بیس تروایح پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے
بیس تروایح پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔
اب آپ کی خدمت میں بعض حوالے پیش خدمت ہیں، جن میں سے ہر حوالہ کی روشنی میں اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔
➊ امام مالک رحمہ اللہ (متوفی 179ھ) فرماتے ہیں :
الذى آخذ به لنفسي فى قيام رمضان هو الذى جمع به عمر بن الخطاب الناس إحدي عشرة ركعة وهى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أدريمن أحدث هذا الركوع الكثير، ذكره ابن مغيث
”میں اپنے لئے قیام رمضان (تراویح) گیارہ رکعتیں اختیار کرتا ہوں، اسی پر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، مجھے پتہ نہیں لوگوں نے بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں ؟ اسے ابن مغیث مالکی نے ذکر کیا ہے۔“[كتاب التهجد : ص 76ا فقره : 890، دوسرا نسخه ص : 287تصنيف عبدالحق اشبيلي متوفي 581ه]
تنبیہ ① امام مالک رحمہ اللہ سے ابن القاسم کی نقل قول مردود ہے دیکھئے :[كتاب الضعفاء لابي زرعة الرازي : ص534]
تنبیہ ② یونس بن عبداللہ بن محمد بن مغیث المالک کی کتاب ”المتھجدین“ کا ذکر سیر اعلام النبلاء [570/17] پر بھی ہے۔
◈ عینی حنفی فرماتے ہیں کہ :
وقيل إحدي عشرة ركعة وهو اختيار مالك لنفسه و اختاره أبوبكر العربي
”اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے امام مالک رحمہ اللہ اور ابوبکر العربی نے اپنے اپنے لئے اختیار کیا ہے۔“[عمدة القاري : 126/11، ح2010]
➋ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بیس رکعات تراویح باسند صحیح ثابت نہیں ہیں، اس کے برعکس حنفیوں کے ممدوح محمد بن الحسن الشیبانی کی المؤطا سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ گیارہ رکعات کے قائل تھے۔
➌ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس رکعات تروایح کو پسند کرنے کے بعد فرمایا کہ :
وليس فى شيء من هذا ضيق ولا حد ينتهي إليه لأنه نافلة فإن أطالوا القيام وأقلوا السجود فحسن وهو أحب إلى و إن أكثر والركوع و السجود فحسن
اس چیز (تراویح) میں ذرہ برابر تنگی نہیں ہے اور نہ کوئی حد ہے، کیونکہ یہ نقل نماز ہے، اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر رکعتیں زیادہ ہوں تو بھی بہتر ہے۔[مختصر قيام الليل للمروزي : ص202، 203]
↰ معلوم ہوا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس کو زیادہ پسند کرنے سے رجوع کر لیا تھا اور وہ آٹھ اور بیس دونوں کو پسند کرتے تھے اور آٹھ کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے، واللہ اعلم
➍ امام احمد رحمہ اللہ سے اسحاق بن منصور نے پوچھا کہ رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟ تو انہوں نے فرمایا :
قد قيل فيه ألوان نحوا من أربعين، إنما هو تطوع
”اس پر چالیس تک رکعتیں روایت کی گئی ہیں، یہ صرف نفلی نماز ہے۔“[مختصر قيام الليل : ص202]
◈ راوی کہتے ہیں کہ ولم يقض فيه بشيء ”امام احمد نے اس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔“ (کہ کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟) [سنن الترمذي : ح 806]
↰ معلوم ہوا کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ بیس رکعات تراویح سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہیں۔
➎ امام قرطبی (متوفی 656ھ) نے فرمایا :
ثم اختلف فى المختار من عدد القيام فعند مالك : أن المختار من ذلك ست و ثلاثون۔۔۔ وقال كثير من أهل العلم : إحدي عشرة ركعة أخذا بحديث عائشة المتقدم
تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک نے (ایک روایت میں) چھتیس رکعتیں اختیار کی ہیں۔۔۔ اور کثیر علماء یہ کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سابق حدیث سے استدلال کیا ہے۔ [المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم : 389، 390/2]
تنبیہ : حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا : المفہم للقرطبی میں [374/2] پر ماكان يزيد فى رمضان ولا فى غير على إحدي عشرة ركعة ”کے الفاظ سے موجود ہے، امام قرطبی رحمه الله کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جمہور علماء گیارہ رکعات کے قائل و فاعل ہیں۔
➏ قاضی ابوبکر العربی المالکی (متوفی 543ھ) نے کہا:
والصحيح أن يصلي احد عشر ركعة صلوة النبى صلى الله عليه وسلم وقيامه فأما غير ذلك من الأعداد، فلا أصل له ولا حدفيه ”
اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور یہی قیام (تراویح) ہے، اس کے علاوہ جتنی رکعتیں مروی ہیں ان کی (سنت میں) کوئی اصل نہیں ہے۔ (اور نفلی نماز ہونے کی وجہ سے) اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ [عارضة الاحوذي : 19/4 ح 806]
➐ عینی حنفی (متوفی 855ھ) نے کہا:
وقد اختلف العلماء فى العدد المستحب فى قيام رمضان على أقوال كثيرة، وقيل إحدي عشرة ركعة
”تراویح کی مستحب تعداد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، وہ بہت سے اقوال رکھتے ہیں۔۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں۔“ [عمدة القاري : 127، 126/11]
➑ علامہ سیوطی رحمہ اللہ (متوفی 911ھ) نے کہا:
أن العلماء اختلفوا فى عددها
”بے شک تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے۔“ [الحاوي للفتاوي : 348/1]
➒ ابن ھمام (متوفی 681ھ) نے کہا:
فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدي عشرة ركعة بالوتر فى جماعة فعله صلى الله عليه وسلم
”اس ساری بحث سے یہ نتیجہ حاصل ہو اکہ وتر کے ساتھ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ پڑھا ہے۔“ [فتح القدير شرح الهدايه : 407/1]
➓ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
واختلف أهل العلم فى قيام رمضان
”اور علماء کا قیام رمضان (کی تعداد) میں اختلاف ہے۔“ [سنن الترمذي : ح806]
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں اور بریلیوں کا یہ دعویٰ کہ ”بیس رکعات ہی سنت موکدہ ہیں، ان سے زیادہ یا کم جائز نہیں ہیں“ غلط اور باطل ہے۔ یہ تمام حوالے انگریزوں کے دور سے پہلے کے ہیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ بیس رکعات پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے
اب آپ کی خدمت میں بعض حوالے پیش خدمت ہیں، جن میں سے ہر حوالہ کی روشنی میں اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔
➊ امام مالک رحمہ اللہ (متوفی 179ھ) فرماتے ہیں :
الذى آخذ به لنفسي فى قيام رمضان هو الذى جمع به عمر بن الخطاب الناس إحدي عشرة ركعة وهى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أدريمن أحدث هذا الركوع الكثير، ذكره ابن مغيث
”میں اپنے لئے قیام رمضان (تراویح) گیارہ رکعتیں اختیار کرتا ہوں، اسی پر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، مجھے پتہ نہیں لوگوں نے بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں ؟ اسے ابن مغیث مالکی نے ذکر کیا ہے۔“[كتاب التهجد : ص 76ا فقره : 890، دوسرا نسخه ص : 287تصنيف عبدالحق اشبيلي متوفي 581ه]
تنبیہ ① امام مالک رحمہ اللہ سے ابن القاسم کی نقل قول مردود ہے دیکھئے :[كتاب الضعفاء لابي زرعة الرازي : ص534]
تنبیہ ② یونس بن عبداللہ بن محمد بن مغیث المالک کی کتاب ”المتھجدین“ کا ذکر سیر اعلام النبلاء [570/17] پر بھی ہے۔
◈ عینی حنفی فرماتے ہیں کہ :
وقيل إحدي عشرة ركعة وهو اختيار مالك لنفسه و اختاره أبوبكر العربي
”اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے امام مالک رحمہ اللہ اور ابوبکر العربی نے اپنے اپنے لئے اختیار کیا ہے۔“[عمدة القاري : 126/11، ح2010]
➋ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بیس رکعات تراویح باسند صحیح ثابت نہیں ہیں، اس کے برعکس حنفیوں کے ممدوح محمد بن الحسن الشیبانی کی المؤطا سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ گیارہ رکعات کے قائل تھے۔
➌ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس رکعات تروایح کو پسند کرنے کے بعد فرمایا کہ :
وليس فى شيء من هذا ضيق ولا حد ينتهي إليه لأنه نافلة فإن أطالوا القيام وأقلوا السجود فحسن وهو أحب إلى و إن أكثر والركوع و السجود فحسن
اس چیز (تراویح) میں ذرہ برابر تنگی نہیں ہے اور نہ کوئی حد ہے، کیونکہ یہ نقل نماز ہے، اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر رکعتیں زیادہ ہوں تو بھی بہتر ہے۔[مختصر قيام الليل للمروزي : ص202، 203]
↰ معلوم ہوا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس کو زیادہ پسند کرنے سے رجوع کر لیا تھا اور وہ آٹھ اور بیس دونوں کو پسند کرتے تھے اور آٹھ کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے، واللہ اعلم
➍ امام احمد رحمہ اللہ سے اسحاق بن منصور نے پوچھا کہ رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟ تو انہوں نے فرمایا :
قد قيل فيه ألوان نحوا من أربعين، إنما هو تطوع
”اس پر چالیس تک رکعتیں روایت کی گئی ہیں، یہ صرف نفلی نماز ہے۔“[مختصر قيام الليل : ص202]
◈ راوی کہتے ہیں کہ ولم يقض فيه بشيء ”امام احمد نے اس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔“ (کہ کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟) [سنن الترمذي : ح 806]
↰ معلوم ہوا کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ بیس رکعات تراویح سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہیں۔
➎ امام قرطبی (متوفی 656ھ) نے فرمایا :
ثم اختلف فى المختار من عدد القيام فعند مالك : أن المختار من ذلك ست و ثلاثون۔۔۔ وقال كثير من أهل العلم : إحدي عشرة ركعة أخذا بحديث عائشة المتقدم
تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک نے (ایک روایت میں) چھتیس رکعتیں اختیار کی ہیں۔۔۔ اور کثیر علماء یہ کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سابق حدیث سے استدلال کیا ہے۔ [المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم : 389، 390/2]
تنبیہ : حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا : المفہم للقرطبی میں [374/2] پر ماكان يزيد فى رمضان ولا فى غير على إحدي عشرة ركعة ”کے الفاظ سے موجود ہے، امام قرطبی رحمه الله کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جمہور علماء گیارہ رکعات کے قائل و فاعل ہیں۔
➏ قاضی ابوبکر العربی المالکی (متوفی 543ھ) نے کہا:
والصحيح أن يصلي احد عشر ركعة صلوة النبى صلى الله عليه وسلم وقيامه فأما غير ذلك من الأعداد، فلا أصل له ولا حدفيه ”
اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور یہی قیام (تراویح) ہے، اس کے علاوہ جتنی رکعتیں مروی ہیں ان کی (سنت میں) کوئی اصل نہیں ہے۔ (اور نفلی نماز ہونے کی وجہ سے) اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ [عارضة الاحوذي : 19/4 ح 806]
➐ عینی حنفی (متوفی 855ھ) نے کہا:
وقد اختلف العلماء فى العدد المستحب فى قيام رمضان على أقوال كثيرة، وقيل إحدي عشرة ركعة
”تراویح کی مستحب تعداد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، وہ بہت سے اقوال رکھتے ہیں۔۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں۔“ [عمدة القاري : 127، 126/11]
➑ علامہ سیوطی رحمہ اللہ (متوفی 911ھ) نے کہا:
أن العلماء اختلفوا فى عددها
”بے شک تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے۔“ [الحاوي للفتاوي : 348/1]
➒ ابن ھمام (متوفی 681ھ) نے کہا:
فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدي عشرة ركعة بالوتر فى جماعة فعله صلى الله عليه وسلم
”اس ساری بحث سے یہ نتیجہ حاصل ہو اکہ وتر کے ساتھ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ پڑھا ہے۔“ [فتح القدير شرح الهدايه : 407/1]
➓ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
واختلف أهل العلم فى قيام رمضان
”اور علماء کا قیام رمضان (کی تعداد) میں اختلاف ہے۔“ [سنن الترمذي : ح806]
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں اور بریلیوں کا یہ دعویٰ کہ ”بیس رکعات ہی سنت موکدہ ہیں، ان سے زیادہ یا کم جائز نہیں ہیں“ غلط اور باطل ہے۔ یہ تمام حوالے انگریزوں کے دور سے پہلے کے ہیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ بیس رکعات پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں