*تاریخ اہلحدیث علماء دیوبند کی زبانی*
*تاریخ اہلحدیث علماء دیوبند کی زبانی*
اہلحدیث کی تاریخ کے بارے میں چند حوالے اکابرین دیوبند کی کتب سے پیش کر رہے ہیں۔
1) مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے لکھا:
تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلافِ انظار کے پیش نظر پانچ مکاتب فکر قائم ہو گئے یعنی مذاہب اربعہ اور اہل حدیث۔ اس زمانے سے لے کر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصر سمجھا جاتا رہا۔ (احسن الفتاوٰی ج1 صفحہ 316، مودودی صاحب اور تخریب اسلام صفحہ 20)
2) اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے:
“امام ابو حنیفہ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے” (مجالس حکیم الامت ص۳۴۵)
یہ عام لوگوں کو بھی پتہ ہے کہ امام ابوحنیفہ انگریزوں کے دور سے بہت پہلے گزرے ہیں۔
3) حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے تقلید کے رد پر ضخیم کتاب “اعلام الموقعین” لکھی ہے۔ چنانچہ ظفر احمد تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں: “لأنارأینا أن ابن القیم الذی ھو الأب لنوع ھذہ الفرقۃ”
کیونکہ ہم نے دیکھا کہ ابن قیم اس (تقلید نہ کرنے والے/اہلحدیث) فرقے کی قسم کا باپ ہے۔ (اعلاء السنن جلد ۲۰ ص۸)
سب جانتے ہیں کہ امام ابن قیم 1888 سے سینکڑوں سال پہلے گزرے ہیں۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین
4) حافظ ابن حزم الظاہری الاندلسی نے فرمایا “والتقلید حرام” اور تقلید حرام ہے (البذۃالکافیۃ فی احکام اصول الدین ص70)
اور فرمایا: اور عامی و عالم (دونوں) اس (حرمت تقلید میں) برابر ہیں، ہر ایک اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق اجتہاد کرے گا(النبذۃ الاکافیۃ ص71)
چنانچہ *اشرف علی تھانوی* لکھتے ہیں:
اگرچہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مذاہب اربعہ کو چھوڑ کر مذہب خامس مستحدث کرنا جائز نہیں یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں کہ حق دائر و منحصر ان چار میں ہے مگر اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اہل ظاہر ہر زمانہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہویٰ ہوں وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے۔دوسرے اجماع اگر ثابت بھی ہو جاوے مگر تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہیں ہوا۔(تذکرۃ الرشید ج1، صفحہ 131)
فرقہ دیوبند کی خدمت میں دو مزید حوالے پیش خدمت ہیں جس سے اہل حدیث (تقلید نہ کرنے والے متبعین کتاب و سنت و اجماع) کا اہل سنت (واہل حق) ہونا بااعتراف فریق مخالف ثابت ہے۔ والحمد للہ
1) تفسیر حقانی کے مصنف عبد الحق حقانی دہلوی نے کہا:
” اور اہل سنت شافعی، حنبلی ،مالکی، حنفی ہیں اور *اہل حدیث* بھی ان ہی میں داخل ہیں۔۔۔(حقانی عقاءد اسلام صفحہ ۳)
2) مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی نے کہا:
“ہاں اہل حدیث مسلمان ہیں اور اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں۔ ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا درست ہے۔ محض ترک تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اہل سنت و الجماعت سے تارک تقلید باہر ہے (کفایت المفتی جلد۱، صفحہ ۳۲۵، جواب:۳۷۰)
امید ہے شرم اور غیرت رکھنے والے دیوبندیوں کے لیئے اتنا کافی ہے۔
اور اگر حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، اپنے ائمہ پر جا کر دم توڑتے ہیں تو یہ کوئی نقص و عیب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ سب ائمہ کرام ائمہ حق وہدی ہیں ،خیرالقرون کی شخصیات ہیں ، جمیع امت ان ائمہ کرام کی امامت و صداقت و جلالت و ثقاہت پر متفق ہے ، اور بالخصوص امام اعظم ابوحنیفہ بالاتفاق تابعیت کے عظیم شرف سے متصف ہیں ، صحابہ کرام کے شاگرد ہیں ، اور بقول امام سیوطی و دیگر ائمہ کہ امام اعظم ابوحنیفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئ کا مصداق ہیں
یہ بھی نرا جھوٹ ہے، جہاں تک آئمہ ثلاثہ کا تعلق ہے تو دیوبندی ان کے مقلد نہیں اور نہ ہی دیوبندیوں کے نزدیک تلفیق جائز ہے۔ دیوبندی امام ابوحنیفہ کی تقلید کا دعوی کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کے بارے میں یہ دعوی کرنا کے جمیع امت ان کی ثقاہت پر متفق ہے نرا جھوٹ ہے، چند حوالے پیش خدمت ہیں:
۱) قال الامام بخاری فی التاریخ الکبیر (۸۱/۴) سکتوا عنہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
علامہ ابن کثیر مختصر علوم الحدیث ص ۱۱۸ پر فرماتے ہیں ” جب امام بخاری کسی کے بارے میں کہہ دیں کہ “سکتوا عنہ یا فیہ نظر” تو وہ انکے نزدیک سب سے ادنیٰ راوی ہوتا ہے (الرفع و التکمیل ص ۱۸۲)
یہ جرح مفسرہ ہے کیونکہ مسائل المروزی میں آتا ہے “امام احمد سے پوچھا گیا کہ راوی کی روایت کب ترک کی جائے گی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا جب اس کی صحت پر خطاء غالب آ جائے۔
۲) و قال الام مسلم فی الکنی و الاسماء ص۳۱ مضطرب الحدیث لیس لہ کبیر حدیث صحیح یعنی امام ابوحنیفہ مضطرب الحدیث ہیں ان کے پاس صحیح حدیث کا کوئی ذخیرہ نہیں ہے
۳َ) امام نسائی فرماتے ہیں “لیس بالقوی فی الحدیث و ھو کثیر الغلط علی قلۃ روایۃ” (کتاب الضعفاء والمتروکین:۵۸)
۴) ابن سعد فرماتے ہیں “کان ضعیفاً فی الحدیث” یعنی امام ابوحنیفہ حدیث میں کمزور تھے (الطبقات۲۵۶/۶)
۵) عبد الحق اشبیلی فرماتے ہیں “ولا یحتج بابی حنیفۃ لضعفہ فی الحدیث” یعنی ضعف فی الحدیث کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کی حدیث دلیل نہیں بن سکتی (الاحکام الکبری۱۷/۲)
۶) امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں امام ابو حنیفہ پر رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اس کتاب الرد علی ابی حنیفۃ میں تردید کا مرکز امام ابو حنیفہ ہیں (ص۱۴۸/۱۴)
۷) اسی طرح ابو نعیم نے بھی ان پر رد کیا ہے. (الحلۃ ۱۹۷/۱۱/۳)
۸) عبداللہ بن امام احمد نے بھی ان پر رد کیا ہے (کتاب السنۃ ۱۸۰/۱)
۹)خطیب بغدادی نے بھی رد کیا ہے (تاریخ بغداد ج ۱۳)
۱۰) معلّمی نے بھی ان پر رد کیا ہے (التنکیل:۱۸/۱و عمدۃ الرعایۃ ۳۶)
۱۱) امام ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے کا بھی انکار کیا گیا ہے (کما فی التمھید)
۱۲) امام ابن عدی امام صاحب کی روایتوں کا ضعف بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اہل الحدیث میں سے نہیں تھے اور جس کی ایسی حالت ہو اس سے حدیث نہیں لی جاتی (الکامل لابن عدی:۴۰۳/۲)
اہلحدیث کی تاریخ کے بارے میں چند حوالے اکابرین دیوبند کی کتب سے پیش کر رہے ہیں۔
1) مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے لکھا:
تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلافِ انظار کے پیش نظر پانچ مکاتب فکر قائم ہو گئے یعنی مذاہب اربعہ اور اہل حدیث۔ اس زمانے سے لے کر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصر سمجھا جاتا رہا۔ (احسن الفتاوٰی ج1 صفحہ 316، مودودی صاحب اور تخریب اسلام صفحہ 20)
2) اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے:
“امام ابو حنیفہ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے” (مجالس حکیم الامت ص۳۴۵)
یہ عام لوگوں کو بھی پتہ ہے کہ امام ابوحنیفہ انگریزوں کے دور سے بہت پہلے گزرے ہیں۔
3) حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے تقلید کے رد پر ضخیم کتاب “اعلام الموقعین” لکھی ہے۔ چنانچہ ظفر احمد تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں: “لأنارأینا أن ابن القیم الذی ھو الأب لنوع ھذہ الفرقۃ”
کیونکہ ہم نے دیکھا کہ ابن قیم اس (تقلید نہ کرنے والے/اہلحدیث) فرقے کی قسم کا باپ ہے۔ (اعلاء السنن جلد ۲۰ ص۸)
سب جانتے ہیں کہ امام ابن قیم 1888 سے سینکڑوں سال پہلے گزرے ہیں۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین
4) حافظ ابن حزم الظاہری الاندلسی نے فرمایا “والتقلید حرام” اور تقلید حرام ہے (البذۃالکافیۃ فی احکام اصول الدین ص70)
اور فرمایا: اور عامی و عالم (دونوں) اس (حرمت تقلید میں) برابر ہیں، ہر ایک اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق اجتہاد کرے گا(النبذۃ الاکافیۃ ص71)
چنانچہ *اشرف علی تھانوی* لکھتے ہیں:
اگرچہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مذاہب اربعہ کو چھوڑ کر مذہب خامس مستحدث کرنا جائز نہیں یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں کہ حق دائر و منحصر ان چار میں ہے مگر اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اہل ظاہر ہر زمانہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہویٰ ہوں وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے۔دوسرے اجماع اگر ثابت بھی ہو جاوے مگر تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہیں ہوا۔(تذکرۃ الرشید ج1، صفحہ 131)
فرقہ دیوبند کی خدمت میں دو مزید حوالے پیش خدمت ہیں جس سے اہل حدیث (تقلید نہ کرنے والے متبعین کتاب و سنت و اجماع) کا اہل سنت (واہل حق) ہونا بااعتراف فریق مخالف ثابت ہے۔ والحمد للہ
1) تفسیر حقانی کے مصنف عبد الحق حقانی دہلوی نے کہا:
” اور اہل سنت شافعی، حنبلی ،مالکی، حنفی ہیں اور *اہل حدیث* بھی ان ہی میں داخل ہیں۔۔۔(حقانی عقاءد اسلام صفحہ ۳)
2) مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی نے کہا:
“ہاں اہل حدیث مسلمان ہیں اور اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں۔ ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا درست ہے۔ محض ترک تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اہل سنت و الجماعت سے تارک تقلید باہر ہے (کفایت المفتی جلد۱، صفحہ ۳۲۵، جواب:۳۷۰)
امید ہے شرم اور غیرت رکھنے والے دیوبندیوں کے لیئے اتنا کافی ہے۔
اور اگر حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، اپنے ائمہ پر جا کر دم توڑتے ہیں تو یہ کوئی نقص و عیب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ سب ائمہ کرام ائمہ حق وہدی ہیں ،خیرالقرون کی شخصیات ہیں ، جمیع امت ان ائمہ کرام کی امامت و صداقت و جلالت و ثقاہت پر متفق ہے ، اور بالخصوص امام اعظم ابوحنیفہ بالاتفاق تابعیت کے عظیم شرف سے متصف ہیں ، صحابہ کرام کے شاگرد ہیں ، اور بقول امام سیوطی و دیگر ائمہ کہ امام اعظم ابوحنیفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئ کا مصداق ہیں
یہ بھی نرا جھوٹ ہے، جہاں تک آئمہ ثلاثہ کا تعلق ہے تو دیوبندی ان کے مقلد نہیں اور نہ ہی دیوبندیوں کے نزدیک تلفیق جائز ہے۔ دیوبندی امام ابوحنیفہ کی تقلید کا دعوی کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کے بارے میں یہ دعوی کرنا کے جمیع امت ان کی ثقاہت پر متفق ہے نرا جھوٹ ہے، چند حوالے پیش خدمت ہیں:
۱) قال الامام بخاری فی التاریخ الکبیر (۸۱/۴) سکتوا عنہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
علامہ ابن کثیر مختصر علوم الحدیث ص ۱۱۸ پر فرماتے ہیں ” جب امام بخاری کسی کے بارے میں کہہ دیں کہ “سکتوا عنہ یا فیہ نظر” تو وہ انکے نزدیک سب سے ادنیٰ راوی ہوتا ہے (الرفع و التکمیل ص ۱۸۲)
یہ جرح مفسرہ ہے کیونکہ مسائل المروزی میں آتا ہے “امام احمد سے پوچھا گیا کہ راوی کی روایت کب ترک کی جائے گی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا جب اس کی صحت پر خطاء غالب آ جائے۔
۲) و قال الام مسلم فی الکنی و الاسماء ص۳۱ مضطرب الحدیث لیس لہ کبیر حدیث صحیح یعنی امام ابوحنیفہ مضطرب الحدیث ہیں ان کے پاس صحیح حدیث کا کوئی ذخیرہ نہیں ہے
۳َ) امام نسائی فرماتے ہیں “لیس بالقوی فی الحدیث و ھو کثیر الغلط علی قلۃ روایۃ” (کتاب الضعفاء والمتروکین:۵۸)
۴) ابن سعد فرماتے ہیں “کان ضعیفاً فی الحدیث” یعنی امام ابوحنیفہ حدیث میں کمزور تھے (الطبقات۲۵۶/۶)
۵) عبد الحق اشبیلی فرماتے ہیں “ولا یحتج بابی حنیفۃ لضعفہ فی الحدیث” یعنی ضعف فی الحدیث کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کی حدیث دلیل نہیں بن سکتی (الاحکام الکبری۱۷/۲)
۶) امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں امام ابو حنیفہ پر رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اس کتاب الرد علی ابی حنیفۃ میں تردید کا مرکز امام ابو حنیفہ ہیں (ص۱۴۸/۱۴)
۷) اسی طرح ابو نعیم نے بھی ان پر رد کیا ہے. (الحلۃ ۱۹۷/۱۱/۳)
۸) عبداللہ بن امام احمد نے بھی ان پر رد کیا ہے (کتاب السنۃ ۱۸۰/۱)
۹)خطیب بغدادی نے بھی رد کیا ہے (تاریخ بغداد ج ۱۳)
۱۰) معلّمی نے بھی ان پر رد کیا ہے (التنکیل:۱۸/۱و عمدۃ الرعایۃ ۳۶)
۱۱) امام ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے کا بھی انکار کیا گیا ہے (کما فی التمھید)
۱۲) امام ابن عدی امام صاحب کی روایتوں کا ضعف بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اہل الحدیث میں سے نہیں تھے اور جس کی ایسی حالت ہو اس سے حدیث نہیں لی جاتی (الکامل لابن عدی:۴۰۳/۲)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں