*فجر کے فرض کے بعد سنت ادا کرنا*
نماز فجر سے قبل اگر كسى شخص كى سنتيں رہ جائيں اور وہ ادا نہ كر سكا ہو تو وہ نماز فجر كے بعد انہيں ادا كر سكتا ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:
قيس بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نكلے تو نماز كے ليے اقامت كہى گئى اور ميں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ صبح كى نماز ادا كى، پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے نماز ادا كرتے ہوئے پايا، تو فرمانے لگے:
" اے قيس ٹھر جاؤ، كيا دو نمازيں ايك ساتھ ؟
تو ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں نے فجر كى دو ركعت ادا نہيں كى تھيں، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: پھر نہيں "
اور ابو داود كے الفاظ يہ ہيں:
" تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم خاموش ہو گئے"
سنن ترمذى حديث نمبر ( 422 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 1267 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.
خطابى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
اس حديث ميں بيان ہوا ہے كہ جس كى فجر كى سنتيں فرض ادا كرنے سے قبل رہ گئيں ہوں وہ طلوع شمس سے قبل يہ دو ركعات ادا كر سكتا ہے" انتہى
ماخوذ از: عون المعبود.
اور تحفۃ الاحوذى ميں ہے:
" كيا دو نمازيں ايك ساتھ ؟ " يہ استفہام انكارى ہے، يعنى كيا ايك وقت ميں دو فرض نمازيں؟ كيونكہ نماز فجر كے بعد نفلى نماز نہيں ہے.
" تو پھر نہيں "
تنبيہ: آپ كو علم ہونا چاہيے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا: " تو پھر نہيں " اس كا معنى يہ ہے كہ تو پھر ان كے پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں ہے، اور اس پر ابو داود كى روايت كے يہ الفاظ دلالت كرتے ہيں:
" تو انہوں نے كچھ نہ كہا"
عراقى رحمہ اللہ كہتے ہيں: اس كى سند حسن ہے، اور ابن ابى شيبہ كى روايت ان الفاظ كے ساتھ ہے:
" تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہ تو انہيں حكم ديا اور نہ ہى انہيں منع كيا"
اور ابن حبان كى روايت ميں ہے:
" تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كا انكار نہيں كيا"
اور يہ سب روايات ايك دوسرے كى تفسير اور شرح بيان كر رہى ہيں.
نماز فجر سے قبل اگر كسى شخص كى سنتيں رہ جائيں اور وہ ادا نہ كر سكا ہو تو وہ نماز فجر كے بعد انہيں ادا كر سكتا ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:
قيس بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نكلے تو نماز كے ليے اقامت كہى گئى اور ميں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ صبح كى نماز ادا كى، پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے نماز ادا كرتے ہوئے پايا، تو فرمانے لگے:
" اے قيس ٹھر جاؤ، كيا دو نمازيں ايك ساتھ ؟
تو ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں نے فجر كى دو ركعت ادا نہيں كى تھيں، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: پھر نہيں "
اور ابو داود كے الفاظ يہ ہيں:
" تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم خاموش ہو گئے"
سنن ترمذى حديث نمبر ( 422 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 1267 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.
خطابى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
اس حديث ميں بيان ہوا ہے كہ جس كى فجر كى سنتيں فرض ادا كرنے سے قبل رہ گئيں ہوں وہ طلوع شمس سے قبل يہ دو ركعات ادا كر سكتا ہے" انتہى
ماخوذ از: عون المعبود.
اور تحفۃ الاحوذى ميں ہے:
" كيا دو نمازيں ايك ساتھ ؟ " يہ استفہام انكارى ہے، يعنى كيا ايك وقت ميں دو فرض نمازيں؟ كيونكہ نماز فجر كے بعد نفلى نماز نہيں ہے.
" تو پھر نہيں "
تنبيہ: آپ كو علم ہونا چاہيے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا: " تو پھر نہيں " اس كا معنى يہ ہے كہ تو پھر ان كے پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں ہے، اور اس پر ابو داود كى روايت كے يہ الفاظ دلالت كرتے ہيں:
" تو انہوں نے كچھ نہ كہا"
عراقى رحمہ اللہ كہتے ہيں: اس كى سند حسن ہے، اور ابن ابى شيبہ كى روايت ان الفاظ كے ساتھ ہے:
" تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہ تو انہيں حكم ديا اور نہ ہى انہيں منع كيا"
اور ابن حبان كى روايت ميں ہے:
" تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كا انكار نہيں كيا"
اور يہ سب روايات ايك دوسرے كى تفسير اور شرح بيان كر رہى ہيں.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں