*آہ حضرت جی! واہ حضرت جی!*

علماء انبیاء کے وارث ہیں... علماء ہی حقیقی معنوں میں اللہ سے ڈرنے والے بندے ہیں... اہل علم کے لئے فرشتے، مچھلیاں اور چیونٹیاں بھی دعائیں کرتی ہیں... علماء کے مقام کو اللہ رفعت و بلندی عطا کرتا ہے... علم کے متلاشی مسافر کے لئے اللہ جنت کے راستے کو آسان بنا دیتا ہے..... یہ اور ان جیسی دیگر فضیلتیں علماء کو حاصل ہیں....... لیکن....... سوال یہ ہے کہ کس طرح کے علماء کو؟؟...

آج دنیا میں علماء کی کمی نہیں... الحمد للہ... لیکن ان کی ایک بڑی تعداد اخلاص و للہیت اور علماء کی حقیقی صفات سے کوسوں دور ہے... عالم صرف الفاظ و تراکیب میں فرق جاننے والے اور عربی زبان و ادب نیز قواعد کی معرفت رکھنے والے کو نہیں کہا جاتا... عالم نام ہے اس شخص کا جس کے پاس قرآن و حدیث کا علم ہو...صحیح اور غلط کی تمیز رکھتا ہو... اصول حدیث سے آگاہ ہو... جرح و تعدیل کا جانکار ہو... علم کے مطابق عمل کرنے والا نیز کتاب و سنت کی تعلیمات کا آئینہ دار ہو.....
مگر....... آہ رے امت کی بد نصیبی! آج مسلمانوں کی مختلف جماعتوں اور گروپوں کو کچھ ایسے دنیا پرست "علماء" مل گئے ہیں جو بھنور میں پھنسی کشتی کو ساحل سے لگانے اور بچانے کے بجائے اسے ڈبونے کا کام کرتے ہیں... جو اپنی ذمہ داریوں کو جانتے ہوئے بھی پورا نہیں کرتے ہیں... یہ وہ لوگ ہیں جنہیں معاشرے کی بھولی بھالی عوام کبھی تو "حضرت" کے نام سے پکارتی ہے اور کبھی "مفتی صاحب" کے لقب سے یاد کرتی ہے... آج ڈگریاں اور القاب بھی سستے ہو چکے ہیں... کبھی آپ ان "حضرت" یا "مفتی صاحب" کی بیٹھک میں بھی تشریف لے جائیں... ان سے کوئی سوال کر لیں... ان کے بیانات کو بھی سن لیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ "حضرت" یا "مفتی صاحب" نے کس طرح قرآن و حدیث کے نصوص کی دھجیاں اڑائی ہیں... کبھی کوئی کہتا ہے کہ "معراج" کے سفر کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ زمین پر خود لینے آیا... کبھی شبِ معراج کے حوالے سے لمبی چوڑی تقریریں اور اس میں پیش کی جانے والی بے بنیاد باتیں تو کبھی" میلاد" کے جواز کے لئے مغلظات اور غلط تاویلات کی بھر مار... وغیرہ وغیرہ... "حضرت" یا "مفتی صاحب" کا بیان سن کر اور اندازّ بیان دیکھ کر بے اختیار منہ سے "واہ" نکلتا ہے لیکن ان کی زبان سے نکلی ہوئی باتوں پر صرف "آہ" ہی باقی رہ جاتا ہے.....

پچھلے دنوں ایک محترم دوست سے ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی، جہاں بہت ساری باتوں اور حالات کی جانب انہوں نے نشاندہی کی وہیں ایک بات یہ بھی کہی کہ امت کے درمیان اس قدر نفرت کے ذمہ دار "علماء" اور صرف "علماء" ہیں... اس کی وجہ دریافت کرنے پر ان کا جواب تھا کہ: "انہوں نے عوام کو قرآن سے دور کیا... صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے بھی ضعیف احادیث اور امام کی باتوں کو مقدم کیا اور اسی بات کا پرچار بھی کیا... لوگوں کو پٹّیاں پڑھائیں... آیات و احادیث کے بجائے قصے کہانیوں کی جانب لوگوں کو مائل کر کے انہیں اسی کا گرویدہ بنا دیا... نتیجہ یہ ہے کہ آج امت کے ستر بلکہ اسّی پچاسی فیصد سے زائد افراد ٹھیک طریقے سے قرآن پڑھنا بھی نہیں جانتے"...
بات حقیقت بھی ہے کہ ہمارے علماء نے عوام کے سامنے لطیفے، قصے اور کہانیاں پیش کرنا شروع کر دیا ہے... مرچ مسالہ لگا کر اور باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے... قرآن و حدیث کی غلط تفسیر و تشریح کر کے عوام الناس کو ہدایت کے راستے سے بہت ہی پیچھے دھکیل دیا ہے... خود بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کا کام کر کے شیطان کے مقصد کو آسان بنا دیا... چند دنیاوی مفادات کے لئے اپنے اور لوگوں کے ایمان کا سودا کر لیا... بدن پر جبہ و دستار یا شیروانی سجا کر خوب لمبی چوڑی تقریریں کیں... خوب واہ واہی سمیٹ لی لیکن انہیں بخوبی معلوم ہے کہ *شیروانی کے اندر پریشانی ضرور ہے* اور جب جب یہ پریشانی ظاہر ہوتی ہے تب تب عوام *"واہ"* کے بجائے *"آہ"* کرتی نظر آتی ہے...

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟