صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آتا ہے کہ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں کے سامنے اپنے سر کو دھویا اور سر کا غسل کیا۔ شیعہ رافضی اور منکرین حدیث اس سے حضرت عائشہ طاہرہ رضی اللہ عنہا اور صحیح حدیث پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس حدیث کی وضاحت کچھ اس طرح ہے
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : حدثنا عبداللہ بن محمد قال حدثنی شعبہ قال حدثنی ابو بکر بن حفص قال سمعت ابا سلمۃ یقول دخلت انا و اخو عائشہ فسالھا اخوھا عن غسل النبی ﷺ؟ فدعت یاناء نحو من صاع فاغتلست و افاضت علی راسھا و بیننا حجاب (صحیح بخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع و نحوہ، حدیث نمبر 251)۔
ابو سلمہ (بن عبدالرحمان) فرماتے ہیں کہ: میں اور عائشہ (رضی اللہ عنہا) کا (رضاعی ) بھائی (ہم دونوں) عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس گئے ، آپ کے (رضاعی) بھائی نے نبی ﷺ کے (سر کے) غسل کے بارے میں پوچھا (کہ یہ کیسا تھا؟) تو انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے صاع (ڈھائی کلو) کے برابر (پانی کا) ایک برتن منگوایا پھر انہوں نےغسل کیا اور اپنےسر پر پانی بہایا، ہمارے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔
اس حدیث کو امام مسلم ، نسائی، احمد بن حنبل، ابو نعیم الاصبھانی، ابو عوانہ، اور بیہقی نے شعبہ (بن الحجاج) کی سند سے مختصرا و مطولا نحو المعنی بیان کیا ہے۔
*اس حدیث کے مفہوم میں درج ذیل باتیں اہم ہیں۔*
*پہلی بات :* صحابہ کرام کے دور میں اس بات پر شدید اختلاف ہو گیا تھا کہ غسل جنابت کرتے وقت عورت اپنے سر کے بال کھولے گی یا نہیں۔ اور یہ کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے کہ غسل کرتے وقت اپنے سر کے بال کھول کر غسل کریں۔ اس پر تعجب کرتے ہوئے امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا
یا عجبا لابن عمرو ھذا یامر النساء اذا اغتسلن ان ینقضن رؤوسھن، افلایامر ھن ان یحلقن رؤوسھن؟
ابن عمرو پر تعجب ہے کہ وہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ غسل کرتے وقت اپنے سر کے بال کھول دیں کیا وہ انہیں یہ حکم نہیں دے دیتے کہ وہ اپنے سر کے بال ہی منڈوا دیں؟ (صحیح مسلم 59/331، دارالسلام 747)۔
*دوسری بات:*عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ پر رد کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عملا سر پر پانی ڈال کر سمجھایا کہ بال کھولنا ضروری نہیں ہے۔
*تیسری بات:* محدث ابو عوانہ الاسفرائنی (متوفی 316 ہجری) نے اس حدیث پر درج ذیل باب باندھا ہے: "باب صفۃ الاوانی التی کان یغتسل منھا رسول اللہ ﷺ، و صفۃ غسل راسہ من الجنابۃ، دون سائر جسدہ "
رسول اللہ ﷺ کے غسل کے برتنوں کا بیان، اور غسل جنابت میں، باقی سارے جسم کو چھوڑ کر (صرف) سر دھونے کی صفت کا بیان۔ (صحیح ابوعوانہ 1/247)۔ محدث کبیر کی اس تبویب سے معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف سر دھو کر دکھایا تھا، باقی جسم دھو کر نہیں دکھایا تھا۔
*چوتھی بات:* صحیح مسلم میں اس روایت میں آیا ہے کہ: " فافرغت علی راسھا ثلاثا" سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر پر تین دفعہ (بال کھولنے کے بغیر ہی) پانی بہایا تھا۔ (44/320) باقی جسم کے غسل کا کسی روایت میں ذکر نہیں ہے۔
*پانچویں بات:* صحیح بخاری و صحیح مسلم میں آیا ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور شاگردوں کے درمیان (موٹا) پردہ (حجاب) تھا۔ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ غسل کر رہے تھے، فاطمہ ابنتہ تسترہ یثوب یعنی آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک کپڑے کے ذریعے آپ کا پردہ کیے ہوئے تھیں۔ (موطا امام مالک 1/251، حدیث نمبر 352، صحیح بخاری، حدیث نمبر 357، و صحیح مسلم، 82/236)
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ پردے کے پیچھے سے نظر آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ورنہ پھر پردے کا کیا مقصد؟؟؟
*چھٹی بات:* سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید البصری تھے (ارشاد الساری للقسطانی۔ جلد 1، صفحہ 317)۔
یا کثیر بن عبید الکوفی تھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاع بھانجے تھے (فتح الباری1/365)۔
تو معلوم ہوا کہ یہ دونوں شاگرد، غیر مرد نہیں بلکہ محرم تھے۔ اسلام میں محرم سے سر، چہرے اور ہاتھوں کا پردہ نہیں ہے۔
*ساتویں بات:*حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہونے والے یہ دونوں محرم تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے پردہ ڈال کر غسل کیا اور دونوں نے حضرت عائشہ کا سر اور اوپر کا بدن دیکھا جو محرم کو دیکھنا درست ہے لیکن جسم کے باقی اعضا جن کا مستور رکھنا محرم سے بھی ضروری ہے وہ پردہ میں تھے۔
*آٹھویں بات :* اس حدیث پر رافضی اور منکرین حدیث اعتراض کرتے ہیں کہ ان احادیث کو ماننے سے لازم آتا ہے کہ اجنبی مرد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتے تھے اور وہ ان کو غسل کر کے دکھا دیتی تھیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرد اجنبی نہ تھے۔ ان میں ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھتیجے تھے اور دوسرے عبداللہ بن یزید آپ کے رضاعی بھائی تھے۔ غرض دونوں محرم تھے، اور آپ نے حجاب کی اوٹ میں غسل کیا اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ازواج مطہرات کپڑوں کے ساتھ غسل کرتی تھیں اور اسے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان کو شرح صدر ہو جائے کہ اتنی مقدار میں پانی غسل کے لئے کافی ہوتا ہے۔ حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں نے سر اور جسم کا بالائی حصہ میں غسل کا عمل دیکھا جس کو دیکھنا محرم کے لئے جائز ہے اور اگر انہوں نے اس عمل کا مشاہدہ نہ کیا ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پانی منگوانے اور ان کی موجودگی میں غسل کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ستر کا انتظام سر اور چہرے کے نچلے حصے کے لئے کیا تھا جس کو دیکھنا محرم کے لئےجائز نہیں۔
*خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں صرف یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ غسل میں، سر کے بال کھولنے کے بغیر ہی سر پر تین دفعہ پانی ڈالنا چاہیئے۔ اس حدیث میں باقی جسم کے غسل کا کوئی ذکر نہیں، نہ ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے باقی جسم کا غسل کیا۔ بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ نے صرف سر دھو کر دکھایا وہ بھی پردے کے پیچھے سے۔ اس حدیث کے باقی جسم کے غسل سے کوئی تعلق نہیں۔*
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : حدثنا عبداللہ بن محمد قال حدثنی شعبہ قال حدثنی ابو بکر بن حفص قال سمعت ابا سلمۃ یقول دخلت انا و اخو عائشہ فسالھا اخوھا عن غسل النبی ﷺ؟ فدعت یاناء نحو من صاع فاغتلست و افاضت علی راسھا و بیننا حجاب (صحیح بخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع و نحوہ، حدیث نمبر 251)۔
ابو سلمہ (بن عبدالرحمان) فرماتے ہیں کہ: میں اور عائشہ (رضی اللہ عنہا) کا (رضاعی ) بھائی (ہم دونوں) عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس گئے ، آپ کے (رضاعی) بھائی نے نبی ﷺ کے (سر کے) غسل کے بارے میں پوچھا (کہ یہ کیسا تھا؟) تو انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے صاع (ڈھائی کلو) کے برابر (پانی کا) ایک برتن منگوایا پھر انہوں نےغسل کیا اور اپنےسر پر پانی بہایا، ہمارے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔
اس حدیث کو امام مسلم ، نسائی، احمد بن حنبل، ابو نعیم الاصبھانی، ابو عوانہ، اور بیہقی نے شعبہ (بن الحجاج) کی سند سے مختصرا و مطولا نحو المعنی بیان کیا ہے۔
*اس حدیث کے مفہوم میں درج ذیل باتیں اہم ہیں۔*
*پہلی بات :* صحابہ کرام کے دور میں اس بات پر شدید اختلاف ہو گیا تھا کہ غسل جنابت کرتے وقت عورت اپنے سر کے بال کھولے گی یا نہیں۔ اور یہ کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے کہ غسل کرتے وقت اپنے سر کے بال کھول کر غسل کریں۔ اس پر تعجب کرتے ہوئے امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا
یا عجبا لابن عمرو ھذا یامر النساء اذا اغتسلن ان ینقضن رؤوسھن، افلایامر ھن ان یحلقن رؤوسھن؟
ابن عمرو پر تعجب ہے کہ وہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ غسل کرتے وقت اپنے سر کے بال کھول دیں کیا وہ انہیں یہ حکم نہیں دے دیتے کہ وہ اپنے سر کے بال ہی منڈوا دیں؟ (صحیح مسلم 59/331، دارالسلام 747)۔
*دوسری بات:*عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ پر رد کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عملا سر پر پانی ڈال کر سمجھایا کہ بال کھولنا ضروری نہیں ہے۔
*تیسری بات:* محدث ابو عوانہ الاسفرائنی (متوفی 316 ہجری) نے اس حدیث پر درج ذیل باب باندھا ہے: "باب صفۃ الاوانی التی کان یغتسل منھا رسول اللہ ﷺ، و صفۃ غسل راسہ من الجنابۃ، دون سائر جسدہ "
رسول اللہ ﷺ کے غسل کے برتنوں کا بیان، اور غسل جنابت میں، باقی سارے جسم کو چھوڑ کر (صرف) سر دھونے کی صفت کا بیان۔ (صحیح ابوعوانہ 1/247)۔ محدث کبیر کی اس تبویب سے معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف سر دھو کر دکھایا تھا، باقی جسم دھو کر نہیں دکھایا تھا۔
*چوتھی بات:* صحیح مسلم میں اس روایت میں آیا ہے کہ: " فافرغت علی راسھا ثلاثا" سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر پر تین دفعہ (بال کھولنے کے بغیر ہی) پانی بہایا تھا۔ (44/320) باقی جسم کے غسل کا کسی روایت میں ذکر نہیں ہے۔
*پانچویں بات:* صحیح بخاری و صحیح مسلم میں آیا ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور شاگردوں کے درمیان (موٹا) پردہ (حجاب) تھا۔ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ غسل کر رہے تھے، فاطمہ ابنتہ تسترہ یثوب یعنی آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک کپڑے کے ذریعے آپ کا پردہ کیے ہوئے تھیں۔ (موطا امام مالک 1/251، حدیث نمبر 352، صحیح بخاری، حدیث نمبر 357، و صحیح مسلم، 82/236)
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ پردے کے پیچھے سے نظر آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ورنہ پھر پردے کا کیا مقصد؟؟؟
*چھٹی بات:* سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید البصری تھے (ارشاد الساری للقسطانی۔ جلد 1، صفحہ 317)۔
یا کثیر بن عبید الکوفی تھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاع بھانجے تھے (فتح الباری1/365)۔
تو معلوم ہوا کہ یہ دونوں شاگرد، غیر مرد نہیں بلکہ محرم تھے۔ اسلام میں محرم سے سر، چہرے اور ہاتھوں کا پردہ نہیں ہے۔
*ساتویں بات:*حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہونے والے یہ دونوں محرم تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے پردہ ڈال کر غسل کیا اور دونوں نے حضرت عائشہ کا سر اور اوپر کا بدن دیکھا جو محرم کو دیکھنا درست ہے لیکن جسم کے باقی اعضا جن کا مستور رکھنا محرم سے بھی ضروری ہے وہ پردہ میں تھے۔
*آٹھویں بات :* اس حدیث پر رافضی اور منکرین حدیث اعتراض کرتے ہیں کہ ان احادیث کو ماننے سے لازم آتا ہے کہ اجنبی مرد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتے تھے اور وہ ان کو غسل کر کے دکھا دیتی تھیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرد اجنبی نہ تھے۔ ان میں ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھتیجے تھے اور دوسرے عبداللہ بن یزید آپ کے رضاعی بھائی تھے۔ غرض دونوں محرم تھے، اور آپ نے حجاب کی اوٹ میں غسل کیا اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ازواج مطہرات کپڑوں کے ساتھ غسل کرتی تھیں اور اسے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان کو شرح صدر ہو جائے کہ اتنی مقدار میں پانی غسل کے لئے کافی ہوتا ہے۔ حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں نے سر اور جسم کا بالائی حصہ میں غسل کا عمل دیکھا جس کو دیکھنا محرم کے لئے جائز ہے اور اگر انہوں نے اس عمل کا مشاہدہ نہ کیا ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پانی منگوانے اور ان کی موجودگی میں غسل کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ستر کا انتظام سر اور چہرے کے نچلے حصے کے لئے کیا تھا جس کو دیکھنا محرم کے لئےجائز نہیں۔
*خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں صرف یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ غسل میں، سر کے بال کھولنے کے بغیر ہی سر پر تین دفعہ پانی ڈالنا چاہیئے۔ اس حدیث میں باقی جسم کے غسل کا کوئی ذکر نہیں، نہ ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے باقی جسم کا غسل کیا۔ بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ نے صرف سر دھو کر دکھایا وہ بھی پردے کے پیچھے سے۔ اس حدیث کے باقی جسم کے غسل سے کوئی تعلق نہیں۔*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں