یوم ولادت یا کوئی مخصوص دن منانا

اسلام میں کوئی بھی دن منانے کی کوئی دلیل قرآن و سنت سے ہـمیں نہیں ملتی، کسی بھی شخصیت کی پیدائش کا دن یا برسی یا وفات کا دن، فتح کا دن یا دفاع کا دن، یا ماں باپ سے محبت کے اظہار کا دن، یا کسی سانحے کی یاد میں سوگ کا دن یا اس قسم کے کوئی بھی دن منانا اسلام میں نہیں ہـے۔ اگر ایسا کچھ بھی ہـوتا تو سب سے پہلے فتح مکہ کا جشن منایا جاتا، فاطمہ رضي الله تعالى کی سالگرہ منائی جاتی، اصحاب الاخدود کا سوگ منایا جاتا، جو ستر حفاظ کرام شہید کردیئے گئے تھے ان کا سوگ منایا جاتا۔
اللّٰه تعال كا فرمان ہـے
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم اللّٰه الرحمن الرحيم
سورة البقرة 108
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ

اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہـے
سورة الحجرات 1
یاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا  تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ  اللّٰہِ  وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ.

اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے  آگے نہ بڑھو  اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالٰی سننے والا، جاننے والا ہـے۔
سورة الأحزاب 21
لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ  فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ  اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ  لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ  الۡاٰخِرَ  وَ ذَکَرَ  اللّٰہَ  کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہـے، ہـر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہـے اور بکثرت اللہ تعالٰی کی یاد کرتا ہـے۔
سورة الممتحنة 6
لَقَدۡ کَانَ  لَکُمۡ  فِیۡہِمۡ  اُسۡوَۃٌ  حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ  یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ  وَ مَنۡ  یَّتَوَلَّ  فَاِنَّ اللّٰہَ  ہُوَ الۡغَنِیُّ  الۡحَمِیۡدُ.

یقیناً تمہارے لئے ان میں  اچھا نمونہ (اور عمدہ پیروی ہـے خاص کر) ہـر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہـو  اور اگر کوئی روگردانی کرے  تو اللہ تعالٰی بالکل بـے نیاز ہـے اور سزاوار حمد و ثنا ہـے۔
اور جو اللّٰه اور اس کے رسول سے بڑھ کر کوئی عمل اجر و ثواب کی نیت سے کرے تو وہ دین میں نئ ایجاد ہـے اور بدعت ہـے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے امّا بعد کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہـے اور بہترین سیرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہـے اور سارے کاموں میں بدترین کام نئے نئے طریقے ہیں (یعنی دین کےنام سے نئے طریقے جاری کرنا) اور ہـر بدعت گمراہی ہـے اور ہـر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہـے۔
صحيح مسلم # 1904
سنن نسائ # 1598، سند: صحیح
اللّٰه تعالی ہمیں قرآن و سنت کو سمجھنے اور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شرک و بدعت سے محفوظ رکھے۔
ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار..

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟