*عید الفطر*

 *عید الفطر*

 *جن ممالک میں آج عید ہے، ان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو دل کی گہرائیوں سے عید كی  مبارک باد۔ تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْکُم (اللہ تعالی ہمارے اور آپ كے نیک اعمال قبول فرمائے۔) آمین*
 عیدیں اور تہوار ہر قوم كی وحدت كی علامت اور اس كی پہچان ہوا كرتی ہیں، جن میں اس قوم كے عقیدے ونظریے كا عكس جھلكتا ہے۔ غرض "تہوار" دین كا حصہ ہے، لہذا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو وہاں لوگ سال كے دو دن تہوار بناتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ كے حكم سے ان دو دنوں كے بدلے مسلمانوں كے لئے عید الفطر اور عید الاضحی كے دن مقرر فرمادیے۔(ابوداؤد:1134)
 الله نے مسلمانوں كی ان دونوں عیدوں كو عظیم الشان عبادات اور مواقع سے جوڑا ہے،  جو كہ اس دین كے توحیدی مزاج كے غماز اور اہل ایمان كی اللہ كے لئےخالص اور كامل  عبودیت  وبندگی كے  عظیم الشان مظہر ہیں۔
 چنانچہ عید الفطر جو ہم منا رہے ہیں، وہ اس جلیل القدر مہینے كے اختتام پر ركھی گئی ہے جس میں قرآن كریم كا نزول ہوا، نیز جس میں روزے جیسی عبادت مشروع ہے، جو كہ خالص اللہ كے لئے ہے اور تقوی یعنی اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی ٹریننگ ہے، تو قرآن كریم كی شكل میں ہدایت كے حصول اور روزوں كی تكمیل پر ہم اللہ كی بڑائی بیان كرتے اور اس كا شكر ادا كرتے ہیں۔
 اللہ تعالی كا ارشاد ہے: (ترجمہ): "وہ چاہتا ہے كہ تم (روزوں كی) گنتی پوری کرلو اورجو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو، نیز اس کا شکر ادا کرو۔ ۔" (البقرۃ:185)
 دیگر قوموں كی طرح ہماری عید ناچ گانوں، لہو ولعب اور شور وشرابے كی عید نہیں ہے، بلكہ یہ اللہ كے آگے بطور شكرانہ دوگانہ نماز ادا كرنے، اس كی پاكی وبڑائی بیان كرنے اور اس كا شكر ادا كرنے كی عید ہے۔ بے شك اس میں *جائز حدود میں رہتے ہوئے* كھیل كود اور تفریح بھی جائز ہے، لیكن عید كے جشن كے نام پر اللہ كی مقرر كردہ حدود كی پامالی اور شرعی احكامات كی مخالفت ہرگز جائز نہیں۔
 یاد ركھیں، ہم رمضان كی ٹریننگ مكمل كرنے كی خوشی منا رہے ہیں، رمضان كی قیود سے آزادی كی خوشی تو شیطان مناتا ہے۔ ٹریننگ مكمل ہونے كا ثبوت یہ ہے كہ اس كا اثر سال بھر رہے، نہیں تو عید كی خوشی بے مطلب ہے۔
*عید  كی سنتیں اور آداب*
1:- عید كا چاند دكھنے سے لے كر عید كی نماز تک تكبیرات كا اہتمام كرنا۔ تكبیر كے مسنون الفاظ یہ ہیں:  *اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ*
2:-غسل كرنا، اچھے كپڑے پہننا اور خوشبو لگانا وغیرہ۔
ان چیزوں كے مستحب ہونے میں علماء كے درمیان كوئی اختلاف نہیں۔
3:-انس بن مالک (رضي الله عنہ) روایت کرتے ہیں کہ "رسولﷺ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کے دن جب تک چند كھجوریں نہ کھالیتے، عیدگاہ کی طرف نہ جاتے " ۔۔"اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) كھجوریں طاق عدد میں کھاتے تھے۔" (بخاری:953)
4:-حضرت ابن عمر (رضي الله عنہ) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عید کے لئے پیدل تشریف لے جاتے تھے اور پیدل واپس آتے تھے۔ (ابن ماجہ:1294)
5:-  نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر دوسرا راستہ بدل کر آتے۔ (بخاري:986)
6:-صحابۂ كرام جب عید كے دن آپس میں ملتے تو یوں كہتے: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ" (اللہ تعالی ہمارے اور آپ كے نیک اعمال قبول فرمائے) (" كتاب صلاة العيدين " للمحاملي (2/ 129 / 2) , بحوالہ: تمام المنة :ص355)
7:- ابن عباس (رضي الله عنهما) روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیدالفطر کے دن دو رکعت نماز پڑھی، نہ تو اس سے پہلے نہ اس کے بعد نماز پڑھی (بخاري:964)
لہذا عید گاہ میں كوئی نفل نماز نہیں ہے، البتہ گھر جاكر دو ركعت پڑھنے كا ذكر سنن ابن ماجہ (1293) میں آیا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟