اذان کا جواب
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن".متفق عليه(صحيح البخاري:٦١١وصحيح مسلم:٣٨٣)
ترجمه:حضرت ابو سعيد خدرى رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اذان سنوتو اسی طرح کہو جیسے مٶذن کہتا ہے۔
یہ حدیث بظاہر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر اذان سننے والے یا والی پر اذان کا جواب دینا واجب ہے،اس لئے کہ امر کا صیغہ اصلا(بنيادى طور پر) وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ظاہریہ نے یہی راۓ اختیار کی ہے اورعلامہ طحاوی رحمہ اللہ نے سلف کی ایک جماعت کا یہی مسلک بیان کیا ہے۔(شرح معانی الآثار:١٤٦٨)
جبکہ جمہور کے نزدیک اذان سننے والے کے لئے اس کا جواب دینا مستحب ہے واجب نہیں اور یہی درست راۓ ہے،امر کو وجوب سے استحباب کی طرف پھیرنے والی دلیل مالک بن حویرث رضي الله عنه كى یہ حديث ہے:
عن مالك بن الحويرث رضي الله عنه أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من قومي فأقمنا عنده عشرين ليلة ،وكان رحيما رفيقا،فلما رأى شوقنا إلى أهالينا قال:ارجعوا فكونوا فيهم وعلموهم وصلوا ،فإذا حضرت الصلوة فليؤذن لكم أحدكم وليؤمكم أكبركم .(صحيح البخاري: ٦٢٨)
ترجمہ:حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:میں اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورہم نے آپ کے ہاں بیس راتیں قیام کیا۔آپ انتہائی مہربان اور رحم دل تھے،جب آپ نے محسوس کیا کہ ہمارا اشتیاق اہل خانہ کی طرف ہےتو فرمایا:اپنے گھروں کو لوٹ جاٶ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہو،انھیں دین کی تعلیم دو اور نماز پڑھا کرو،اذان کا وقت آۓ تو تم میں سے کوئی اذان دے پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کے فرا ئض انجام دے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان کا جواب دینا واجب نہیں کیونکہ یہ تعلیم کاموقع تھااور ضرورت اس بات کی تھی کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاءکو ضرورت پڑنے والی تمام باتیں بتلائی جائیں پھربھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان و امامت کی بابت ان کو تعلیم دی مگر اذان کا جواب دینےکی بابت کچھ نہ فرمایا،جس سے معلوم ہوا کہ اذان کا جواب دینا مستحب اور افضل ہے واجب نہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بھی معلوم ہواکہ اذان کا جواب دینےوالا یا دینےوالی مٶذن کے کلمات کوپورے طور پر دوہرائیں گےاور جس طرح مٶذن کہے اسی طرح اس کے پیچھے پیچھے کہتے جائیں گے،مگر اس حدیث کے اجمال کی وضاحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے(الأحاديث يفسر بعضها بعضا):
عن عمر رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا قال المؤذن الله أكبر الله أكبر ، فقال أحدكم الله أكبر الله أكبر،ثم......ثم قال: حي على الصلاة، قال: لاحول ولاقوة إلابالله، ثم قال: حي على الفلاح،قال:لاحول ولاقوة إلا بالله،ثم....من قلبه دخل الجنة".(صحيح مسلم:٣٨٥)
ترجمہ:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:جب مٶذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم میں سے کوئی اللہ اکبر اللہ اکبرکہےپھر........پھروہ(مؤذن)حی علی الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة الا باللہ کہے،پھر مٶذن حی علی الفلاح کہے تو وہ لا حول ولا قوة الا باللہ کہے،پھر ...........،پھر (مؤذن) لااله إلاالله كہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا الہ الا اللہ کہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
یعنی حی علی الصلاة اور حی علی الفلاح کے جواب میں وہی کلمات نہیں دوہرائے جائیں گے،بلکہ لا حول ولا قوة الا باللہ کہا جائیگا۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بھی معلوم ہواکہ ہر اذان سننے والا،خواہ قرآن پڑھ رہا ہو ،ذکر و اذکار کر رہا ہو یا دعا میں مشغول ہو ، جب اذان سنے تو قرأت اور ذكر وغيره بند كركے اذان کا جواب دے۔اس لئے کہ اذان کا جواب دینا ایک مٶقت عبادت ہےبرخلاف قرأت ،ذكر اور دعا كے۔اسی طرح اذان سننے والا خواہ با وضو ہو یا بےوضو،جنبی ہو یا حائضہ ہر ایک کو جواب دینا چاہئے۔
خلاصہء کلام یہ کہ اذان کا جواب سواۓ ان حالتوں کے جن میں ذکر سے روکا گیا ہے،جیسے بیت الخلا میں یا ہمبستری کے وقت،ہر حال میں دینا چاہئے۔البتہ نمازی حالت نماز میں اذان کا جواب نہ دےگا گرچہ نفل نماز ہی پڑھ رہا ہو ،کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان فی الصلاة شغلا“ بلا شبہ نماز میں مشغوليت ہے۔(صحيح البخاري: ١١٩٩)
حدیث ابو سعید خدری کے الفاظ”اذا سمعتم“سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کا جواب دینا اذان سننے کے ساتھ مشروط ہے یہ بھی ضروری نہیں کہ اذان سننے والا مٶذن کو دیکھ بھی رہا ہو ، لہذا دور حاضر میں لاٶڈ اسپیکر کے ذریعہ سنائی پڑنے والی اذان کا بھی ویسے ہی جواب دیا جائےگا جس طرح عہد نبوی میں اذان کا جواب دیا جاتا تھا۔
اسی طرح”إذا سمعتم النداء“کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بھی اذانیں سنائی دیں ہر ایک کا جواب دینا بہتر اور باعث اجر و ثواب ہے،یہی عز بن عبد السلام ،ابن تیمیہ اور علامہ نووی رحمہم اللہ کی رائے ہے،جبکہ بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ اذان کا جواب دینا پہلے مٶذن کے ساتھ خاص ہے اور بعض کے نزدیک صرف اسی مسجد کی اذان کاجواب دینا چاہئے جس میں اذان سننے والا نماز پڑھتا ہے۔لیکن پہلی راۓ زیادہ قوی ہے کیونکہ حدیث کے الفاظ بظاہر اسی کا تقاضہ کرتے ہیں اور اذان کا جواب دینا ایک قسم کا ذکر الٰہی ہےپس جس شخص نے جواب دیا وہ خیر وبھلائی اور اجر وثواب کا حق دار ہوا،البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اذان کا جواب دینا مستحب ہے واجب نہیں اور پہلی اذان کا جواب دینا افضل ہے جیسا کہ عز بن عبدالسلام نے فرمایا ہے:(وإجابة الأول أفضل....."فتاوى لعز بن عبدالسلام،ص:٧٨“)
"مثل ما يقول"کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان فجر میں ”الصلاة خیر من النوم“ کے جواب میں ”الصلاة خیر من النوم“ کے الفاظ ہی کہے جائیں، اس لئے کہ اس کے عموم سے سواۓ حیعلتین(حي على الصلاة اور حي على الفلاح)کے کسی کلمے کا استثناء ثابت نہیں ۔بعض لوگوں کا اس کے جواب میں ”صدقت وبررت“ کہنے کی کوئی دلیل نہیں ۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:أن قول المجيب "صدقت وبررت" لاأصل له، يعنى اذان كا جواب دينے والے کے لئے ”صدقت وبررت“ کہنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔(التلخيص:٢٢٢/١)
اس حديث كے لفظ ”النداء“سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اذان کا جواب دینا چاہئے اسی طرح اقامت کا بھی جواب دینا چاہیئے ،کیونکہ لفظ ”نداء“اذان و اقامت دونوں کو شامل ہے،لہٰذا اقامت کے جواب میں بھی وہی الفاظ دوہرانے چاہئیں جو اقامت کے لئے کہے جائیں۔اور جس روایت میں قدقامت الصلاة کے جواب میں أقامها الله و أدامها کہنے کا ذکر آیا ہے وہ ضعيف ہونے کی بنا پر قابل حجت اور لائق استدلال نہیں ۔(ضعيف أبي داؤد:١٠٤،الإرواء:٢٤١تلخيص الحبير:٣٧٨/١)
اسى طرح"أشهد أن محمدا رسول الله "سن کر انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگانا بھی درست نہیں ۔اور جس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:(المقاصدالحسنةللسخاوى:٤٥٠ميں یہ روایت حضرت خضر علیہ السلام کیطرف منسوب ہے) جس شخص نے مٶذن کے کلمات ”اشہد ان محمدا رسول اللہ “ سن کر کہا”مرحبا بحبیبتی و قرة عینی محمد بن عبداللہ ؐ“ اور انگوٹھوں کا بوسہ لے کر انھیں اپنی آنکھوں پر لگایا وہ شخص کبھی نہ اندھا ہو گا اور نہ آنکھ کی تکلیف میں مبتلا ہو گا، وه ضعيف ہے۔(السلسة الضعيفة:٧٣،المقاصدالحسنة:٤١٥،كشف الخفاء للعجلونى:٢٧٠/٢)
خلاصہ کلام یہ کہ اذان کا جواب دینا بڑی ہی فضیلت و اہمیت اور اجر و ثواب کا کام ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو بغور اذان سننے اس کا جواب دینے اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین۔
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن".متفق عليه(صحيح البخاري:٦١١وصحيح مسلم:٣٨٣)
ترجمه:حضرت ابو سعيد خدرى رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اذان سنوتو اسی طرح کہو جیسے مٶذن کہتا ہے۔
یہ حدیث بظاہر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر اذان سننے والے یا والی پر اذان کا جواب دینا واجب ہے،اس لئے کہ امر کا صیغہ اصلا(بنيادى طور پر) وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ظاہریہ نے یہی راۓ اختیار کی ہے اورعلامہ طحاوی رحمہ اللہ نے سلف کی ایک جماعت کا یہی مسلک بیان کیا ہے۔(شرح معانی الآثار:١٤٦٨)
جبکہ جمہور کے نزدیک اذان سننے والے کے لئے اس کا جواب دینا مستحب ہے واجب نہیں اور یہی درست راۓ ہے،امر کو وجوب سے استحباب کی طرف پھیرنے والی دلیل مالک بن حویرث رضي الله عنه كى یہ حديث ہے:
عن مالك بن الحويرث رضي الله عنه أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من قومي فأقمنا عنده عشرين ليلة ،وكان رحيما رفيقا،فلما رأى شوقنا إلى أهالينا قال:ارجعوا فكونوا فيهم وعلموهم وصلوا ،فإذا حضرت الصلوة فليؤذن لكم أحدكم وليؤمكم أكبركم .(صحيح البخاري: ٦٢٨)
ترجمہ:حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:میں اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورہم نے آپ کے ہاں بیس راتیں قیام کیا۔آپ انتہائی مہربان اور رحم دل تھے،جب آپ نے محسوس کیا کہ ہمارا اشتیاق اہل خانہ کی طرف ہےتو فرمایا:اپنے گھروں کو لوٹ جاٶ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہو،انھیں دین کی تعلیم دو اور نماز پڑھا کرو،اذان کا وقت آۓ تو تم میں سے کوئی اذان دے پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کے فرا ئض انجام دے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان کا جواب دینا واجب نہیں کیونکہ یہ تعلیم کاموقع تھااور ضرورت اس بات کی تھی کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاءکو ضرورت پڑنے والی تمام باتیں بتلائی جائیں پھربھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان و امامت کی بابت ان کو تعلیم دی مگر اذان کا جواب دینےکی بابت کچھ نہ فرمایا،جس سے معلوم ہوا کہ اذان کا جواب دینا مستحب اور افضل ہے واجب نہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بھی معلوم ہواکہ اذان کا جواب دینےوالا یا دینےوالی مٶذن کے کلمات کوپورے طور پر دوہرائیں گےاور جس طرح مٶذن کہے اسی طرح اس کے پیچھے پیچھے کہتے جائیں گے،مگر اس حدیث کے اجمال کی وضاحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے(الأحاديث يفسر بعضها بعضا):
عن عمر رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا قال المؤذن الله أكبر الله أكبر ، فقال أحدكم الله أكبر الله أكبر،ثم......ثم قال: حي على الصلاة، قال: لاحول ولاقوة إلابالله، ثم قال: حي على الفلاح،قال:لاحول ولاقوة إلا بالله،ثم....من قلبه دخل الجنة".(صحيح مسلم:٣٨٥)
ترجمہ:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:جب مٶذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم میں سے کوئی اللہ اکبر اللہ اکبرکہےپھر........پھروہ(مؤذن)حی علی الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة الا باللہ کہے،پھر مٶذن حی علی الفلاح کہے تو وہ لا حول ولا قوة الا باللہ کہے،پھر ...........،پھر (مؤذن) لااله إلاالله كہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا الہ الا اللہ کہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
یعنی حی علی الصلاة اور حی علی الفلاح کے جواب میں وہی کلمات نہیں دوہرائے جائیں گے،بلکہ لا حول ولا قوة الا باللہ کہا جائیگا۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بھی معلوم ہواکہ ہر اذان سننے والا،خواہ قرآن پڑھ رہا ہو ،ذکر و اذکار کر رہا ہو یا دعا میں مشغول ہو ، جب اذان سنے تو قرأت اور ذكر وغيره بند كركے اذان کا جواب دے۔اس لئے کہ اذان کا جواب دینا ایک مٶقت عبادت ہےبرخلاف قرأت ،ذكر اور دعا كے۔اسی طرح اذان سننے والا خواہ با وضو ہو یا بےوضو،جنبی ہو یا حائضہ ہر ایک کو جواب دینا چاہئے۔
خلاصہء کلام یہ کہ اذان کا جواب سواۓ ان حالتوں کے جن میں ذکر سے روکا گیا ہے،جیسے بیت الخلا میں یا ہمبستری کے وقت،ہر حال میں دینا چاہئے۔البتہ نمازی حالت نماز میں اذان کا جواب نہ دےگا گرچہ نفل نماز ہی پڑھ رہا ہو ،کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان فی الصلاة شغلا“ بلا شبہ نماز میں مشغوليت ہے۔(صحيح البخاري: ١١٩٩)
حدیث ابو سعید خدری کے الفاظ”اذا سمعتم“سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کا جواب دینا اذان سننے کے ساتھ مشروط ہے یہ بھی ضروری نہیں کہ اذان سننے والا مٶذن کو دیکھ بھی رہا ہو ، لہذا دور حاضر میں لاٶڈ اسپیکر کے ذریعہ سنائی پڑنے والی اذان کا بھی ویسے ہی جواب دیا جائےگا جس طرح عہد نبوی میں اذان کا جواب دیا جاتا تھا۔
اسی طرح”إذا سمعتم النداء“کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بھی اذانیں سنائی دیں ہر ایک کا جواب دینا بہتر اور باعث اجر و ثواب ہے،یہی عز بن عبد السلام ،ابن تیمیہ اور علامہ نووی رحمہم اللہ کی رائے ہے،جبکہ بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ اذان کا جواب دینا پہلے مٶذن کے ساتھ خاص ہے اور بعض کے نزدیک صرف اسی مسجد کی اذان کاجواب دینا چاہئے جس میں اذان سننے والا نماز پڑھتا ہے۔لیکن پہلی راۓ زیادہ قوی ہے کیونکہ حدیث کے الفاظ بظاہر اسی کا تقاضہ کرتے ہیں اور اذان کا جواب دینا ایک قسم کا ذکر الٰہی ہےپس جس شخص نے جواب دیا وہ خیر وبھلائی اور اجر وثواب کا حق دار ہوا،البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اذان کا جواب دینا مستحب ہے واجب نہیں اور پہلی اذان کا جواب دینا افضل ہے جیسا کہ عز بن عبدالسلام نے فرمایا ہے:(وإجابة الأول أفضل....."فتاوى لعز بن عبدالسلام،ص:٧٨“)
"مثل ما يقول"کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان فجر میں ”الصلاة خیر من النوم“ کے جواب میں ”الصلاة خیر من النوم“ کے الفاظ ہی کہے جائیں، اس لئے کہ اس کے عموم سے سواۓ حیعلتین(حي على الصلاة اور حي على الفلاح)کے کسی کلمے کا استثناء ثابت نہیں ۔بعض لوگوں کا اس کے جواب میں ”صدقت وبررت“ کہنے کی کوئی دلیل نہیں ۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:أن قول المجيب "صدقت وبررت" لاأصل له، يعنى اذان كا جواب دينے والے کے لئے ”صدقت وبررت“ کہنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔(التلخيص:٢٢٢/١)
اس حديث كے لفظ ”النداء“سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اذان کا جواب دینا چاہئے اسی طرح اقامت کا بھی جواب دینا چاہیئے ،کیونکہ لفظ ”نداء“اذان و اقامت دونوں کو شامل ہے،لہٰذا اقامت کے جواب میں بھی وہی الفاظ دوہرانے چاہئیں جو اقامت کے لئے کہے جائیں۔اور جس روایت میں قدقامت الصلاة کے جواب میں أقامها الله و أدامها کہنے کا ذکر آیا ہے وہ ضعيف ہونے کی بنا پر قابل حجت اور لائق استدلال نہیں ۔(ضعيف أبي داؤد:١٠٤،الإرواء:٢٤١تلخيص الحبير:٣٧٨/١)
اسى طرح"أشهد أن محمدا رسول الله "سن کر انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگانا بھی درست نہیں ۔اور جس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:(المقاصدالحسنةللسخاوى:٤٥٠ميں یہ روایت حضرت خضر علیہ السلام کیطرف منسوب ہے) جس شخص نے مٶذن کے کلمات ”اشہد ان محمدا رسول اللہ “ سن کر کہا”مرحبا بحبیبتی و قرة عینی محمد بن عبداللہ ؐ“ اور انگوٹھوں کا بوسہ لے کر انھیں اپنی آنکھوں پر لگایا وہ شخص کبھی نہ اندھا ہو گا اور نہ آنکھ کی تکلیف میں مبتلا ہو گا، وه ضعيف ہے۔(السلسة الضعيفة:٧٣،المقاصدالحسنة:٤١٥،كشف الخفاء للعجلونى:٢٧٠/٢)
خلاصہ کلام یہ کہ اذان کا جواب دینا بڑی ہی فضیلت و اہمیت اور اجر و ثواب کا کام ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو بغور اذان سننے اس کا جواب دینے اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں