عیدین میں عورتوں کی شرکت

عیدین میں عورتوں کی شرکت : غور وفکر کا ایک سنجیدہ باب

 فقہی مسائل کے بعض اختلافات اس لئے نہیں حل ہو پاتے ہیں کہ ان مسائل پر کسی خاص مکتب فکر کا لیبل لگ جاتا ہے ایسی صورت میں مسئلہ دینی مسئلہ کے بجائے مسلکی مسئلہ بن جاتا ہے اور جب بھی کوئی مسئلہ مسلکی تصورات کا اسیر ہوجاتاہے تو وہ ناک اور انا کے پست تصورات سے آلودہ ہو ہی جاتاہے پھر تو تازہ ہوا کا ایک جھونکا بھی موجب فساد بن جاتا ہے ایک پتہ بھی کھڑک جائے سازش کی بوٗ محسوس کرلی جاتی ہے گویا خانۂ ذہن میں اب کسی خیال تازہ کا گزر ہو سکتا ہے نہ غورو فکر کی کسی بھی معتبر صورت کو راہ مل سکتی ہے ۔
 بات کی مزید وضاحت اور تائید ان مسائل فقہیہ کے ذریعہ ہو جاتی ہے جن میں کسی مخصوص فقہی نظریئے کی گہری چھاپ نہیں ہے، یا مسلکی تصویر ان مسائل میں بہت زیادہ نمایاں نہیں ، اور گروہی تشریحات و تعبیرات کی بہتات نہیں ہے، آپ دیکھیں گے کہ ان مسائل میں نقد و نظر کی معتدل شاہراہ تیار ہے ۔ پنج وقتہ نمازوں میں خواتین کی مساجد میں محفوظ شرکت بالخصوص عیدین میں عورتوں کی شمولیت کا مسئلہ فی الحقیقت ان مسائل میں سے ہے جن میں نقد و نظر کی راہیں پیچیدہ ہیں نہ فقہی اختلافات کے لئے تنازعہ اور کثیر بنیادیں ہی پائی جاتی ہیں اس کے باوجود یہ مسئلہ شدید اختلافات کا شکا ر ہے ، سبب اس کا یہی ہے کہ یہ مسئلہ دین کا نہ ہو کر مسئلہ مسلک بن چکا ہے سو اب اس میں رجوع اور نرمی گویا ارتداد کی کوئی قسم ہو جو ہمارے علماء کرام کی نظریاتی غیرت کو ایک لمحہ بھی گوارا نہیں ہے ۔
ہمارے خیالات کی صریح ترین دلیل یہ ہے کہ عورتوں سے متعلق وہ حد درجہ متنازعہ مسائل بھی ہمارے علماء کرام نے حل کر لئے جو اپنے آپ میں انتہائی مشتبہ اور پیچیدہ تھے، البتہ ان پرمسلکی انا اور گروہی عصبیت کی چھاپ بظاہر موجود نہیںتھی ۔ مثال کے طور پر لڑکیوں کے لئے اقامتی درسگاہ کے قیام کے سلسلے میں ہمارے علماء آج بھی مختلف ہیں ، امر واقعہ تو یہ ہے کہ کسی بھی مسلک کا کوئی بھی مستند عالم شاید باید فقہی طور پر نسواں اقامتی درسگاہوں کا قائل ہو اگر چہ خود اسی کی نگرانی میں اقامتی نسواں درسگاہیں پھل پھول رہی ہوں۔
پھر بات اقامتی نسواں اداروں ہی کی نہیں غیر اقامتی اداروں کے بھی اپنے مسائل ہیں بالغ لڑکیاں دودو تین تین کلو میٹر کے فاصلے روزانہ پیدل طے کرتی ہیں ، یا پھر غیر محرم ڈرائیور کی نگرانی میں اسکولی بسوں اور غیر اسکولی رکشوں کے ذریعہ عازم سفر ہوتی ہیں اور روزہی ان کی واپسی بھی ہوتی ہے، ہمارے مفتیان ہند وپاک نے شدید فقہی اور مسلکی تحفظات کے باوجود نہ صرف اس امر کو ناجائز نہیں کہا اوریہ بات ان کی غیر ت دینی یا خودداری مسلک کے منافی نہیں ہوئی بلکہ وہ خود ہی شرح صدر اور تمام تر فقہی تسلی کے ساتھ عمل پیرا ہیں ۔
 ہمارے خطباء عظام جن دینی محفلوں میں تشریف لاتے ہیں یا  جو دینی مجلسیں وہ خود رچاتے ہیں ان مجلسوں کے حوالے سے اشتہارات کے اندر جلی حرفوں میں لکھا ہوا رہتا ہے ’’ مستورات کے لئے پردے کا معقول انتظام رہے گا‘‘ اور صاحب ! مستورات مختلف اندازسے بے پردہ و باپردہ شرکت کرتی بھی ہیں لیکن ہمارے مفتیان عظام کبھی ایسی شرکتو ںکو ناجائز قرار نہیں دیتے وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے طور پر اسے جائز کرلیا ہے ۔ یہ فقہی یا غیر فقہی حل کیسے دریافت ہوا اس کا سیدھا اور صاف جواب یہ ہے کہ اس مسئلے پر مسلکی نظریئے کا مدار نہیںتھا اور اس عنوان پر کوئی صریح فقہی عبارت موجود نہیں تھی جس سے روگردانی مسلکی ارتداد کا تصور دلاتی۔
آپ یہیں کیوں رکئے جو لوگ مساجد اور عیدین میں خواتین کی شرکت کو با لکلیہ ناجائز جانتے ہیں وہ کئی قدم آگے بڑھ چکے ہیں جہاں تک پہنچنے کے لئے قائلین کو صرف حسرت سے دیکھتے رہنا ہے یعنی گھروں میں آپائیں تبلیغ کے لئے جارہی ہیں اور عورتیں اپنے خاوندوں کے ساتھ جہاد اصغر پر نکل رہی ہیں اس سے بھی آگے یہ عورتیں ٹیلی ویژن پر نعتیہ کلام پیش کر رہی ہیںاور مذہبی قوالی سے بھی شاد کام فرمارہی ہیں بھلا اس منزل تک کسی بڑے سے بڑے گستاخ بزرگاں کی رسائی ہو تو کیونکر ہو۔
جہاں تک پانچ وقت کی نماز وں میں خواتین کی آمد کا مسئلہ ہے اس کے جواز کی نوعیت کو اچھی طرح جان لینا چاہئے دراصل یہ جواز اتنہائی محفوظ نوعیت کا ہے اور عام طور سے دینی اجتماعات و مناسبات یا جمعہ کے ایام میں ہی عورتیں مساجد میں حاـضر ہوتی ہیں یہ حاضری عام حاضری نہیں ہے، عمل کا یہ اندازبلاشبہ جواز کی روایتوں اور اماں عائشہ کے اندیشوں کو سامنے رکھ کر ہے ۔ الا کہ واقعی کسی ایسے مقام پر ہوں جہاں سے محفوظ آمد ورفت ممکن ہوسکے ۔ مسئلے کی یہ نوعیت پوری دنیا کو اور بطور خاص ہمارے خطباء عظام اور علماء کرام کو بہ خوبی معلوم ہے لیکن ایک خطیب محترم اپنی تقریر دلپذیر میں فرماتے ہیں ’’ تم ہماری مسجدوں میں آکر آمین کہتے ہو اپنی عورتوں کو کیوں نہیں بھیجتے ‘‘ یا ’’مسجدوں میں عورتوں کی آمد تمہارے نزدیک فتنہ نہیں ہے تو کبھی ہماری مسجدوں میں بھیج کر دیکھو‘‘ او کما قال قبلہ محترم!
نہیںسمجھے ابھی آپ!  اصل میں زبان و بیان کے تمام تر عاشقانہ اور فاحشانہ تیور کے ساتھ ہمارے خطیب محترم کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ جب عورتیں مسجد میں آئیں گی ،وہ سترہزار پردوں میں رہیں ہم تو انہیں ان کی آہٹ اور بوٗ سے ہی پہچان لیں گے پھر ہم اپنی دستار شرافت اور چپکی ہوئی ٹوپی اتاریں گے، اگر صورت حال ناقابل برداشت رہی تو دستار شرافت سمیت گلی کو چوں میں دوڑنے والے سانڈوں اور آوارہ کتوں کی طرح طوفان مچادیں گے ممکن رہا تو مسجد کے باہر کھینچ لیں گے نہیںتو مسجد کے اندر ہی نیلی فلم کا مولویانہ رنگ جمائیں گے ۔ اور وہ شغل فرمائیں گے کہ نماز کے لئے مسجد میں آنے والی عورتیں کیا یاد رکھیں گی!
افسوس تو ہماری غیرت سماعت پر ہے کہ مسلکی میں میں ہم اس طرح کی اوچھی اور ننگی باتیں بھی سننا گوارا کر لیتے ہیں ایسے بیان باز کسی بھی مکتب فکر کے رہیں سامعین کو چاہئے کہ اچھل کران کی پگڑیا ں تارلیں ، داڑھیاں نوچ لیں اور جبے قبے کو آگ لگادیں اور یہ تعزیری عمل ہم مسلک افراد ہی کریں تاکہ اس آگ سے دوسری آگ نہ لگ سکے۔
 آیئے اشارۃً بات محض پنج وقتہ نمازوں کی کرلیں تو بھی عیدین میں خواتین کی شرکت کا مسئلہ واضح ہو جاتا ہے ۔
 بخاری شریف کی روایت ہے ’’ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا اسْتَأْذَنَت امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَمْنَعْهَا ‘‘۔(بخاری :۸۷۵)
یعنی جب کسی کی عورت اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے حافظ ابن حجر نے باب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام بخاری یہاں بتانا چاہتے ہیں کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر مسجد نہ جائے۔ غور کیجئے یہی حدیث یہ امر بھی واضح کررہی ہے کہ شوہر اجازت دےدے روکے نہیں ۔ بعض دوسری روایتیں دیکھئے ان میں عورتوں کو گھر میں نماز کی ادائیگی کو افضل قرار دیا گیاہے گویا اس مسئلے میں صورت حال ایک توازن کی ہے کہ شوہر روکنے کی ذہنیت نہ رکھے اگر حالات مناسب ہوں تو اجازت دے دے اور عورت سرکشی نہ کرے کہ بلا اجاز ت چلی جائے ۔رسول اللہ ﷺکی اس پر حکمت تعلیم کا نتیجہ تھا کہ عورتیں بالعموم مساجد آتی تھیں البتہ ان کی آمد اسی انداز کی تھی جس انداز سے حدیث میں مذکورہے نہ تو تمام عورتیں مساجد میں آتی تھیں اورنہ بالالتزام آتی تھیں، عورتوں کے مسجدوں میں آنے پر بیسیوں روایتیں ہیں جو بڑی صراحت سے مسئلہ مذکور پر دال ہیں اس مسئلے کی یہ صریح ترین اور صحیح روایت بھی موجود ہے کہ عبد اللہ بن عمر نے عورتوں کے مسجد جانے کی حدیث سنائی تو ان کے لڑکے بلال نے کہا ہم تو روکیں گے،راوی بیان کرتے ہیں فسبہ سباً سیئا لم اسمع مثلہ قط۔ عربی میں سبٌ معنی گالی اور برا بھلا کہنا ہوتا ہے لیکن سبّ کے ساتھ سیئاً کا اـضافہ پھر راوی کا کہنا کہ میں نے ویسا کبھی سنا نہیں اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ واقعی عبد اللہ بن عمر نے کوئی بہت ہی سخت بات کہی تھی روایتوں میںیہ بھی ہے کہ تاوفات بیٹے سے بات نہ کی ۔ الغرض عورتوں کی مسجدوں میں نماز کی حاضری عہد رسول ﷺ میں متفق علیہ ہے ۔
اماں عائشہ کی ایک روایت ہے کہ اگر رسول عورتوں کی موجودہ صورت حال دیکھتے تو منع فرماتے۔یہ روایت دلالت کرتی ہےکہ عہدنبوی میں اور عہد نبو ی کے بعد بھی عورتیں مسجدوں میں جاتی تھیں اور خود عائشہ رضی اللہ عنہانے بعض قابل اعتراـ ض چیزوں کے باوجود منع نہیں فرمایا ۔ حدیث عائشہ پر گفتگو تو بعد میں ہوگی یہاں کہنا یہ ہے کہ جو حضرات مسجدوں میں عورتوں کا جانا منسوخ بتاتے ہیں وہ یہ واضح کریں کہ نبی کے قول و عمل کو منسوخ کرنےوالی چیز ہے کیا؟  پھر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابتدائی عہد میں عورتیں مسجد جاتی تھیں تو اماں عائشہ کی روایت ان کی تردید کررہی ہے کیونکہ یہ روایت نبی کی وفات کے بعد کی ہے ۔غور فرمائیے جب پنج وقتہ نمازوں کی فقہی نوعیت یہ ہے تو پھر عیدین کی کیا نوعیت ہو سکتی ہے۔ رسول گرامی نے بلا شبہ تمام تر حکمتوں کا لحاظ فرمایا تبھی تو آپ نے عام نمازوں میں حاضری کے باب میں عورتوں کو تاکید نہیں فرمائی بلکہ گھر کی طرف رغبت دلائی البتہ شوہروں کو منع کرنے سے روکا لیکن جب عیدین سے متعلق ملاحظہ کریں گے تو ان روایتوں میں سخت تاکیدی بیان ملتا ہے، ان دونوں حاضریوں کے بارے میں بیان اور اسلوب بیان کا فرق بتلاتا ہے کہ عیدین میں عورتوں کی حاضری کا مسئلہ ناقابل تردید ہے ،اور جو لوگ عیدین کی حاضری سے متعلق اماں عائشہ کی روایت کو بطور دلیل پیش فرماتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ روایت مساجد میں عام حاضری سے متعلق ہے اسے اس مسئلے میں پیش کرناقطعی غیر درست ہے ۔
اب آئیے ہم عیدین میں حاضری سے متعلق صرف ایک دو روایتیں اور ان کا اسلوب بیان دیکھ لیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ خواتین کی با پردہ حاضری کتنی اہم ہے ۔ ’’ حضرت حفصہ بنت سیرین کہتی ہیںکہ ہم اپنی لڑکیوں کو عید کے دن نکلنے سے روکا کرتی تھیں اتفاق سے ہمارے یہاں ایک عورت آئی تو میںبھی اس کے پاس گئی اس عورت نے بیان کیا کہ اس کی بہن یعنی ام عطیہ کے شوہر نے رسول ﷺکے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت کی اوراس کی بہن ( ام عطیہ) بھی اپنے شوہر کے ساتھ چھ غزوات میں شریک رہی اس عورت نے بتایاکہ اس کی بہن ام عطیہ نے فرمایا ’’ ہم مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں ‘‘ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی بہن ام عطیہ نے رسول اللہ ﷺ سے  ایک سوال پوچھا کہ اے اللہ کے رسول اگر کسی عورت کے پاس اوڑھنی اور پردہ کرنے کا کپڑا نہ ہو تو کیا اس کے عید گاہ نہ جانے میں کچھ حرج ہے؟  تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی سہیلی اپنے جلباب اور پردے میں لے جائے اور سب خیر اور مومنوں کی دعامیں شریک ہوں۔
حضرت حفصہ جو اس پورے واقعہ کی راویہ ہیں کہتی ہیں جب ام عطیہ ( اس عورت کی بہن) آئیں تو میں ان کے پاس گئی اور ان سے پوچھا کہ اس  مسئلے میں کیا آپ نے سنا ہے ؟تو ام عطیہ نے فرمایا کہ ہاں میرے ماں باپ رسول ﷺ پر قربان ہوں آپﷺ نے فرمایا کہ باپردہ کنواری عورتیں ( بھی) نکلیں البتہ حائضہ عورتیں جائے نماز سے الگ رہیں اور خیر اور مومنوں کی دعا میں شریک رہیں راویہ کہتی ہیں میں نے ام عطیہ سے کہا ارے کیا حائضہ عورتیں بھی ؟ کہنے لگیں ہاں!  کیا حائـضہ عورتیں عرفات اور فلاں فلاں مقام میں حاضر نہیں ہوتیں۔(بخاری مع الفتح: کتاب العیدین باب اذا لم یکن لھاجلباب، باب نمبر:۲۰، رقم الحدیث :۹۸۰)اس مضمون کی یعنی عیدین میں عورتوں کی شرکت سے متعلق متعدد روایتیں ہیں ٹھیک اس با ب کے بعد دوسرا باب ہے ’’ باب اعتزال الحیض المصلی‘‘ اس باب میں واردحدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں ’’ وقد ادعی بعضہم النسخ فیہ قال الطحاوی : وأمرہ علیہ السلام بخروج الحیض وذوات الخدور الی العید یحتمل ان یکون فی اول الاسلام والمسلمون قلیل فارید التکثیر بحضورھن ارھا با للعدو أما الیوم فلا یحتاج الی ذالک۔ (بخاری مع الفتح : کتاب العیدین ، باب :۲۱، باب اعتزال الحیض المصلی ،رقم الحدیث :۹۸۱،ص: ۵۷۹)
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ علامہ طحاوی کے اس خیال پر تعاقب کیا گیا ہے حافظ نے تعاقب درج بھی کیا ہے اس کا خلاصہ یوں ہے :
۱۔  علامہ طحاوی کا کہنا کہ یہ ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے یعنی یہ امر منسوخ ہے صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ عبد اللہ بن عباس کی پہلی عیدین کی حاضری بچپن میں ہوئی تھی جو فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے سو ابتدائے اسلام کا واقعہ کہنا بے جوڑ بات ہے ۔
نوٹ:   قارئین جان لیں کہ بخاری میں عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت ہے جس میں انہوں نے نبی ﷺکے ساتھ عیدین میں اپنی حاضری کا ذکر کیا ہے اور اس میں عورتوں کی حاضـری کا بھی ذکر ہے ۔(بخاری مع الفتح : کتاب العیدین ، باب العلم الذی بالمصلی ،، باب نمبر : ۱۸، رقم الحدیث :۹۷۷،ص: ۵۷۳)
۲۔  حاضری کی جو علت علامہ طحاوی نے بیان کی ہے کہ مسلمانوں کی کثرت دکھانی یا دشمن کو ڈرانا مقصود تھا اس علت کے برخلاف ام عطیہ کی روایت میں علت کچھ اور بیان ہے اور وہ ہے خیر و برکت کا حصول اور دعامیں شرکت گویا علامہ طحاوی کی بیان کردہ تعلیل قطعی درست نہیں ہے ۔
۳۔  ام عطیہ نے نبی کی وفات کے ایک مدت بعد عیدین میں عورتوں کی حاضری کا فتویٰ دیا اور اس فتویٰ کے مقابلے میں کسی صحابی کی کوئی مخالفت ثابت نہیں ہے ۔
۴۔یہ کہناکہ دشمن کو ڈرانے کے لئے عورتوں کی حاضری ہوتی تھی صحیح نہیں یہ توکمزوری کی علامت ہے ۔
۵۔  اگر ہم یہ مان لیں کہ اماں عائشہ نے اس کے خلاف فتویٰ دیا تھا تو بھی یہ روایت حدیث عائشہ کے معارض نہیں ہے ۔
یہ رہا حافظ ابن حجر کا بیان!  قارئین غور کریں تو از خود تمام باتیں واضح ہو جاتی ہیں ۔ مانعین کے پاس اگر کوئی مستند چیزہے تو وہ صرف حدیث عائشہ ہے وہ حدیث عائشہ سے مساجد کی حاضری پر بھی استدلال کرتے ہیں اور عیدین کی حاضری پر بھی، جبکہ ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حدیث عائشہ مساجد میں عام نمازوں میں حاضری سے متعلق ہے عیدین سے نہیں۔ پھر حدیث عائشہ اور دیگر تمام روایتوں کو سامنے رکھ کر مسئلہ سمجھنا ازبس ضروری ہے اور روایت عائشہ کیاہے اسے بھی جان لینا چاہئے روایت یوں ہے’’لو أدرک رسول اللہ ﷺ ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل۔۔۔۔‘‘ کہ عورتوں میںاب جو نئی بات پیدا ہوگئی ہے رسول گرامی اسے دیکھنےکےلئےزندہ ہوتے تو انہیں مسجد جانے سے منع فرمادیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔
غور فرمائیے اماں عائشہ نے نبی کی طرف سے اپنے خیال میں منع کا امکان ظاہر فرمایا لیکن منع نہیں فرمایا دوسری بات یہ کہ صحابہ کرام نے اماں عائشہ کے اس قول سے وہ معنی اخذ نہیںکیاجوآج کے دینی حلقوں میں جاری و ساری ہے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کااپنے بیٹے کے ساتھ جو معاملہ ہوا اسے آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں اس طرح اگر تمام روایتوں کو جمع فرمائیے تو اندازہ ہوگا کہ مساجد میں حاضری سے متعلق اماں عائشہ کا خیال شدید احتیاط کا عکاس ہے اور بس!
یہ بات صاف ہے کہ اماں عائشہ کی روایت کا تعلق صریح طور سے مساجد کی حاضری سے متعلق ہے جو حضرات عورتوں کی حاضری کے قائل ہیں وہ مساجد میں عورتوں کی حاضری کے بارے میں انتہائی متوازن فکر و عمل پر گامزن ہیں اور روایت عائشہ پر حقیقی انداز سے عامل ہیں۔
رہ گئی بات عیدین کی تو اس سے متعلق بعض روایتیں آپ پڑھ چکے ہیں اگر ان روایتوں پر اتباع حدیث کے بےآمیز جذبے سے نظر ڈالئے تو طبیعت بے چین ہو اٹھے کہ بھلا روایت کے مقابلے میںہمارے ذہنی اور گروہی تحفظات نے کیا گل کھلایا ہے ؟ اسے آپ فکر ونظر کا اختلاف بھی نہیں کہہ سکتے فکر ونظر کا اختلاف ایک بالکل مختلف امر ہے اور حدیثوں کے مقابلے میں ہمارے اخوان کا جو عملی رویہ ہےوہ بالکل دوسری چیز ہے ۔
اتباع قرآن و سنت کے بے آمیز رویےکی بات جب مسائل میں اٹھائی جاتی ہے تو عام طور پر ہمارے اخوان یہ کہا کرتے ہیں اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے ، اسلاف و اخلاف اس امر میں مختلف رہے ہیں ، اگر اتنے بڑے بڑے علماء نے یہ موقف اختیا ر کیا تو یہ بلاسبب نہیں ہو سکتا وغیرہ ۔علی اختلاف المواقع۔ بلاشبہ یہ باتیں علمی استفادہ اور علماء کرام کے مواقف وخیالات کے احترام کی بابت ٹھیک ہیں لیکن ایسی باتیں حدیث کا جواب پیدا کرنے ، یا اپنے موقف کے لئے تسلی کا سامان پیدا کرنے کے لئے روا نہیں ہیں ۔
اس وقت یہی ہورہا ہے کہ ایک مرجوح ناقابل التفات موقف کے باب میں چھوٹا سا سہارا بھی بڑے شدّومد سے بیان کیا جاتاہے مگر ایک راجح ، صریح اور کثیر الدلائل موقف کے سلسلے میں متعدد شبہات پیش کرکے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ بھئی قرآن و حدیث سے عبرت سب کے بس کی بات نہیں ہے یہ بس کچھ خاص افراد ہی کا حق تھا اور من جانب اللہ تھا۔
مسائل کے تحلیل کی غیر مسلکی صورت جو میں نے شروع میں لکھی ہے اسے دیکھئے اور عیدین میں خواتین کی شرکت کا معاملہ دیکھئے تو صورت حال قطعی واضح ہوجاتی ہے۔ پھر غضب خدا کا یہ کہ عورت بازار جائے اعتراض نہیں شادیوںمیں شرکت کرے کوئی مسئلہ نہیں ، مگر مسئلہ ہے تو عیدین میں حاضری پر۔ایک احصائیہ کیجئے خود ان قائلین کا جو الحمد للہ دین کے عالم بھی ہیں کہ ان کے گھروں میں شرعی پردہ کتنا اور کس قدر ہے؟ اور وہ اس پر کتنے بے چین ہیں پھر دیکھئے کہ عیدین کی صورت کیاہے اوراس پر طبیعت کی بے چینی کیسی ہے؟ تو بڑا افسوس ہوتا ہے۔ عورت نقاب میں ہے لڑکیاںبا پردہ ہیں بھائی ، بہن ماں باپ سب ساتھ ہیں یا عورتیں عورتوں میں مرد مردوں میں پھر عیدین میں خا ص انتظامات ہیں اس کے باوجود شرم و غیرت کا بانکپن دیکھئے کہ اسے فتنہ قرار دیا جاتا ہے ۔
ولے تاویل آں در حیرت انداخت          خدا وجبرئیل و مصطفی را

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟