گستاخ رسول اور گستاخ صحابه کی سزا

گستاخ رسول اور گستاخ صحابه کی سزا......
قرآن سے اسكي دليل

إ نَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآَخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا

2--وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ  (احزاب ،۵۸)

3---قلْ أَبِاللَّهِ وَآَيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ۔لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُم.. .

حديث سے دليل

قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَايَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا فَأَتَاهُ فَقَالَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلَاحَ فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ
حضرت عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ سے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون کھڑا ہوگا کعب بن اشرف کیلئے کیونکہ اس نے اللہ اور اسکے رسول کو تکلیفیں دی ہیں تو محمد بن مسلمہ اٹھ کھڑے ہوے اور پھر جا کر اس کو قتل کردیا۔اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے اسکو قتل کردیا.
(بخاری،باب الرھن)

بعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیٰ ابی رافع الیھودی رجالا من الانصار و امر علیھم عبد اللہ بن عتیق وکان ابو رافع یؤذی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و یعین علیہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کیلئے چند انصار کا انتخاب فرمایا ،  جن کا امیر عبد اللہ بن عتیق  مقرر کیا ۔یہ ابو رافع نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کی مدد کرتا تھا.
(بخاری)

عن انس بن مالک ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل مکہ یوم الفتح و علی راسہ المغفر فلما نزعہ جاء رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الکعبہ فقال اقتلہ
حضرت انس رضی اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے  تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک پر خود پہنا ہوا تھا۔جب آپ نے خود  اتارا  تو ایک آدمی اس وقت حاضر ہوا   ور عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسکو قتل کردو.
(بخاری)
[امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے الصارم المسلول میں لکھا ہے کہ ابن خطل اشعار کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور اپنی باندی کو وہ اشعار گانے کیلئے کہا کرتا تھا،تو اسکے کُل تین جرم تھے جس کی وجہ سے وہ مباح الدم قرار پایا ، اول ارتداد دوسرا قتل اور تیسرا  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان میں گستاخی۔
اور ابن خطل کی ان دونوں باندیوں کے قتل کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا۔دراصل اشعار ابن خطل کے ہوتے تھے اور اسکو عوام کے سامنے گانے والی اسکی دو باندیاں تھیں]

امر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بقتل الحویرث ابن نقیذ فی فتح مکہ  وکان ممن یؤذی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقتلہ علی رضی اللہ عنہ
فتح مکہ کے دن نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے حویرث بن نقیذ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو نبی صل اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچایا کرتے تھے۔حضرت علی نے اسکو قتل کیا.
(البدایہ والنہایہ)

عن علی بن ابی طالب قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل و من سب اصحابہ جلد
حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو برا کہے اسے قتل کیا جاے اور جو صحابہ کو برا کہے اسکو کوڑے لگادئے جائیں.
(الصارم المسلول)

کتب حدیث میں صحیح سند کے ساته یہ روایت بیان ہوئی ہے کہ فتح مکہ کے دن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان کے پاس چھپ گئے۔ عثمان اسے لے کر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا:
''اے اللہ کے رسول ﷺ !عبد اللہ سے بیعت لے لیں۔''
نبیﷺنے تین مرتبہ نگاہیں اُٹھاکر اُسے دیکھا اور بیعت کرنے سے انکار ظاہر فرمایا۔ اور پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس سے بیعت لے لی۔ اور اس کے چلے جانے کے بعد نبی اکرمﷺ صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
أَمَا کَانَ فِیْکُمْ رَجُل رَشِیْد» یَقُوْلُ إِلٰى هَذَا حَیْثُ رَآنِيْ کَفَفْتُ یَدِْ عَنْ بَیْعَتِه فَیَقْتُلُه؟
'' تم میں سے کوئی بھی اتنا صاحبِ عقل و دانش نہ ہوا کہ جب وہ دیکھتا کہ میں نے اس شخص سے بیعت لینے سے اپنے ہاتھ کو روک لیا ہے تو وہ اٹھتا اور اسے قتل کردیتا؟''
صحابہ کرام میں سے بعض نے عرض کیا: '' اے اللہ کے رسول ﷺ!ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ ﷺکے دل میں کیا ہے ؟ آپ ﷺ ہی نے ہمیں اشارہ کردیا ہوتا۔''
یہ بات کہنے والا کون تھا؟ اس سلسلہ میں تین نام ملتے ہیں:
حضرت عبّاد بن بشر ، حضرت ابو الیسر ، حضرت عمرِ فاروق
اس پر نبیﷺنے فرمایا :
اِنَّه لَا یَنْبَغِيْ لِنَبِي أَنْ تَکُوْنَ لَه خَائِنَةُ الْأَعْیُنِ
''کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ چور نگاہوں یا کنکھیوں سے دیکھے۔''
(نسائی)
جبکہ ابو داؤد و مسند احمد میں ہے:
إِنَّه لَیْسَ لِنَبِي أَنْ یُوْمِضَ
'' کسی نبی کے لئے روا نہیں کہ وہ مخفی اشارے کرے۔''
سنن ابو داؤد میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ ابن ابی سرح نبی اکرمﷺ کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر مرتد ہو گیا اور کفار سے جا ملا تھا اور اس نے یہ گستاخیاں شروع کردیں کہ
میں جدھر اور جیسا چاہتا تھا، اُنہیں (نبیﷺکو)پھیر لیتا، وہ مجھے کچھ لکھنے کو کہتے اور میں کہتا کہ یا ایسے ایسے لکھوں تو وہ اُسی پر موافقت کردیتے۔ آپﷺعلیم حلیم لکھواتے اور میں کہتا کہ عزیز حکیم لکھ لوں تو آپﷺ فرمادیتے کہ دونوں طرح سے ایک ہی بات ہے اور اہلِ مکہ کو یہ تک کہہ دیا کہ اللہ کی قسم! میں چاہوں تو میں بھی ایسی باتیں کہہ سکتا ہوں جیسی محمد کہتا ہے ،میں بھی ویسی ہی وحی پیش کرسکتا ہوں جیسی وہ پیش کرتا ہے ۔یعنی یہ کہ اس پر بھی وحی نازل ہوتی ہے اور وحی میں جو کمی بیشی ہوتی ہے، اسے میں ہی پورا اور صحیح کرتا ہوں۔
اس کی ایسی ہی مذکورہ گستاخیوں کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟