صحیح بخاری سے پہلے احادیث کے مجموعے
صحیح بخاری کی تدوین سے پہلے عربی محدثین کے مرتب کردہ چند مجموعوں کی تفاصیل درج ذیل ہے:
۱۔ صحیفہ صادقہ:
جیسا کہ بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ نبی ﷺ کی اجازت سے آپ ﷺ کی احادیث کو لکھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے ان احادیث کو ایک کتاب کی صحیفہ کی شکل میں مرتب کیا اور اس کا نام ’’الصادقہ‘‘ رکھا۔ یہ صحیفہ انکو اس درجہ محبوب و عزیز تھا کہ وہ کہا کرتے تھے
’’صرف دو چیزیں ہیں جو کہ مجھے زندگی کی رغبت دلاتی ہیں، ایک ’’الصادقہ‘‘ اور ’’وہط‘‘۔ الصادقہ وہ صحیفہ ہے جس میں وہ احادیث درج ہیں جو کہ میں نے نبی ﷺ سے سن کے تحریر کی ہیں جبکہ وہط میرے والد عمرو بن العاص کا اللہ کی راہ میں وقف کردہ زمین کا وہ ٹکڑا ہے جس کی میں دیکھ بھال کرتا ہوں۔ (سنن دارمی و جامع بیان العلم)
بعد کے تمام ’’عربی و ایرانی ‘‘ محدثین نے اس صحیفہ سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ بخاری نے ۱۰۰ سے زائد احادیث کو اپنی صحیح میں درج کیا ہے جبکہ مسلم نے ۳۰ احادیث اس صحیفہ کی نقل کی ہیں جبکہ موطا کی بیشتر احادیث اسی صحیفے سے لی گئیں ہیں۔
۲۔ صحیفہ علیؓ:
علی ؓ نے بھی نبی ﷺ کے دور میں کچھ احادیث کو تحریری شکل میں مرتب کیا تھا۔ علی ﷺ اس صحیفہ کو اپنی تلوار کی نیام کے ساتھ رکھتے تھے (صحیح مسلم) یہ وہی کتاب ہے جس کے بارے میں علی ؓ کے بیٹے محمد بن الحنفیہ ؒ کہا کرتے تھے جس کو کہ بخاری نے روایت کیا ہے:
’’میرے والد علی ؓ نے مجھے کہا کہ اس صحیفہ کو عثمانؓ کے پاس لے جاؤ، کیونکہ اس میں زکوٰۃ سے متعلق نبی ﷺ کے احکامات منقول ہیں‘‘
حتیٰ کے امام بخاری نے اس صحیفہ سے کئی احادیث اپنی صحیح میں ۹ سے زیادہ ابواب میں نقل کی ہیں جیسا کہ کتاب العلم، فضائل المدینہ وغیرہ۔
۳۔ صحیفہ جابر بن عبداللہؓ:
جابر ؓ بھی نبی ﷺ کی احادیث کو لکھ لیا کرتے تھے، ترمذی روایت کرتے ہیں کہ قتادہؒ اور حسن بصریؒ جابر بن عبداللہؓ کے صحیفہ سے احادیث روایت کیا کرتے تھے، بہت سارے محدثین نے اس صحیفہ کا ذکر کیا ہے۔ امام ذہبی ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں قتادہؒ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ:
’’امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: قتادہؒ بصرہ کے لوگوں میں بہترین حافظ تھے، وہ جو بھ ی سنتے تھے ، انکو یاد ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ جابر بن عبداللہ ؓ کا صحیفہ انکے سامنے پڑھا گیا اور انہوں نے ایک ہی دفعہ میں اسکو پورا یاد کرلیا۔‘‘
۴۔ صحیفہ سمرہ بن جندبؓ:
حافظ ابن حجر ’’ تہذیب التہذیب ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حسن بصری سمرہ بن جندب ؓ کے صحیفہ سے احادیث روایت کیا کرتے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی اس صحیفہ کی احادیث اپنی کتابوں میں لائے ہیں۔ حسن بصری کے علادہ سمرہ بن جندب ؓ کے بیٹے سلمان بن سمرہ بھی اپنے والد کے صحیفے سے احادیث روایت کیا کرتے تھے۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۱۵)
۵۔ صحیفہ ابی ہریرہؓ:
پہلے ابو ہریرہؓ احادیث نہیں لکھا کرتے تھے لیکن اپنی عمر کے آخری ایام میں انہوں نے احادیث لکھنے کا اہتمام شروع کردیا تھا اور جتنی بھی احادیث انکو یاد تھیں وہ انہوں نے ایک چمڑے کے ایک صحیفہ پر لکھ لی تھیں۔ ایک دفعہ حسن بن امیہ الضمری نے ابو ہریرہؓ کے سامنے ایک حدیث روایت کی۔ اس پر ابو ہریرہؓ ان کا ہاتھ پکڑ کر انکو اپنے گھر لے گئے اور انکو ایک صحیفہ دکھایا اور بتایا کہ دیکھو یہ حدیث ہمارے پاس بھی لکھی ہوئی موجود ہے۔ (فتح الباری، باب: کتاب العلم)
۶۔ صحیفہ عبداللہ بن مسعودؓ:
حافظ ابن عبدالبر جامع بیان العلم میں لکھتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود ؓ ایک دفعہ لوگوں کے سامنے ایک صحیفہ لائے جس میں کہ نبی ﷺ کی احادیث لکھی ہوئی تھیں اور فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس صحیفہ میں جو احادیث موجود ہیں وہ میرے والد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔ (جامع بیان العلم، باب: کتاب الحدیث، مسند دارمی)
سو اوپر کے مبحث کا مقصد صرف یہ سمجھانا ہے کہ نبی ﷺ اور انکے صحابہؓ کے زمانے میں ہی احادیث کی تدوین کا کام شروع ہو گیا تھا اور بعد کے عربی و عجمی محدثین نے انہی احادیث کو اپنی کتاب میں جگہ دی۔ اب کوئی اگر یہ اعتراض اٹھائے کہ صرف عجمی محدثین کی احادیث کی کتب ہی کیوں رائج رہ گئی اور بقیہ مجموعے کیوں غائب ہوگئے تو یہ بھی کوئی صحیح اعتراض نہ ہوگا۔ بہت سے عربی محدثین کی کتابیں بھی اس وقت امت میں رائج ہے جیسا کہ صحیفہ ہمام ابن منبہ، مسند احمد بن حنبل وغیرہ۔ صحابہ ؓ کے مجموعے اس لئے اپنی اصلی حالت میں دستیاب نہیں رہ سکیں کیونکہ بعد میں آنے والے محدثین نے ان مجموعوں کی تمام احادیث کو اپنی کتابوں میں درج کردیا سو ان مجموعوں کی حفاظت کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں رہی کیونکہ ان میں موجود احادیث دوسروں مجموعوں میں محفوظ ہو چکی تھیں۔ یہ بالکل ایسا ہی کہ جیسا کہ ابن جریر طبری کی فقہ کچھ عرصے بعد امام شافعی کی فقہ میں مدغم ہو گئی اب کوئی اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ طبری کی کوئی فقہ ہی نہیں تھی یا پھر کسی سازش کے تحت امام شافعی کی فقہ میں اسکو مدغم کردیا گیا تو یہ نا عقلی ہی کہی جاسکتی ہے۔ اسی طرح امام اوزاعی، لیث بن سعد وغیرہ کی اپنی فقہ تھیں لیکن آج روئے زمین پر کوئی انکی فقہ کا نام لیوا نہیں تو اسکا مطلب یہ تو نہ ہوگا کہ کسی خاص سازش کے تحت انکی فقہ کو غائب کر دیا گیا یا پھر انکی کوئی فقہ ہی نہیں تھی۔
۱۔ صحیفہ صادقہ:
جیسا کہ بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ نبی ﷺ کی اجازت سے آپ ﷺ کی احادیث کو لکھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے ان احادیث کو ایک کتاب کی صحیفہ کی شکل میں مرتب کیا اور اس کا نام ’’الصادقہ‘‘ رکھا۔ یہ صحیفہ انکو اس درجہ محبوب و عزیز تھا کہ وہ کہا کرتے تھے
’’صرف دو چیزیں ہیں جو کہ مجھے زندگی کی رغبت دلاتی ہیں، ایک ’’الصادقہ‘‘ اور ’’وہط‘‘۔ الصادقہ وہ صحیفہ ہے جس میں وہ احادیث درج ہیں جو کہ میں نے نبی ﷺ سے سن کے تحریر کی ہیں جبکہ وہط میرے والد عمرو بن العاص کا اللہ کی راہ میں وقف کردہ زمین کا وہ ٹکڑا ہے جس کی میں دیکھ بھال کرتا ہوں۔ (سنن دارمی و جامع بیان العلم)
بعد کے تمام ’’عربی و ایرانی ‘‘ محدثین نے اس صحیفہ سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ بخاری نے ۱۰۰ سے زائد احادیث کو اپنی صحیح میں درج کیا ہے جبکہ مسلم نے ۳۰ احادیث اس صحیفہ کی نقل کی ہیں جبکہ موطا کی بیشتر احادیث اسی صحیفے سے لی گئیں ہیں۔
۲۔ صحیفہ علیؓ:
علی ؓ نے بھی نبی ﷺ کے دور میں کچھ احادیث کو تحریری شکل میں مرتب کیا تھا۔ علی ﷺ اس صحیفہ کو اپنی تلوار کی نیام کے ساتھ رکھتے تھے (صحیح مسلم) یہ وہی کتاب ہے جس کے بارے میں علی ؓ کے بیٹے محمد بن الحنفیہ ؒ کہا کرتے تھے جس کو کہ بخاری نے روایت کیا ہے:
’’میرے والد علی ؓ نے مجھے کہا کہ اس صحیفہ کو عثمانؓ کے پاس لے جاؤ، کیونکہ اس میں زکوٰۃ سے متعلق نبی ﷺ کے احکامات منقول ہیں‘‘
حتیٰ کے امام بخاری نے اس صحیفہ سے کئی احادیث اپنی صحیح میں ۹ سے زیادہ ابواب میں نقل کی ہیں جیسا کہ کتاب العلم، فضائل المدینہ وغیرہ۔
۳۔ صحیفہ جابر بن عبداللہؓ:
جابر ؓ بھی نبی ﷺ کی احادیث کو لکھ لیا کرتے تھے، ترمذی روایت کرتے ہیں کہ قتادہؒ اور حسن بصریؒ جابر بن عبداللہؓ کے صحیفہ سے احادیث روایت کیا کرتے تھے، بہت سارے محدثین نے اس صحیفہ کا ذکر کیا ہے۔ امام ذہبی ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں قتادہؒ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ:
’’امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: قتادہؒ بصرہ کے لوگوں میں بہترین حافظ تھے، وہ جو بھ ی سنتے تھے ، انکو یاد ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ جابر بن عبداللہ ؓ کا صحیفہ انکے سامنے پڑھا گیا اور انہوں نے ایک ہی دفعہ میں اسکو پورا یاد کرلیا۔‘‘
۴۔ صحیفہ سمرہ بن جندبؓ:
حافظ ابن حجر ’’ تہذیب التہذیب ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حسن بصری سمرہ بن جندب ؓ کے صحیفہ سے احادیث روایت کیا کرتے تھے۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی اس صحیفہ کی احادیث اپنی کتابوں میں لائے ہیں۔ حسن بصری کے علادہ سمرہ بن جندب ؓ کے بیٹے سلمان بن سمرہ بھی اپنے والد کے صحیفے سے احادیث روایت کیا کرتے تھے۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۱۵)
۵۔ صحیفہ ابی ہریرہؓ:
پہلے ابو ہریرہؓ احادیث نہیں لکھا کرتے تھے لیکن اپنی عمر کے آخری ایام میں انہوں نے احادیث لکھنے کا اہتمام شروع کردیا تھا اور جتنی بھی احادیث انکو یاد تھیں وہ انہوں نے ایک چمڑے کے ایک صحیفہ پر لکھ لی تھیں۔ ایک دفعہ حسن بن امیہ الضمری نے ابو ہریرہؓ کے سامنے ایک حدیث روایت کی۔ اس پر ابو ہریرہؓ ان کا ہاتھ پکڑ کر انکو اپنے گھر لے گئے اور انکو ایک صحیفہ دکھایا اور بتایا کہ دیکھو یہ حدیث ہمارے پاس بھی لکھی ہوئی موجود ہے۔ (فتح الباری، باب: کتاب العلم)
۶۔ صحیفہ عبداللہ بن مسعودؓ:
حافظ ابن عبدالبر جامع بیان العلم میں لکھتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود ؓ ایک دفعہ لوگوں کے سامنے ایک صحیفہ لائے جس میں کہ نبی ﷺ کی احادیث لکھی ہوئی تھیں اور فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس صحیفہ میں جو احادیث موجود ہیں وہ میرے والد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔ (جامع بیان العلم، باب: کتاب الحدیث، مسند دارمی)
سو اوپر کے مبحث کا مقصد صرف یہ سمجھانا ہے کہ نبی ﷺ اور انکے صحابہؓ کے زمانے میں ہی احادیث کی تدوین کا کام شروع ہو گیا تھا اور بعد کے عربی و عجمی محدثین نے انہی احادیث کو اپنی کتاب میں جگہ دی۔ اب کوئی اگر یہ اعتراض اٹھائے کہ صرف عجمی محدثین کی احادیث کی کتب ہی کیوں رائج رہ گئی اور بقیہ مجموعے کیوں غائب ہوگئے تو یہ بھی کوئی صحیح اعتراض نہ ہوگا۔ بہت سے عربی محدثین کی کتابیں بھی اس وقت امت میں رائج ہے جیسا کہ صحیفہ ہمام ابن منبہ، مسند احمد بن حنبل وغیرہ۔ صحابہ ؓ کے مجموعے اس لئے اپنی اصلی حالت میں دستیاب نہیں رہ سکیں کیونکہ بعد میں آنے والے محدثین نے ان مجموعوں کی تمام احادیث کو اپنی کتابوں میں درج کردیا سو ان مجموعوں کی حفاظت کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں رہی کیونکہ ان میں موجود احادیث دوسروں مجموعوں میں محفوظ ہو چکی تھیں۔ یہ بالکل ایسا ہی کہ جیسا کہ ابن جریر طبری کی فقہ کچھ عرصے بعد امام شافعی کی فقہ میں مدغم ہو گئی اب کوئی اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ طبری کی کوئی فقہ ہی نہیں تھی یا پھر کسی سازش کے تحت امام شافعی کی فقہ میں اسکو مدغم کردیا گیا تو یہ نا عقلی ہی کہی جاسکتی ہے۔ اسی طرح امام اوزاعی، لیث بن سعد وغیرہ کی اپنی فقہ تھیں لیکن آج روئے زمین پر کوئی انکی فقہ کا نام لیوا نہیں تو اسکا مطلب یہ تو نہ ہوگا کہ کسی خاص سازش کے تحت انکی فقہ کو غائب کر دیا گیا یا پھر انکی کوئی فقہ ہی نہیں تھی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں