منکرین حدیث کے شبہات کا جواب

*کلام اللہ و کلام رسول اللہﷺ*
*رسول اللہﷺ کے زمانہ میں کتابت حدیث کے دلائل*
مسند احمد، دارمی اور ابوداؤد میں حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی احادیث لکھتا تھا۔ دارمی کے لفظ یہ ہیں

 *كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “ کہ میں جو نبیﷺ سے سنتا تھا، وہ لکھ لیتا تھا*
۔(سنن الدارمی: 501)
اور مسند احمد کے لفظ ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم آپ سے حدیثیں سنتے ہیں اور بھول جاتے ہیں، کیا ہم لکھ لیا کریں؟ تو نبیﷺ نے لکھنے کی اجازت دے دی۔
 (مسند احمد: 7018)
مسند احمد اور ابوداؤد میں ہے کہ جس حالت میں بھی مجھ سے کوئی کلمہ صادر ہوتا ہے، صحیح ہوتا ہے، لکھ لیا کرو۔ (مسند احمد: 6930، سنن ابی داؤد: 3646)

 *حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلاَ أَكْتُبُ“*
(صحیح البخاری: 113)
 *یعنی کسی صحابی کے پاس مجھ سے زیادہ ذخیرہ حدیث نہیں۔ صرف عبداللہ بن عمرو کے پاس ہے کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔*
اس مقام پر ایک اشکال ہے کہ کتابوں میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی نسبت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث زیادہ ہیں۔
 *اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی احادیث زیادہ تھیں لیکن روایت میں کم آئی ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث زیادہ مروی ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں:*
پہلی وجہ
*پہلی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں رہتے تھے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ مصر اور طائف میں رہتے تھے۔ طالب علم مصر کی نسبت مدینہ کی طرف زیادہ جاتے تھے۔*
دوسری وجہ
*دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تعلیم کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا اور خود محنتی تھے۔ لیکن حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سیاست میں تھے تو ظاہر ہے کہ ان کے پاس طالب علم کم جاتے ہوں گے۔ انہیں بھی حدیث سنانے کی فرصت کم ملتی ہوگی۔*
تیسری وجہ
*تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کی کچھ کتابیں حاصل کر رکھی تھیں، اس لیے طالبین علم کا رجوع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف زیادہ تھا۔*
 *یہ چند ایک وجوہات تھیں جن کی وجہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مروی احادیث کی تعداد زیادہ ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے احادیث ایک کتابچہ میں لکھ رکھی تھیں۔*
منکرین حدیث کے شبہات کا جواب
اعتراض
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے اور لکھی ہوئی احادیث کو مٹا دینے کا کلمہ ارشاد فرمایا جیسا کہ ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے
*و لا تکتبوا عنی و من کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ و حدثوا عنی و لا حرج و من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار (مسلم، ابوداؤد)*
الجواب
اگر کتابت حدیث کی نہی سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حدیث حجت نہیں تو یہ استدلال قطعاً باطل ہے کیونکہ خود اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سنہرے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے یہ الفاظ بھی موجود ہیں*
*حدثوا عنی و لاحرج* *میری حدیثیں بیان کرو اور اس میں قطعاً کوئی حرج نہیں ہے* بالکل واضح امر ہے کہ اگر حدیث حجت نہ ہوتی تو آپ حدیث بیان کرنے کا ہرگز حکم نہ دیتے معلوم ہوا کہ آپ کی حدیث بیان کرنا امرِ مطلوب ہے جواب کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ اگر حدیث حجیت نہ ہوتی تو آپ حدیث بیان کرنے کا حکم نہ دیتے۔

اب غور طلب امر یہ ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حدیث دین اور حجت نہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تارکِ سنت کو اپنی امت کی فہرست سے کیوں خارج کردیا ہے؟ اور آپ نے تارک سنت کو ملعون کیوں قرار دیا ہے اور سنت پر عمل کرنے کی اور اس کو مضبوطی سے پکڑنے کی تاکید کیوں فرمائی ہے؟ اور خلافِ سنت کاموں سے پرہیز کرنے کا حکم کیوں دیا ہے؟ کیا (معاذ اللہ) اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کو اور پوری امت کو ایک غیر دینی یا نری تاریخی بات پر قائم رہنے کی پرزور الفاظ میں تاکید فرماتے رہے؟ ہر عقل مند آدمی اسی سے حدیث اور سنت کی اہمیت اور اس کی دینی حیثیت اور اس کی حجت کو بخوبی آسانی سے سمجھ سکتا ہے باقی جس نے میں نہ مانوں کی شرط لگانی ہے تو اس کے لیے اس جہاں میں سرے سے کوئی علاج ہی نہیں ہے حدیث کو وہی تسلیم کرے گا جس میں اللہ تعالی کی محبت ہوگی اور اس محبت کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہوگی اس لیے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول برحق کی محبت لازم و ملزوم ہیں۔ جب حدیث کی محبت نہیں تو یقین جانیے کہ خدا تعالیٰ کی محبت بھی نہیں۔
"اے رسول جب آپ مومنین سے یہ کہہ رہے تھے کہ کیا تمھارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے نازل فرما کر تمہاری مدد فرمائے"* ( آل عمران -١٢٤)
انداز آیت سے لگ رہا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ہی *رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بطور تسلی صحابہ کرام* کو تین ہزار فرشتوں کی امداد کی خبر دی تھی اور یہ خبر قرآن میں کہیں نہیں ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ قرآن کہ علاوہ کوئی وحی آئی تھی جس کی بنیاد پر آپ نے یہ خوشخبری دی-

 *الله تعالیٰ فرماتا ہے*
 " *نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص کر بیچ والی نماز کی اور الله تعالیٰ کے سامنے ادب سے کھڑے رہو*
 *اگر تمہیں دشمن کا خوف ہو تو پیدل بھی اور سواری پر بھی نماز ادا کرسکتے ہو* *لیکن جب امن ہو جائے تو پھر الله کو اسی طرح یاد کرو جس طرح تمہیں الله نے سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے* "(بقرہ : ٢٣٨ ،٢٣٩ )*
حالت امن میں نماز کا کوئی خاص طریقہ ہے جس طریقے سے نماز ادا کی جاتی ہے اور یہ ہی وہ طریقہ ہے جس کہ متعلق ارشاد ہے "الله نے تمہیں سکھایا "،پورا قرآن پڑھ لیجئے نماز کا طریقہ نہیں ملیگا –لہٰذا الله نے کسی اور ذریعہ سے یہ طریقہ سکھایا اور یہ ہی وہ ذریعہ وحی ہے جس کو حدیث کہا جاتا ہے  لہٰذا حدیث منزل من الله ہے
*"الله ارشاد فرماتا ہے جو درخت تم نے کاٹے یا جو درخت اپنی جڑوں پے کھڑے چھوڑ دئیے ، یہ الله کہ حکم سے تھا* "( حشر -٥ )
پورے قرآن مجید میں یہ حکم کہ فلاں درخت کاٹے جائیں اور فلاں چھوڑ دئیے جائیں کہیں نہیں ہے یقینا یہ حکم کسی اور ذریعہ سے تھا ،یعنی قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آتی تھی

*اور ان تین آدمیوں کی طرف بھی الله تعالیٰ نے توجہ فرمائی جن کا معامله ملتوی کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کہ ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں ان پروبال بن گئیں اور انہوں نے یقین کرلیا کہ الله کے غضب سے بچنے کا سوائے اللہ کے کوئی ٹھکانہ نہیں ، تو الله ان پر متوجہ ہوا تاکہ وہ توبہ کرلیں ، بیشک الله توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے*
 –"( توبہ -١١٨ )
یہ تین آدمی کون تھے ؟ ان کا کیا قصور تھا ؟کس آیت میں الله نے ان پر غصہ کا اظہار کیا ؟ قرآن مجید ان تمام باتوں سے خاموش ہے ، ظاہر ہے توبہ سے پہلے الله نے غیظ و غضب کا اظہار بھی کیا ہوگا ، تاریخ بتاتی ہے کہ ٥٠ دن کا مکمل مقاطعہ (بائیکاٹ)کیا گیا سلام کلام بند ،بیویوں کو علیحدہ ہونے کا حکم ملا ، یہ سب کچھ کس کے حکم سے تھا ؟ ظاہر ہے کہ جس کے حکم سے معافی دی جارہی ہے اسی کے حکم سے مقاطعہ بھی کیا گیا ہوگا ، لیکن وہ حکم کہیں بھی قرآن مجید میں نہیں ہے لہٰذا ثابت ہوا کے قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آیا کرتی تھی
کتابتِ حدیث کی مختصر تاریخ
 *یہ حقیقت ہے کہ صحابہ کرام کے دور سے لے کر ائمہ محدثین کے دور تک متواتر حدیث کی کتابت ہوتی رہی ہے۔*
 *صحابہ کرام کے تحریری مجموعے*
*صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں جو تحریری مجموعے مرتب کیے گئے ان میں صحیفہ صادقہ (عبد اللہ بن عمرو بن عاص)، صحیفہ عمر رضی اللہ عنہ، صحیفہ علی رضی اللہ عنہ، صحیفہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ، خطبہ حجۃ الوداع، مسند ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، صحیفہ ہمام بن منبہ، صحیفہ بشیر بن نہیک، صحیفہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہ کی مرویات جو ان کے شاگرد عروہ بن زبیر نے لکھیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مرویات جنہیں سعید بن زبیر تابعی نے مرتب کیا صحیفہ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ، رسالہ سمرہ بن جندب، صحیفہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور رسالہ سعد بن عبادہ انصاری وغیرہ شامل تھے۔ یہ وہ مجموعے تھے جن میں سے بیشتر صحابہ کرام نے خود لکھے یا لکھوائے-*
 *اگر منعِ کتابتِ حدیث والی حدیث کا حکم عام تھا تو کیا یہ سب صحابہ (معاذ اللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نافرمان ہو گئے تھے؟*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟