سے ص٢٤٩٩ تک اس کی سند پر بڑی لمبی گفتگو کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ اس روایت کے سارے رواۃ ثقہ ہیں اورحنفی اصول کے مطابق یہ روایت صحیح ہے ۔
خلیفہ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا موقف
ماقبل میں صحیح مسلم کے حوالے سے گذرچکا ہے کہ عہد رسالت میں بیک وقت دی گئی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو سال تک بھی اس بات پر امت کا اجماع رہا ،اس اجماعی موقف سے عثمان رضی اللہ عنہ کا اختلاف کرنا کسی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔
بعض لوگ دو ضعیف ومردود سندوں سے روایت پیش کرتےہیں کہ بیک وقت دی گئی تین طلاق کو عثمان رضی اللہ عنہ نے تین طلاق شمار کیا ہے ذیل میں ان دونوں روایات کی حقیقت ملاحظہ ہو:
پہلی روایت:
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا وكيع، والفضل بن دكين، عن جعفر بن برقان، عن معاوية بن أبي تحيا قال: جاء رجل إلى عثمان فقال: إني طلقت امرأتي مائة قال: «ثلاث تحرمها عليك، وسبعة وتسعون عدوان»
معاویہ بن ابی تحیا کہتے ہیں کہ ایک شخص عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو سو طلاق دے دی ہے ۔اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین طلاق نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کردیا ہے اور ستانوے طلاق سرکشی ہے۔[مصنف ابن أبي شيبة، ت الحوت: 4/ 62 اسنادہ منقطع وضعیف واخرجہ ابن حزم فی المحلی ت بيروت: 9/ 399 من طریق وکیع نحوہ و ذکرہ ابن القیم فی زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 236]
یہ روایت ضعیف ہے۔
ظفرتھانوی حنفی صاحب ابن القیم کی کتاب زاد المعاد سے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرماتےہیں:
وماعثرت علی ترجمۃ معاوية بن أبي يحيى
معاویہ بن ابی یحیی کے ترجمہ پر میں واقف نہیں ہوسکا[اعلاء السنن، ت تقی عثمانی: 11/ 156]
عرض ہے کہ زاد المعاد میں معاوية بن أبي يحيى ہے لیکن صحیح معاوية بن أبي تحيا ہے جیساکہ كمال يوسف الحوت اور شیخ سعد بن ناصر الشثري کے محقق نسخے میں ہے ۔کتب رجال میں بھی ایسا ہی ہے دیکھئے: [التاريخ الكبير للبخاري، ط العثمانية: 7/ 332، الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 8/ 379]
ثقات ابن حبان میں معاوية بن أبي يحيى ہے لیکن حاشیہ میں محقق نے وضاحت کردی ہے کہ دیگر کتب رجال میں معاوية بن أبي تحيا ہے ۔ دیکھئے:[الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 7/ 468]
ابن حبان نے اس راوی کو ثقات میں ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ کسی بھی محدث نے اسے ثقہ نہیں کہا ہے لہٰذا اس کے نامعلوم التوثیق ہونے کےسبب یہ روایت ضعیف ہے ۔
نیز اس کے ساتھ ساتھ سند منقطع بھی ہے کیونکہ معاوية بن أبي تحيا کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے اس لئے یہ تابعی نہیں بلکہ تبع تابعی ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں أتباع التابعين میں گنایا ہے اس لئے صحابہ سے اس کی روایت مرسل ومنقطع ہے اسی لئے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کرنے کےساتھ یہ بھی کہا:
يروي المراسيل
یہ مرسل روایات بیان کرتاہے[الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 7/ 468]
اور زیر نظر روایت کو یہ صحابی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کررہا ہے جب کہ یہ کسی بھی صحابی سے نہیں سنا اس لئے عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کی یہ روایت مرسل ومنقطع ہے ۔
بلکہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے تو عثمان رضی ا للہ کے نام کی صراحت کرتے ہوئے کہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت مرسل یعنی منقطع ہے چنانچہ امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277) نے کہا:
معاوية بن أبي تحيا روى عن عثمان، رضي الله عنه، مرسل
معاوية بن أبي تحيا نے عثمان سے روایت نقل کی ہے جو مرسل (یعنی منقطع) ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 8/ 379]
محمدعوامہ حنفی صاحب نے بھی مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت پر حاشیہ میں امام ابوحاتم کا یہ قول نقل کررکھا ہے اور اس روایت کا کوئی دفاع نہیں کیا ہے دیکھئے:[مصنف بن أبي شيبة ت عوامة: 9/ 522 رقم 18104]
شیخ سعد بن ناصر الشثري اپنے نسخہ میں اس روایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
مجھول لجھالۃ معاوية بن أبي تحيا
یہ مجہول راوی سےہے معاویہ بن ابی تحیا کی جہالت کی وجہ سے[مصنف ابن أبي شيبة. إشبيليا: 10/ 106 حاشہ 10]
معلوم ہوا کہ یہ روایت ضعیف و منقطع بھی ہے لہٰذا ضعیف و مردود ہے۔
بعض لوگ اس کی ایک اور سند پیش کرتے ہیں لیکن وہ بھی منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ موضوع اورمن گھڑت بھی ہے چنانچہ:
دوسری روایت:
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211)نے کہا:
عن إبراهيم بن محمد، عن شريك بن أبي نمر قال: جاء رجل إلى علي، فقال: إني طلقت امرأتي عدد العرفج قال: «تأخذ من العرفج ثلاثا، وتدع سائره» .قال إبراهيم: وأخبرني أبو الحويرث، عن عثمان بن عفان مثل لك
شریک بن ابی نمر کہتے ہیں کہ ایک شخص علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے اپنی بیوی کو عرفج (ایک پودے کانام) کی تعداد کے برابر طلاق دی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: عرفج سے تین کی عدد لے لو اور باقی چھوڑ دو۔ابراہم بن محمد نے کہا کہ مجھ سے ابوالحویرث نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اسی طرح کی روایت بیان کی ۔[مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 6/ 394]
اس روایت میں علی رضی اللہ عنہ کے اثر کے بعد ابراہیم نے ابوالحویرث کے طریق سے اسی اثر کو عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھی منسوب کیا ہے۔لیکن یہ سند موضوع اور من گھڑت ہے ۔اسے بیان کرنے والا امام عبدالرزاق کا استاذ إبراهيم بن محمد یہ إبراهيم بن محمد بن أبى يحيى الأسلمى ہے اور یہ کذاب ہے ۔
امام يحيى بن سعيد رحمه الله (المتوفى 198)نے کہا:
كنا نتهمه بالكذب
ہم اسے کذب سے متہم کرتے تھے [ضعفاء العقيلي: 1/ 63 واسنادہ صحیح]۔
امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
إبراهيم بن أبي يحيى ليس بثقة كذاب
ابراہم بن ابی یحی ثقہ نہیں ہے یہ بہت بڑا جھوٹا ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/ 126]۔
امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى234)نے کہا:
ابراهيم بن أبي يحيى كَذَّاب
ابراہم بن ابی یحیی بہت بڑا جھوٹا ہے[سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني: ص: 124]۔
امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
إبراهيم بن أبي يحيى كذاب متروك الحديث
ابراہیم بن ابی یحیی بہت بڑا جھوٹا اور متروک الحدیث ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/ 126]۔
یہاں طوالت کے خوف سے صرف دلائل کا جائزہ لوں گا اور جو غیر ضروری بحث ہے ایک سانس میں تین طلاق یا دو سانس میں ، اسی طرح مسلم شریف کے متعلق مدخولہ غیرمدخولہ کی زبردستی بحث سے درگذرکرتا ہوں۔
پہلی دلیل : اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظہرکم؟حتی قام رجل وقال: یارسول اللہ الا اقتلہ؟(نسائی)
اس حدیث کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضورعلیہ السلام کو بتایا گیا کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاقیں دے دی ہیں،اس پر حضور شدید ناراض ہوے اور فرمایا: کیا میری زندگی میں ہی اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کیا جاے گا؟ آپ کی ناراضگی دیکھ کر ایک صحابی نے درخواست کی کہ حضور! آپ اجازت دیں تو اس کی گردن اڑادوں۔
اس حدیث میں ایک ساتھ تین طلاق ، تینوں واقع ہوجاتی ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ اس میں صرف تین طلاق دینے کا ذکر ہے جس پر آپ ﷺ غضبناک ہوگئے ۔ بہت ساری احادیث سے ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہونے کا صراحت کے ساتھ ثبوت ملتا ہے۔
دوسری دلیل : عن ابن عباس کان الطلاق علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر و سنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضیناہ علیہم فامضاہ علیہم۔(مسلم)
یعنی حضور علیہ السلام، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، لیکن جلدبازی میں تین طلاقیں دیا کرتے تھے، اس لیے حضرت عمر نے تین طلاقوں کے نفاذ کا فیصلہ صادر فرما دیا۔
یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے ،اس پر عہدرسول میں عمل ہوتارہاہے اور اس کے بعد بھی مگر مقلد نے اس حدیث کے متعلق کہا کہ یہ موقوف ہے جبکہ اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے عہد کا عمل بیان کررہے اس لئے یہ مرفوع ہے ۔ دوسری بات موصوف نے کہی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اوروہ اس حدیث کے خلاف فتوی دیتے ہیں ۔
لاحول ولاقوہ ۔ کبھی تو یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ صحابی حدیث کے خلاف عمل ہی نہیں کرسکتے ، یہاں کہتے ہیں حدیث کے خلاف عمل بھی کرتے اور فتوی بھی دیتے ہیں ۔ ایسے عالم میں کیا کہا جائے؟ گویا یہاں صحابی پر صرف اپنی بات منوانے کے لئے دبی زبان کیا حکم لگانا چاہتے ہیں ؟ سوچ لیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ والی مسلم کی حدیث مرفوع ہے یعنی اس میں نبی ﷺ کا عمل بیان کیاگیاہے ، جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے راوی کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے اور فتوی بھی اس کے خلاف دیتے تھے۔ موصوف کی پیش کردہ حدیث دیکھیں :
عن مجاھد قال کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظننت انہ رادھا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یا ابن عباس یا ابن عباس! وان اللہ قال ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا وانک لم تتق اللہ فلا اجد لک مخرجا عصیت ربک وبانت منک امرأتک(ابوداؤد)
ترجمہ: حضرت مجاھد کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں تھا کہ ایک صاحب آے اور کہنے لگے: میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں. مجاھد کہتے ہیں کہ یہ سن کر ابن عباس خاموش رہے.مجھے ایسا لگا کہ شاید حضرت اس کی بیوی سے رجعت کا فیصلہ سنائیں گے .پھر ابن عباس غصے میں فرمانے لگے! لوگ بڑے عجیب ہیں، حماقت کر جاتے ہیں اور پھر دہائی دیتے ہیں: اے ابن عباس! اے ابن عباس! رحم کیجیے! میں کیا کروں؟ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو متقی ہوتا ہے، اسی کے لیے راہیں بنتی ہیں.تم نے خلافِ تقویٰ کام کیا ہے.تیرے لیے کوئی گنجائش نہیںتم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے.جاؤ تمہاری بیوی تم سے علحدہ ہوگئی.تمہارا نکاح ختم ہو چکا ہے۔
موصوف نے تو خود ہی کہہ دیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل مسلم شریف کے خلاف ہے تو میرے کہنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ یہاں صحابی کا عمل ہے اور مسلم شریف میں نبی ﷺ کا عمل آپ ہی فیصلہ کریں نبی ﷺ کا عمل لیا جائے گا یا صحابی کا؟
تیسری دلیل : حدیث رکانہ جسے اہل حدیث پیش کرتے ہیں جو مسند احمد کی روایت ہے ، موصوف اس روایت کے متعلق ضعف اور علت بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت بالکل صحیح ہے اور قابل استدلال ہے ۔
(1)علامہ ابن تیمیہ نے کہا کہ ابوعبداللہ مقدسی نے اپنی کتاب المختارہ میں اسےروایت کیا ہے اور یہ کتاب مستدرک حاکم سے زیادہ صحیح ہے ۔ (مجموع الفتاوی 13/33)
(2) مسند احمد کی تحقیق میں احمد شاکرنے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ (مسنداحمد4/123)
(3) علامہ ناصرالدین البانی نے اس کے تمام طرق کو جمع کرکے اس پر حسن ہونے کا حکم لگایا ہے ۔(ارواء الغلیل 7/144)
(4) شمس الحق عظیم آبادی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے ۔(عون المعبود 6/138)
(5) علامہ ابن القیم نے اسے صحیح کہا ہے ۔(الصواعق المرسلہ 2/625)
(6) امام شوکانی نے امام احمد سے صحیح ہونے کا قول ذکر کیا ہے ۔ (الفتح الربانی 7/3469)
(7) حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا کہ اس کے شواہد مسلم وغیرہ میں ہے جس سے اس کو تقویت مل جاتی ہے ۔ (فتح الباری 9/275)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس حدیث کے متعلق فیصلہ کن تبصرہ دیکھیں :
وھذا الحدیث نص فی المسئلۃ لا یقبل التاویل الذی فی غیرہ من الروایات الاتی ذکرھا(فتح الباری 9/316طبع بیروت)
یعنی ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک ہونے میں یہ حدیث نص صریح ہے دیگر روایات میں جو تاویلیں کی جاتی ہیں اس حدیث میں وہ تاویلیں بالکل غیر مقبول ہیں۔
چوتھی دلیل : بعض لوگوں نے اپنی تائید میں رکانہ کی ایک دوسری روایت ذکر کی ہے ۔
عن عبداللہ بن یزید بن رکانۃ عن ابیہ عن جدہ قال: اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت یا رسول اللہ انی طلقت امرأتی البتۃ فقال ما اردت بہا؟ قلت واحدۃ قال واللہ؟ قلت واللہ قال فھو ما اردت - (ترمذی)
حضرت رکانہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو "طلاق البتۃ "دی ہےحضور نے پوچھا، تمہاری کیا نيت تھی؟ میں نے کہا: ایک طلاق دینے کی نیت کی تھی-آپ نے پوچھا: واللہ سچ کہہ رہے ہو؟ تو میں نے کہا واللہ سچ کہہ رہا ہوں.آپ نے فرمایا کہ پھر تمہاری نیت کا اعتبار ہے۔
اولا: یہ حدیث استدلال کے قابل ہی نہیں ہے کیونکہ سخت ضعیف ہے ۔
سند میں زبیربن سعیداورعبداللہ بن علی ضعیف ہیں،اورعلی بن یزیدبن رکانہ مجہول ہیں۔امامترمذی کہتےہیں کہ اس حدیث کوہم صرف اسی طریق سےجانتےہیں،میں نےمحمدبن اسماعیل بخاری سےاس حدیث کےبارےمیں پوچھاتوانہوں نےکہااس میں اضطراب ہے۔
ابن القیم نے اسے غیرصحیح کہا، علامہ البانی نے کہ اس میں علتیں ہیں ، امام بخاری نے کہا اس میں اضطراب ہے ،ابن العربی نے کہا اس میں اضطراب ہے ،حافظ ابن حجر نے کہا اس کی سند میں اختلاف ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے ۔
ثانیا: یہاں طلاق بتہ سے مراد ایک طلاق رجعی ہے نہ کہ تین طلاق ، لفظ واحدۃ سے بھی بتہ کی صراحت ہوتی ہے ۔
اس طرح یہ روایت ضعیف بھی ہے ، مضطرب بھی ہے ، اور صحیح حدیث جو مسلم شریف کی ہے اس کے خلاف بھی ہے ۔ رکانہ کی وہی حدیث صحیح ہے جواوپر مسند احمد کے حوالے سے ذکر ہوئی ہے ۔
اب اس کے بعد بعض لوگ نے کہا ہے کہ تمام صحابہ کی نظر میں بھی ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی ہواکرتی تھی ہے ، اس بات کی تائید میں بعض لوگ پانچ دلائل دئے ہیں، ان دلائل پہ ایک نظر ڈالتے ہیں۔
(1) پہلی دلیل: موصوف نے نسائی کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں فاطمہ بنت قیس کے طلاق کا واقعہ ہے ۔ انہیں تین طلاق دی گئی تو ان کا نان ونفقہ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ فَاعْتَدِّي عِنْدَ فُلَانَةَ(نسائی)
ترجمہ: تیرے لیے (دوران عدت میں) رہائش اور خرچہ نہیں ہے۔ تو فلاں عورت (ام شریک) کے ہاں عدت گزارلے۔
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے ،یہاں تین طلاق کا ذکر ہے ، بعض روایت میں ہے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی گئی ،اور بعض روایت میں ہے انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی ۔ ان تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فاطمہ کو اکٹھی تین طلاق نہیں بلکہ ایک طلاق دی گئی تھی جو تیسری یعنی آخری طلاق تھی ۔
(2) دوسری دلیل : عن عائشۃ ان رجلاً طلق امرأتہ ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول؟ قال لا، حتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول رواہ البخاری ( ج، ۲ ص، ۷۹۱)
یعنی ایک شخص نے اپنی بیگم کو تین طلاقیں دے دیں، عورت نے کہیں شادی کر لی اور صحبت سے قبل ہی طلاق پا گئی آپ سے پوچھا گیا کہ یہ عورت اپنے شوہر سابق کے لیے حلال ہوگئی؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ شوہر ثانی صحبت نہ کر لے.
تجزیہ: یہ حدیث اصل میں رفاعہ قرظی کے متعلق ہے ، یہاں طلاق کا مختصر ذکرہے جبکہ امام بخاری نے اسی حدیث کو دوسری جگہ مفصل ذکر کیا ہے جس میں صراحت ہے کہ رفاعہ نے اکٹھی تین طلاق نہیں دی تھی بلکہ وقفہ وقفہ سے دی تھی ،بخاری کے یہ الفاظ "فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ" اس بات کا ثبوت ہے کہ رفاعہ نے پہلے دوطلاقیں دے دی تھی یہ آخری طلاق تھی ۔
(3) تیسری دلیل : حضرت عبداللہ ابن عمر نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں طلاق دی اور حضور علیہ السلام سے پوچھا: یا رسول اللہ لوطلقتہا ثلاثاً کان لی ان اراجعہا قال: اذاً بانت منک وکانت معصیۃ.
یعنی اگر میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دوں تو حقِ رجعت باقی رہے گا؟ فرمایا: نہیں، عورت کا رشتہ ختم ہو جاے گا اور حالت حیض میں طلاق دینے کی وجہ سے گناہ ہوگا.یہ حدیث امام طبرانی نے نقل کی ہے ( مجمع الزوائد، ج 4, ص، ۳۳۶ )
یہاں حدیث کو مختصر بیان کیا ہے اسی حدیث میں پہلے والا ٹکڑا دلالت کرتا ہے کہ ابن عمر نے حالت حیض میں بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور بقیہ دو طلاق ،دوالگ الگ طہریا حیض میں دینے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اس حدیث کے الفاظ دیکھیں:أنَّهُ طلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وهِيَ حائِضٌ ثمَّ أرادَ أنْ يُتْبِعَها بطلْقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عندَ القُرْءَيْنِ الباقِيَيْنِ۔
کچھ لوگ اپنی مرضی کی بات لے لیتے ہیں اور مخالف کو چھوڑ دیاہے۔ یہ حدیث دراصل اسی کے موقف کے خلاف ہے ۔ نیز یہ حدیث ضعیف بھی ہے ، اسی مجمع الزوائد میں ہے کہ دارقطنی نے اس کے ایک روای علی بن سعید رازی پر کلام کیا ہے۔ البانی نے اسے منکراورابن القیم نے ضعیف کہا ہے۔
(4) چوتھی دلیل : معجم طبرانی میں حضرت عبادہ ابن صامت کی روایت آئی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میرے کسی باپ دادا نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں ،ان کے بیٹے حضور علیہ السلام کے پاس آے اور صورت حال بتا کر پوچھا کہ اب کوئی راستہ بچا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان اباکم لم یتق اللہ تعالیٰ فیجعل لہ من امرہ مخرجاً بانت منہ بثلاث علی غیرالسنۃ و تسع مائۃ وسبع و تسعون اثم فی عنقہ.
تمہارے آبا نے تقویٰ کی راہ اختیار نہیں کی، اس لیے کوئی صورت نہیں رہی،عورت تین طلاقوں سے ہی رشتے سے الگ ہوگئی اور بقیہ نو سو ستانوے طلاقوں کا گناہ طلاق دینے والے کی گردن پر ہوگا.
یہ روایت انتہائی ضعیف ہے ۔
٭دارقطنی نے کہا اس کے رواۃ مجہول اور ضعیف ہیں( سنن الدارقطنی 3/271)
٭ہیثمی نے کہا اس میں عبید بن ولید وصافی عجلی ضعیف ہے ۔(مجمع الزوائد4/341)
٭ علامہ البانی نے اسے سخت ضعیف کہا۔(السلسلۃ الضعیفہ :1211)
٭علامہ شوکانی نے کہا اس میں یحی بن علاء ضعیف ہے ، عبیداللہ بن ولید برباد ہونے والاہے، ابراہیم بن عبیداللہ مجہول ہے ،پھر عبادہ بن صامت کے والد نے اسلام نہیں لایا تو ان کے دادا کا کیا حال ہوگا؟ (نیل الاوطار7/17)
٭ محمد امین شنقیطی نے کہا کہ اس میں یحی بن علا، عبیداللہ بن ولید،ابراہیم بن عبیداللہ ہیں ان میں سے کسی سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔(اضواء البیان 1/200)
٭ ابن عدی نے کہا اس میں عبیداللہ وصافی بہت ضعیف ہے۔ (الکامل فی الضعفاء 5/522)
٭ حافظ ابن حجر نے کہا اس میں بہت سے ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ۔(الکافی الشاف :296)
(5) پانچویں دلیل: حضرت سوید ابن غفلۃ کہتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں.حضرت علی شہید ہوگئے تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا: خلافت مبارک ہو!! حضرت حسن نے کہا: کیا تم میرے والد کی شہادت پر خوشی منا رہی ہو؟ جاؤ، تجھے تین طلاق....راوی کہتے ہیں کہ عورت نے ان سے علحدہ ہو گئی .عدت گزر گئی تو حضرت حسن نے بقیہ مہر اور دس ہزار درہم بطور صدقہ بھجوایا .جب قاصد اس کے پاس آیا تو عورت نے کہا: متاع قلیل من حبیب مفارق .جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ بے حد کم ہےیعنی دوبارہ شادی کرلیں.یہ بات جب حضرت حسن تک پہونچی تو رونے لگے اور فرمایا: لولا انی سمعت جدی یقول ایما رجل طلق امرأتہ ثلاثاً عندالاقراءاو ثلاثاً مبھمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ لراجعتہا، رواہ البیہقی ( سنن الکبریٰ، ج 7، ص، 336) اگر میں اپنے نانا کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا تو اس سے رجوع کر لیتا ....نانا جان نے فرمایا تھا: جو شخص اپنی بیوی کو حیض کے وقت تین طلاقیں دے تو یہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ دوسری جگہ شادی نہ کر لے.
تجزیہ : یہ روایت بھی ناقابل استدلال ہے کیونکہ اس میں سخت ضعف پایا جاتا ہے ۔ بیہقی نے اس حدیث کو دو سندوں سے ذکرکیاہے پہلی سند میں محمد بن حمید رازی اور سلمہ بن فضل قرشی پر کلام ہے اور دوسری سند کے راوی پر بھی سخت قسم کی جرح ہے ۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد نبویﷺ سے لیکر خلفاء راشدین نے بهی ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوںکو ایک ہی شمار کیا تها
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں حق بیان کرنے اور سمجهنے اور عمل کرنے کی توفیق دے آمین
ان شاء اللہ جلد ہی پوسٹ تیار کی جائے گی کہ طلاق کیسے دی جائے
طلاق کا شرعی طریقہ
اگر اللہ تعالیٰ نے ہمت دی تو ان شاء اللہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں