منکرین حدیث کو قرآن و احادیث سے ہی جواب
منکرینِ حدیث درحقیقت منکرین قرآن ہیں، ان کے عدمِ فہم و علم کے بارے میں رسول کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
(یقرؤون القرآن، لایجاوز حلوقھم و حناجرھم، یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ.)
“و ہ قرآ ن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے ، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ” (صحیح بخاری: ۶۹۳۱)
یہ حدیث خوارج (منکرین حدیث و غیرہ ) کے عدم فہم و علم پر بین ثبوت ہے کیونکہ وہ قرآن و حدیث کی توہین اور مسلمانوں تکفیر کے مرتکب ہیں۔
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ورد الروایات الصحیحۃ و الطعن فی أئمۃ الحدیث الضابطین مع امکان توجیہ مارووا من الأمور التی أقدم علیھا کثیر من غیر أھل الحدیث، وھو یقتضی قصور فھم من فعل ذلک منھم، ومن ثم قال الکرمانی: لا حاجۃ لتخطئۃ الرواۃ الثقاۃ. “بہت سے غیر اہل حدیثوں نے احادیثِ صحیحہ اور روایاتِ ثابتہ کا رد وانکار کیا ہے ، حفاظ ائمہ حدیث پر طعن زنی کی ہے ، یہ اقدام ان کے ناقص العقل و قاصر الفہم ہونے پر دلیل ہے ، اسی وجہ سے کرمانی (شارحِ بخاری) نے کہا ہے کہ ثقہ راویوں کی طرف خوامخواہ غلطی کی نسبت کرنے کی ضرورت نہیں (بلکہ ان کی رویتوں میں جمع وتوفیق اور تطبیق دینا ضروری ہے )۔” (فتح الباری:۴۰۱/۱۳)
منکرین حدیث نے قرآن و حدیث کی اتباع کی بجائے عقل سوء اور نفسانی خواہشات کی پرستش شروع کردی ہے، ان کے زعم باطل کے مطابق حدیث دلیل شرعی نہیں ہے ، وہ حدیث کو قرآن کی ضد خیال کرتے ہیں جبکہ جہاں قرآن وحی ہے ، وہاں حدیث بھی وحی ہے ، وحی حق ہے ، کیا حق حق کے ساتھ ٹکرا سکتا ہے ؟ ایک حق کو دوسرے حق پر پیش کرنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ؟ ایک مسلمان کا تو یہ شیوہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ قرآن و حدیث کی صورت میں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیا ہے ، اس کو دل و جان سے برحق تسلیم کرے اور اس پر ایمان لائے ، جیسا کہ امام زہریؒ فرماتے ہیں:
علی اللّٰہ البیان و علی الرسول البلاغ و علینا التسلیم. “بیان کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ، رسول اللہ ﷺ کے ذمہ پہنچانا ہے اور سر تسلیم خم کرنا ہم پر لازم ہے ” (الزھر لا بن أبی عاصم: ۷۱، حلیۃ الاولیاء لأبی نعیم : ۳۶۹/۳، عقیدۃ السلف أصحاب الحدیث لأبی اسماعیل الصابونی ، واللفظ لہ، تغلیق التعلیق لابن حجر :۳۶۵/۵ و سندہ صحیح)
یہ تو ہوا مومنوں کا وطیرہ ، جبکہ گمراہ اور ظالم القرآن و حدیث ٹکراؤ پیداکرنے کی مذموم کوشش کرتا ہے ، اس طرح وہ متاع ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ، قرآن و حدیث میں کوئی تعارض نہیں ، ہا ں ! ظاہری طور پر تعارض موجود ہے ، حقیقت میں کوئی تعارض نہیں ، اہل ایمان نورِ ایمان و علم سے تعارض کو رفع کردیتے ہیں جبکہ معاندین قصورِ فہم کی بنیاد پر گمراہی اور ضلالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
حافظ خطابی لکھتے ہیں: فانہ یحذر بذلک مخالفۃ السنن التی سنھا رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم ) مما لیس لہ فی القرآن ذکر علی ما ذھبت الیہ الخوارج و الروافض، فانھم تعلقوا بظاھر القرآن و ترکوا السنن التی قدضمنت بیان الکتاب فتحیروا و ضلوا. “رسول اکرم ﷺ کی وہ سنتیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں، ان کی مخالفت سے بچنا چاہیے ، خارجیوں اور رافضیوں نے صرف قرآن کے ظاہر کو لیا ہے، جبکہ ان احادیث کو چھوڑ دیا جو قرآن کی توضیح و تشریح پر مشتمل ہیں، اسلئے وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔” (معالم السنن: ۲۹۸/۴)
بقیہ بن ولید(ثقہ عندالجمہور ) کہتے ہیں کہ امام اوزاعی نے مجھے فرمایا ، ایسے لوگوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو اپنے نبی کی حدیث سے بغض رکھتے ہیں؟ میں نے عرض کی، وہ برے لوگ ہیں، آپ نے فرمایا:
لیس من صاحب بدعۃ تحدثہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بخلاف بدعتہ الاأبغض الحدیث. “جس بدعتی کو بھی آپ اس کی بدعت کےخلاف حدیث سنائیں گے ، وہ اسے برا سمجھے گا ۔” (شرف أصحاب الحدیث للخطیب: ۱۵۰، الحجۃ لأبی القاسم الأصبہانی : ۲۰۷/۱، وسندہ صحیح)
امام آجری فرماتے ہیں: ینبغی لأھل العلم و العقل اذا سمعوا قائلا یقول: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی شیء قد ثبت عندالعلماء، فعارض انسان جاھل، فقال: لا أقبل الا ماکان فی کتاب اللّٰہ (عزوجل) قیل لہ؛ أنت رجل سوء و أنت ممن حذرناک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و حذر منک العلماء. “اہل علم و عقل کو چاہیے کہ جب وہ کسی کو صحیح ثابت فرمان رسول بیان کرتے ہوئے سنیں اور کوئی جاہل انسان اسے سن کر یہ کہے کہ میں صرف قرآن کو مانتا ہوں، اسے کہا جائے کہ تو برا انسا ن ہے ، تجھ جیسے لوگوں سے ہمیں رسول کریم ﷺ اور علمائے کرام نے خبردار کیا تھا ۔” (الشریعۃ: ۴۹)
امام شافعیؒ فرماتے ہیں: لا تخالف سنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کتاب اللّٰہ بحال. “کسی بھی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی سنت قرآن کریم کے مخالف نہیں ہوسکتی” (الرّسالۃ للشافعی: ۵۴۶)
محقق شاطبی لکھتے ہیں: التعارض اما ان یعتبر من جھۃ ما فی نفس الامر، وامامن جھۃ نظر المجتھد، اما من جھۃ ما فی نفس الامر فیغیر ممکن بالاطلاق…. “تعارض کی دو قسمیں ہیں، یا تو حقیقی ہوگا یا صرف مجتہد کی نظر میں ہوگا، (قرآن و حدیث میں ) حقیقی تعارض بالکل ناممکن ہے ۔” (الموافقات: ۲۹۴/۴)
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث قرآن پر پیش کرو ،اگر قرآن کے موافق ہو تو لے لو ، اگر مخالف ہو تو چھوڑ دو، ہمارا ان سے سوال ہے کہ جب قرآن قرآن سے ٹکرائے، اس صورت میں تم قرآن کی کس آیت کو لوگے اور کس کو چھوڑو گے ؟ جو ان کا جواب ہوگا، وہی ہمارا قرآن و حدیث میں تعارض کے حوالے سے جواب ہوجائے گا ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے : لا ألفین أحدکم متکئا علی أریکتہ ، یاتیہ الأمر من أمری مما أمرت بہ أو نھیت عنہ، فیقول؛ لا ندری، ما وجدنافی کتاب اللّٰہ اتبعناہ. “میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنے صوفہ سے ٹیک لگائے ہوئے ہو اور اس کو امر یا نہی کی صورت میں میرا فرمان پہنچے تو وہ کہے کہ ہم نہیں جانتے ، ہم تو صرف قرآن کی اتباع کریں گے ۔” (أبو داؤد: ۴۶۰۵، ترمذی:۲۶۶۳، ابن ماجہ: ۱۳، مسند الحمیدی: ۵۵۱، دلائل النبوۃ للبیہقی: ۵۴۹/۶ و سندہ صحیح)
اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے “حسن صحیح” ، نیز امام ابن حبان (۱۳) اور امام حاکم (۱۰۸/۱ ، ۱۰۹) نے “صحیح” کہا ہے ۔ حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ، حافظ بغوی نے بھی اس کو “حسن” قرار دیا ہے ۔ (شرح السنۃ: ۲۰۱/۱)
حافظ بغوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : وفی الحدیث دلیل علی أنہ لا حاجۃ بالحدیث الی أن یعرض علی الکتاب ، وأنہ مھما ثبت عن رسول اللّٰہ ﷺ کان حجۃ بنفسہ۔ “یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ، بلکہ جب حدیث صحیح ہو تو وہ بذاتِ خود حجت شرعی ہوگی ۔” (شرح السنۃ:۲۰۱-۲۰۲/۱)
قرآن اور حدیث کے مابین تعارض کی مثال ملاحظہ فرمائیں:
متواتر حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
أنکم سترون ربکم کماترون ھذا القمر، لاتضامون فی رؤیتہ….
“یقیناً عنقریب تم اپنے رب کو دیکھو گے، جس طرح بھِیڑ کے بغیر چاند دیکھتے ہو۔” (صحیح البخاری: ۷۴۳۴، مسلم : ۶۳۳)
قرآن مجید میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿لَنْ تَرَانِیْ﴾ (الاعراف:۱۴۳) “(اے موسیٰ!) آپ مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے ۔”
حدیثِ پاک میں دیدارِ الہٰی کا ثبوت ہے اور قرآن پاک اس کی نفی کررہا ہے ،منکرین حدیث اس تعارض کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث “صحیح” نہیں ، بالفرض اس کو “صحیح” مان لیا جائے تو اس سے مراد “علم” ہے نہ کہ دیدارِ الہٰی۔ بطورِ دلیل وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیش کرتے ہیں:
﴿اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ (النور:۴۱)
“کیا آپ کو علم نہیں کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے ؟”
تو اس تعارض کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے ، اس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں، قرآن نے جس دیدارِ الہٰی کی نفی کی ہے ، اس کا تعلق دنیا سے ہے ، حدیث پاک نے جس کا اثبات کیا ہے ، اس کا تعلق آخرت سے ہے ، یعنی دنیا میں کوئی آنکھ اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتی ، البتہ آخرت میں وہ مومنوں کو اپنا دیدار دے گا ، لہٰذا تعارض ختم ہوا، یہا ں رؤیت کی تعبیر علم سے کرنا قرآن و حدیث اور صحابہ کرام و سلف صالحین کے متفقہ فہم و تصریحات کے خلاف ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ٭اِلیٰ رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ﴾ (القیامۃ:۲۲-۲۳)
“اس دن(قیامت کو مومنوں کے) چہرے شگفتہ اور بارونق ہونگے ، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے “
نظر کی نسبت چہرے کی طرف کی گئی ہے ، جو کہ آنکھوں کا محل ہے ، اس کو “الیٰ” کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے ، معلوم ہوا کہ یہ رؤیت بصری ہو گی نہ کہ قلبی ، یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہوگا اور جو منکر ہوگا، وہ اس سے محروم رہے گا۔
ا نکی اس باطل تاویل کا رد اسی حدیث میں موجود ہے ، جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روزِ قیامت ہونے والے دیدارِ الہٰی کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
ھل تضارون فی رؤیۃ الشمس بالظھیرۃ صحوا، لیس معھا سحاب؟ وھل تضارون فی رؤیۃ القمر لیلۃ البدر صحوا، لیس فیھا سحاب؟ قالوا؛ لا، یا رسو ل اللّٰہ ! قال ؛ ما تضارون فی رؤیۃ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ یوم القیامۃ الا کام تضارون فی رؤیۃ أحدھما.
“جب سورج نصف النہار پر ہو اور اس کےساتھ کوئی بادل نہ ہو تو کیا تمہیں سورج دیکھنے میں کوئی دقت یا دشواری ہوتی ہے ؟ اور جب چودھویں رات کو آسمان پر چاند جلوہ آرا ہو اور اس پر بادل بھی نہ ہوتو کیا چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے ؟ صحابہ نے عرض کی ، نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا : جس طرح تم دنیا میں سورج یا چاند کو دیکھتے ہو ، اسی طرح روزِ قیامت اللہ تبارک و تعالیٰ کا دیدار کرلوگے ۔” (صحیح مسلم: ۱۸۳)
امام ابن قتیبہ ؛لکھتے ہیں: ولو کان اللّٰہ تعالیٰ لا یری فی حال من الأحوال و لا یجوز علیہ النظر، لکان موسیٰ علیہ السلام قد خفی علیہ من وصف اللّٰہ ما علموہ. ” اگر کسی صورت میں بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ناممکن ہو تو یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے جس وصف کو موسیٰ علیہ السلام نہ جان سکے ، اسے منکرین حدیث جان گئے ۔ ” (تاویل مختلف الحدیث: ۲۰۷)
منکرین حدیث کا خود ساختہ اصول باطل ہوا کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا جائے ، اگر قرآن کے موافق ہو تو لے لی جائے اور اگر قرآن کے مخالف ہو تو چھوڑ دی جائے ۔ خوب یاد رہے کہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں ہوتی، ظاہری مخالفت ہوسکتی ہے ، حقیقت میں کوئی مخالفت نہیں ہوسکتی، لہٰذا ایک صحیح، مرفوع اور متصل حدیث پیش کی جائے جو قرآن کے خلاف ہو ، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم اس تعارض کو رفع کردیں گے ، اگر قرآن کا ظاہری تعارض رفع ہوسکتا ہے تو قرآن و حدیث کا ظاہری تعارض دور کیوں نہیں ہوسکتا؟ اگر دور نہ ہو تو یہ سمجھ کا قصور ہوگا۔
منکرین حدیث اس مرض میں مبتلا ہیں، شیطان ان کی طرف باطل القاء کرتا ہے ، ان کی عقلیں سقیم اور فاسد ہوچکی ہیں، شبہات و وساوس کے اندھیروں سے ان کے سینے لبریز ہوچکے ہیں، ان کی دلیلیں جو درحقیقت شبہات ہیں، باطل ثابت ہو چکی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مصداق ہیں:
﴿وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ﴾ (الحج:۱۸)
“اور جسے اللہ ذلیل کرے، اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ، یقیناً اللہ جو چاہتا ہے ، سو کرتا ہے ۔”
نیز فرمایا:﴿اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمْ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمَی اَبْصَارَھُمْ﴾ (محمد: ۲۳)
“یہ (منکرین حدیث جو درحقیقت منکرین قرآن ہیں) وہ لوگ ہیں، جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ، پھر ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔”
حدیث جو حق ہے ، اس کو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں۔
قوام السنۃ امام ابوالقاسم اسماعیل بن محمد الاصبہانی نے کیا خوب لکھا ہے: وقول من قال؛ تعرض السنۃ علی القرآن، فان وافقت ظاھرہ، والا استسلمنا ظاھر القرآن وترکنا الحدیث، فھذا جھل، لأن سنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مع کتاب اللّٰہ عزوجل تقام مقام البیان عن اللّٰہ عزوجل، ولیس شیء من سنن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخالف کتاب اللّٰہ لأن اللّٰہ عزوجل أعلم خلقہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یھدی الی صراط مستقیم فقال؛ ﴿ وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ﴾ (الشوریٰ:۵۳) ولیس لنا مع سنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الأمر شیء الا اتباع و التسلیم ولا یعرض علی القیاس ولاغیرہ، وکل ما سواھا من قول الآدمیین تبع لھا ولا عذر لاحد یتعمد ترک السنۃ، ویذھب الی غیرھا، لأنہ لا حجۃ لقول أحد مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا صحّ. “منکرین حدیث کا یہ کہنا کہ سنت کو قرآن پر پیش کیا جائے گا، اگر وہ قرآن کے موافق ہوئی تو ٹھیک ورنہ ہم قرآن کے ظاہر کو لے لیں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے ، نری جہالت ہے کیونکہ سنتِ رسول ﷺ قرآن کے موافق ہے بلکہ اللہ کی طرف سے قرآن کی تفسیر و بیان اور تشریح ہے ، کوئی سنت قرآن کے مخالف و معارض نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اس بات سے باخبر کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیدھی راہ کی راہنمائی فرماتے ہیں، فرمایا : ﴿ وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ﴾ (الشوریٰ:۵۳) (آپ ضرور ضرور صراطِ مستقیم کی ارشاد و راہنمائی فرماتے ہیں)۔ ہمارے لیے رسول کریم ﷺ کے اتباع و تسلیم کے بغیر کوئی چارہ نہیں، نیز حدیث کو قیاس وغیرہ پر بھی پیش نہیں کیا جائے گا ، امتیوں کے اقوال و افعال تو حدیث کے تابع ہیں (اگر حدیث کے موافق ہوں تو لے لیں گے، ورنہ ترک کردیں گے) کسی کے لئے جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف جانے کی گنجائش نہیں ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف کسی کا قول حجت نہیں ہے ۔” (الحجۃ فی بیان المحجۃ:۳۲۶-۳۲۵/۲)
اہل سنت کے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من رد حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فھو علی شفا ھلکۃ.
“جس نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رد کردیا ، وہ تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔” (الحجۃ فی بیان المحجۃ: ۲۰۷/۱ ، مناقب الامام احمد لابن الجوزی:۱۸۲، و سندہ حسن)
قوام السنۃ ابو اسماعیل الاصبہانی لکھتے ہیں: “آدمی پر اہل بدعت سے بغض لازم ہے ، وہ جہاں بھی ہوں ، تاکہ وہ اللہ کی خاطر محبت اور اللہ کی خاطر بغض و نفرت کرنے والوں میں سے ہوجائے ، اہل سنت سےمحبت اور اہل بدعت سے بغض و نفرت کی کچھ علامات ہیں، جب کسی شخص کو آپ امام مالک بن انس ، امام سفیان بن سعید الثوری ، امام عبدالرحمٰن بن مہدی، امام عبداللہ بن مبارک ،امام محمد بن ادریس الشافعی اور دیگر صحیح العقیدہ ائمہ کرام رحمہم اللہ کا ذکرِ خیر کرتے دیکھیں، تو جان لیں کہ وہ اہل سنت میں سے ہے اور جب کسی کو دیکھیں کہ وہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب میں جھگڑا کر رہا ہے ، اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے یوں فرمایا ہے ، تو وہ کہتا ہے کہ ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ، جان لیں کہ وہ بدعتی ہے، جب کسی آدمی کو کہا جائے کہ تو حدیث کیوں نہیں لکھتا ؟ وہ کہتا ہےکہ عقل بہتر ہے ، جان لیں کہ وہ بدعتی ہے ، جب آپ دیکھیں کہ کوئی اہل فلسفہ و ہندسہ کی مدح سرائی کر رہا ہے ، تو جان لیں کہ وہ گمراہ ہے، جب کسی کو دیکھیں کہ وہ اہل حدیث کو “حشویہ، مشبہہ او ر ناصبہ” کہہ رہا ہو، تو جان لیں کہ وہ بدعتی ہے ، جب کوئی صفاتِ الہٰی کی نفی یا ان کومخلوق سے تشبیہ دے رہا ہو ، تو جان لیں کہ وہ گمراہ ہے ۔” (الحجۃ فی بیان المحجۃ: ۵۴۰-۵۳۹/۲)
اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے : ﴿مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ﴾ (النساء:۸۰)
” جس نے رسول کی اطاعت کی ، درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔”
یہ آیتِ کریمہ نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال و احوال اللہ کی وحی ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال اللہ کی وحی کے تابع ہیں، تو ان کو قرآن کریم پر پیش کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟
حافظ ابن حزم فرماتے ہیں: … فصح ان کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کلہ فی الدین وحی من عنداللہ عزوجل ، لاشک فی ذلک ولا خلاف بین أحد من أھل اللغۃ و الشریعۃ فی أن کل وحی نزل من عنداللہ فھو ذکر منزل. “یہ لاریب حقیقت ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی ساری کی ساری باتیں وحی الہٰی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے منزل من اللہ ذکر ہونے میں لغت و شرع میں کوئی اختلاف نہیں۔” (الاحکام لا بن حزم: ۱۳۵/۱)
حسان بن عطیہ تابعیؒ فرماتے ہیں: کان جبریل ینزل علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالسنۃ کما ینزل علیہ القرآن و یعلمہ ایاھا کما یعلمہ القرآن. “جبریل امین رسول اللہ ﷺ پر سنت کے لئے بھی نازل ہوتے تھے، جس طرح قرآن کے لئے نازل ہوتے تھے، آپ ﷺ کو سنت کی ویسے ہی تعلیم دیتے تھے، جس طرح قرآن کی تعلیم دیتے تھے ۔” (السنۃ لمحمد بن نصر المروزی : ۱۱۶،۲۸ و سندہ صحیح)
ابو البقاء الحسینی الحنفی کہتے ہیں: والحاصل أن القرآن و الحدیث یتحدان فی کونھما وحیا من عنداللہ بدلیل؛ ﴿اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی﴾ (النجم:۵) “الحاصل ، فرمانِ الہٰی:﴿ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی﴾ (النجم:۵) کے مطابق قرآن و حدیث دونوں وحی ہونے میں متحد و متفق ہیں۔” (کلیات ابی البقاء:۲۸۸)
علامہ شوکانی لکھتے ہیں:
وقد اتفق من یعتد بہ من أھل العلم علی أن السنۃ المطھرۃ بتشریع الأحکام، وأنھا کالقرآن فی تحلیل الحلال و تحریم الحرام.
“معتبر علمائے اسلام سنتِ مطہرہ کی مستقل تشریعی حیثیت پر متفق ہیں، یقیناً یہ حلال و حرام میں قرآن کی طرح ہے ۔ “ (ارشاد الفحول للشوکانی : ۳۳)
نیز فرماتے ہیں: ان ثبوت حجیۃ السنۃ المطھرۃ و استقلالھا بتشریع الأحکام، ضرورۃ دینیۃ، ولا یخالف فی ذلک الا من لا حظ لہ فی دین الاسلام.
“سنتِ مطہرہ کی حجیت اور اس کا احکام شرعیہ کا مستقل مصدر ہونے کا ثبوت ضرورتِ دینی ہے ، اس میں اختلاف وہی کرتا ہے ، جس کا دین اسلا م میں کوئی حصہ نہیں۔” (ارشاد الفحول: ۳۳)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا أَطِيعُوْا اللّهَ وَأَطِيعُوْا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ (النساء : ۵۹) “اے اہل ایمان ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو ۔”
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا تو “اطیعوا” کا صیغہ امر الگ الگ ذکر فرمایا ،جب اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا ، تو صیغہ امر نہیں دہرایا، بلکہ عطف پر اکتفا کیا، اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث مستقل بالذات دلیل ہیں، لہٰذا آپ کی احادیث مبارکہ کو کتاب اللہ پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: فأمر تعالی بطاعتہ و طاعۃ رسولہ، وأما الفعل اعلاما بأن طاعۃ الرسول تجب استقلا لا من غیر عرض ما أمر بہ علی الکتاب، بل اذا أمر و جبت طاعتہ مطلقا، سواء کان ما أمر بہ فی الکتاب أو لم یکن فیہ، فانہ أوتی الکتاب و مثلہ معہ. “اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم فرمایا ، “اطیعوا” کو دو بار ذکر کرکے یہ باور کروایا کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیے بغیر اطاعتِ رسول مستقل شرعی مصدر و ماخذہونے کی حیثیت سے واجب ہے ،بلکہ جب حکم دیا تو مطلق طور پر اطاعتِ رسول واجب ہوگئی، خواہ اس بات کاحکم کتاب اللہ میں ہو یا نہ ہو ، یقیناً آپ کو قرآن عطا کیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کی مثل ایک اور چیز (حدیث ) بھی دی گئی ہے ۔” (اعلام الموقعین : ۴۸/۱)
مذکورہ آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام عطاء بن ابی رباح تابعی فرماتے ہیں: أولو العلم والفقہ، وطاعۃ الرسول؛ اتباع الکتاب و السنۃ “اولی الامر سے مراد علماء وفقہاء ہیں اور اطاعتِ رسول کتاب و سنت کی پیروی کا نام ہے ” (السنن الدارمی :۲۲۵،، تفسیر ابن جریر:۱۴۷/۵، وسندہ صحیح) قرآن و حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہوچکا ہے کہ حدیث وحی ہے ، اس کو قرآن پر پیش کرنا گمراہی اور ضلالت ہے، نیز اس کا انکار کفر ہے ۔
حافظ سیوطی فرماتے ہیں: ان من أنکر کون حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم قولا کان أوفعلا، بشرطہ المعروف فی الأصول حجۃ، کفر و خرج عن دائرۃ الاسلام، وحشر مع الیھود و النصاری أو مع من شاء اللہ من فرق الکفرۃ.
“حدیث قولی ہو یا فعلی ، اسے شرعی دلیل سمجھتے ہوئے ، جس نے بھی انکار کیا ، وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ، اس کا حشر یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہوگایا ان کافر فرقوں کے ساتھ جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ چاہے گا ۔” (مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ:۳)امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح پر منکرین حدیث کا اعتراض اعتراض : حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر 6سال تھی جب ان سے خلوت کی گئی تو عمر 9سال تھی ۔ (صحیح بخاری کتاب النکاح صفحہ: 75) (اسلام کے مجرم صفحہ: 31)
ازالہ : جناب محترم مولانا صاحب نے روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
''قرآن کے مطابق ذہنی اور جسمانی بلوغت نکاح کے لئے لازم ہے قرآن نکاح کو انتہائی سنجیدہ معاہدہ کہتا ہے بچے سنجیدہ معاہدہ کیسے کرسکتے ہیں اگر آپ کی بیٹی یا بہن 6یا 9سال کی ہے تو آپ اس موضوعہ روایت کا زہر محسوس کرسکتے ہیں'' ۔(اسلام کے مجرم صفحہ :31)
ازالہ:۔
زیر بحث روایت صحیح بخاری میں موجود ہے جو کہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ عائشہ کا اپنا قول ہے کہ:
أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم تزوجھا وھی بنت ست سنین وبنی بھا وھی بنت تسع سنین
(صحیح بخاری کتاب النکاح باب تزویج الأب ابنة من الامام رقم الحدیث5134)
'' عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چھ برس کی عمر میں نکاح کیا اور نو برس کی عمر میں رخصتی کی گئی ''
(1) روایت کا ترجمہ کرتے وقت ڈاکٹر شبیرنے بنٰی کا ترجمہ خلوت کیا ہے جو کہ غلط ہے بنٰی کا معنی رخصتی ہے نہ کہ خلوت (النھایہ فی غریب الحدیث جلد 1صفحہ156)
(2) اس روایت کو مولانا نےموضوع کہا ہے جبکہ مولانا صاحب موصوف جو جرح وتعدیل کی ابجد سے بھی واقف نہیں اور صحیح روایت کو اپنے مبلغ علم کی بنیا د پر ضعیف بھی نہیں بلکہ موضوع (من گھڑت ) قرار دے رہے ہیں ؟
(3) کیاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نابالغہ تھیں اور اگر نا بالغہ تھیں تو قرآن نے کہاں نابالغہ سے نکاح ممنوع قرار دیا ہے :
(4) مولانا صاحب فرماتے ہیں :''قرآن کے مطابق ذہنی اور جسمانی بلوغت نکاح کے لئے لازم ہے''۔ ھٰذا بھتان عظیم ۔ قرآن حکیم میں ا یسا حکم کہیں موجودنہیں۔ حالانکہ قرآن مجید تو اس کے بالکل برعکس اصول بیان کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
''اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے ما یوس ہوچکی ہیں اگرتمھیں کچھ شبہ ہو تو انکی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی کہ جنھیں ابھی حیض شروع نہ ہوا ہو ۔''(سورة الطلاق ۔آیت :4)
مندرجہ بالا آیت میں اللہ رب العالمین عدت کے قوانین بیان کررہا ہے کہ ،
(1) وہ عورتیں جنھیں حیض آنا بند ہوگیا ہو ۔ان کی عدت تین ماہ ہے ۔
(2) وہ عورتیں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے (یعنی جو ابھی بالغ نہیں ہوئیں)۔
قارئین کرام !.
عورت پر عدت کے احکام خاوند کے انتقال کے بعد اور یا جب طلاق مل جائے اور یا وہ خلع حاصل کرے اس وقت لاگو ہوتے ہیں ۔
اب وہ لڑکی جس کو ابھی حیض نہیں آیا (یعنی بالغ نہیں ہوئی ) نکاح کے بعد اس کی عدت کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور عدت منکوحہ کے لئے ہے لہٰذا کم سن کا نکاح اور عدت کا بیان قرآن مجید میں موجود ہے اب جو اعتراض حدیث پر ہے وہی قرآن پر بھی وارد ہوتا ہے ۔
مزید برآں :
ہر ملک وعلاقے کے ماحول کے مطابق لوگوں کے رنگ وروپ ،جسمانی وجنسی بناوٹ اورعادت واطوار جس طرح باہم مختلف ہوتے ہیں اسی طرح سن بلوغت میں بھی کافی تفاوت و فرق ہوتا ہے ۔ جن ممالک میں موسم سرد ہوتا ہے وہاں بلوغت کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جہاں موسم گرم ہوتا ہے وہاں بلوغت جلد وقوع پذیر ہوجاتی ہے ۔ مثلاً عرب ایک گرم ملک ہے ۔وہاں کی خوراک بھی گرم ہوتی ہے جوکہ عموماً کھجور اور اونٹ کے گوشت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لئے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا 9سال کی عمر میں بالغ ہوجانا بعید از عقل نہیں ۔ السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ❤
آج لوگ کم عمری کی شادیوں پر پابندی عائد کرتے ہیں اسے نا جائز کہتے ہیں جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مذید ترقی ہو گئی
اور کم سن بچیاں ناجائز بچے پیدا کرنے لگیں ایسے ہی بیشمار واقعات میرے علم میں ہیں
دنیا کی کم سن ترین ماں بننے والی لڑکی لینا میڈینا
World's Youngest Mother
Peruvian five-year-old Lina Medina, accompanied by her 11-month-old-son Gerardo, and Doctor Lozada who attended her son's birth, are shown in this 1940 file photo taken in Lima's hospital.
When her child was born by Caesarean section in May 1939, Medina made medical history, and is still the youngest known mother in the world.
Lina Medina's parents thought their 5-year-old daughter had a huge abdominal tumor and when shamans in their remote village in Peru's Andes could find no cure, her father carried her to a hospital.
Just over a month later, she gave birth to a boy.
Worlds youngest mother
Medina was born on September 27, 1933 in the small village of Paurange. She was only 5 years 8 months old at the birth of her child on Mother's Day, May 14, 1939.
Born at full term at Lima's maternity clinic, her child was taken through a caesarian operation (Dr. Lozada and Busalleu, operators, Dr. Colretta, anesthesiologist). The child (boy), weighing 2,700 grams, was well formed and in good health. Child and mother were able to leave the clinic after only a few days.
Doctor Lozada has conducted very detailed studies since the diagnostic of the pregnancy which aroused much curiosity in the country; he took an x-ray of the child and her baby, established a diagnostic of the fetal situation, observed the state of functionality of the little mother who had begun menstruating at the age of 8 months. At four years old she had already developed breasts as well as pubic hair, her body proportions were a bit amazing and her bone hardening a bit advanced, things that are often observed in cases of such premature pregnancy.
After taunting from schoolmates, Medina's son, Gerardo - who was named after one of the doctors who attended Medina and who became their mentor - discovered when he was 10 that the person he had grown up believing to be his sister was in fact his mother.
Gerardo died in 1979 at age 40 from a disease that attacks the body's bone marrow, but it was said it was not clear there was any link with his illness and the fact his mother had been so young at his birth.
Medina herself married and in 1972 had a second son, 33 years after her first. Her second child now lives in Mexico.
اور
اسلاف نے ایسے بہت سے واقعات نقل فرمائے ہیںجو منکرین حدیث سے اوجھل ہیں صرف امی عائشہ رضی اللہ عنہا کا قصہ ہی کیوں زیر بحث ہے حالانکہ کئی حوالے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا معاملہ نہیں پہلے بھی اس قسم کے بہت سارے معاملات ہوچکے ہیںاور اب بھی اخباروں میں اس قسم کی خبریں موجود ہیں ۔ عرب کے معاشرے میں نو (9) سال کی عمر میں بچہ جنم دینا اور اس عمر میں نکاح کرنارواج تھاپر ان لوگوں کے لئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔مثلاً ،
(1) ابوعاصم النبیل کہتے ہیں کہ میری والدہ ایک سو دس (110) ہجری میں پیدا ہوئیں اور میں ایک سو بائیس( 122) ہجری میں پیدا ہوا۔ (سیر اعلاالنبلاء جلد7رقم1627) یعنی بارہ سال کی عمر میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کی والدہ کی شادی دس سے گیارہ سال کی عمر میں ہوئی ہوگی۔
(2) عبداللہ بن عمر و اپنے باپ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے صرف گیارہ سال چھوٹے تھے ۔
( تذکرة الحفاظ جلد1ص93)
(3) ہشام بن عروہ نے فاطمہ بنت منذر سے شادی کی اور بوقت زواج فاطمہ کی عمر نو سال تھی ۔ (الضعفاء للعقیلی جلد4رقم 1583، تاریخ بغداد 222/1)
(4) عبداللہ بن صالح کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت نو سال کی عمر میں حاملہ ہوئی اور اس روایت میں یہ بھی درج ہے کہ ایک آدمی نے ان کو بتایاکہ اس کی بیٹی دس سال کی عمر میں حاملہ ہوئی ۔ (کامل لابن عدی جلد5ر قم 1015)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی نو سال کی عمر میں عبداللہ بن عامر سے کرائی (تاریخ ابن عساکر جلد70) ۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ عباد بن عباد المہلبی فرماتے ہیں میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی نو سال کی عمر میں اس نے بیٹی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچہ جنم دیا ۔(سنن دارقطنی جلد3کتاب النکاح رقم 3836) ان دلائل کے علاوہ اور بھی بے شماردلائل موجود ہیں جو کہ طالب حق کے لئے کافی اور شافی ہونگے ۔ ان شاء اللہ ۔
ماضی قریب میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ رونما ہواکہ 8سال کی بچی حاملہ ہوئی اور 9سال کی عمر میں بچہ جنا ۔ (روزنامہ DAWN 29 مارچ1966) دور حاضر کے نامور اسلامک اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنے ایک انٹر ویو میں فرماتے ہیں : ''حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں میرے ذہن میں بھی کافی شکوک وشبہات تھے۔بطور پیشہ میں ایک میڈیکل ڈاکٹر ہوں۔ ایک دن میرے پاس ایک مریضہ آئی جس کی عمر تقریباً 9سال تھی اور اسے حیض آرہے تھے۔ تو مجھے اس روایت کی سچائی اور حقانیت پر یقین آگیا ' علاوہ ازیں روزنامہ جنگ کراچی میں 16اپریل 1986ء کوایک خبر مع تصویرکے شائع ہوئی تھی جس میں ایک نو سال کی بچی جس کا نام (ایلینس) تھا اور جو برازیل کی رہنے والی تھی بیس دن کی بچی کی ماں تھی۔ (روزنامہ آغاز میں یکم اکتوبر 1997کوایک خبر چھپی کہ (ملتان کے قریب ایک گاؤں میں)ایک آٹھ سالہ لڑکی حاملہ ہوگئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس خدشہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ زچکی کے دوران ہلاک ہوجائے.پھر 9دسمبر 1997کو اسی اخبار میں دوسری خبر چھپی کہ ''ملتان (آغاز نیوز) ایک آٹھ سالہ پاکستانی لڑکی نے ایک بچہ کو جنم دیا ہے. ڈاکٹروں نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ بچہ صحت مند ہے ۔) قرآن میں اللہ رب العالمین نے نوح علیہ السلام کی طویل العمری کا ذکر فرمایا ہے کہ :
فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَة ِلَّا خَمْسِیْنَ عَاماً (سورة العنکبوت ۔آیت 14)
''نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال ٹھہرے ''
یہ بات بھی ناقابل اعتبار اور عقل کے خلاف نظر آتی ہے تو اس کا آپ کیا جواب دیں گے ؟ پس جو جواب آپ دیں گے وہی جواب اس حدیث کا بھی سمجھ لی
منکرینِ حدیث درحقیقت منکرین قرآن ہیں، ان کے عدمِ فہم و علم کے بارے میں رسول کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
(یقرؤون القرآن، لایجاوز حلوقھم و حناجرھم، یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ.)
“و ہ قرآ ن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے ، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ” (صحیح بخاری: ۶۹۳۱)
یہ حدیث خوارج (منکرین حدیث و غیرہ ) کے عدم فہم و علم پر بین ثبوت ہے کیونکہ وہ قرآن و حدیث کی توہین اور مسلمانوں تکفیر کے مرتکب ہیں۔
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ورد الروایات الصحیحۃ و الطعن فی أئمۃ الحدیث الضابطین مع امکان توجیہ مارووا من الأمور التی أقدم علیھا کثیر من غیر أھل الحدیث، وھو یقتضی قصور فھم من فعل ذلک منھم، ومن ثم قال الکرمانی: لا حاجۃ لتخطئۃ الرواۃ الثقاۃ. “بہت سے غیر اہل حدیثوں نے احادیثِ صحیحہ اور روایاتِ ثابتہ کا رد وانکار کیا ہے ، حفاظ ائمہ حدیث پر طعن زنی کی ہے ، یہ اقدام ان کے ناقص العقل و قاصر الفہم ہونے پر دلیل ہے ، اسی وجہ سے کرمانی (شارحِ بخاری) نے کہا ہے کہ ثقہ راویوں کی طرف خوامخواہ غلطی کی نسبت کرنے کی ضرورت نہیں (بلکہ ان کی رویتوں میں جمع وتوفیق اور تطبیق دینا ضروری ہے )۔” (فتح الباری:۴۰۱/۱۳)
منکرین حدیث نے قرآن و حدیث کی اتباع کی بجائے عقل سوء اور نفسانی خواہشات کی پرستش شروع کردی ہے، ان کے زعم باطل کے مطابق حدیث دلیل شرعی نہیں ہے ، وہ حدیث کو قرآن کی ضد خیال کرتے ہیں جبکہ جہاں قرآن وحی ہے ، وہاں حدیث بھی وحی ہے ، وحی حق ہے ، کیا حق حق کے ساتھ ٹکرا سکتا ہے ؟ ایک حق کو دوسرے حق پر پیش کرنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ؟ ایک مسلمان کا تو یہ شیوہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ قرآن و حدیث کی صورت میں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیا ہے ، اس کو دل و جان سے برحق تسلیم کرے اور اس پر ایمان لائے ، جیسا کہ امام زہریؒ فرماتے ہیں:
علی اللّٰہ البیان و علی الرسول البلاغ و علینا التسلیم. “بیان کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ، رسول اللہ ﷺ کے ذمہ پہنچانا ہے اور سر تسلیم خم کرنا ہم پر لازم ہے ” (الزھر لا بن أبی عاصم: ۷۱، حلیۃ الاولیاء لأبی نعیم : ۳۶۹/۳، عقیدۃ السلف أصحاب الحدیث لأبی اسماعیل الصابونی ، واللفظ لہ، تغلیق التعلیق لابن حجر :۳۶۵/۵ و سندہ صحیح)
یہ تو ہوا مومنوں کا وطیرہ ، جبکہ گمراہ اور ظالم القرآن و حدیث ٹکراؤ پیداکرنے کی مذموم کوشش کرتا ہے ، اس طرح وہ متاع ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ، قرآن و حدیث میں کوئی تعارض نہیں ، ہا ں ! ظاہری طور پر تعارض موجود ہے ، حقیقت میں کوئی تعارض نہیں ، اہل ایمان نورِ ایمان و علم سے تعارض کو رفع کردیتے ہیں جبکہ معاندین قصورِ فہم کی بنیاد پر گمراہی اور ضلالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
حافظ خطابی لکھتے ہیں: فانہ یحذر بذلک مخالفۃ السنن التی سنھا رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم ) مما لیس لہ فی القرآن ذکر علی ما ذھبت الیہ الخوارج و الروافض، فانھم تعلقوا بظاھر القرآن و ترکوا السنن التی قدضمنت بیان الکتاب فتحیروا و ضلوا. “رسول اکرم ﷺ کی وہ سنتیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں، ان کی مخالفت سے بچنا چاہیے ، خارجیوں اور رافضیوں نے صرف قرآن کے ظاہر کو لیا ہے، جبکہ ان احادیث کو چھوڑ دیا جو قرآن کی توضیح و تشریح پر مشتمل ہیں، اسلئے وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔” (معالم السنن: ۲۹۸/۴)
بقیہ بن ولید(ثقہ عندالجمہور ) کہتے ہیں کہ امام اوزاعی نے مجھے فرمایا ، ایسے لوگوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو اپنے نبی کی حدیث سے بغض رکھتے ہیں؟ میں نے عرض کی، وہ برے لوگ ہیں، آپ نے فرمایا:
لیس من صاحب بدعۃ تحدثہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بخلاف بدعتہ الاأبغض الحدیث. “جس بدعتی کو بھی آپ اس کی بدعت کےخلاف حدیث سنائیں گے ، وہ اسے برا سمجھے گا ۔” (شرف أصحاب الحدیث للخطیب: ۱۵۰، الحجۃ لأبی القاسم الأصبہانی : ۲۰۷/۱، وسندہ صحیح)
امام آجری فرماتے ہیں: ینبغی لأھل العلم و العقل اذا سمعوا قائلا یقول: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی شیء قد ثبت عندالعلماء، فعارض انسان جاھل، فقال: لا أقبل الا ماکان فی کتاب اللّٰہ (عزوجل) قیل لہ؛ أنت رجل سوء و أنت ممن حذرناک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و حذر منک العلماء. “اہل علم و عقل کو چاہیے کہ جب وہ کسی کو صحیح ثابت فرمان رسول بیان کرتے ہوئے سنیں اور کوئی جاہل انسان اسے سن کر یہ کہے کہ میں صرف قرآن کو مانتا ہوں، اسے کہا جائے کہ تو برا انسا ن ہے ، تجھ جیسے لوگوں سے ہمیں رسول کریم ﷺ اور علمائے کرام نے خبردار کیا تھا ۔” (الشریعۃ: ۴۹)
امام شافعیؒ فرماتے ہیں: لا تخالف سنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کتاب اللّٰہ بحال. “کسی بھی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی سنت قرآن کریم کے مخالف نہیں ہوسکتی” (الرّسالۃ للشافعی: ۵۴۶)
محقق شاطبی لکھتے ہیں: التعارض اما ان یعتبر من جھۃ ما فی نفس الامر، وامامن جھۃ نظر المجتھد، اما من جھۃ ما فی نفس الامر فیغیر ممکن بالاطلاق…. “تعارض کی دو قسمیں ہیں، یا تو حقیقی ہوگا یا صرف مجتہد کی نظر میں ہوگا، (قرآن و حدیث میں ) حقیقی تعارض بالکل ناممکن ہے ۔” (الموافقات: ۲۹۴/۴)
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث قرآن پر پیش کرو ،اگر قرآن کے موافق ہو تو لے لو ، اگر مخالف ہو تو چھوڑ دو، ہمارا ان سے سوال ہے کہ جب قرآن قرآن سے ٹکرائے، اس صورت میں تم قرآن کی کس آیت کو لوگے اور کس کو چھوڑو گے ؟ جو ان کا جواب ہوگا، وہی ہمارا قرآن و حدیث میں تعارض کے حوالے سے جواب ہوجائے گا ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے : لا ألفین أحدکم متکئا علی أریکتہ ، یاتیہ الأمر من أمری مما أمرت بہ أو نھیت عنہ، فیقول؛ لا ندری، ما وجدنافی کتاب اللّٰہ اتبعناہ. “میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنے صوفہ سے ٹیک لگائے ہوئے ہو اور اس کو امر یا نہی کی صورت میں میرا فرمان پہنچے تو وہ کہے کہ ہم نہیں جانتے ، ہم تو صرف قرآن کی اتباع کریں گے ۔” (أبو داؤد: ۴۶۰۵، ترمذی:۲۶۶۳، ابن ماجہ: ۱۳، مسند الحمیدی: ۵۵۱، دلائل النبوۃ للبیہقی: ۵۴۹/۶ و سندہ صحیح)
اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے “حسن صحیح” ، نیز امام ابن حبان (۱۳) اور امام حاکم (۱۰۸/۱ ، ۱۰۹) نے “صحیح” کہا ہے ۔ حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ، حافظ بغوی نے بھی اس کو “حسن” قرار دیا ہے ۔ (شرح السنۃ: ۲۰۱/۱)
حافظ بغوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : وفی الحدیث دلیل علی أنہ لا حاجۃ بالحدیث الی أن یعرض علی الکتاب ، وأنہ مھما ثبت عن رسول اللّٰہ ﷺ کان حجۃ بنفسہ۔ “یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ، بلکہ جب حدیث صحیح ہو تو وہ بذاتِ خود حجت شرعی ہوگی ۔” (شرح السنۃ:۲۰۱-۲۰۲/۱)
قرآن اور حدیث کے مابین تعارض کی مثال ملاحظہ فرمائیں:
متواتر حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
أنکم سترون ربکم کماترون ھذا القمر، لاتضامون فی رؤیتہ….
“یقیناً عنقریب تم اپنے رب کو دیکھو گے، جس طرح بھِیڑ کے بغیر چاند دیکھتے ہو۔” (صحیح البخاری: ۷۴۳۴، مسلم : ۶۳۳)
قرآن مجید میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿لَنْ تَرَانِیْ﴾ (الاعراف:۱۴۳) “(اے موسیٰ!) آپ مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے ۔”
حدیثِ پاک میں دیدارِ الہٰی کا ثبوت ہے اور قرآن پاک اس کی نفی کررہا ہے ،منکرین حدیث اس تعارض کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث “صحیح” نہیں ، بالفرض اس کو “صحیح” مان لیا جائے تو اس سے مراد “علم” ہے نہ کہ دیدارِ الہٰی۔ بطورِ دلیل وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیش کرتے ہیں:
﴿اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ (النور:۴۱)
“کیا آپ کو علم نہیں کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے ؟”
تو اس تعارض کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے ، اس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں، قرآن نے جس دیدارِ الہٰی کی نفی کی ہے ، اس کا تعلق دنیا سے ہے ، حدیث پاک نے جس کا اثبات کیا ہے ، اس کا تعلق آخرت سے ہے ، یعنی دنیا میں کوئی آنکھ اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتی ، البتہ آخرت میں وہ مومنوں کو اپنا دیدار دے گا ، لہٰذا تعارض ختم ہوا، یہا ں رؤیت کی تعبیر علم سے کرنا قرآن و حدیث اور صحابہ کرام و سلف صالحین کے متفقہ فہم و تصریحات کے خلاف ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ٭اِلیٰ رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ﴾ (القیامۃ:۲۲-۲۳)
“اس دن(قیامت کو مومنوں کے) چہرے شگفتہ اور بارونق ہونگے ، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے “
نظر کی نسبت چہرے کی طرف کی گئی ہے ، جو کہ آنکھوں کا محل ہے ، اس کو “الیٰ” کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے ، معلوم ہوا کہ یہ رؤیت بصری ہو گی نہ کہ قلبی ، یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہوگا اور جو منکر ہوگا، وہ اس سے محروم رہے گا۔
ا نکی اس باطل تاویل کا رد اسی حدیث میں موجود ہے ، جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روزِ قیامت ہونے والے دیدارِ الہٰی کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
ھل تضارون فی رؤیۃ الشمس بالظھیرۃ صحوا، لیس معھا سحاب؟ وھل تضارون فی رؤیۃ القمر لیلۃ البدر صحوا، لیس فیھا سحاب؟ قالوا؛ لا، یا رسو ل اللّٰہ ! قال ؛ ما تضارون فی رؤیۃ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ یوم القیامۃ الا کام تضارون فی رؤیۃ أحدھما.
“جب سورج نصف النہار پر ہو اور اس کےساتھ کوئی بادل نہ ہو تو کیا تمہیں سورج دیکھنے میں کوئی دقت یا دشواری ہوتی ہے ؟ اور جب چودھویں رات کو آسمان پر چاند جلوہ آرا ہو اور اس پر بادل بھی نہ ہوتو کیا چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے ؟ صحابہ نے عرض کی ، نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا : جس طرح تم دنیا میں سورج یا چاند کو دیکھتے ہو ، اسی طرح روزِ قیامت اللہ تبارک و تعالیٰ کا دیدار کرلوگے ۔” (صحیح مسلم: ۱۸۳)
امام ابن قتیبہ ؛لکھتے ہیں: ولو کان اللّٰہ تعالیٰ لا یری فی حال من الأحوال و لا یجوز علیہ النظر، لکان موسیٰ علیہ السلام قد خفی علیہ من وصف اللّٰہ ما علموہ. ” اگر کسی صورت میں بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ناممکن ہو تو یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے جس وصف کو موسیٰ علیہ السلام نہ جان سکے ، اسے منکرین حدیث جان گئے ۔ ” (تاویل مختلف الحدیث: ۲۰۷)
منکرین حدیث کا خود ساختہ اصول باطل ہوا کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا جائے ، اگر قرآن کے موافق ہو تو لے لی جائے اور اگر قرآن کے مخالف ہو تو چھوڑ دی جائے ۔ خوب یاد رہے کہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں ہوتی، ظاہری مخالفت ہوسکتی ہے ، حقیقت میں کوئی مخالفت نہیں ہوسکتی، لہٰذا ایک صحیح، مرفوع اور متصل حدیث پیش کی جائے جو قرآن کے خلاف ہو ، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم اس تعارض کو رفع کردیں گے ، اگر قرآن کا ظاہری تعارض رفع ہوسکتا ہے تو قرآن و حدیث کا ظاہری تعارض دور کیوں نہیں ہوسکتا؟ اگر دور نہ ہو تو یہ سمجھ کا قصور ہوگا۔
منکرین حدیث اس مرض میں مبتلا ہیں، شیطان ان کی طرف باطل القاء کرتا ہے ، ان کی عقلیں سقیم اور فاسد ہوچکی ہیں، شبہات و وساوس کے اندھیروں سے ان کے سینے لبریز ہوچکے ہیں، ان کی دلیلیں جو درحقیقت شبہات ہیں، باطل ثابت ہو چکی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مصداق ہیں:
﴿وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ﴾ (الحج:۱۸)
“اور جسے اللہ ذلیل کرے، اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ، یقیناً اللہ جو چاہتا ہے ، سو کرتا ہے ۔”
نیز فرمایا:﴿اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمْ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمَی اَبْصَارَھُمْ﴾ (محمد: ۲۳)
“یہ (منکرین حدیث جو درحقیقت منکرین قرآن ہیں) وہ لوگ ہیں، جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ، پھر ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔”
حدیث جو حق ہے ، اس کو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں۔
قوام السنۃ امام ابوالقاسم اسماعیل بن محمد الاصبہانی نے کیا خوب لکھا ہے: وقول من قال؛ تعرض السنۃ علی القرآن، فان وافقت ظاھرہ، والا استسلمنا ظاھر القرآن وترکنا الحدیث، فھذا جھل، لأن سنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مع کتاب اللّٰہ عزوجل تقام مقام البیان عن اللّٰہ عزوجل، ولیس شیء من سنن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخالف کتاب اللّٰہ لأن اللّٰہ عزوجل أعلم خلقہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یھدی الی صراط مستقیم فقال؛ ﴿ وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ﴾ (الشوریٰ:۵۳) ولیس لنا مع سنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الأمر شیء الا اتباع و التسلیم ولا یعرض علی القیاس ولاغیرہ، وکل ما سواھا من قول الآدمیین تبع لھا ولا عذر لاحد یتعمد ترک السنۃ، ویذھب الی غیرھا، لأنہ لا حجۃ لقول أحد مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا صحّ. “منکرین حدیث کا یہ کہنا کہ سنت کو قرآن پر پیش کیا جائے گا، اگر وہ قرآن کے موافق ہوئی تو ٹھیک ورنہ ہم قرآن کے ظاہر کو لے لیں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے ، نری جہالت ہے کیونکہ سنتِ رسول ﷺ قرآن کے موافق ہے بلکہ اللہ کی طرف سے قرآن کی تفسیر و بیان اور تشریح ہے ، کوئی سنت قرآن کے مخالف و معارض نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اس بات سے باخبر کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیدھی راہ کی راہنمائی فرماتے ہیں، فرمایا : ﴿ وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ﴾ (الشوریٰ:۵۳) (آپ ضرور ضرور صراطِ مستقیم کی ارشاد و راہنمائی فرماتے ہیں)۔ ہمارے لیے رسول کریم ﷺ کے اتباع و تسلیم کے بغیر کوئی چارہ نہیں، نیز حدیث کو قیاس وغیرہ پر بھی پیش نہیں کیا جائے گا ، امتیوں کے اقوال و افعال تو حدیث کے تابع ہیں (اگر حدیث کے موافق ہوں تو لے لیں گے، ورنہ ترک کردیں گے) کسی کے لئے جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف جانے کی گنجائش نہیں ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف کسی کا قول حجت نہیں ہے ۔” (الحجۃ فی بیان المحجۃ:۳۲۶-۳۲۵/۲)
اہل سنت کے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من رد حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فھو علی شفا ھلکۃ.
“جس نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رد کردیا ، وہ تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔” (الحجۃ فی بیان المحجۃ: ۲۰۷/۱ ، مناقب الامام احمد لابن الجوزی:۱۸۲، و سندہ حسن)
قوام السنۃ ابو اسماعیل الاصبہانی لکھتے ہیں: “آدمی پر اہل بدعت سے بغض لازم ہے ، وہ جہاں بھی ہوں ، تاکہ وہ اللہ کی خاطر محبت اور اللہ کی خاطر بغض و نفرت کرنے والوں میں سے ہوجائے ، اہل سنت سےمحبت اور اہل بدعت سے بغض و نفرت کی کچھ علامات ہیں، جب کسی شخص کو آپ امام مالک بن انس ، امام سفیان بن سعید الثوری ، امام عبدالرحمٰن بن مہدی، امام عبداللہ بن مبارک ،امام محمد بن ادریس الشافعی اور دیگر صحیح العقیدہ ائمہ کرام رحمہم اللہ کا ذکرِ خیر کرتے دیکھیں، تو جان لیں کہ وہ اہل سنت میں سے ہے اور جب کسی کو دیکھیں کہ وہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب میں جھگڑا کر رہا ہے ، اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے یوں فرمایا ہے ، تو وہ کہتا ہے کہ ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ، جان لیں کہ وہ بدعتی ہے، جب کسی آدمی کو کہا جائے کہ تو حدیث کیوں نہیں لکھتا ؟ وہ کہتا ہےکہ عقل بہتر ہے ، جان لیں کہ وہ بدعتی ہے ، جب آپ دیکھیں کہ کوئی اہل فلسفہ و ہندسہ کی مدح سرائی کر رہا ہے ، تو جان لیں کہ وہ گمراہ ہے، جب کسی کو دیکھیں کہ وہ اہل حدیث کو “حشویہ، مشبہہ او ر ناصبہ” کہہ رہا ہو، تو جان لیں کہ وہ بدعتی ہے ، جب کوئی صفاتِ الہٰی کی نفی یا ان کومخلوق سے تشبیہ دے رہا ہو ، تو جان لیں کہ وہ گمراہ ہے ۔” (الحجۃ فی بیان المحجۃ: ۵۴۰-۵۳۹/۲)
اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے : ﴿مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ﴾ (النساء:۸۰)
” جس نے رسول کی اطاعت کی ، درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔”
یہ آیتِ کریمہ نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال و احوال اللہ کی وحی ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال اللہ کی وحی کے تابع ہیں، تو ان کو قرآن کریم پر پیش کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟
حافظ ابن حزم فرماتے ہیں: … فصح ان کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کلہ فی الدین وحی من عنداللہ عزوجل ، لاشک فی ذلک ولا خلاف بین أحد من أھل اللغۃ و الشریعۃ فی أن کل وحی نزل من عنداللہ فھو ذکر منزل. “یہ لاریب حقیقت ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی ساری کی ساری باتیں وحی الہٰی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے منزل من اللہ ذکر ہونے میں لغت و شرع میں کوئی اختلاف نہیں۔” (الاحکام لا بن حزم: ۱۳۵/۱)
حسان بن عطیہ تابعیؒ فرماتے ہیں: کان جبریل ینزل علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالسنۃ کما ینزل علیہ القرآن و یعلمہ ایاھا کما یعلمہ القرآن. “جبریل امین رسول اللہ ﷺ پر سنت کے لئے بھی نازل ہوتے تھے، جس طرح قرآن کے لئے نازل ہوتے تھے، آپ ﷺ کو سنت کی ویسے ہی تعلیم دیتے تھے، جس طرح قرآن کی تعلیم دیتے تھے ۔” (السنۃ لمحمد بن نصر المروزی : ۱۱۶،۲۸ و سندہ صحیح)
ابو البقاء الحسینی الحنفی کہتے ہیں: والحاصل أن القرآن و الحدیث یتحدان فی کونھما وحیا من عنداللہ بدلیل؛ ﴿اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی﴾ (النجم:۵) “الحاصل ، فرمانِ الہٰی:﴿ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی﴾ (النجم:۵) کے مطابق قرآن و حدیث دونوں وحی ہونے میں متحد و متفق ہیں۔” (کلیات ابی البقاء:۲۸۸)
علامہ شوکانی لکھتے ہیں:
وقد اتفق من یعتد بہ من أھل العلم علی أن السنۃ المطھرۃ بتشریع الأحکام، وأنھا کالقرآن فی تحلیل الحلال و تحریم الحرام.
“معتبر علمائے اسلام سنتِ مطہرہ کی مستقل تشریعی حیثیت پر متفق ہیں، یقیناً یہ حلال و حرام میں قرآن کی طرح ہے ۔ “ (ارشاد الفحول للشوکانی : ۳۳)
نیز فرماتے ہیں: ان ثبوت حجیۃ السنۃ المطھرۃ و استقلالھا بتشریع الأحکام، ضرورۃ دینیۃ، ولا یخالف فی ذلک الا من لا حظ لہ فی دین الاسلام.
“سنتِ مطہرہ کی حجیت اور اس کا احکام شرعیہ کا مستقل مصدر ہونے کا ثبوت ضرورتِ دینی ہے ، اس میں اختلاف وہی کرتا ہے ، جس کا دین اسلا م میں کوئی حصہ نہیں۔” (ارشاد الفحول: ۳۳)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا أَطِيعُوْا اللّهَ وَأَطِيعُوْا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ (النساء : ۵۹) “اے اہل ایمان ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو ۔”
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا تو “اطیعوا” کا صیغہ امر الگ الگ ذکر فرمایا ،جب اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا ، تو صیغہ امر نہیں دہرایا، بلکہ عطف پر اکتفا کیا، اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث مستقل بالذات دلیل ہیں، لہٰذا آپ کی احادیث مبارکہ کو کتاب اللہ پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: فأمر تعالی بطاعتہ و طاعۃ رسولہ، وأما الفعل اعلاما بأن طاعۃ الرسول تجب استقلا لا من غیر عرض ما أمر بہ علی الکتاب، بل اذا أمر و جبت طاعتہ مطلقا، سواء کان ما أمر بہ فی الکتاب أو لم یکن فیہ، فانہ أوتی الکتاب و مثلہ معہ. “اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم فرمایا ، “اطیعوا” کو دو بار ذکر کرکے یہ باور کروایا کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیے بغیر اطاعتِ رسول مستقل شرعی مصدر و ماخذہونے کی حیثیت سے واجب ہے ،بلکہ جب حکم دیا تو مطلق طور پر اطاعتِ رسول واجب ہوگئی، خواہ اس بات کاحکم کتاب اللہ میں ہو یا نہ ہو ، یقیناً آپ کو قرآن عطا کیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کی مثل ایک اور چیز (حدیث ) بھی دی گئی ہے ۔” (اعلام الموقعین : ۴۸/۱)
مذکورہ آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام عطاء بن ابی رباح تابعی فرماتے ہیں: أولو العلم والفقہ، وطاعۃ الرسول؛ اتباع الکتاب و السنۃ “اولی الامر سے مراد علماء وفقہاء ہیں اور اطاعتِ رسول کتاب و سنت کی پیروی کا نام ہے ” (السنن الدارمی :۲۲۵،، تفسیر ابن جریر:۱۴۷/۵، وسندہ صحیح) قرآن و حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہوچکا ہے کہ حدیث وحی ہے ، اس کو قرآن پر پیش کرنا گمراہی اور ضلالت ہے، نیز اس کا انکار کفر ہے ۔
حافظ سیوطی فرماتے ہیں: ان من أنکر کون حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم قولا کان أوفعلا، بشرطہ المعروف فی الأصول حجۃ، کفر و خرج عن دائرۃ الاسلام، وحشر مع الیھود و النصاری أو مع من شاء اللہ من فرق الکفرۃ.
“حدیث قولی ہو یا فعلی ، اسے شرعی دلیل سمجھتے ہوئے ، جس نے بھی انکار کیا ، وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ، اس کا حشر یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہوگایا ان کافر فرقوں کے ساتھ جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ چاہے گا ۔” (مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ:۳)امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح پر منکرین حدیث کا اعتراض اعتراض : حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر 6سال تھی جب ان سے خلوت کی گئی تو عمر 9سال تھی ۔ (صحیح بخاری کتاب النکاح صفحہ: 75) (اسلام کے مجرم صفحہ: 31)
ازالہ : جناب محترم مولانا صاحب نے روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
''قرآن کے مطابق ذہنی اور جسمانی بلوغت نکاح کے لئے لازم ہے قرآن نکاح کو انتہائی سنجیدہ معاہدہ کہتا ہے بچے سنجیدہ معاہدہ کیسے کرسکتے ہیں اگر آپ کی بیٹی یا بہن 6یا 9سال کی ہے تو آپ اس موضوعہ روایت کا زہر محسوس کرسکتے ہیں'' ۔(اسلام کے مجرم صفحہ :31)
ازالہ:۔
زیر بحث روایت صحیح بخاری میں موجود ہے جو کہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ عائشہ کا اپنا قول ہے کہ:
أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم تزوجھا وھی بنت ست سنین وبنی بھا وھی بنت تسع سنین
(صحیح بخاری کتاب النکاح باب تزویج الأب ابنة من الامام رقم الحدیث5134)
'' عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چھ برس کی عمر میں نکاح کیا اور نو برس کی عمر میں رخصتی کی گئی ''
(1) روایت کا ترجمہ کرتے وقت ڈاکٹر شبیرنے بنٰی کا ترجمہ خلوت کیا ہے جو کہ غلط ہے بنٰی کا معنی رخصتی ہے نہ کہ خلوت (النھایہ فی غریب الحدیث جلد 1صفحہ156)
(2) اس روایت کو مولانا نےموضوع کہا ہے جبکہ مولانا صاحب موصوف جو جرح وتعدیل کی ابجد سے بھی واقف نہیں اور صحیح روایت کو اپنے مبلغ علم کی بنیا د پر ضعیف بھی نہیں بلکہ موضوع (من گھڑت ) قرار دے رہے ہیں ؟
(3) کیاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نابالغہ تھیں اور اگر نا بالغہ تھیں تو قرآن نے کہاں نابالغہ سے نکاح ممنوع قرار دیا ہے :
(4) مولانا صاحب فرماتے ہیں :''قرآن کے مطابق ذہنی اور جسمانی بلوغت نکاح کے لئے لازم ہے''۔ ھٰذا بھتان عظیم ۔ قرآن حکیم میں ا یسا حکم کہیں موجودنہیں۔ حالانکہ قرآن مجید تو اس کے بالکل برعکس اصول بیان کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
''اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے ما یوس ہوچکی ہیں اگرتمھیں کچھ شبہ ہو تو انکی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی کہ جنھیں ابھی حیض شروع نہ ہوا ہو ۔''(سورة الطلاق ۔آیت :4)
مندرجہ بالا آیت میں اللہ رب العالمین عدت کے قوانین بیان کررہا ہے کہ ،
(1) وہ عورتیں جنھیں حیض آنا بند ہوگیا ہو ۔ان کی عدت تین ماہ ہے ۔
(2) وہ عورتیں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے (یعنی جو ابھی بالغ نہیں ہوئیں)۔
قارئین کرام !.
عورت پر عدت کے احکام خاوند کے انتقال کے بعد اور یا جب طلاق مل جائے اور یا وہ خلع حاصل کرے اس وقت لاگو ہوتے ہیں ۔
اب وہ لڑکی جس کو ابھی حیض نہیں آیا (یعنی بالغ نہیں ہوئی ) نکاح کے بعد اس کی عدت کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور عدت منکوحہ کے لئے ہے لہٰذا کم سن کا نکاح اور عدت کا بیان قرآن مجید میں موجود ہے اب جو اعتراض حدیث پر ہے وہی قرآن پر بھی وارد ہوتا ہے ۔
مزید برآں :
ہر ملک وعلاقے کے ماحول کے مطابق لوگوں کے رنگ وروپ ،جسمانی وجنسی بناوٹ اورعادت واطوار جس طرح باہم مختلف ہوتے ہیں اسی طرح سن بلوغت میں بھی کافی تفاوت و فرق ہوتا ہے ۔ جن ممالک میں موسم سرد ہوتا ہے وہاں بلوغت کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جہاں موسم گرم ہوتا ہے وہاں بلوغت جلد وقوع پذیر ہوجاتی ہے ۔ مثلاً عرب ایک گرم ملک ہے ۔وہاں کی خوراک بھی گرم ہوتی ہے جوکہ عموماً کھجور اور اونٹ کے گوشت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لئے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا 9سال کی عمر میں بالغ ہوجانا بعید از عقل نہیں ۔ السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ❤
آج لوگ کم عمری کی شادیوں پر پابندی عائد کرتے ہیں اسے نا جائز کہتے ہیں جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مذید ترقی ہو گئی
اور کم سن بچیاں ناجائز بچے پیدا کرنے لگیں ایسے ہی بیشمار واقعات میرے علم میں ہیں
دنیا کی کم سن ترین ماں بننے والی لڑکی لینا میڈینا
World's Youngest Mother
Peruvian five-year-old Lina Medina, accompanied by her 11-month-old-son Gerardo, and Doctor Lozada who attended her son's birth, are shown in this 1940 file photo taken in Lima's hospital.
When her child was born by Caesarean section in May 1939, Medina made medical history, and is still the youngest known mother in the world.
Lina Medina's parents thought their 5-year-old daughter had a huge abdominal tumor and when shamans in their remote village in Peru's Andes could find no cure, her father carried her to a hospital.
Just over a month later, she gave birth to a boy.
Worlds youngest mother
Medina was born on September 27, 1933 in the small village of Paurange. She was only 5 years 8 months old at the birth of her child on Mother's Day, May 14, 1939.
Born at full term at Lima's maternity clinic, her child was taken through a caesarian operation (Dr. Lozada and Busalleu, operators, Dr. Colretta, anesthesiologist). The child (boy), weighing 2,700 grams, was well formed and in good health. Child and mother were able to leave the clinic after only a few days.
Doctor Lozada has conducted very detailed studies since the diagnostic of the pregnancy which aroused much curiosity in the country; he took an x-ray of the child and her baby, established a diagnostic of the fetal situation, observed the state of functionality of the little mother who had begun menstruating at the age of 8 months. At four years old she had already developed breasts as well as pubic hair, her body proportions were a bit amazing and her bone hardening a bit advanced, things that are often observed in cases of such premature pregnancy.
After taunting from schoolmates, Medina's son, Gerardo - who was named after one of the doctors who attended Medina and who became their mentor - discovered when he was 10 that the person he had grown up believing to be his sister was in fact his mother.
Gerardo died in 1979 at age 40 from a disease that attacks the body's bone marrow, but it was said it was not clear there was any link with his illness and the fact his mother had been so young at his birth.
Medina herself married and in 1972 had a second son, 33 years after her first. Her second child now lives in Mexico.
اور
اسلاف نے ایسے بہت سے واقعات نقل فرمائے ہیںجو منکرین حدیث سے اوجھل ہیں صرف امی عائشہ رضی اللہ عنہا کا قصہ ہی کیوں زیر بحث ہے حالانکہ کئی حوالے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا معاملہ نہیں پہلے بھی اس قسم کے بہت سارے معاملات ہوچکے ہیںاور اب بھی اخباروں میں اس قسم کی خبریں موجود ہیں ۔ عرب کے معاشرے میں نو (9) سال کی عمر میں بچہ جنم دینا اور اس عمر میں نکاح کرنارواج تھاپر ان لوگوں کے لئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔مثلاً ،
(1) ابوعاصم النبیل کہتے ہیں کہ میری والدہ ایک سو دس (110) ہجری میں پیدا ہوئیں اور میں ایک سو بائیس( 122) ہجری میں پیدا ہوا۔ (سیر اعلاالنبلاء جلد7رقم1627) یعنی بارہ سال کی عمر میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کی والدہ کی شادی دس سے گیارہ سال کی عمر میں ہوئی ہوگی۔
(2) عبداللہ بن عمر و اپنے باپ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے صرف گیارہ سال چھوٹے تھے ۔
( تذکرة الحفاظ جلد1ص93)
(3) ہشام بن عروہ نے فاطمہ بنت منذر سے شادی کی اور بوقت زواج فاطمہ کی عمر نو سال تھی ۔ (الضعفاء للعقیلی جلد4رقم 1583، تاریخ بغداد 222/1)
(4) عبداللہ بن صالح کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت نو سال کی عمر میں حاملہ ہوئی اور اس روایت میں یہ بھی درج ہے کہ ایک آدمی نے ان کو بتایاکہ اس کی بیٹی دس سال کی عمر میں حاملہ ہوئی ۔ (کامل لابن عدی جلد5ر قم 1015)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی نو سال کی عمر میں عبداللہ بن عامر سے کرائی (تاریخ ابن عساکر جلد70) ۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ عباد بن عباد المہلبی فرماتے ہیں میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی نو سال کی عمر میں اس نے بیٹی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچہ جنم دیا ۔(سنن دارقطنی جلد3کتاب النکاح رقم 3836) ان دلائل کے علاوہ اور بھی بے شماردلائل موجود ہیں جو کہ طالب حق کے لئے کافی اور شافی ہونگے ۔ ان شاء اللہ ۔
ماضی قریب میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ رونما ہواکہ 8سال کی بچی حاملہ ہوئی اور 9سال کی عمر میں بچہ جنا ۔ (روزنامہ DAWN 29 مارچ1966) دور حاضر کے نامور اسلامک اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنے ایک انٹر ویو میں فرماتے ہیں : ''حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں میرے ذہن میں بھی کافی شکوک وشبہات تھے۔بطور پیشہ میں ایک میڈیکل ڈاکٹر ہوں۔ ایک دن میرے پاس ایک مریضہ آئی جس کی عمر تقریباً 9سال تھی اور اسے حیض آرہے تھے۔ تو مجھے اس روایت کی سچائی اور حقانیت پر یقین آگیا ' علاوہ ازیں روزنامہ جنگ کراچی میں 16اپریل 1986ء کوایک خبر مع تصویرکے شائع ہوئی تھی جس میں ایک نو سال کی بچی جس کا نام (ایلینس) تھا اور جو برازیل کی رہنے والی تھی بیس دن کی بچی کی ماں تھی۔ (روزنامہ آغاز میں یکم اکتوبر 1997کوایک خبر چھپی کہ (ملتان کے قریب ایک گاؤں میں)ایک آٹھ سالہ لڑکی حاملہ ہوگئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس خدشہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ زچکی کے دوران ہلاک ہوجائے.پھر 9دسمبر 1997کو اسی اخبار میں دوسری خبر چھپی کہ ''ملتان (آغاز نیوز) ایک آٹھ سالہ پاکستانی لڑکی نے ایک بچہ کو جنم دیا ہے. ڈاکٹروں نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ بچہ صحت مند ہے ۔) قرآن میں اللہ رب العالمین نے نوح علیہ السلام کی طویل العمری کا ذکر فرمایا ہے کہ :
فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَة ِلَّا خَمْسِیْنَ عَاماً (سورة العنکبوت ۔آیت 14)
''نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال ٹھہرے ''
یہ بات بھی ناقابل اعتبار اور عقل کے خلاف نظر آتی ہے تو اس کا آپ کیا جواب دیں گے ؟ پس جو جواب آپ دیں گے وہی جواب اس حدیث کا بھی سمجھ لی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں