عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں
عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں
سوال : قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کی نماز کے بارے میں بتائیں کیونکہ عموماً کہا جاتا ہے کہ عورت کی نماز مرد کی نماز سے مختلف ہے۔ مثلاً عورت کو مرد کی طرح سجدہ نہیں کرنا چاہئے وغیرہ؟ . جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز کی کیفیت و ہییت بیان فرمائی ہے اس کیا دائیگی میں مرد و عورت برابر ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ '' تم اس طرح نمازپڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو''۔ (بخاری مع فتح الباری ۲/۱۱۱، مسند احمد۵/۵۲، ارواء الغلیل حدیث نمبر ۲۱۳١٣) . یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے سلام تک مردوں اور عورتوں کی نماز ہیئت ایک جیسی ہے سب کیلئے تکبیر تحریمہ قیام، ہاتھوں کا باندھنا، دعاء استفتاح پڑھنا، سورہ فاتحہ، آمین، اس کے بعد کوئی اور سورت، پھر رفیع الیدین رکوع، قیام ثانی، رفع یدین، سجدہ ، جلسہ استراحت ، قعدہ اولیٰ ، تشہد، تحریک اصابع، قعدہ اخیرہ ، تورک، درود پاک اور اس کے بعد دعا، سلام اور ہر مقام پڑھی جانے والی مخصوص دعائیں سب ایک جیسی ہی ہیں عام طور پر حنفی علماء کی کتابوں میں جو مردوں اور عورتوں کی نماز کا فرق بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں صرف کندھوں تک ، مر دحال قیام میں زیر ناف ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ، حالت سجدہ میں مرد اپنی رانیں پیٹ سے دور رکھیں او ر عورتیں اپنی رانیں پیٹ سے چپکا لیں یہ کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں ۔ چنانچہ امام شوکافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ۱) '' اور جان لیجئے کہ یہ رفع یدین ایسی سنت ہے جس میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہیں اور ایسی کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی جوان دونوں کے درمیان اس کے بارے میں فرق پر دلالت کرتی ہو ۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حدیث وارد ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ہاتھ اٹھانے کی مقتدار پر دلالت کرتی ہو اور احناف سے مروی ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور عورت کندھوں تک کیونکہ یہ اس لئے زیادہ سا تر ہے لیکن اس کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود نہیں ''۔ ( نیل الا وطار ۲/۱۹۸) . شارح بخاری امام حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ شمس الحق عظیم آابادی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : '' مرد اور عورت کے درمیان تکبیر کیلئے ہاتھ اٹھانے کے فرق کے بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ''۔ (فتح الباری۲٢/۲۲۲، عوں المعبود ۱/۲۶۳) . ۲) مردوں اور عورتوں کے حال قیام میں یکساں طور پر حکم ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سینے پر باندھیں خاص طور پر عورتوں کیلئے علیحدہ حکم دینا کہ وہ ہی صرف سینے پر ہاتھ باندھیں اور مرد ناف کے نیچے باندھیں اس لئے حنفیوں کے پاس کوئی صریح و صحیح حدیث موجود نہیں ۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری ترمزی کی شرح میں فرماتے ہیں کہ : '' پس جان لو کہ امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ مرد نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھے اور عورت سینہ پر امام بو حنیفہ اور آپ کے اصحاب سے اس کے خلاف کوئی اور قول مروی نہیں ہے ''۔(تحفہ الا حوذی ۱/۲۱۳) . محدث عصر علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں : '' اور سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت سے ثابت ہے اور اس کے خلاف جو عمل ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا پھر بے اصل ہے ''۔ (صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم /۸۸) . ۳) حالت سجدہ میں مردوں کا پانی رانوں کو پیٹ سے دور رکھنا اور عورتوں کا سمٹ کر سجدہ کرنا یہ حنفی علماء کے نزدیک ایک مرسل حدیث کی بنیاد پر ہے جس میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوعورتوں کے پاس گزر ے جو نماز پڑے رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سجدہ کر وتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورتوں کا حکم اس بارے میں مردوں جیسانہیں ۔ علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں : '' روایت مرسل ہے جو قابل حجت نہیں امام ابو داؤد نےا سے مراسیل میں یزید بن ابی حبیبت سے روایت کیا ہے مگر یہ روایت منقطع ہے اور اس کی سند میں موجود ایک راوی سالم محدثین کے نزدیک متورک بھی علامہ ابن التر کمانی حنفی نے الجوھر النقی علی السنن الکبری للبیھقی ۲٢/۲۲۳پر تفصیل سے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے ''۔ . ۴) اس بارے میں حنفی علماء ایک اور روایت پیش کرتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے اس طرح کہ اس کیلئے زیادہ سے زیادہ پردہ کا موجب ہو ۔ یہ روایت السنن الکبری للبیہقی ٢۲/ ۲۲۲۔ ۲۲۳ میں موجود ہے لیکن اس روایت کے متعلق خود امام بیہقی نے صراحت کر دی ہے کہ اس جیسی ضعیف روایت سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک اثر یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ : قنوت نازلہ شرعیت اسلامیہ اور فقہ حنفیہ کی نظر میں . "وہ اپنی عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ نماز میں چار زانوں بیٹھے"۔ مگر اس کی سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہے۔(تقریب ۱۸۲) پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے سجدہ کرنے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر اس طریقہ کے خلاف رسول اللہ کے متعد ارشاد مروی ہیں چند ایک یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔ . '' تم سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے دونوں بازے کتے کی طرح نہ بچھائے'' '' سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازہ کتے کی طرح نہ بچھائے ''۔ غرض نماز کے اند رایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح ہوں۔ امام بن قیمہ فرماتے ہیں ـ: '' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑ کی طرح اِ دھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرف افتراش یا کتے کی طرح اقعاء کو ے کی طرح ٹھونگیں مار نا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع نہیں ''۔ پس ثابت ہو اکہ سجدہ کا اصل مسنون طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں یوں مروی ہے : '' جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ ہی اپنے پہلوؤں سے ملاتے تھے ''۔ بخاری مع فتح الباری ۲٢/ ۳۰۱، سنن ابو داؤد مع عون۱/۳۳۹، السنن الکبری للبیہقی۲/۱۱۶، شرح السنہ للبغوی (۵۵۷) . قرآن مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وار دہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیئت نماز کا مفرق مروی نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم کے عہدِ رسالت سے جملہ اُمہات المومنین ، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ کا ہوتا تھا ۔ چنانچہ امام بخاری ل نے بسند صحیح اُم درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے : '' وہ نما ز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں ''۔( تاریخ صغیر للبخاری ٩٠) چوتھی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے : '' تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ۔'' ا س حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں ۔ پانچویں بات یہ ہے کہ سلف صالحین یعنی خلفائے راشدین، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین محدثین اور صلحائے اُمت میں سے کوئی بھی ایسامرد نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عوتوں کی نماز میں فرق کیا ہو بلکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے استاذ کے استاذ امام ابرہیم نحعی سے بسند صحیح مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں : '' نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے ''۔ (مصنف ابن ابی شیبہ۱/۷۵/۲) . جن علماء نے عورتوں کا نماز میں تکبیر کیلئے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا قیام میں ہاتھ سینہ پر باندھنا اور سجدہ میں زمین کے چاتھ چپک جانا موجب ستر بتایا ہے۔ وہ دراصل قیاس فاسد کی بناء پر ہے کیونکہ جب اس کے متعلق قرآن وسنت خاموش ہیں تو کسی عالم کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کر از خود دین میں اضافہ کرے۔ البتہ نماز کی کیفیت وہیئت کے علاوہ چند مرد و عورت کی نماز مختلف ہیں ۔ ۱١) عورتوں کیلئے اوڑھنی او پر لے کر نماز پڑحنا حتی کہ اپنی ایڑیوں کو بھی ڈھکنا ضرویر ہے۔ اس کے بغیر بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' اللہ تعالیٰ کسی بھی بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا''۔ (ابن ماجہ (۶۵۵)۱/۲۱۵، ابوداؤد (۶۴۱) ، مسند احمد۶/۱۵۰،۲۱۸،۲۵۹) . لیکن مردوں کیلئے کپڑا ٹخنوں سے اوپر ہونا چہائے کیونکہ بکاری شریف میں آتا ہے ہے کہ : '' کپڑے کا ٹخنے سے نیچے ہونا باعث آگ ہے ''۔ ۲٢) عورت جب عورتوں کی امامت کرائے تو اس کے ساتھ پہلی صف کے وسط میں کھڑی ہو جائے مردوں کی طرح آگے بڑھ کر کھڑی نہ ہو ۔ امام ابو بکر ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور اور امام حاکم نے سیدنا عطاء سے بیان کیا ہے کہ : '' سیدہ عائشہ عورتوں کی امامت کراتی تھیں اور ان کے ساتھ صف میں کھڑی ہوتی تھیں ''۔ اور اُ م سلمہ کی روایت میں آتا ہے کہ : '' انہوں نے عورتوں کی امامت کرائی اور ان کے درمیان میں کھڑی ہوئیں ''۔ ( مزید تفصیل کیلئے عون المعبود۲/۲۱۲ ملاحظہ فرمائیں ) .
۳) امام جب نماز میں بھول جائے تو ا سے متنبہ کرنے کیلئے مرد سبحان اللہ کہے اور عورت تالی بجائے ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے : '' مردوں کیلئے سبحان اللہ اور عورتوں کیلئے تالی ہے '' (بخاری ٢۲/۶۰، مسلم۲/۲۷، ابو داؤد (۹۳۹) ، ابن ماجہ۱/۲۲۹، نسائی۳/۱۱، مسند احمد۲/۲۶۱١،۳۱۷،۳/۳۴۸) . ۴٤) مرد کو نماز کسی صورت میں بھی معاف نہیں لیکن عورت کو حالتِ حیض میں فوت شدہ نماز کی قضا نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، دارمی اور مسند احمد میں موجود ہے۔ . ٥۵) اسی طرح عورتوں کی سب سے آخری صف ان کی پہلی صف سے بہتر ہوئی ہے ۔ مسلم کتاب الصلوٰۃ ، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد۲/۴۸۵،۲۴۷،۳/۳،۱۶ میں حدیث موجو دہے ۔ یہ مسائل اپنی جگہ پر درست اور قطعی ہیں مگر ان میں تمام تصریفات منصوصہ کو مروجہ تصریفات غیر منصوصہ کیلئے ہر گز دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔ یہ تفریقات علماء احناف کی خودساختہ ہیں جن کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں ۔ ***************************************************************************************************************************************** عورت اور مرد کی نماز میں فرق .سوال عورت کی نماز اور مرد کی نماز میں فرق کیوں ہے حوالہ نمبر ۱ : آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اے ابن حجر جب تم نماز پڑھو تو کانوں کے برابر ہاتھ اٹھائو اور عورت اپنے ہاتھوں کو چھاتی کے برابر اٹھائے ۔ (کنز العمال ص ۳۰۷ ج۷) حوالہ نمبر ۲ : آنحضرت ﷺ نے فرمایا : کہ عورت جب نماز میں بیٹھے تو دایاں ران بائیں ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپناپیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو زیادہ ستر کی حالت ہے اللہ تعالیٰ اسے دیکھ کر فرماتے ہیں اے فرشتو ! گواہ ہو جائو میں نے اس عورت کو بخش دیا ہے۔(بیہقی ص ۲۲۳ ج۲) حوالہ نمبر۳ : حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ مردوں کو حکم دیا کرتے تھے خوب کھل کر سجدہ کریں اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ خوب سمٹ کر سجدہ کریں ۔(بیہقی ص ۲۲۳ ج۲) حوالہ نمبر ۴ : امام داود مراسیل میں روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ دو عورتوں کے پاس سے گذرے جو نماز پڑھ رہیں تھیں تو فرمایا جب تم دونوں سجدہ کرو تو اپنے جسم کو زمین کے ساتھ ملا دو بے شک عورت اس بارہ میں مرد کی طرح نہیں ہے۔(مراسیل ص ۵) حوالہ نمبر ۵ : آخری خلیفہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرمایا کرتے تھے کہ جب عورت سجدہ کرے تو خوب سمٹ کر سجدہ کرے اور اپنی رانوں کو ملا لے ۔(ابن ابی شیبہ ص ۲۷۰ ج۱) حوالہ نمبر۶ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عورت کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا یعنی خوب اکٹھی ہو کر اور سمٹ کر نماز پڑھیں۔(ابن ابی شیبہ ص ۷۰ ج۱)کوفہ میں امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ یہی فتویٰ دیتے تھے ۔ مدینہ منورہ میں حضرت مجاہد اور بصریٰ میں امام حسن بصری رحمہ اللہ یہی فتویٰ دیتے تھے۔(ابن ابی شیبہ ص ۲۷۰ ج۱) حوالہ نمبر۷ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ عورتیں آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کس طرح نماز پڑھتی تھیں فرمایا کہ پہلے چوکڑی بیٹھتی تھیں پھر ان کو حکم دیا گیا خوب سمٹ کر بیٹھا کریں ۔(جامع المسانید امام اعظم ص ۴۰۶ ج۱) حوالہ نمبر ۸ : حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ مردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ تشہد میں دایاں پائوں کھڑا رکھیں اور بایاں پائوں بچھا کر اس پر بیٹھا کریں اور عورتوں کو حکم دیا کرتے کہ سمٹ کر بیٹھیں۔(بیہقی ص ۲۳۲ ج۲)؟ ******************************************************* جواب الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! آپ نے مرد وعورت کے نماز میں رفع الیدین جلوس اور سجود میں فرق کے سلسلہ میں کچھ حوالہ جات ارسال فرمائے ہیں ترتیب وار ان پر کلام مندرجہ ذیل ہے بتوفیق اللہ تبارک وتعالیٰ وعونہ ۔ (۱) اس روایت کے متعلق مجمع الزوائد ص۱۰۳ ج۲ پر لکھا ہے ’’ قُلْتُ : لَہٗ فِی الصَّحِیْحِ وَغَیْرِہٖ فِیْ رَفْعِ الیَدَیْنِ غَیْرَ ہٰذَا الْحَدیْثِ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیْ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ فِیْ مَنَاقِبِ وَائِلٍ مِنْ طَرِیْقِ مَیْمُوْنَة بِنْتِ حُجْرٍ عَنْ عَمَّتِہَا أُمِّ یَحْیٰی بِنْتِ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَلَمْ أَعْرِفْہَا وَبَقِیَّة رَجَالِہٖ ثِقَاتٌ‘‘ ۔ تو یہ روایت بوجہ مجہولیت راویہ کمزور ہے قابل احتجاج نہیں ۔ (۲) اس روایت کو بیہقی ص ۲۲۳ ج نمبر۲ کے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے اور بیہقی کے اسی صفحہ ۲۲۳ پر اس روایت کو ضعیف قرار دیا گیا ہے چنانچہ امام بیہقی لکھتے ہیں ’’قَالَ أَبُوْ أَحَمَدَ : أَبُوْ مُطِیْعٍ بَیِّنُ الضُّعْفِ فِیْ أَحَادِیْثِہٖ ، وَعَامَّة مَا یَرْوِیْہٖ لاَ یُتَابَعْ عَلَیْہِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اﷲُ : وَقَدْ ضَعَّفَہٗ یَحْیٰی بْنُ مَعِیْنٍ وَغَیْرُہٗ‘‘ ۔ نیز امام بیہقی اس سے پچھلے ص ۲۲۲ پر لکھتے ہیں ’’ وَقَدْ رُوِیَ فِیْہِ حَدِیْثَانِ ضَعِیْفَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِأَمْثَالِہِمَا‘‘ پھر دوسرے نمبر پر اس روایت کو بیان کرتے ہیں جو حوالہ نمبر ۲ میں نقل کی گئی ہے اب نامعلوم صاحب حوالہ جات نے حوالہ نمبر۲ میں امام بیہقی کے فیصلہ کو کیوں نظر انداز فرما دیا ۔ پھر اس روایت میں ہے ’’عورت جب نماز میں بیٹھے تو دایاں ران بائیں ران پر رکھے‘‘ جبکہ اس روایت کو بطور دلیل پیش کرنے والوں کی عورتیں بھی جب نماز میں بیٹھتی ہیں تو دائیں ران کو بائیں ران پر نہیں رکھتیں۔ ﴿ أَتَامُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَکُمْ﴾ یاد رہے ترجمہ ’’دایاں ران بائیں ران پر رکھے‘‘ حوالہ جات پیش کرنے والوں نے کیا ہے یہ راقم تو محض ناقل ہے۔ (۳،۸) ان دونوں حوالوں میں مذکور روایت ایک ہی ہے جس کے کچھ حصہ کو نمبر۳ میں نقل کر کے ص ۲۲۳ کا حوالہ دیا گیا ہے جبکہ یہ حصہ ص ۲۲۲ پر ہے اور کچھ حصہ کو نمبر۸ میں نقل کر کے حوالہ ص ۲۲۲ کا دیا گیا ہے جبکہ یہ حصہ ص ۲۲۳ پر ہے ایک روایت کے دو حصوں کو دو نمبروں میں ذکر کرنا تو سمجھ میں آتا ہے البتہ دونوں حصوں کے صفحات کی تبدیلی کم از کم میرے لیے تو ناقابل فہم ہے کہ اس سے تبدیلی کرنے والوں کا کیا مقصد ہے یا ویسے ہی ان سے بھول ہو گئی ہے ۔ پھر اس روایت کو بھی خود امام بیہقی نے ہی ضعیف قرار دیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں : ’’ وَقَدْ رُوِیَ فِیْہِ حَدِیْثَانِ ضَعِیْفَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِأَمْثَالِہِمَا‘‘ ان دو میں پہلی یہی حوالہ نمبر۳ اور حوالہ نمبر۸ میں ذکر کردہ ابو سعید خدری t والی روایت ہے نیز لکھتے ہیں : ’’وَاللَّفْظُ الْأَوَّلُ ، وَاللَّفْظُ الْآخِرُ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَشْہُوْرَانِ عَنِ النَّبِیِّﷺ ، وَمَا بَیْنَہُمَا مُنْکَرٌ وَاﷲ اعلم‘‘ ۔ ’’ مَا بَیْنَہُمَا‘‘ سے اس روایت ابو سعید خدری t کے وہی دو حصے مراد ہیں جو حوالہ نمبر۳ اور حوالہ نمبر۸ میں بیان ہوئے ۔ اس روایت کی سند میں عطاء بن عجلان نامی ایک راوی ہے جس کے متعلق خود امام بیہقی ہی لکھتے ہیں ’’وَکَذٰلِکَ عَطَائُ بْنُ عَجْلاَنَ ضَعِیْفٌ‘‘ ص ۲۲۳ ج۶ اور تقریب التہذیب ص ۲۳۹ میں ہے ’’ عَطَائُ بْنُ الْعَجْلاَنِ الْحَنْفِیُّ أَبُوْ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِی الْعَطَّارُ مَتْرُوْکٌ ، بَلْ أَطْلَقَ عَلَیْہِ ابْنُ مَعِیْنٍ وَالْفَلاَّسُ ، وَغَیْرُہُمَا الْکَذِبَ مِنَ الْخَامِسَةِ‘‘ ۔ نیز صاحب حوالہ جات نمبر۸ میں ’’وَیَأْمُرُ النِّسَائَ أَنْ یَّتَرَبَّعْنَ‘‘ کا ترجمہ یا مطلب بیان کرتے ہیں ’’اور عورتوں کو حکم دیا کرتے کہ سمٹ کر بیٹھیں‘‘ معلوم نہیں اس مقام پر انہوں نے ایسا کیوں کیا جبکہ خود انہوں نے اسی لفظ ’’یَتَرَبَّعْنَ‘‘ کا ترجمہ ومطلب حوالہ نمبر۷ میں ’’چوکڑی بیٹھتی تھی‘‘ کیا ہے۔ پھر اس روایت کے مطابق عورتوں کو تشہد میں چوکڑی بیٹھنے کا حکم ہے جبکہ معلوم ہے کہ حنفیوں کی عورتیں بھی تشہد میں چوکڑی نہیں بیٹھتیں ۔﴿لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لاَ تَفْعَلُوْنَ﴾ چوکڑی بیٹھنے کو منسوخ قرار دینے والی روایت نہ صحیح اور نہ ہی حسن جیسا کہ تفصیل آ رہی ہے ان شاء اللہ ۔ (۴) یہ روایت مرسل ہے یزید بن ابی حبیب اس کو رسول اللہﷺ سے بیان کرتے ہیں جبکہ یزید بن ابی حبیب کی رسول اللہﷺ سے ملاقات نہیں اور نہ ہی انہوں نے رسول اللہﷺ کا زمانہ پایا ہے اس لیے یہ روایت قابل احتجاج واستدلال نہیں اور اس کا مرسل ومنقطع ہونا امام ابو داود کے اس کو مراسیل میں بیان کرنے سے ہی واضح ہے۔ پھر امام بیہقی نے سنن کبریٰ ص ۲۲۳ ج۲ میں اسی مرسل روایت کے بارہ میں لکھا ہے ’’وَرُوِیَ فِیْہِ حَدِیْثٌ مُنْقطِعٌ ، وَہُوَ أَحْسَنُ مِنَ الْمَوْصُوْلِیْنَ قَبْلَہٗ‘‘ پھر ابوداود والی سند کے ساتھ اس مرسل روایت کو بیان کیا۔ علامہ علاؤ الدین مار دینی حنفی حاشیہ بیہقی میں لکھتے ہیں ’’ظَاہِرُ کَلاَمِہٖ أَنَّہٗ لَیْسَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ إِلاَّ الْاِنْقِطَاع، وَسَالِمٌ مَتْرُوْکٌ حَکَاہُ صَاحِبُ الْمِیْزَانِ عَنِ الدَّارقُطْنِی‘‘ ۔ تو علامہ ماردینی حنفی کے بیان کے مطابق اس روایت میں انقطاع والے نقص کے ساتھ ساتھ اس کی سند میں سالم بن غیلان کے متروک ہونے والا نقص بھی موجود ہے لہٰذا اس مقام پر ’’ہمارے نزدیک مرسل حجت ہے‘‘ والا اصول بھی نہیں چل سکتا کیونکہ حنفیوں کا یہ اصول اس مرسل کے متعلق ہے جس مرسل کی سند صحیح یا حسن ہو اور اس مرسل کی سند نہ صحیح ہے اور نہ حسن کیونکہ اس کی سند میں سالم بن غیلان متروک راوی موجود ہے ۔ چند منٹ کے لیے ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ یہ مرسل روایت اسنادی اعتبار سے حنفیوں کے نزدیک حسن کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے پھر بھی ان کے نزدیک قابل احتجاج واستدلال نہیں کیونکہ ان کے نزدیک مرسل روایت اس وقت حجت ہوتی ہے جب ارسال کرنے والے تابعی کی عادت معلوم ہو کہ وہ صرف ثقات ہی کو حذف کرتا ہے دیکھئے شرح نخبہ اور یہ چیز یزید بن ابی حبیب میں معلوم نہیں ہو سکی ورنہ ان کی اس عادت کو دلائل سے ثابت کیا جائے پھر ان کی مرسل روایت کو حجت بنایا جائے ۔ حوالہ نمبر۴ میں لکھا گیا ہے ’’امام داود مراسیل میں روایت ‘‘ الخ یہ امام داود نہیں امام ابوداود ہیں ۔ (۵) اس روایت کی سند میں ’’الحارث‘‘ نامی راوی ہے جس کے متعلق میزان الاعتدال میں لکھا ہے ’’وَقَالَ مُفَضَّلُ بْنُ مُہَلْہَلٍ عَنْ مُغِیْرَۃَ سَمِعَ الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ : حَدَّثَنِیْ الْحَارِثُ وَأَشْہَدُ أَنَّہٗ أَحَدُ الْکَذَّابِیْنَ ۔ وَرَوَی مُحَمَّدُ بْنُ شَیْبَة الضَّبِیُّ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ قَالَ : زَعَمَ الْحَارِثُ الْأَعْوُرُ وَکَانَ کَذَّابًا‘‘ ص ۴۳۶ ج۱ میزان الاعتدال میں اسی مقام پر ہے ’’جَرِیْرٌ عَنْ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ قَالَ : سَمِعَ مُرَّۃُ الْہَمْدَانِیْ مِنَ الْحَارِثِ أَمْرًا فَأَنْکَرَہٗ فَقَالَ لَہٗ : اُقْعُدْ حَتّٰی أَخْرُجَ إِلَیْکَ ۔ فَدَخَلَ مُرَّۃُ فَاشْتَمَلَ عَلٰی سَیْفِہٖ ، فَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ فَذَہَبَ ۔ وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: کَانَ الْحَارِثُ غَالِیًا فِی التَّشَیُّعِ وَاہِیًا فِی الْحَدِیْثِ‘‘ ۔ (۶) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما والی موقوف روایت کی سند میں سعید بن ایوب اور یزید بن حبیب دو راوی ہیں جن کے حالات مجھے ابھی تک نہیں ملے اس لیے حوالہ دینے والوں کی ذمہ داری ہے کہ ان دونوں کا ثقہ ہونا ثابت کریں ۔ پھر صحابہ والی مقطوع روایت کی سند میں لیث بن ابی سلیم ہے جس کے متعلق تقریب التہذیب میں لکھا ہے ’’صُدُوْقٌ اِخْتَلَطَ أَخِیْرًا وَلَمْ یُتَمَیَّزْ حَدِیْثُہٗ فَتُرِکَ‘‘ نیز مصنف ابن ابی شیبہ ص ۲۷۰ ج۱ میں امام ابراہیم کے ساتھ ان کے کوفہ میں فتویٰ ۔ امام مجاہد کے ساتھ ان کے ’’مدینہ منورہ میں فتویٰ‘‘ اور امام حسن کے ساتھ ان کے ’’بصرہ میں فتویٰ‘‘ دینے کا کوئی ذکر نہیں۔ اصول شاشی ، نور الانوار ، حسامی ، مسلم الثبوت ، تلویح توضیح اور دیگر اصول فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے ’’شرع کے اصول ودلائل چار ہیں ۔ (۱) کتاب اللہ تبارک وتعالیٰ ۔ (۲) رسول اللہﷺ کی سنت ثابتہ ۔ (۳)اجماع امت ۔ (۴) قیاس صحیح ‘‘ اور معلوم ہے کہ مذکور بالا تین تابعین کے مذکور بالا آثار کتاب اللہ ہیں ، نہ ہی سنت رسول اللہ r نہ ہی اجماع اور نہ ہی قیاس صحیح ۔ پھر اس قسم کے آثار دوسری طرف بھی موجود ہیں مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ ص۲۷۰ ج۱ میں ہے : ’’ أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَائِ کَانَتْ تَجْلِسُ فِی الصَّلاَۃِ کَجِلْسَۃِ الرَّجُلِ‘‘ اور محولہ بالا اسی مقام پر ہے ’’عَنْ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ تَقْعُدُ الْمَرْأَۃُ فِی الصَّلاَۃِ کَمَا یَقْعُدُ الرَّجُلُ‘‘ سجود کے سلسلہ میں ابراہیم نخعی کے قول کو لے لینا اور جلوس وقعود کے سلسلہ میں ان کے قول کو نہ لینا سراسر ناانصافی ہے نیز اسی محولہ بالا مقام پر ہے ’’ أَنَّ صَفِیَّة کَانَتْ تُصَلِّیْ وَہِیَ مُتَرَبِّعَة‘‘ پھر اسی مقام پر ہے ’’ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : تَرَبَّع‘‘ اور ص ۲۷۱ج۱ پر ہے ’’عَنْ شُعْبَة قَالَ : سَأَلْتُ حَمَّادًا عَنْ قُعُوْدِ الْمَرْأَۃِ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ : تَقْعُدُ کَیْفَ شَائَ تْ‘‘۔ (۷) یہ روایت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد نافع کے شاگرد کی وجہ سے ضعیف ہے آپ ان کے حالات تفصیلاً دیکھنا چاہتے ہیں تو ’’سلسلة الأحادیث الضعیفة‘‘ جلد اول حدیث ۴۵۸ از ص ۴۶۳ تا ص ۴۶۹ پڑھ لیں ۔ پھر اگر اسی قسم کی روایات پر اعتماد کرنا ہے تو مصنف ابن ابی شیبہ جلد اول ص ۲۷۰ پر ہے ’’ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کُنَّ نِسَائُ ابْنِ عُمَرَ یَتَرَبَّعْنَ فِی الصَّلاَۃِ‘‘ پھر نافع ہی فرماتے ہیں ’’عورت چوکڑی بیٹھتی ہے‘‘ اور کئی حنفی لکھتے ہیں ’’راوی کا عمل یا قول اس کی روایت کے خلاف ہو تو عمل راوی کے قول یا عمل پر ہو گا نہ کہ اس کی روایت پر‘‘۔
سوال : قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کی نماز کے بارے میں بتائیں کیونکہ عموماً کہا جاتا ہے کہ عورت کی نماز مرد کی نماز سے مختلف ہے۔ مثلاً عورت کو مرد کی طرح سجدہ نہیں کرنا چاہئے وغیرہ؟ . جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز کی کیفیت و ہییت بیان فرمائی ہے اس کیا دائیگی میں مرد و عورت برابر ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ '' تم اس طرح نمازپڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو''۔ (بخاری مع فتح الباری ۲/۱۱۱، مسند احمد۵/۵۲، ارواء الغلیل حدیث نمبر ۲۱۳١٣) . یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے سلام تک مردوں اور عورتوں کی نماز ہیئت ایک جیسی ہے سب کیلئے تکبیر تحریمہ قیام، ہاتھوں کا باندھنا، دعاء استفتاح پڑھنا، سورہ فاتحہ، آمین، اس کے بعد کوئی اور سورت، پھر رفیع الیدین رکوع، قیام ثانی، رفع یدین، سجدہ ، جلسہ استراحت ، قعدہ اولیٰ ، تشہد، تحریک اصابع، قعدہ اخیرہ ، تورک، درود پاک اور اس کے بعد دعا، سلام اور ہر مقام پڑھی جانے والی مخصوص دعائیں سب ایک جیسی ہی ہیں عام طور پر حنفی علماء کی کتابوں میں جو مردوں اور عورتوں کی نماز کا فرق بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں صرف کندھوں تک ، مر دحال قیام میں زیر ناف ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ، حالت سجدہ میں مرد اپنی رانیں پیٹ سے دور رکھیں او ر عورتیں اپنی رانیں پیٹ سے چپکا لیں یہ کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں ۔ چنانچہ امام شوکافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ۱) '' اور جان لیجئے کہ یہ رفع یدین ایسی سنت ہے جس میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہیں اور ایسی کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی جوان دونوں کے درمیان اس کے بارے میں فرق پر دلالت کرتی ہو ۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حدیث وارد ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ہاتھ اٹھانے کی مقتدار پر دلالت کرتی ہو اور احناف سے مروی ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور عورت کندھوں تک کیونکہ یہ اس لئے زیادہ سا تر ہے لیکن اس کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود نہیں ''۔ ( نیل الا وطار ۲/۱۹۸) . شارح بخاری امام حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ شمس الحق عظیم آابادی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : '' مرد اور عورت کے درمیان تکبیر کیلئے ہاتھ اٹھانے کے فرق کے بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ''۔ (فتح الباری۲٢/۲۲۲، عوں المعبود ۱/۲۶۳) . ۲) مردوں اور عورتوں کے حال قیام میں یکساں طور پر حکم ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سینے پر باندھیں خاص طور پر عورتوں کیلئے علیحدہ حکم دینا کہ وہ ہی صرف سینے پر ہاتھ باندھیں اور مرد ناف کے نیچے باندھیں اس لئے حنفیوں کے پاس کوئی صریح و صحیح حدیث موجود نہیں ۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری ترمزی کی شرح میں فرماتے ہیں کہ : '' پس جان لو کہ امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ مرد نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھے اور عورت سینہ پر امام بو حنیفہ اور آپ کے اصحاب سے اس کے خلاف کوئی اور قول مروی نہیں ہے ''۔(تحفہ الا حوذی ۱/۲۱۳) . محدث عصر علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں : '' اور سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت سے ثابت ہے اور اس کے خلاف جو عمل ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا پھر بے اصل ہے ''۔ (صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم /۸۸) . ۳) حالت سجدہ میں مردوں کا پانی رانوں کو پیٹ سے دور رکھنا اور عورتوں کا سمٹ کر سجدہ کرنا یہ حنفی علماء کے نزدیک ایک مرسل حدیث کی بنیاد پر ہے جس میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوعورتوں کے پاس گزر ے جو نماز پڑے رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سجدہ کر وتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورتوں کا حکم اس بارے میں مردوں جیسانہیں ۔ علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں : '' روایت مرسل ہے جو قابل حجت نہیں امام ابو داؤد نےا سے مراسیل میں یزید بن ابی حبیبت سے روایت کیا ہے مگر یہ روایت منقطع ہے اور اس کی سند میں موجود ایک راوی سالم محدثین کے نزدیک متورک بھی علامہ ابن التر کمانی حنفی نے الجوھر النقی علی السنن الکبری للبیھقی ۲٢/۲۲۳پر تفصیل سے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے ''۔ . ۴) اس بارے میں حنفی علماء ایک اور روایت پیش کرتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے اس طرح کہ اس کیلئے زیادہ سے زیادہ پردہ کا موجب ہو ۔ یہ روایت السنن الکبری للبیہقی ٢۲/ ۲۲۲۔ ۲۲۳ میں موجود ہے لیکن اس روایت کے متعلق خود امام بیہقی نے صراحت کر دی ہے کہ اس جیسی ضعیف روایت سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک اثر یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ : قنوت نازلہ شرعیت اسلامیہ اور فقہ حنفیہ کی نظر میں . "وہ اپنی عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ نماز میں چار زانوں بیٹھے"۔ مگر اس کی سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہے۔(تقریب ۱۸۲) پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے سجدہ کرنے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر اس طریقہ کے خلاف رسول اللہ کے متعد ارشاد مروی ہیں چند ایک یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔ . '' تم سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے دونوں بازے کتے کی طرح نہ بچھائے'' '' سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازہ کتے کی طرح نہ بچھائے ''۔ غرض نماز کے اند رایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح ہوں۔ امام بن قیمہ فرماتے ہیں ـ: '' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑ کی طرح اِ دھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرف افتراش یا کتے کی طرح اقعاء کو ے کی طرح ٹھونگیں مار نا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع نہیں ''۔ پس ثابت ہو اکہ سجدہ کا اصل مسنون طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں یوں مروی ہے : '' جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ ہی اپنے پہلوؤں سے ملاتے تھے ''۔ بخاری مع فتح الباری ۲٢/ ۳۰۱، سنن ابو داؤد مع عون۱/۳۳۹، السنن الکبری للبیہقی۲/۱۱۶، شرح السنہ للبغوی (۵۵۷) . قرآن مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وار دہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیئت نماز کا مفرق مروی نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم کے عہدِ رسالت سے جملہ اُمہات المومنین ، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ کا ہوتا تھا ۔ چنانچہ امام بخاری ل نے بسند صحیح اُم درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے : '' وہ نما ز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں ''۔( تاریخ صغیر للبخاری ٩٠) چوتھی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے : '' تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ۔'' ا س حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں ۔ پانچویں بات یہ ہے کہ سلف صالحین یعنی خلفائے راشدین، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین محدثین اور صلحائے اُمت میں سے کوئی بھی ایسامرد نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عوتوں کی نماز میں فرق کیا ہو بلکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے استاذ کے استاذ امام ابرہیم نحعی سے بسند صحیح مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں : '' نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے ''۔ (مصنف ابن ابی شیبہ۱/۷۵/۲) . جن علماء نے عورتوں کا نماز میں تکبیر کیلئے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا قیام میں ہاتھ سینہ پر باندھنا اور سجدہ میں زمین کے چاتھ چپک جانا موجب ستر بتایا ہے۔ وہ دراصل قیاس فاسد کی بناء پر ہے کیونکہ جب اس کے متعلق قرآن وسنت خاموش ہیں تو کسی عالم کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کر از خود دین میں اضافہ کرے۔ البتہ نماز کی کیفیت وہیئت کے علاوہ چند مرد و عورت کی نماز مختلف ہیں ۔ ۱١) عورتوں کیلئے اوڑھنی او پر لے کر نماز پڑحنا حتی کہ اپنی ایڑیوں کو بھی ڈھکنا ضرویر ہے۔ اس کے بغیر بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' اللہ تعالیٰ کسی بھی بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا''۔ (ابن ماجہ (۶۵۵)۱/۲۱۵، ابوداؤد (۶۴۱) ، مسند احمد۶/۱۵۰،۲۱۸،۲۵۹) . لیکن مردوں کیلئے کپڑا ٹخنوں سے اوپر ہونا چہائے کیونکہ بکاری شریف میں آتا ہے ہے کہ : '' کپڑے کا ٹخنے سے نیچے ہونا باعث آگ ہے ''۔ ۲٢) عورت جب عورتوں کی امامت کرائے تو اس کے ساتھ پہلی صف کے وسط میں کھڑی ہو جائے مردوں کی طرح آگے بڑھ کر کھڑی نہ ہو ۔ امام ابو بکر ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور اور امام حاکم نے سیدنا عطاء سے بیان کیا ہے کہ : '' سیدہ عائشہ عورتوں کی امامت کراتی تھیں اور ان کے ساتھ صف میں کھڑی ہوتی تھیں ''۔ اور اُ م سلمہ کی روایت میں آتا ہے کہ : '' انہوں نے عورتوں کی امامت کرائی اور ان کے درمیان میں کھڑی ہوئیں ''۔ ( مزید تفصیل کیلئے عون المعبود۲/۲۱۲ ملاحظہ فرمائیں ) .
۳) امام جب نماز میں بھول جائے تو ا سے متنبہ کرنے کیلئے مرد سبحان اللہ کہے اور عورت تالی بجائے ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے : '' مردوں کیلئے سبحان اللہ اور عورتوں کیلئے تالی ہے '' (بخاری ٢۲/۶۰، مسلم۲/۲۷، ابو داؤد (۹۳۹) ، ابن ماجہ۱/۲۲۹، نسائی۳/۱۱، مسند احمد۲/۲۶۱١،۳۱۷،۳/۳۴۸) . ۴٤) مرد کو نماز کسی صورت میں بھی معاف نہیں لیکن عورت کو حالتِ حیض میں فوت شدہ نماز کی قضا نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، دارمی اور مسند احمد میں موجود ہے۔ . ٥۵) اسی طرح عورتوں کی سب سے آخری صف ان کی پہلی صف سے بہتر ہوئی ہے ۔ مسلم کتاب الصلوٰۃ ، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد۲/۴۸۵،۲۴۷،۳/۳،۱۶ میں حدیث موجو دہے ۔ یہ مسائل اپنی جگہ پر درست اور قطعی ہیں مگر ان میں تمام تصریفات منصوصہ کو مروجہ تصریفات غیر منصوصہ کیلئے ہر گز دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔ یہ تفریقات علماء احناف کی خودساختہ ہیں جن کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں ۔ ***************************************************************************************************************************************** عورت اور مرد کی نماز میں فرق .سوال عورت کی نماز اور مرد کی نماز میں فرق کیوں ہے حوالہ نمبر ۱ : آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اے ابن حجر جب تم نماز پڑھو تو کانوں کے برابر ہاتھ اٹھائو اور عورت اپنے ہاتھوں کو چھاتی کے برابر اٹھائے ۔ (کنز العمال ص ۳۰۷ ج۷) حوالہ نمبر ۲ : آنحضرت ﷺ نے فرمایا : کہ عورت جب نماز میں بیٹھے تو دایاں ران بائیں ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپناپیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو زیادہ ستر کی حالت ہے اللہ تعالیٰ اسے دیکھ کر فرماتے ہیں اے فرشتو ! گواہ ہو جائو میں نے اس عورت کو بخش دیا ہے۔(بیہقی ص ۲۲۳ ج۲) حوالہ نمبر۳ : حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ مردوں کو حکم دیا کرتے تھے خوب کھل کر سجدہ کریں اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ خوب سمٹ کر سجدہ کریں ۔(بیہقی ص ۲۲۳ ج۲) حوالہ نمبر ۴ : امام داود مراسیل میں روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ دو عورتوں کے پاس سے گذرے جو نماز پڑھ رہیں تھیں تو فرمایا جب تم دونوں سجدہ کرو تو اپنے جسم کو زمین کے ساتھ ملا دو بے شک عورت اس بارہ میں مرد کی طرح نہیں ہے۔(مراسیل ص ۵) حوالہ نمبر ۵ : آخری خلیفہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرمایا کرتے تھے کہ جب عورت سجدہ کرے تو خوب سمٹ کر سجدہ کرے اور اپنی رانوں کو ملا لے ۔(ابن ابی شیبہ ص ۲۷۰ ج۱) حوالہ نمبر۶ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عورت کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا یعنی خوب اکٹھی ہو کر اور سمٹ کر نماز پڑھیں۔(ابن ابی شیبہ ص ۷۰ ج۱)کوفہ میں امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ یہی فتویٰ دیتے تھے ۔ مدینہ منورہ میں حضرت مجاہد اور بصریٰ میں امام حسن بصری رحمہ اللہ یہی فتویٰ دیتے تھے۔(ابن ابی شیبہ ص ۲۷۰ ج۱) حوالہ نمبر۷ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ عورتیں آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کس طرح نماز پڑھتی تھیں فرمایا کہ پہلے چوکڑی بیٹھتی تھیں پھر ان کو حکم دیا گیا خوب سمٹ کر بیٹھا کریں ۔(جامع المسانید امام اعظم ص ۴۰۶ ج۱) حوالہ نمبر ۸ : حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ مردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ تشہد میں دایاں پائوں کھڑا رکھیں اور بایاں پائوں بچھا کر اس پر بیٹھا کریں اور عورتوں کو حکم دیا کرتے کہ سمٹ کر بیٹھیں۔(بیہقی ص ۲۳۲ ج۲)؟ ******************************************************* جواب الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! آپ نے مرد وعورت کے نماز میں رفع الیدین جلوس اور سجود میں فرق کے سلسلہ میں کچھ حوالہ جات ارسال فرمائے ہیں ترتیب وار ان پر کلام مندرجہ ذیل ہے بتوفیق اللہ تبارک وتعالیٰ وعونہ ۔ (۱) اس روایت کے متعلق مجمع الزوائد ص۱۰۳ ج۲ پر لکھا ہے ’’ قُلْتُ : لَہٗ فِی الصَّحِیْحِ وَغَیْرِہٖ فِیْ رَفْعِ الیَدَیْنِ غَیْرَ ہٰذَا الْحَدیْثِ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیْ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ فِیْ مَنَاقِبِ وَائِلٍ مِنْ طَرِیْقِ مَیْمُوْنَة بِنْتِ حُجْرٍ عَنْ عَمَّتِہَا أُمِّ یَحْیٰی بِنْتِ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَلَمْ أَعْرِفْہَا وَبَقِیَّة رَجَالِہٖ ثِقَاتٌ‘‘ ۔ تو یہ روایت بوجہ مجہولیت راویہ کمزور ہے قابل احتجاج نہیں ۔ (۲) اس روایت کو بیہقی ص ۲۲۳ ج نمبر۲ کے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے اور بیہقی کے اسی صفحہ ۲۲۳ پر اس روایت کو ضعیف قرار دیا گیا ہے چنانچہ امام بیہقی لکھتے ہیں ’’قَالَ أَبُوْ أَحَمَدَ : أَبُوْ مُطِیْعٍ بَیِّنُ الضُّعْفِ فِیْ أَحَادِیْثِہٖ ، وَعَامَّة مَا یَرْوِیْہٖ لاَ یُتَابَعْ عَلَیْہِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اﷲُ : وَقَدْ ضَعَّفَہٗ یَحْیٰی بْنُ مَعِیْنٍ وَغَیْرُہٗ‘‘ ۔ نیز امام بیہقی اس سے پچھلے ص ۲۲۲ پر لکھتے ہیں ’’ وَقَدْ رُوِیَ فِیْہِ حَدِیْثَانِ ضَعِیْفَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِأَمْثَالِہِمَا‘‘ پھر دوسرے نمبر پر اس روایت کو بیان کرتے ہیں جو حوالہ نمبر ۲ میں نقل کی گئی ہے اب نامعلوم صاحب حوالہ جات نے حوالہ نمبر۲ میں امام بیہقی کے فیصلہ کو کیوں نظر انداز فرما دیا ۔ پھر اس روایت میں ہے ’’عورت جب نماز میں بیٹھے تو دایاں ران بائیں ران پر رکھے‘‘ جبکہ اس روایت کو بطور دلیل پیش کرنے والوں کی عورتیں بھی جب نماز میں بیٹھتی ہیں تو دائیں ران کو بائیں ران پر نہیں رکھتیں۔ ﴿ أَتَامُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَکُمْ﴾ یاد رہے ترجمہ ’’دایاں ران بائیں ران پر رکھے‘‘ حوالہ جات پیش کرنے والوں نے کیا ہے یہ راقم تو محض ناقل ہے۔ (۳،۸) ان دونوں حوالوں میں مذکور روایت ایک ہی ہے جس کے کچھ حصہ کو نمبر۳ میں نقل کر کے ص ۲۲۳ کا حوالہ دیا گیا ہے جبکہ یہ حصہ ص ۲۲۲ پر ہے اور کچھ حصہ کو نمبر۸ میں نقل کر کے حوالہ ص ۲۲۲ کا دیا گیا ہے جبکہ یہ حصہ ص ۲۲۳ پر ہے ایک روایت کے دو حصوں کو دو نمبروں میں ذکر کرنا تو سمجھ میں آتا ہے البتہ دونوں حصوں کے صفحات کی تبدیلی کم از کم میرے لیے تو ناقابل فہم ہے کہ اس سے تبدیلی کرنے والوں کا کیا مقصد ہے یا ویسے ہی ان سے بھول ہو گئی ہے ۔ پھر اس روایت کو بھی خود امام بیہقی نے ہی ضعیف قرار دیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں : ’’ وَقَدْ رُوِیَ فِیْہِ حَدِیْثَانِ ضَعِیْفَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِأَمْثَالِہِمَا‘‘ ان دو میں پہلی یہی حوالہ نمبر۳ اور حوالہ نمبر۸ میں ذکر کردہ ابو سعید خدری t والی روایت ہے نیز لکھتے ہیں : ’’وَاللَّفْظُ الْأَوَّلُ ، وَاللَّفْظُ الْآخِرُ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَشْہُوْرَانِ عَنِ النَّبِیِّﷺ ، وَمَا بَیْنَہُمَا مُنْکَرٌ وَاﷲ اعلم‘‘ ۔ ’’ مَا بَیْنَہُمَا‘‘ سے اس روایت ابو سعید خدری t کے وہی دو حصے مراد ہیں جو حوالہ نمبر۳ اور حوالہ نمبر۸ میں بیان ہوئے ۔ اس روایت کی سند میں عطاء بن عجلان نامی ایک راوی ہے جس کے متعلق خود امام بیہقی ہی لکھتے ہیں ’’وَکَذٰلِکَ عَطَائُ بْنُ عَجْلاَنَ ضَعِیْفٌ‘‘ ص ۲۲۳ ج۶ اور تقریب التہذیب ص ۲۳۹ میں ہے ’’ عَطَائُ بْنُ الْعَجْلاَنِ الْحَنْفِیُّ أَبُوْ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِی الْعَطَّارُ مَتْرُوْکٌ ، بَلْ أَطْلَقَ عَلَیْہِ ابْنُ مَعِیْنٍ وَالْفَلاَّسُ ، وَغَیْرُہُمَا الْکَذِبَ مِنَ الْخَامِسَةِ‘‘ ۔ نیز صاحب حوالہ جات نمبر۸ میں ’’وَیَأْمُرُ النِّسَائَ أَنْ یَّتَرَبَّعْنَ‘‘ کا ترجمہ یا مطلب بیان کرتے ہیں ’’اور عورتوں کو حکم دیا کرتے کہ سمٹ کر بیٹھیں‘‘ معلوم نہیں اس مقام پر انہوں نے ایسا کیوں کیا جبکہ خود انہوں نے اسی لفظ ’’یَتَرَبَّعْنَ‘‘ کا ترجمہ ومطلب حوالہ نمبر۷ میں ’’چوکڑی بیٹھتی تھی‘‘ کیا ہے۔ پھر اس روایت کے مطابق عورتوں کو تشہد میں چوکڑی بیٹھنے کا حکم ہے جبکہ معلوم ہے کہ حنفیوں کی عورتیں بھی تشہد میں چوکڑی نہیں بیٹھتیں ۔﴿لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لاَ تَفْعَلُوْنَ﴾ چوکڑی بیٹھنے کو منسوخ قرار دینے والی روایت نہ صحیح اور نہ ہی حسن جیسا کہ تفصیل آ رہی ہے ان شاء اللہ ۔ (۴) یہ روایت مرسل ہے یزید بن ابی حبیب اس کو رسول اللہﷺ سے بیان کرتے ہیں جبکہ یزید بن ابی حبیب کی رسول اللہﷺ سے ملاقات نہیں اور نہ ہی انہوں نے رسول اللہﷺ کا زمانہ پایا ہے اس لیے یہ روایت قابل احتجاج واستدلال نہیں اور اس کا مرسل ومنقطع ہونا امام ابو داود کے اس کو مراسیل میں بیان کرنے سے ہی واضح ہے۔ پھر امام بیہقی نے سنن کبریٰ ص ۲۲۳ ج۲ میں اسی مرسل روایت کے بارہ میں لکھا ہے ’’وَرُوِیَ فِیْہِ حَدِیْثٌ مُنْقطِعٌ ، وَہُوَ أَحْسَنُ مِنَ الْمَوْصُوْلِیْنَ قَبْلَہٗ‘‘ پھر ابوداود والی سند کے ساتھ اس مرسل روایت کو بیان کیا۔ علامہ علاؤ الدین مار دینی حنفی حاشیہ بیہقی میں لکھتے ہیں ’’ظَاہِرُ کَلاَمِہٖ أَنَّہٗ لَیْسَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ إِلاَّ الْاِنْقِطَاع، وَسَالِمٌ مَتْرُوْکٌ حَکَاہُ صَاحِبُ الْمِیْزَانِ عَنِ الدَّارقُطْنِی‘‘ ۔ تو علامہ ماردینی حنفی کے بیان کے مطابق اس روایت میں انقطاع والے نقص کے ساتھ ساتھ اس کی سند میں سالم بن غیلان کے متروک ہونے والا نقص بھی موجود ہے لہٰذا اس مقام پر ’’ہمارے نزدیک مرسل حجت ہے‘‘ والا اصول بھی نہیں چل سکتا کیونکہ حنفیوں کا یہ اصول اس مرسل کے متعلق ہے جس مرسل کی سند صحیح یا حسن ہو اور اس مرسل کی سند نہ صحیح ہے اور نہ حسن کیونکہ اس کی سند میں سالم بن غیلان متروک راوی موجود ہے ۔ چند منٹ کے لیے ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ یہ مرسل روایت اسنادی اعتبار سے حنفیوں کے نزدیک حسن کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے پھر بھی ان کے نزدیک قابل احتجاج واستدلال نہیں کیونکہ ان کے نزدیک مرسل روایت اس وقت حجت ہوتی ہے جب ارسال کرنے والے تابعی کی عادت معلوم ہو کہ وہ صرف ثقات ہی کو حذف کرتا ہے دیکھئے شرح نخبہ اور یہ چیز یزید بن ابی حبیب میں معلوم نہیں ہو سکی ورنہ ان کی اس عادت کو دلائل سے ثابت کیا جائے پھر ان کی مرسل روایت کو حجت بنایا جائے ۔ حوالہ نمبر۴ میں لکھا گیا ہے ’’امام داود مراسیل میں روایت ‘‘ الخ یہ امام داود نہیں امام ابوداود ہیں ۔ (۵) اس روایت کی سند میں ’’الحارث‘‘ نامی راوی ہے جس کے متعلق میزان الاعتدال میں لکھا ہے ’’وَقَالَ مُفَضَّلُ بْنُ مُہَلْہَلٍ عَنْ مُغِیْرَۃَ سَمِعَ الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ : حَدَّثَنِیْ الْحَارِثُ وَأَشْہَدُ أَنَّہٗ أَحَدُ الْکَذَّابِیْنَ ۔ وَرَوَی مُحَمَّدُ بْنُ شَیْبَة الضَّبِیُّ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ قَالَ : زَعَمَ الْحَارِثُ الْأَعْوُرُ وَکَانَ کَذَّابًا‘‘ ص ۴۳۶ ج۱ میزان الاعتدال میں اسی مقام پر ہے ’’جَرِیْرٌ عَنْ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ قَالَ : سَمِعَ مُرَّۃُ الْہَمْدَانِیْ مِنَ الْحَارِثِ أَمْرًا فَأَنْکَرَہٗ فَقَالَ لَہٗ : اُقْعُدْ حَتّٰی أَخْرُجَ إِلَیْکَ ۔ فَدَخَلَ مُرَّۃُ فَاشْتَمَلَ عَلٰی سَیْفِہٖ ، فَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ فَذَہَبَ ۔ وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: کَانَ الْحَارِثُ غَالِیًا فِی التَّشَیُّعِ وَاہِیًا فِی الْحَدِیْثِ‘‘ ۔ (۶) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما والی موقوف روایت کی سند میں سعید بن ایوب اور یزید بن حبیب دو راوی ہیں جن کے حالات مجھے ابھی تک نہیں ملے اس لیے حوالہ دینے والوں کی ذمہ داری ہے کہ ان دونوں کا ثقہ ہونا ثابت کریں ۔ پھر صحابہ والی مقطوع روایت کی سند میں لیث بن ابی سلیم ہے جس کے متعلق تقریب التہذیب میں لکھا ہے ’’صُدُوْقٌ اِخْتَلَطَ أَخِیْرًا وَلَمْ یُتَمَیَّزْ حَدِیْثُہٗ فَتُرِکَ‘‘ نیز مصنف ابن ابی شیبہ ص ۲۷۰ ج۱ میں امام ابراہیم کے ساتھ ان کے کوفہ میں فتویٰ ۔ امام مجاہد کے ساتھ ان کے ’’مدینہ منورہ میں فتویٰ‘‘ اور امام حسن کے ساتھ ان کے ’’بصرہ میں فتویٰ‘‘ دینے کا کوئی ذکر نہیں۔ اصول شاشی ، نور الانوار ، حسامی ، مسلم الثبوت ، تلویح توضیح اور دیگر اصول فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے ’’شرع کے اصول ودلائل چار ہیں ۔ (۱) کتاب اللہ تبارک وتعالیٰ ۔ (۲) رسول اللہﷺ کی سنت ثابتہ ۔ (۳)اجماع امت ۔ (۴) قیاس صحیح ‘‘ اور معلوم ہے کہ مذکور بالا تین تابعین کے مذکور بالا آثار کتاب اللہ ہیں ، نہ ہی سنت رسول اللہ r نہ ہی اجماع اور نہ ہی قیاس صحیح ۔ پھر اس قسم کے آثار دوسری طرف بھی موجود ہیں مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ ص۲۷۰ ج۱ میں ہے : ’’ أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَائِ کَانَتْ تَجْلِسُ فِی الصَّلاَۃِ کَجِلْسَۃِ الرَّجُلِ‘‘ اور محولہ بالا اسی مقام پر ہے ’’عَنْ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ تَقْعُدُ الْمَرْأَۃُ فِی الصَّلاَۃِ کَمَا یَقْعُدُ الرَّجُلُ‘‘ سجود کے سلسلہ میں ابراہیم نخعی کے قول کو لے لینا اور جلوس وقعود کے سلسلہ میں ان کے قول کو نہ لینا سراسر ناانصافی ہے نیز اسی محولہ بالا مقام پر ہے ’’ أَنَّ صَفِیَّة کَانَتْ تُصَلِّیْ وَہِیَ مُتَرَبِّعَة‘‘ پھر اسی مقام پر ہے ’’ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : تَرَبَّع‘‘ اور ص ۲۷۱ج۱ پر ہے ’’عَنْ شُعْبَة قَالَ : سَأَلْتُ حَمَّادًا عَنْ قُعُوْدِ الْمَرْأَۃِ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ : تَقْعُدُ کَیْفَ شَائَ تْ‘‘۔ (۷) یہ روایت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد نافع کے شاگرد کی وجہ سے ضعیف ہے آپ ان کے حالات تفصیلاً دیکھنا چاہتے ہیں تو ’’سلسلة الأحادیث الضعیفة‘‘ جلد اول حدیث ۴۵۸ از ص ۴۶۳ تا ص ۴۶۹ پڑھ لیں ۔ پھر اگر اسی قسم کی روایات پر اعتماد کرنا ہے تو مصنف ابن ابی شیبہ جلد اول ص ۲۷۰ پر ہے ’’ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کُنَّ نِسَائُ ابْنِ عُمَرَ یَتَرَبَّعْنَ فِی الصَّلاَۃِ‘‘ پھر نافع ہی فرماتے ہیں ’’عورت چوکڑی بیٹھتی ہے‘‘ اور کئی حنفی لکھتے ہیں ’’راوی کا عمل یا قول اس کی روایت کے خلاف ہو تو عمل راوی کے قول یا عمل پر ہو گا نہ کہ اس کی روایت پر‘‘۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں