نماز وتر پڑھنے کا مسنون طریقہ

🥀نماز وتر پڑھنے کا مسنون طریقہ🥀


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
➊ ”اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ [بخاري : 6410، مسلم : 2677]
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں سے۔“ [مسلم : 756]
➌ نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہیں۔ جب صبح (صادق) ہونے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ یہ ایک (رکعت پہلی ساری) نماز کو طاق بنا دیگی۔“ [بخاري : 993، 990مسلم : 749]
➍ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے (آخری ) دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان (سلام پھیر کر ) بات چیت بھی کرتے۔“ [ابن ماجه : 77، مصنف ابن ابي شيبه : 2؍291]
➎ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔“ [مسلم : 736]
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”وتر ہر مسلمان پر حق ہے پس جس کی مرضی ہو پانچ وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو تین وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو ایک وتر پڑھے۔“ [ابوداؤد : 1422، نسائي : 1710، ابن ماجه : 1190، صحيح ابن حبان : 270، مستدرك1؍302وغيره]
تین رکعت وتر پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ پھر ایک رکعت وتر پڑھیں جیسا کہ احادیث مبارکہ میں آیا ہے۔ [ديكهئے مسلم : 752، 736، 765، 769، بخاري : 626، 990، 993، 994، 2013، ابن ماجه : 1177، نسائي 1698، صحيح ابن حبان : 678، صحيح ابن حبان الاحسان4؍70، 2426وغيره]
➐ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وتر ایک رکعت ہے آخر شب میں، اور پوچھا گیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔“ [مسلم : 753]
➑ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [بخاري : 991، طحاوي : 1549، 1551، آثار السنن200، 201، 202]
➒ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [بخاري : 3764، 3765، آثار السن203]
➓ سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [بخاري : 2356، طحاوي : 1634، آثار السنن 205، 6٠6، وغيره]
⓫ امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [دارقطني : 1657، طحاوي 1631، آثار السنن204]
⓬ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جو شخص آخر رات میں نہ اٹھ سکے تو وہ اول شب وتر پڑھ لے اور جو آخر رات اٹھ سکے وہ آخر رات وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی نماز افضل ہے۔“ [مسلم : 755]
⓭ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اول رات، رات کے وسط اور پچھلی رات (یعنی) رات کے ہر حصہ میں نماز پڑھی۔ [بخاري : 755، 996]
⓮ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایک رات میں دو بار وتر پڑھنا جائز نہیں۔ [ ابوداؤد1439ابن خزيمه1101، ابن حبان 671، وغيره]
⓯ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔“ [مسلم : 751]
اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جو وتر کے بعد رات کو اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں۔
⓰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”تین وتر (اکٹھے ) نہ پڑھو، پانچ یا سات وتر پڑھو۔ اور مغرب کی مشابہت نہ کرو۔“ [دار قطني نمبر 1634، ابن حبان 680، آثار السنن591، 596وغيره]
نوٹ :
اس کے برعکس بعض حضرات نے یہ فتوی دیا ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھنا جائز نہیں۔ [دیکھئے علم الفقہ ص 186از عبدالشکور لکھنوی دیوبندی]
دیوبندیوں کے مفتی اعظم عزیز الرحمن (دیوبندی) نے فتویٰ دیا ہے کہ ”ایک رکعت وتر پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز حتی الوسع نہ پرھیں۔ کیونکہ وہ غیر مقلد معلوم ہوتا ہے اور اس شخص کا امام بنانا اچھا نہیں ہے ؟“ [دیکھئے فتاویٰ دارالعلوم دیوبنج 3ص154 سوال نمبر 770، مکتبہ امداد یہ ملتان پاکستان]

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟