تعدادِ رکعاتِ تراویح
تعدادِ رکعاتِ تراویح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تعدادِ رکعاتِ تراویح
اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ تراویح سنتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے ۔
بحث صرف تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے میں ہے ۔
یہ بھی واضح ہے کہ لفظ تراویح مستند احادیث سے ثابت نہیں ہے ، رمضان کی اس صلوٰۃ (نماز) کے لیے جو لفظ عمومی طور پر استعمال کیا گیا ہے ، وہ "قیامِ رمضان" ہے ۔
بخاری کی وہ مشہور حدیث جو كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان کے تحت درج ہے ، اس کے الفاظ ہیں :
عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه اخبره انه، سال عائشة ـ رضى الله عنها ـ كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على احدى عشرة ركعة ۔۔۔
صحيح بخاري ، كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان ، حدیث : 2052
درج بالا الفاظ پر غور کریں ۔۔۔
اس میں ایک صحابی ابي سلمة (رضی اللہ عنہ) ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پوچھ رہے ہیں کہ رمضان میں رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نماز کیسی تھی ؟
رمضان میں جو رات کا قیام ہوتا ہے ، جو نماز ہوتی ہے ۔۔۔ اس پر اجماع ہے کہ یہ نماز ، نمازِ تراویح ہی ہے ۔
سوال پوچھا گیا نمازِ تراویح کے تعلق سے ۔۔۔ حدیث کے اسی ٹکڑے سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ تراویح کے تعلق سے سوال کیا گیا تھا اور جواب بھی نمازِ تراویح کے متعلق دیا گیا ۔
غیر رمضان کی نمازِ تراویح کی جو اضافی بات ام المومنین نے بیان فرمائی ہے ۔۔۔
اس کے بارے میں اہلِ علم کا کہنا ہے کہ نمازِ تراویح ہی غیر رمضان میں نمازِ تہجد کہلاتی ہے ۔
اگر نماز تہجد اور نمازِ تراویح الگ الگ نمازیں ہے تو اس کا ثبوت مستند احادیث کے ذریعے پیش کیا جانا چاہئے ۔
جو نماز غیر رمضان میں نمازِ تہجد ہے وہی نماز ، رمضان میں نمازِ تراویح کہلاتی ہے ۔
ماہِ رمضان میں تہجد کی جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صرف تراویح پڑھی اور تراویح کے علاوہ ، تہجد کے نام سے مزید کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی ۔
اس کی واضح ترین دلیل حضرت ابوذر غفاری کی روایت کردہ حدیث ہے جو ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ میں موجود ہے ۔
سنن ابي داود ، كتاب شهر رمضان ، باب في قيام شهر رمضان ، حدیث : 1377
حضرت ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ماہِ رمضان کے روزے رکھے ۔آپ نے ہمیں 23 ویں روزے تک قیام نہیں کروایا ۔اور اس رات جب قیام کروایا تو اتنی لمبی قراءت فرمائی کہ پہلی رات کا ایک تہائی حصہ اور دوسری رات کا آدھا حصہ قیام میں ہی گزر گیا اور تیسری رات جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قیام کی جماعت کروائی تو اتنی لمبی تلاوت فرمائی ۔۔۔۔۔
حتى تخوفنا ان يفوتنا الفلاح قلت وما الفلاح قال السحور
صحيح ابن خزيمة ، كتاب الصيام ، باب ذكر قيام الليل كله للمصلي مع الامام في قيام رمضان حتى يفرغ
(ترجمہ : حتٰی کہ ہم ڈر گئے کہ آج کہیں ہم فلاح سے ہی نہ رہ جائیں ۔ ابوذر غفاری سے روایت کرنے والے راوی نے اُن سے پوچھا کہ فلاح سے کیا مراد ہے؟ ابوذر نے جواباََ فرمایا : سحری کھانا ۔)
درج بالا حدیث میں جو عربی ٹکڑا ہے وہ صحیح ابن خزیمہ کی حدیث سے جیسا کا تیسا نقل کیا گیا ہے اور
ان الفاظ کو امام ابن خزیمہ نے صحیح السند قرار دیا ہے ۔
ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی نے بھی اسے صحیح کہا ہے اور
محدث العصر علامہ البانی نے بھی ابن خزیمہ کے صحیح کہنے کو برقرار رکھا ہے ۔
اس حدیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نمازِ تہجد ، جو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر واجب تھی ۔۔۔ وہ رمضان میں یہی نمازِ تراویح تھی ۔ کیونکہ جب سحر قریب آ جائے تو ایک الگ نماز ، نمازِ تہجد سے پڑھنے کا وقت کہاں سے نکالا جائے گا؟
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں انصاف اور دیانت سے غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح ، دونوں نام ایک ہی نماز کے ہیں ۔
دونوں نمازوں میں جو فرق بعض علماء بیان کرتے ہیں ۔۔۔ وہ اس طرح کہ ۔۔۔
1 ۔ تراویح شروع رات میں پڑھی جاتی ہے اور تہجد اخیر رات میں ۔
حالانکہ ۔۔۔ صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) روایت کرتی ہیں کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے رات کے ہر حصہ میں تہجد کی نماز پڑھی ہے ۔ کبھی شروع رات میں ، کبھی درمیان رات میں اور کبھی اخیر رات میں ۔
2 ۔ تراویح جماعت سے پڑھی جاتی ہے اور تہجد بلا جماعت ۔
یہ بھی دوسرا مغالطہ ہے ۔ دونوں ہی نمازیں جماعت سے بھی پڑھی جاتی ہیں اور بلا جماعت بھی ۔ صحیح مسلم کی احادیث دیکھ لیں جس میں نمازِ تہجد میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ایک بار حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) اور ایک بار حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) اور ایک بار حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کی شرکت کے واقعات ملتے ہیں۔ لہذا تہجد باجماعت بھی پڑھی گئی ہے ۔
صحیح بخاری کی حدیث کے بموجب تراویح کی جماعت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صرف تین دن پڑھائی اس کے بعد گھروں میں پڑھنے کا مشورہ دیا (تاکہ اس کو فرض نہ سمجھا جائے ) جس پر خلافتِ فاروقی (رضی اللہ عنہ) کے ابتدائی دور تک عمل ہوتا رہا ۔ لہذا تراویح بلا جماعت بھی پڑھی گئی ہے ۔
3 ۔ تیسرا مغالطہ یہ دیا جاتا ہے کہ ایک ہی نماز کسی زمانے میں بلاجماعت اور کسی زمانے میں جماعت سے پڑھی جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ الگ الگ نمازیں (تہجد اور تراویح) ہیں ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ نمازِ وتر ، رمضان میں جماعت سے پڑھی جاتی ہے اور غیر رمضان میں بلا جماعت ۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ رمضان میں پڑھی جانے والی وتر ایک الگ نماز ہے اور غیر رمضان والی وتر ایک علحدہ نماز ۔۔۔؟
رہی بات قرآنی نصوص کی ۔۔۔ کہ جن کے ذریعے تہجد کی نماز آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو رمضان اور غیر رمضان دونوں وقت ادائیگی کا حکم ہے ۔
سیدھی سی بات ہے ۔۔۔ اوپر حضرت ابوذر کی روایت کردہ حدیث بیان ہوئی ہے ۔۔۔ جس کے مطابق رمضان کی انتیسویں رات آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اتنا طویل قیام کیا کہ سحر کا وقت ہو گیا ۔
اب یا تو کسی صحیح مستند حدیث سے ثابت کیا جائے کہ اس رات قیامِ رمضان کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے علحدہ سے ایک نماز ، نمازِ تہجد کے طور پر ادا کی ۔۔۔ یا پھر کشادہ دلی ، دیانت داری اور انصاف پسندی سے یہ اعتراف کر لیا جائے کہ تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں ۔
جیسا کہ نامور حنفی علماء مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے بلاجھجھک واضح ترین الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ : تراویح اور صلوٰۃ اللیل (تہجد) ، دونوں نمازیں ایک ہی ہیں ۔
تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں ۔
بخاری کی شرح فیض الباری کی جلد 2 ، صفحہ 420 ، پر نامور حنفی عالم مولانا انور شاہ کشمیری بیان فرماتے ہیں :
عام طور پر علماء (احناف) یہ کہتے ہیں کہ تراویح اور صلوٰۃ اللیل (تہجد) دو مختلف النوع نمازیں ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں ایک ہیں ۔
ان دونوں نمازوں کا متغائر النوع ہونا اس وقت ثابت ہوگا جب یہ ثابت ہو جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تراویح کے ساتھ ساتھ نمازِ تہجد بھی ادا فرمائی تھی ۔
مولانا اشرف علی تھانوی ، جس عالمِ دین (مولانا رشید احمد گنگوہی) کے لیے فرماتے ہیں کہ : اس امت میں ان کا وجود اسلام کی صداقت کی دلیل اور مستقل معجزہ ہے ۔۔۔ (بحوالہ : الفرقان بریلی ، صفر 1372 ھ ۔ )
وہی عالمِ دین مولانا رشید احمد گنگوہی بیان کرتے ہیں کہ :
اہلِ علم پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قیامِ رمضان (تراویح) اور قیام اللیل (تہجد) فی الواقع دونوں ایک ہی نماز ہے ۔۔۔۔۔ رمضان کی تہجد جو عین تراویح ہے دلیل قولی کی بنا پر سنتِ موکدہ ہی رہے گی ۔
(بحوالہ : لطائف قاسمیہ ، مکتوب سوم ، ص 13-17 )
مذکورہ بالا دلائل کی بنیاد پر ثابت کیا گیا ہے کہ نمازِ تراویح اور نمازِ تہجد ، دونوں ایک ہی نماز کے نام ہیں ۔
تو اب دیکھا جائے گا کہ تراویح کی نماز کتنی رکعات کی ثابت ہے ؟
صحيح بخاري ، كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان ، حدیث : 2052
صحیح بخاری کی یہ حدیث گیارہ رکعات (آٹھ رکعات تراویح اور تین رکعات وتر) کو بیان کرتی ہے ۔
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان ثمان ركعات والوتر
ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ماہِ رمضان میں نماز (تراویح) کی آٹھ رکعتیں پڑھائیں اور وتر پڑھائے ۔
صحیح ابن خزیمہ ، كتاب الصلاة ، باب ذكر دليل بان الوتر ليس بفرض ، حدیث نمبر 1070 ۔
1۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اس حدیث پر جرح و تعدیل بیان کرنے کے بعد کہا کہ اس کی سند اوسط درجے کی ہے۔
2۔ علامہ البانی نے اس حدیث کو تعلیاقاتِ ابن خزیمہ میں صحیح قرار دیا ہے ۔
3۔ حافظ ابن حجر کے دعویٰ کے مطابق انہوں نے فتح الباری میں کم از کم حسن درجے کی حدیث شامل کی ہے ۔ اور حافظ صاحب نے ابن خزیمہ کی اس حدیث کو فتح الباری میں نقل کیا ہے ۔ لہذا ثابت ہوا کہ یہ حدیث حسن ہے ۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) نے حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) اور حضرت تمیم داری (رضی اللہ عنہ) کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو گیارہ (11) رکعتیں پڑھایا کریں ۔ اور امام ایک ایک رکعت میں سو سو آیات پڑھتا حتٰی کہ ہم تھک کر عصا کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے تھے اور طلوعِ فجر کے قریب جا کر ہم (نمازِ تراویح سے) فارغ ہوتے تھے ۔
موطاٴ مالك ، كتاب الصلاة فى رمضان ، باب ما جاء في قيام رمضان ، حدیث نمبر 250 ۔
1۔ علامہ شوق نیموی (حنفی) اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس کی سند صحیح ہے ۔
2۔ علامہ البانی نے بھی اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔
3۔ اس حدیث پر علامہ ابن البر کے اعتراض پر علامہ زرقانی نے موطا کی شرح میں ابن عبدالبر کے قول کی تردید کی ہے ۔
4۔ علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں اور شوق نیموی نے آثار السنن میں ابن عبدالبر کے اس اعتراض کو باطل قرار دیاهے۔
تراویح کی بیس رکعات کو “سنت“ قرار دینے والے قائلین کا سارا زور درج ذیل دو باتوں پر ہوتا ہے ۔
1)۔ حضرت عائشہ سے مروی 11 رکعات والی حدیث میں بیان کردہ نماز کو نمازِ تہجد باور کرانا
2)۔ حضرت عمر کی جانب سے جاری 20 رکعات والی سنت ، سنتِ خلفاء ہے اور اس پر اجماع ہے ۔
1۔ حضرت عائشہ سے مروی 11 رکعات والی حدیث میں بیان کردہ نماز کو نمازِ تہجد باور کرانا
عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه اخبره انه، سال عائشة ـ رضى الله عنها ـ كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على احدى عشرة ركعة ۔۔۔
صحيح بخاري ، كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان ، حدیث : 2052
اِس حدیث میں سوال کرنے والے نے رمضان کی نماز کے بارے میں پوچھا تھا یعنی
كيف كانت صلاة رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) في رمضان ۔۔۔؟
(ترجمہ : رسول کی نماز رمضان میں کیسی تھی ؟)
نماز کا لفظ عام ہے ۔ (اب یہاں نماز سے مراد ، تہجد بھی ہو سکتی ہے ، تراویح بھی یا وتر بھی )
لیکن لفظ رمضان کی قید سے یہ لفظ نماز خاص ہو گیا۔ یعنی رمضان کی نماز ۔
کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ تہجد ، رمضان کی نماز ہے ۔۔۔ اور کوئی یہ بھی نہیں کہتا کہ وتر ، رمضان کی نماز ہے ۔ کیونکہ تہجد اور وتر تو سارا سال پڑھی جاتی ہیں لہذا ان نمازوں کو خاص رمضان کی نمازیں نہیں کہا جاتا۔
اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ :
’11 رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے (یعنی : ما کان یزید )‘
سے مراد تہجد کی نماز ہے ۔ تو سوال یہ اُٹھے گا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) ، رمضان میں تراویح بھی پڑھتے تھے یا صرف تہجد پر ہی اکتفا کرتے تھے ؟
( یاد رہے کہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا ہے کہ : ’ 11 سے زیادہ رکعات کی نماز نہیں پڑھتے تھے‘ )
1) اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف تہجد پر اکتفا کرتے تھے تو یہ دعویٰ برحق ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تراویح اور تہجد ایک ہی تھیں اور وہ گیارہ رکعات سے زیادہ نہ تھیں ۔
2) اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تہجد کے علاوہ رمضان میں تراویح بھی پڑھتے تھے ۔۔۔ تو اس دعویٰ کو کسی مستند حدیث کے ذریعے ثابت کرنا چاہئے کہ رمضان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تہجد اور تراویح علحدہ علحدہ تھیں ۔
درج بالا دعویٰ نمبر 2 ہر گز بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی وجہ اوپر بیان کی جا چکی ابوذر غفاری کی روایت کردہ ایک مستند حدیث جو ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ میں موجود ہے ، سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ نے قیامِ رمضان کے تحت اتنی طویل نماز (تراویح) پڑھائی کہ سحر کا وقت ہو گیا۔
امام محمد (رحمہ اللہ) ، جو کہ حنفی مذہب کے بانیوں میں سے ہیں ، اپنی معروف کتاب موطا امام محمد میں تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے مروی گیارہ رکعات والی حدیث ، تراویح کے بارے میں ہے۔
امام ابن ہمام (حنفی) ، ھدایہ کی شرح‘فتح القدیر‘ میں فریقین کے دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
ساری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنتِ قیامِ رمضان گیارہ رکعات ہی ہے جو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود کیا ہے ۔
(بحوالہ : فتح القدیر ، کتاب الصلوٰۃ ، باب النوافل ، فصل فی قیام شھر رمضان ، جلد 1 ، ص : 334 ).
2۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی جانب سے جاری 20 رکعات والی سنت ، سنتِ خلفاء ہے اور اس پر اجماع ہے ۔
اِس دوسرے نکتے پر بات کرنے سے قبل یہ عرض کر دیا جانا بہتر ہے کہ 20 رکعات تراویح سے متعلق، حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے مروی ایک مرفوع حدیث سنن کبریٰ بیھقی ، معجم طبرانی کبیر ، مصنف ابن ابی شیبہ میں درج ہے ۔
لیکن اس حدیث کی اسناد کے ضعف پر محدثین نے جرح کر رکھی ہے ۔ مثلاََ :
علامہ زیلعی (حنفی) ، مولانا شوق نیموی (حنفی) ، امام احمد ، امام نسائی ، حافظ ابن حجر ، امام ابن الہمام ، مولانا عبدالحئی لکھنوی ، مولانا انور شاہ کشمیری ، مولانا زکریا کاندھلوی ، عبدالحمٰن مبارکپوری وغیرہم نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث سخت ضعیف ہے اور اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔
حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے گیارہ رکعات تراویح کا حکم دیا تھا یا بیس کا ؟
ایک مستند صریح اثر جو کہ موطا امام مالک میں درج ہے اور جس پر محدثین کا کلام بھی اوپر بیان کیا جا چکا ہے ۔۔۔ کے مطابق :
امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) نے حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) اور حضرت تمیم داری (رضی اللہ عنہ) کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو گیارہ (11) رکعتیں پڑھایا کریں ۔
موطاٴ مالك ، كتاب الصلاة فى رمضان ، باب ما جاء في قيام رمضان ، حدیث نمبر 250 ۔
اس لنک پر جو روایت نمبر 250 ہے ۔۔۔ ٹھیک اس کے نیچے 251 نمبر کے تحت یزید بن رومان کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں 23 رکعات پڑھائی جاتی تھیں۔
مگر امام مالک خود فرماتے ہیں کہ : یزید بن رومان ، حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سے نہیں ملے یعنی حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔
اس کے علاوہ بھی 20 رکعات والے آٹھ سے زیادہ ’اثر‘ ایسے پائے جاتے ہیں جن کے ضعف پر محدثین نے خاصی لمبی جرح کر رکھی ہے ۔۔۔ اور ان کو یہاں پیش کرنا غیر ضروری ہے ۔
البتہ اس اثر کا ذکر ضرور کیا جانا چاہئے جو مصنف عبدالزاق میں ہے کہ : تراویح کی 21 رکعات حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں پڑھائی جاتی تھیں۔
اس اثر پر محدث ناصرالدین البانی کہتے ہیں کہ 11 رکعات والی صریح حدیث کے مقابلے میں یہ اثر پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ حافظ ابن حجر بھی یہی بات کہتے ہیں ۔اور کہتے ہیں کہ یہ عبدالزاق جیسے معروف ، ثقہ اور حافظ راوی کی غلطی اور وہم کا نتیجہ ہے ۔
ایک بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ حدیث اور اثر میں فرق ہوتا ہے ۔ حدیث کا سلسلہ راست رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ملتا ہے جبکہ اثر صحابی (رضی اللہ عنہ) کے قول و فعل کو کہا جاتا ہے ۔
کیا دورِ فاروقی (رضی اللہ عنہ) میں بیس رکعات پر اجماع ہو گیا تھا ؟
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی بخاری والی حدیث میں جو حضرت ابو سلمہ نے امّی عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے سوال کیا تھا ، یہ واقعہ خلافتِ راشدہ کے آخری ایام کا ہے ۔
حضرت ابو سلمہ (رضی اللہ عنہ) ، حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور شہادتِ علی (رضی اللہ عنہ) کے وقت آپ (رضی اللہ عنہ) کی عمر سولہ سترہ سال کے قریب تھی ۔
اگر اُس دور میں صحابہ بیس رکعات پر متفق تھے یعنی اجماع تھا ۔۔۔ تو حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) 11 رکعات کا اعلان کیسے فرما سکتی تھیں ؟
20 رکعات پر اجماع ہوا تھا تو امام مالک نے ایسا کیوں فرمایا :
11 رکعات ہی پر حضرت عمر نے لوگوں کو جمع کیا تھا ۔ گیارہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خود پڑھتے تھے ۔ پتا نہیں لوگوں نے یہ بیس اور چالیس وغیرہ بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں ؟
(بحوالہ : مشکوٰة المصابیح ، كتاب الصلاة ، باب قيام شھر رمضان ، 405 ، ج 1 ، نمبر 1302 )
امام احمد سے تراویح کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا :
اس بارے میں کافی اختلاف ہے ، کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔
(بحوالہ : ترمذی ، ابواب الصوم ، ماجاء فی قیام شھر رمضان ، نمبر 806 ).
بیس رکعات پر اجماع کہاں سے آ گیا پھر ؟؟؟؟
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ۔
اور پھر نامور حنفی عالم مولانا انور شاہ بھی فرماتے ہیں :
آنحضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے تو آٹھ رکعات تراویح ہی ثابت ہیں ۔ بیس رکعت والی حدیث تو ایسی ضعیف ہے کہ اس پر سب کا اتفاق ہے ۔
(بحوالہ : عرف الشذی ۔ ص : 309 ).
بعض عام فہم حضرات 20 رکعات تراویح کو سنتِ نبوی قرار دینے کے لیے اپنی دانست میں ایک مضبوط دلیل یوں لاتے ہیں کہ :
20 رکعات تراویح کے سنتِ نبوی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اللہ کے پاک گھر خانہ کعبہ یعنی مسجد الحرام میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب مسجد ، مسجدِ نبوی میں آج بھی تراویح کی 20 عدد رکعات ہی ادا کی جاتی ہیں۔ حالانکہ سوچا جانا چاہئے کہ عبادت کے ہر معاملے میں کسی مسجد یا کسی علاقے کی روایات کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دلیل تو صرف قرآن یا حدیث سے ہی دی جانی چاہئے۔
ورنہ اگر حرمین شریفین کی نمازیں ہمارے لیے دلیل ہیں تو پھر رفع یدین بھی ہر کسی کو کرنا چاہئے ، سینے پر بھی ہر کسی کو ہاتھ باندھنا چاہئے ، آمین بھی بلند بانگ آواز میں کہنا چاہئے ۔۔۔ وغیرہ ۔ کیونکہ حرمین شریفین میں نمازیں تو امامِ کعبہ کی متابعت میں اسی طور طریقہ سے ادا ہوتی ہیں۔
آخر میں چند باتیں مزید ۔
یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ : نامور اور معتبر محدثین اور علماءِ دین کا اعتراض تراویح کی بیس رکعات پر کبھی نہیں رہا۔
اصل اعتراض صرف اور صرف ۔۔۔ بیس رکعات کو سنت کہنے ، سمجھنے اور جتانے پر ہے ۔
سنت وہ ہے جو ثابت ہو ۔ باقی جو ہے وہ نفل ہے ۔
مولانا عبدالحئی لکھنوی اپنی معروف کتاب تحفة الاخیار میں فرماتے ہیں :
سنتوں پر زیادتی بالاتفاق جائز ہے ، لیکن سنت کے طور پر نہیں بلکہ نفل کے طور پر ۔
احناف پر اعتراض صرف اتنا ہے کہ وہ بیس کو سنت کہتے ہیں اور مقرر کر دیتے ہیں ۔
حالانکہ بیس رکعات نہ سنتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے اور نہ سنتِ خلفاء ۔
بیس رکعت یا اس سے کم و بیش پڑھنے میں کوئی اعتراض نہیں ، اعتراض صرف سنت سمجھنے اور سنت کہنے پر ہے ۔
وما علینا الا البلاغ.
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تعدادِ رکعاتِ تراویح
اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ تراویح سنتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے ۔
بحث صرف تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے میں ہے ۔
یہ بھی واضح ہے کہ لفظ تراویح مستند احادیث سے ثابت نہیں ہے ، رمضان کی اس صلوٰۃ (نماز) کے لیے جو لفظ عمومی طور پر استعمال کیا گیا ہے ، وہ "قیامِ رمضان" ہے ۔
بخاری کی وہ مشہور حدیث جو كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان کے تحت درج ہے ، اس کے الفاظ ہیں :
عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه اخبره انه، سال عائشة ـ رضى الله عنها ـ كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على احدى عشرة ركعة ۔۔۔
صحيح بخاري ، كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان ، حدیث : 2052
درج بالا الفاظ پر غور کریں ۔۔۔
اس میں ایک صحابی ابي سلمة (رضی اللہ عنہ) ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پوچھ رہے ہیں کہ رمضان میں رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نماز کیسی تھی ؟
رمضان میں جو رات کا قیام ہوتا ہے ، جو نماز ہوتی ہے ۔۔۔ اس پر اجماع ہے کہ یہ نماز ، نمازِ تراویح ہی ہے ۔
سوال پوچھا گیا نمازِ تراویح کے تعلق سے ۔۔۔ حدیث کے اسی ٹکڑے سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ تراویح کے تعلق سے سوال کیا گیا تھا اور جواب بھی نمازِ تراویح کے متعلق دیا گیا ۔
غیر رمضان کی نمازِ تراویح کی جو اضافی بات ام المومنین نے بیان فرمائی ہے ۔۔۔
اس کے بارے میں اہلِ علم کا کہنا ہے کہ نمازِ تراویح ہی غیر رمضان میں نمازِ تہجد کہلاتی ہے ۔
اگر نماز تہجد اور نمازِ تراویح الگ الگ نمازیں ہے تو اس کا ثبوت مستند احادیث کے ذریعے پیش کیا جانا چاہئے ۔
جو نماز غیر رمضان میں نمازِ تہجد ہے وہی نماز ، رمضان میں نمازِ تراویح کہلاتی ہے ۔
ماہِ رمضان میں تہجد کی جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صرف تراویح پڑھی اور تراویح کے علاوہ ، تہجد کے نام سے مزید کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی ۔
اس کی واضح ترین دلیل حضرت ابوذر غفاری کی روایت کردہ حدیث ہے جو ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ میں موجود ہے ۔
سنن ابي داود ، كتاب شهر رمضان ، باب في قيام شهر رمضان ، حدیث : 1377
حضرت ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ماہِ رمضان کے روزے رکھے ۔آپ نے ہمیں 23 ویں روزے تک قیام نہیں کروایا ۔اور اس رات جب قیام کروایا تو اتنی لمبی قراءت فرمائی کہ پہلی رات کا ایک تہائی حصہ اور دوسری رات کا آدھا حصہ قیام میں ہی گزر گیا اور تیسری رات جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قیام کی جماعت کروائی تو اتنی لمبی تلاوت فرمائی ۔۔۔۔۔
حتى تخوفنا ان يفوتنا الفلاح قلت وما الفلاح قال السحور
صحيح ابن خزيمة ، كتاب الصيام ، باب ذكر قيام الليل كله للمصلي مع الامام في قيام رمضان حتى يفرغ
(ترجمہ : حتٰی کہ ہم ڈر گئے کہ آج کہیں ہم فلاح سے ہی نہ رہ جائیں ۔ ابوذر غفاری سے روایت کرنے والے راوی نے اُن سے پوچھا کہ فلاح سے کیا مراد ہے؟ ابوذر نے جواباََ فرمایا : سحری کھانا ۔)
درج بالا حدیث میں جو عربی ٹکڑا ہے وہ صحیح ابن خزیمہ کی حدیث سے جیسا کا تیسا نقل کیا گیا ہے اور
ان الفاظ کو امام ابن خزیمہ نے صحیح السند قرار دیا ہے ۔
ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی نے بھی اسے صحیح کہا ہے اور
محدث العصر علامہ البانی نے بھی ابن خزیمہ کے صحیح کہنے کو برقرار رکھا ہے ۔
اس حدیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نمازِ تہجد ، جو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر واجب تھی ۔۔۔ وہ رمضان میں یہی نمازِ تراویح تھی ۔ کیونکہ جب سحر قریب آ جائے تو ایک الگ نماز ، نمازِ تہجد سے پڑھنے کا وقت کہاں سے نکالا جائے گا؟
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں انصاف اور دیانت سے غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح ، دونوں نام ایک ہی نماز کے ہیں ۔
دونوں نمازوں میں جو فرق بعض علماء بیان کرتے ہیں ۔۔۔ وہ اس طرح کہ ۔۔۔
1 ۔ تراویح شروع رات میں پڑھی جاتی ہے اور تہجد اخیر رات میں ۔
حالانکہ ۔۔۔ صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) روایت کرتی ہیں کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے رات کے ہر حصہ میں تہجد کی نماز پڑھی ہے ۔ کبھی شروع رات میں ، کبھی درمیان رات میں اور کبھی اخیر رات میں ۔
2 ۔ تراویح جماعت سے پڑھی جاتی ہے اور تہجد بلا جماعت ۔
یہ بھی دوسرا مغالطہ ہے ۔ دونوں ہی نمازیں جماعت سے بھی پڑھی جاتی ہیں اور بلا جماعت بھی ۔ صحیح مسلم کی احادیث دیکھ لیں جس میں نمازِ تہجد میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ایک بار حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) اور ایک بار حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) اور ایک بار حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کی شرکت کے واقعات ملتے ہیں۔ لہذا تہجد باجماعت بھی پڑھی گئی ہے ۔
صحیح بخاری کی حدیث کے بموجب تراویح کی جماعت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صرف تین دن پڑھائی اس کے بعد گھروں میں پڑھنے کا مشورہ دیا (تاکہ اس کو فرض نہ سمجھا جائے ) جس پر خلافتِ فاروقی (رضی اللہ عنہ) کے ابتدائی دور تک عمل ہوتا رہا ۔ لہذا تراویح بلا جماعت بھی پڑھی گئی ہے ۔
3 ۔ تیسرا مغالطہ یہ دیا جاتا ہے کہ ایک ہی نماز کسی زمانے میں بلاجماعت اور کسی زمانے میں جماعت سے پڑھی جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ الگ الگ نمازیں (تہجد اور تراویح) ہیں ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ نمازِ وتر ، رمضان میں جماعت سے پڑھی جاتی ہے اور غیر رمضان میں بلا جماعت ۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ رمضان میں پڑھی جانے والی وتر ایک الگ نماز ہے اور غیر رمضان والی وتر ایک علحدہ نماز ۔۔۔؟
رہی بات قرآنی نصوص کی ۔۔۔ کہ جن کے ذریعے تہجد کی نماز آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو رمضان اور غیر رمضان دونوں وقت ادائیگی کا حکم ہے ۔
سیدھی سی بات ہے ۔۔۔ اوپر حضرت ابوذر کی روایت کردہ حدیث بیان ہوئی ہے ۔۔۔ جس کے مطابق رمضان کی انتیسویں رات آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اتنا طویل قیام کیا کہ سحر کا وقت ہو گیا ۔
اب یا تو کسی صحیح مستند حدیث سے ثابت کیا جائے کہ اس رات قیامِ رمضان کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے علحدہ سے ایک نماز ، نمازِ تہجد کے طور پر ادا کی ۔۔۔ یا پھر کشادہ دلی ، دیانت داری اور انصاف پسندی سے یہ اعتراف کر لیا جائے کہ تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں ۔
جیسا کہ نامور حنفی علماء مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے بلاجھجھک واضح ترین الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ : تراویح اور صلوٰۃ اللیل (تہجد) ، دونوں نمازیں ایک ہی ہیں ۔
تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں ۔
بخاری کی شرح فیض الباری کی جلد 2 ، صفحہ 420 ، پر نامور حنفی عالم مولانا انور شاہ کشمیری بیان فرماتے ہیں :
عام طور پر علماء (احناف) یہ کہتے ہیں کہ تراویح اور صلوٰۃ اللیل (تہجد) دو مختلف النوع نمازیں ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں ایک ہیں ۔
ان دونوں نمازوں کا متغائر النوع ہونا اس وقت ثابت ہوگا جب یہ ثابت ہو جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تراویح کے ساتھ ساتھ نمازِ تہجد بھی ادا فرمائی تھی ۔
مولانا اشرف علی تھانوی ، جس عالمِ دین (مولانا رشید احمد گنگوہی) کے لیے فرماتے ہیں کہ : اس امت میں ان کا وجود اسلام کی صداقت کی دلیل اور مستقل معجزہ ہے ۔۔۔ (بحوالہ : الفرقان بریلی ، صفر 1372 ھ ۔ )
وہی عالمِ دین مولانا رشید احمد گنگوہی بیان کرتے ہیں کہ :
اہلِ علم پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قیامِ رمضان (تراویح) اور قیام اللیل (تہجد) فی الواقع دونوں ایک ہی نماز ہے ۔۔۔۔۔ رمضان کی تہجد جو عین تراویح ہے دلیل قولی کی بنا پر سنتِ موکدہ ہی رہے گی ۔
(بحوالہ : لطائف قاسمیہ ، مکتوب سوم ، ص 13-17 )
مذکورہ بالا دلائل کی بنیاد پر ثابت کیا گیا ہے کہ نمازِ تراویح اور نمازِ تہجد ، دونوں ایک ہی نماز کے نام ہیں ۔
تو اب دیکھا جائے گا کہ تراویح کی نماز کتنی رکعات کی ثابت ہے ؟
صحيح بخاري ، كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان ، حدیث : 2052
صحیح بخاری کی یہ حدیث گیارہ رکعات (آٹھ رکعات تراویح اور تین رکعات وتر) کو بیان کرتی ہے ۔
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان ثمان ركعات والوتر
ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ماہِ رمضان میں نماز (تراویح) کی آٹھ رکعتیں پڑھائیں اور وتر پڑھائے ۔
صحیح ابن خزیمہ ، كتاب الصلاة ، باب ذكر دليل بان الوتر ليس بفرض ، حدیث نمبر 1070 ۔
1۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اس حدیث پر جرح و تعدیل بیان کرنے کے بعد کہا کہ اس کی سند اوسط درجے کی ہے۔
2۔ علامہ البانی نے اس حدیث کو تعلیاقاتِ ابن خزیمہ میں صحیح قرار دیا ہے ۔
3۔ حافظ ابن حجر کے دعویٰ کے مطابق انہوں نے فتح الباری میں کم از کم حسن درجے کی حدیث شامل کی ہے ۔ اور حافظ صاحب نے ابن خزیمہ کی اس حدیث کو فتح الباری میں نقل کیا ہے ۔ لہذا ثابت ہوا کہ یہ حدیث حسن ہے ۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) نے حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) اور حضرت تمیم داری (رضی اللہ عنہ) کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو گیارہ (11) رکعتیں پڑھایا کریں ۔ اور امام ایک ایک رکعت میں سو سو آیات پڑھتا حتٰی کہ ہم تھک کر عصا کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے تھے اور طلوعِ فجر کے قریب جا کر ہم (نمازِ تراویح سے) فارغ ہوتے تھے ۔
موطاٴ مالك ، كتاب الصلاة فى رمضان ، باب ما جاء في قيام رمضان ، حدیث نمبر 250 ۔
1۔ علامہ شوق نیموی (حنفی) اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس کی سند صحیح ہے ۔
2۔ علامہ البانی نے بھی اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔
3۔ اس حدیث پر علامہ ابن البر کے اعتراض پر علامہ زرقانی نے موطا کی شرح میں ابن عبدالبر کے قول کی تردید کی ہے ۔
4۔ علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں اور شوق نیموی نے آثار السنن میں ابن عبدالبر کے اس اعتراض کو باطل قرار دیاهے۔
تراویح کی بیس رکعات کو “سنت“ قرار دینے والے قائلین کا سارا زور درج ذیل دو باتوں پر ہوتا ہے ۔
1)۔ حضرت عائشہ سے مروی 11 رکعات والی حدیث میں بیان کردہ نماز کو نمازِ تہجد باور کرانا
2)۔ حضرت عمر کی جانب سے جاری 20 رکعات والی سنت ، سنتِ خلفاء ہے اور اس پر اجماع ہے ۔
1۔ حضرت عائشہ سے مروی 11 رکعات والی حدیث میں بیان کردہ نماز کو نمازِ تہجد باور کرانا
عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه اخبره انه، سال عائشة ـ رضى الله عنها ـ كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على احدى عشرة ركعة ۔۔۔
صحيح بخاري ، كتاب صلاة التراويح ، باب فضل من قام رمضان ، حدیث : 2052
اِس حدیث میں سوال کرنے والے نے رمضان کی نماز کے بارے میں پوچھا تھا یعنی
كيف كانت صلاة رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) في رمضان ۔۔۔؟
(ترجمہ : رسول کی نماز رمضان میں کیسی تھی ؟)
نماز کا لفظ عام ہے ۔ (اب یہاں نماز سے مراد ، تہجد بھی ہو سکتی ہے ، تراویح بھی یا وتر بھی )
لیکن لفظ رمضان کی قید سے یہ لفظ نماز خاص ہو گیا۔ یعنی رمضان کی نماز ۔
کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ تہجد ، رمضان کی نماز ہے ۔۔۔ اور کوئی یہ بھی نہیں کہتا کہ وتر ، رمضان کی نماز ہے ۔ کیونکہ تہجد اور وتر تو سارا سال پڑھی جاتی ہیں لہذا ان نمازوں کو خاص رمضان کی نمازیں نہیں کہا جاتا۔
اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ :
’11 رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے (یعنی : ما کان یزید )‘
سے مراد تہجد کی نماز ہے ۔ تو سوال یہ اُٹھے گا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) ، رمضان میں تراویح بھی پڑھتے تھے یا صرف تہجد پر ہی اکتفا کرتے تھے ؟
( یاد رہے کہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا ہے کہ : ’ 11 سے زیادہ رکعات کی نماز نہیں پڑھتے تھے‘ )
1) اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف تہجد پر اکتفا کرتے تھے تو یہ دعویٰ برحق ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تراویح اور تہجد ایک ہی تھیں اور وہ گیارہ رکعات سے زیادہ نہ تھیں ۔
2) اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تہجد کے علاوہ رمضان میں تراویح بھی پڑھتے تھے ۔۔۔ تو اس دعویٰ کو کسی مستند حدیث کے ذریعے ثابت کرنا چاہئے کہ رمضان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تہجد اور تراویح علحدہ علحدہ تھیں ۔
درج بالا دعویٰ نمبر 2 ہر گز بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی وجہ اوپر بیان کی جا چکی ابوذر غفاری کی روایت کردہ ایک مستند حدیث جو ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ میں موجود ہے ، سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ نے قیامِ رمضان کے تحت اتنی طویل نماز (تراویح) پڑھائی کہ سحر کا وقت ہو گیا۔
امام محمد (رحمہ اللہ) ، جو کہ حنفی مذہب کے بانیوں میں سے ہیں ، اپنی معروف کتاب موطا امام محمد میں تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے مروی گیارہ رکعات والی حدیث ، تراویح کے بارے میں ہے۔
امام ابن ہمام (حنفی) ، ھدایہ کی شرح‘فتح القدیر‘ میں فریقین کے دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
ساری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنتِ قیامِ رمضان گیارہ رکعات ہی ہے جو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود کیا ہے ۔
(بحوالہ : فتح القدیر ، کتاب الصلوٰۃ ، باب النوافل ، فصل فی قیام شھر رمضان ، جلد 1 ، ص : 334 ).
2۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی جانب سے جاری 20 رکعات والی سنت ، سنتِ خلفاء ہے اور اس پر اجماع ہے ۔
اِس دوسرے نکتے پر بات کرنے سے قبل یہ عرض کر دیا جانا بہتر ہے کہ 20 رکعات تراویح سے متعلق، حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے مروی ایک مرفوع حدیث سنن کبریٰ بیھقی ، معجم طبرانی کبیر ، مصنف ابن ابی شیبہ میں درج ہے ۔
لیکن اس حدیث کی اسناد کے ضعف پر محدثین نے جرح کر رکھی ہے ۔ مثلاََ :
علامہ زیلعی (حنفی) ، مولانا شوق نیموی (حنفی) ، امام احمد ، امام نسائی ، حافظ ابن حجر ، امام ابن الہمام ، مولانا عبدالحئی لکھنوی ، مولانا انور شاہ کشمیری ، مولانا زکریا کاندھلوی ، عبدالحمٰن مبارکپوری وغیرہم نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث سخت ضعیف ہے اور اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔
حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے گیارہ رکعات تراویح کا حکم دیا تھا یا بیس کا ؟
ایک مستند صریح اثر جو کہ موطا امام مالک میں درج ہے اور جس پر محدثین کا کلام بھی اوپر بیان کیا جا چکا ہے ۔۔۔ کے مطابق :
امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) نے حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) اور حضرت تمیم داری (رضی اللہ عنہ) کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو گیارہ (11) رکعتیں پڑھایا کریں ۔
موطاٴ مالك ، كتاب الصلاة فى رمضان ، باب ما جاء في قيام رمضان ، حدیث نمبر 250 ۔
اس لنک پر جو روایت نمبر 250 ہے ۔۔۔ ٹھیک اس کے نیچے 251 نمبر کے تحت یزید بن رومان کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں 23 رکعات پڑھائی جاتی تھیں۔
مگر امام مالک خود فرماتے ہیں کہ : یزید بن رومان ، حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سے نہیں ملے یعنی حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔
اس کے علاوہ بھی 20 رکعات والے آٹھ سے زیادہ ’اثر‘ ایسے پائے جاتے ہیں جن کے ضعف پر محدثین نے خاصی لمبی جرح کر رکھی ہے ۔۔۔ اور ان کو یہاں پیش کرنا غیر ضروری ہے ۔
البتہ اس اثر کا ذکر ضرور کیا جانا چاہئے جو مصنف عبدالزاق میں ہے کہ : تراویح کی 21 رکعات حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں پڑھائی جاتی تھیں۔
اس اثر پر محدث ناصرالدین البانی کہتے ہیں کہ 11 رکعات والی صریح حدیث کے مقابلے میں یہ اثر پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ حافظ ابن حجر بھی یہی بات کہتے ہیں ۔اور کہتے ہیں کہ یہ عبدالزاق جیسے معروف ، ثقہ اور حافظ راوی کی غلطی اور وہم کا نتیجہ ہے ۔
ایک بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ حدیث اور اثر میں فرق ہوتا ہے ۔ حدیث کا سلسلہ راست رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ملتا ہے جبکہ اثر صحابی (رضی اللہ عنہ) کے قول و فعل کو کہا جاتا ہے ۔
کیا دورِ فاروقی (رضی اللہ عنہ) میں بیس رکعات پر اجماع ہو گیا تھا ؟
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی بخاری والی حدیث میں جو حضرت ابو سلمہ نے امّی عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے سوال کیا تھا ، یہ واقعہ خلافتِ راشدہ کے آخری ایام کا ہے ۔
حضرت ابو سلمہ (رضی اللہ عنہ) ، حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور شہادتِ علی (رضی اللہ عنہ) کے وقت آپ (رضی اللہ عنہ) کی عمر سولہ سترہ سال کے قریب تھی ۔
اگر اُس دور میں صحابہ بیس رکعات پر متفق تھے یعنی اجماع تھا ۔۔۔ تو حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) 11 رکعات کا اعلان کیسے فرما سکتی تھیں ؟
20 رکعات پر اجماع ہوا تھا تو امام مالک نے ایسا کیوں فرمایا :
11 رکعات ہی پر حضرت عمر نے لوگوں کو جمع کیا تھا ۔ گیارہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خود پڑھتے تھے ۔ پتا نہیں لوگوں نے یہ بیس اور چالیس وغیرہ بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں ؟
(بحوالہ : مشکوٰة المصابیح ، كتاب الصلاة ، باب قيام شھر رمضان ، 405 ، ج 1 ، نمبر 1302 )
امام احمد سے تراویح کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا :
اس بارے میں کافی اختلاف ہے ، کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔
(بحوالہ : ترمذی ، ابواب الصوم ، ماجاء فی قیام شھر رمضان ، نمبر 806 ).
بیس رکعات پر اجماع کہاں سے آ گیا پھر ؟؟؟؟
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ۔
اور پھر نامور حنفی عالم مولانا انور شاہ بھی فرماتے ہیں :
آنحضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے تو آٹھ رکعات تراویح ہی ثابت ہیں ۔ بیس رکعت والی حدیث تو ایسی ضعیف ہے کہ اس پر سب کا اتفاق ہے ۔
(بحوالہ : عرف الشذی ۔ ص : 309 ).
بعض عام فہم حضرات 20 رکعات تراویح کو سنتِ نبوی قرار دینے کے لیے اپنی دانست میں ایک مضبوط دلیل یوں لاتے ہیں کہ :
20 رکعات تراویح کے سنتِ نبوی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اللہ کے پاک گھر خانہ کعبہ یعنی مسجد الحرام میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب مسجد ، مسجدِ نبوی میں آج بھی تراویح کی 20 عدد رکعات ہی ادا کی جاتی ہیں۔ حالانکہ سوچا جانا چاہئے کہ عبادت کے ہر معاملے میں کسی مسجد یا کسی علاقے کی روایات کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دلیل تو صرف قرآن یا حدیث سے ہی دی جانی چاہئے۔
ورنہ اگر حرمین شریفین کی نمازیں ہمارے لیے دلیل ہیں تو پھر رفع یدین بھی ہر کسی کو کرنا چاہئے ، سینے پر بھی ہر کسی کو ہاتھ باندھنا چاہئے ، آمین بھی بلند بانگ آواز میں کہنا چاہئے ۔۔۔ وغیرہ ۔ کیونکہ حرمین شریفین میں نمازیں تو امامِ کعبہ کی متابعت میں اسی طور طریقہ سے ادا ہوتی ہیں۔
آخر میں چند باتیں مزید ۔
یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ : نامور اور معتبر محدثین اور علماءِ دین کا اعتراض تراویح کی بیس رکعات پر کبھی نہیں رہا۔
اصل اعتراض صرف اور صرف ۔۔۔ بیس رکعات کو سنت کہنے ، سمجھنے اور جتانے پر ہے ۔
سنت وہ ہے جو ثابت ہو ۔ باقی جو ہے وہ نفل ہے ۔
مولانا عبدالحئی لکھنوی اپنی معروف کتاب تحفة الاخیار میں فرماتے ہیں :
سنتوں پر زیادتی بالاتفاق جائز ہے ، لیکن سنت کے طور پر نہیں بلکہ نفل کے طور پر ۔
احناف پر اعتراض صرف اتنا ہے کہ وہ بیس کو سنت کہتے ہیں اور مقرر کر دیتے ہیں ۔
حالانکہ بیس رکعات نہ سنتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے اور نہ سنتِ خلفاء ۔
بیس رکعت یا اس سے کم و بیش پڑھنے میں کوئی اعتراض نہیں ، اعتراض صرف سنت سمجھنے اور سنت کہنے پر ہے ۔
وما علینا الا البلاغ.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں