اللہ کی مدد کیسے حاصل ہوگی ؟
آج ہم طرح طرح کی پریشانیوں میں گرفتار ہیں۔ نجی پریشانی، گھریلو پریشانی، سماجی پریشانی، معاشی پریشانی، قدرتی پریشانی ۔اس قسم کی سیکڑوں دیناوی پریشانیوں کے شکار ہیں جیسے لگتا ہـے زندگی پریشانیوں کا مجموعہ ہـے اور ہـم اللہ کی طرف سے خاص مہربانی اور نصرت وامداد سے محروم ہـوگئے ہیں۔ دعائیں کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہـوتیں، امداد طلب کرتے ہیں مگر امداد نہیں آتی، آواز لگاتے ہیں مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا۔ آخر اس کے کیا وجوہات ہیں اور کن اسباب کی وجہ سے ہـمارا یہ بُرا حال ہـے ؟ اسلام ہی وہ دین ہـے جس میں ساری پریشانیوں، مشکلوں، بیماریوں، مصیبتوں، دکھوں، غموں، دِقّتوں اور نقمتوں کا حل موجود ہـے۔ اسلام کے سایہ تلے زندگی گزارنے سے غربت دور ہـوسکتی ہـے، بیماری کا علاج ہـوسکتا ہـے، پریشانی کا حل ہـوسکتا ہـے، غموں کا اختتام ہـوسکتا ہـے، دعائیں قبول ہـوسکتی ہیں، مُراد پوری ہـوسکتی ہـے، قسمت سنور سکتی ہـے، بگڑی بن سکتی ہـے ہـماری پریشانیاں بتلاتی ہیں کہ ہـم نے اسلام کے سایہ تلے زندگی گزارنا چھوڑدیا ہـے ورنہ یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ ایک مومن کا اس بات پر ایمان ہـونا چاہيئے کہ ہـمارا اصل مددگار صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہـے، اس کے علاوہ کوئی مدد گار نہیں جیسا کہ خود کلام رب اس کی گواہی دیتا ہـے۔ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران:126) ترجمہ: اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہـے جو غالب اور حکمتوں والا ہـے ۔ اسی طرح دوسری جگہ فرمان الہی ہـے : بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖوَهُوَخَيْرُالنَّاصِرِينَ (آلعمران :150) ترجمہ: بلکہ اللہ ہی تمہارا خیرخواہ ہـے اور وہی سب سے بہتر مددگار ہـے۔ جس کا مددگار اللہ ہـو اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی، یہ ضمانت بھی اللہ تعالی نے خود دی ہـے، فرمان پروردگار ہـے : إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖوَإِنيَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ ۗوَعَلَىاللَّهِفَلْيَتَوَكَّلِالْمُؤْمِنُونَ (آلعمران :160) ترجمہ: اگر اللہ تعالی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اگر وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہـے جو تمہاری مدد کرے، ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہيئے۔ یہاں ایک مومن کو یہ عقیدہ بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہيئے کہ جو لوگ غیراللہ کو مدد کے ليئے پکارتے ہیں ایسے لوگ شرک وکفر میں مبتلا ہیں۔ دراصل یہ بڑی وجہ ہـے جس سے اللہ کی مدد آنی بند ہـوگئی۔ اور جنہیں اللہ کے علاوہ مدد کے ليئے پکارا جاتا ہـے وہ تو ہـماری کچھ مدد نہیں کرسکتے بلکہ وہ اپنے آپ کی مدد کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کا فرمان ہـے : وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ (الاعراف :197) ترجمہ: اور تم جن لوگوں کو اللہ کے علاوہ پکارتے ہـو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہی وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ اب یہاں ان اسباب کا ذکر کیا جاتا ہـے جن سے اللہ کی مدد حاصل ہـوتی ہـے یا یہ کہیں جن کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہـے ۔
(1) اللہ پر صحیح ایمان : جو لوگ اللہ پر صحیح معنوں میں ایمان لاتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے وہ اس کی طرف سے مدد کے مستحق بن جاتے ہیں یعنی اللہ ایسے لوگوں کا مددگار بن جاتا ہـے اور ایسے ایمان داروں کی مدد کرنا اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہـے۔ اللہ تعالی فرماتا ہـے : وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم:47) ترجمہ: اور ہـم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہـے۔ اللہ کا فرمان ہـے : إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗإِنَّاللَّهَلَايُحِبُّكُلَّخَوَّانٍكَفُورٍ (الحج :38) ترجمہ: بـے شک اللہ تعالی سچے مومن کی (دشمنوں کے مقابلے میں) مدافعت کرتا ہـے، کوئی خیانت کرنے والا ناشکرا اللہ تعالی کو ہـرگز پسند نہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہـے : إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ (غافر:51) ترجمہ: یقینا ہـم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد دنیاوی زندگی میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہـوں گے۔ آج ایمان کے دعویداروں کی بہتات ہـے مگر اکثر لوگ شرک کے دلدل میں پھنسے ہیں، رب پر صحیح سے ایمان نہیں لاتے، یا ایمان لاکر شرک وبدعت کا راستہ اختیار کئے ہـوئے ہیں جس کی وجہ سے نصرت الہی بند ہـوگئی۔ رب العزت کا فرمان ہـے : وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ (یوسف:106) ترجمہ: ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں۔
(2) عمل میں اخلاص : ہَماری جدوجہد اور عمل میں اخلاص وللہیت ہـو تو نصرت الہی کا حصول ہـوگا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہـے : إنَّما يَنصرُ اللَّهُ هذِهِ الأمَّةَ بضَعيفِها، بدَعوتِهِم وصَلاتِهِم ، وإخلاصِهِم (صحيح النسائي:3178) ترجمہ: بیشک اللہ اس امت کی مدد کرتا ہـے کمزور لوگوں کی وجہ سے، ان کی دعاوں، ان کی عبادت اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔ اس حدیث میں نصرت الہی کے تین اسباب بیان کيئے گئے ہیں۔ دعا، نماز، اخلاص۔ ہـمارے عملوں میں اخلاص کا فقدان ہـے جو اللہ کی ناراضگی اور اس کی نصرت سے محرومی کا سبب بنا ہـوا ہـے۔ اولاً عملوں میں کوتاہی اس پر مستزاد اخلاص کی کمی یا فقدان۔ شہرت، ریا، دنیا طلبی نے ہـمارے عملوں کو اکارت کردیا اور ساتھ ساتھ نصرت الہی سے محروم بھی ہـوگئے۔
(3) دعا : دعا مومن کا ہـتھیار ہـے جو ہـمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہـے، سفر میں ہـو یا حضر میں، حالت جنگ ہـو یا حالت امن، مصائب ومشکلات ہـوں یا خوشحالی، ہـر موقع پر مومن دعا کے ذریعہ رب کی رضامندی اور مدد طلب کرتا ہـے۔ سیرت نبوی ﷺ سے اس کی ایک مثال دیکھیں۔ بدر کا میدان ہـے، ایک طرف نِہتّھے 313 مسلمان، دوسری طرف ہـتھیاروں سے لیس ایک ہـزار کا لشکر کفر۔ آپ ﷺ نے بڑی جماعت کے مقابلے میں اپنی چھوٹی جماعت کو دیکھا تو اللہ تعالی سے نصرت کی دعا کی۔ مسلم شریف کے الفاظ ہیں : اللهمَّ ! إن تهلِك هذه العصابةُ من أهلِ الإسلامِ لا تُعبدُ في الأرض (صحيح مسلم:1763) ترجمہ: اے اللہ ! مسلمانوں کی یہ جماعت اگر ہـلاک ہـوگئی تو روئے زمین پر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ ہـوگا۔ رب نے دعا قبول کرلی اور قرآن کی آیت نازل کرکے نصرت کی بشارت سنائی۔ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ (الانفال:9) ترجمہ: اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہـے تھے پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہـزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔ آج ہـماری دعاؤں کی عدم قبولیت میں تین عوامل کا زیادہ دخل ہـے، اخلاص کا فقدان، بدعملی اور حرام معیشت۔ ان تین منفی عوامل کو دور کردیا جائے تو دعائیں بلاشبہ قبول ہـوں گی۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ غیراللہ سے امداد طلب کرتا ہـے جو سراسر شرک ہـے، اس حال میں مرنا موجب جہنم ہـے۔ دعا عبادت ہـے اور عبادت صرف اللہ کے ليئے ہـے ، آج مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقہ نے (جن کی اکثریت ہـے) مشرکوں کی طرح غیراللہ کی پکار لگا کے دنیا سے امن وامان اور نصرت الہی کو روک رکھا ہـے۔ ایسے گمراہ مسلمانوں کی اصلاح قلیل سچے مومن کے سر ہـے۔
(4) نماز : رب کی خالص عبادت مومن کی زندگی اور مقصد حیات ہـے، اس دعوت کو لے کر تمام انبیاء آئے، نبی ﷺ نے مکی دور میں جو تیرہ سال پر محیط اسی دعوت پہ کڑی محنت کی ۔ نماز مومن سے کسی بھی حال میں معاف نہیں، میدان جنگ میں جہاں ایک لمحہ دوسری جانب التفات کا موقع نہیں نماز کے وقت میں نماز قائم کرنا ہـے یعنی وقت نماز کو بھی مؤخر نہیں کر سکتے اور کیونکر معاف ہـو یہ تو مقصد حیات ہـے۔ نبی ﷺ فرائض کے علاوہ سنن کی ادائیگی اس قدر کرتے کہ پاؤں میں ورم آجاتا۔ آپ ﷺ ہـر پریشان کن معاملہ میں نماز کا سہارا لیتے۔ اس لئے ہـم دیکھتے ہیں کہ مصائب کے مواقع پر نماز کا حکم ہـے، بارش کی نماز، سورج اور چاند گرہـن کی نماز، اور زلزلہ کی نماز وغیرہ۔ لہذا ہـم نماز کے ذریعہ رب سے استغاثہ کریں۔ اللہ کا حکم ہـے : وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚوَإِنَّهَالَكَبِيرَةٌإِلَّاعَلَىالْخَاشِعِينَ (البقرة:45) ترجمہ: اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو، یہ چیز شاق ہـے مگر ڈرنے والوں پر۔
(5) صبر: مصائب پر صبر کرنے سے بھی اللہ کی مدد آتی ہـے، جزع فزع کرنا نصرت الہی کے منافی ہـے۔ اس سلسلے میں صبر ایوب اعلی نمونہ ہـے۔ جو مومن صبر کے ساتھ رب ہی کو پکارتا ہـے اور اسی سے امداد طلب کرتا ہـے اسے اللہ تعالی ہـر بلا سے نجات دیتا ہـے بلکہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہـمیشہ اللہ لگا رہتا ہـے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ(البقرۃ:153) ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہـو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہـے۔
(6) اللہ ہی پر توکل : انسان بـے صبرا ہـے، تھوڑی سی مصیبت آتی ہـے گھبرا جاتا ہـے اور رب سے نجات مانگنے کی بجائے غیروں سے امداد طلب کرنے لگ جاتا ہـے اور اسی پر توکل کر بیٹھتا ہـے۔ اگر کوئی مصیبت غیراللہ کے در پر جانے سے ٹھیک ہـوجائے تو اعتماد میں مزید پختگی آجاتی ہـے اور دوسروں کو بھی غیراللہ کے در پر جانے کی دعوت دیتا ہـے۔ یہاں ہـمیں یہ جان لینا چاہيئے کہ جو بھی جس دربار پہ بھی جائے اور جس سے بھی مانگے دینے والا صرف اللہ ہـے، آپ قبر پہ سوال کرکے یہ نہ سمجھیں ہـمیں قبر والے نے دیا ہـے، دیتا تو اللہ ہی ہـے چاہـے آپ جائز طریقے سے مانگیں یا ناجائز طریقے سے۔ فرق صرف اتنا ہـے کہ جائز طریقے سے مانگنے سے اللہ بخوشی دیتا ہـے اور ناجائز طریقے سے مانگنے سے کبھی کبھی اللہ دے تو دیتا ہـے بدلے میں اس کا ایمان چھین لیتا ہـے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جو لوگ پتھروں سے مانگتے ہیں، مورتی بنا کر اس سے مانگتے ہیں، ان کی بھی عقیدت یہی ہـوتی ہـے کہ ہـمیں مورتیوں نے دیا ہـے۔ مسلمان کو صرف اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہيئے، یہ عبادت کے قبیل سے ہـے اور توکل نصرت الہی کا سبب ہـے۔ إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖوَإِنيَخْذُلْكُمْفَمَنذَاالَّذِييَنصُرُكُممِّنبَعْدِهِۗوَعَلَىاللَّهِفَلْيَتَوَكَّلِالْمُؤْمِنُونَ (آلعمران :160) ترجمہ: اگر اللہ تعالی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہـے جو تمہاری مدد کرے، ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہيئے۔ اسی طرح ایک دوسری جگہ رب کا فرمان ہـے : فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚإِنَّاللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (آل عمران:159) ترجمہ: پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہـوجائے تو اللہ تعالی پر بھروسہ کریں، بیشک اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہـے۔ یہ چند مثبت عوامل تھے جن سے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی زندگی میں اللہ کی نصرت وتائید حاصل ہـوتی ہـے۔ نیز منفی عوامل سے گریز کرنا پڑے گا جن کا احاطہ اس چھوٹے سے مضمون میں مشکل ہـے۔ بطور خلاصہ یہ کہہ سکتا ہـوں کہ ہـم شرک وبدعت، فسق وفجور، اعمال قبیحہ، فتنہ وفساد، ظلم وفساد، کفر ونفاق اور حرام خوری (رشوت، سود، غبن، چوری، حرام پیشہ) وغیرہ سے بچیں اور اسلام کے سایہ تلے زندگی بسر کریں یعنی دین کو پوری طرح قائم کریں، اللہ کا وعدہ ہـے وہ ضرور ہـماری مدد کرے گا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (محمد:7) ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین ) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ اجتماعی زندگی میں فتح ونصرت کے لئے مذکورہ بالا اسباب کے علاوہ مزید چند کام کرنے کی ضرروت ہـے۔ ان میں سے ایک تمام مسلمانوں میں اتحاد (افتراق سے دوری)، دوسرا باہـم مشاورت، تیسرا مادی وسائل کی فراہـمی (مجرب لشکر، جدید اسلحے، کارگر دفاعی قوت) ،چوتھا عملی اقدام (جمود کا سدباب) اور پانچواں مسلک پرستی کاخاتمہ بالفاظ دیگر شریعت الہیہ کا نفاذ۔ سوچنے کا مقام ہـے آج امریکہ پچاس ریاستوں کو ملا کر سپرپاور بنا ہـوا ہـے جبکہ ہـمارے پاس 57 مسلم ممالک ہیں ہـم کیوں نہیں سپرپاور؟ جبکہ مادی قوت کی بھی ہـمارے پاس کمی نہیں۔ یا خیرالناصرین! قدم قدم پر تیری نصرت وتائیدکی ضرورت ہـے تو ہـمیں اپنی نصرت سے نوازدے، مسلم قوم ظالموں کے نرغے میں ہیں غیبی مدد کے ذریعہ توان کی حفاظت فرما اور دنیا میں دوبارہ ہمیں کافروں پرغلبہ دے ۔
آمین ۔
واللہ اعلم۔
آج ہم طرح طرح کی پریشانیوں میں گرفتار ہیں۔ نجی پریشانی، گھریلو پریشانی، سماجی پریشانی، معاشی پریشانی، قدرتی پریشانی ۔اس قسم کی سیکڑوں دیناوی پریشانیوں کے شکار ہیں جیسے لگتا ہـے زندگی پریشانیوں کا مجموعہ ہـے اور ہـم اللہ کی طرف سے خاص مہربانی اور نصرت وامداد سے محروم ہـوگئے ہیں۔ دعائیں کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہـوتیں، امداد طلب کرتے ہیں مگر امداد نہیں آتی، آواز لگاتے ہیں مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا۔ آخر اس کے کیا وجوہات ہیں اور کن اسباب کی وجہ سے ہـمارا یہ بُرا حال ہـے ؟ اسلام ہی وہ دین ہـے جس میں ساری پریشانیوں، مشکلوں، بیماریوں، مصیبتوں، دکھوں، غموں، دِقّتوں اور نقمتوں کا حل موجود ہـے۔ اسلام کے سایہ تلے زندگی گزارنے سے غربت دور ہـوسکتی ہـے، بیماری کا علاج ہـوسکتا ہـے، پریشانی کا حل ہـوسکتا ہـے، غموں کا اختتام ہـوسکتا ہـے، دعائیں قبول ہـوسکتی ہیں، مُراد پوری ہـوسکتی ہـے، قسمت سنور سکتی ہـے، بگڑی بن سکتی ہـے ہـماری پریشانیاں بتلاتی ہیں کہ ہـم نے اسلام کے سایہ تلے زندگی گزارنا چھوڑدیا ہـے ورنہ یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ ایک مومن کا اس بات پر ایمان ہـونا چاہيئے کہ ہـمارا اصل مددگار صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہـے، اس کے علاوہ کوئی مدد گار نہیں جیسا کہ خود کلام رب اس کی گواہی دیتا ہـے۔ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران:126) ترجمہ: اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہـے جو غالب اور حکمتوں والا ہـے ۔ اسی طرح دوسری جگہ فرمان الہی ہـے : بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖوَهُوَخَيْرُالنَّاصِرِينَ (آلعمران :150) ترجمہ: بلکہ اللہ ہی تمہارا خیرخواہ ہـے اور وہی سب سے بہتر مددگار ہـے۔ جس کا مددگار اللہ ہـو اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی، یہ ضمانت بھی اللہ تعالی نے خود دی ہـے، فرمان پروردگار ہـے : إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖوَإِنيَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ ۗوَعَلَىاللَّهِفَلْيَتَوَكَّلِالْمُؤْمِنُونَ (آلعمران :160) ترجمہ: اگر اللہ تعالی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اگر وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہـے جو تمہاری مدد کرے، ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہيئے۔ یہاں ایک مومن کو یہ عقیدہ بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہيئے کہ جو لوگ غیراللہ کو مدد کے ليئے پکارتے ہیں ایسے لوگ شرک وکفر میں مبتلا ہیں۔ دراصل یہ بڑی وجہ ہـے جس سے اللہ کی مدد آنی بند ہـوگئی۔ اور جنہیں اللہ کے علاوہ مدد کے ليئے پکارا جاتا ہـے وہ تو ہـماری کچھ مدد نہیں کرسکتے بلکہ وہ اپنے آپ کی مدد کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کا فرمان ہـے : وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ (الاعراف :197) ترجمہ: اور تم جن لوگوں کو اللہ کے علاوہ پکارتے ہـو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہی وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ اب یہاں ان اسباب کا ذکر کیا جاتا ہـے جن سے اللہ کی مدد حاصل ہـوتی ہـے یا یہ کہیں جن کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہـے ۔
(1) اللہ پر صحیح ایمان : جو لوگ اللہ پر صحیح معنوں میں ایمان لاتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے وہ اس کی طرف سے مدد کے مستحق بن جاتے ہیں یعنی اللہ ایسے لوگوں کا مددگار بن جاتا ہـے اور ایسے ایمان داروں کی مدد کرنا اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہـے۔ اللہ تعالی فرماتا ہـے : وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم:47) ترجمہ: اور ہـم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہـے۔ اللہ کا فرمان ہـے : إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗإِنَّاللَّهَلَايُحِبُّكُلَّخَوَّانٍكَفُورٍ (الحج :38) ترجمہ: بـے شک اللہ تعالی سچے مومن کی (دشمنوں کے مقابلے میں) مدافعت کرتا ہـے، کوئی خیانت کرنے والا ناشکرا اللہ تعالی کو ہـرگز پسند نہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہـے : إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ (غافر:51) ترجمہ: یقینا ہـم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد دنیاوی زندگی میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہـوں گے۔ آج ایمان کے دعویداروں کی بہتات ہـے مگر اکثر لوگ شرک کے دلدل میں پھنسے ہیں، رب پر صحیح سے ایمان نہیں لاتے، یا ایمان لاکر شرک وبدعت کا راستہ اختیار کئے ہـوئے ہیں جس کی وجہ سے نصرت الہی بند ہـوگئی۔ رب العزت کا فرمان ہـے : وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ (یوسف:106) ترجمہ: ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں۔
(2) عمل میں اخلاص : ہَماری جدوجہد اور عمل میں اخلاص وللہیت ہـو تو نصرت الہی کا حصول ہـوگا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہـے : إنَّما يَنصرُ اللَّهُ هذِهِ الأمَّةَ بضَعيفِها، بدَعوتِهِم وصَلاتِهِم ، وإخلاصِهِم (صحيح النسائي:3178) ترجمہ: بیشک اللہ اس امت کی مدد کرتا ہـے کمزور لوگوں کی وجہ سے، ان کی دعاوں، ان کی عبادت اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔ اس حدیث میں نصرت الہی کے تین اسباب بیان کيئے گئے ہیں۔ دعا، نماز، اخلاص۔ ہـمارے عملوں میں اخلاص کا فقدان ہـے جو اللہ کی ناراضگی اور اس کی نصرت سے محرومی کا سبب بنا ہـوا ہـے۔ اولاً عملوں میں کوتاہی اس پر مستزاد اخلاص کی کمی یا فقدان۔ شہرت، ریا، دنیا طلبی نے ہـمارے عملوں کو اکارت کردیا اور ساتھ ساتھ نصرت الہی سے محروم بھی ہـوگئے۔
(3) دعا : دعا مومن کا ہـتھیار ہـے جو ہـمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہـے، سفر میں ہـو یا حضر میں، حالت جنگ ہـو یا حالت امن، مصائب ومشکلات ہـوں یا خوشحالی، ہـر موقع پر مومن دعا کے ذریعہ رب کی رضامندی اور مدد طلب کرتا ہـے۔ سیرت نبوی ﷺ سے اس کی ایک مثال دیکھیں۔ بدر کا میدان ہـے، ایک طرف نِہتّھے 313 مسلمان، دوسری طرف ہـتھیاروں سے لیس ایک ہـزار کا لشکر کفر۔ آپ ﷺ نے بڑی جماعت کے مقابلے میں اپنی چھوٹی جماعت کو دیکھا تو اللہ تعالی سے نصرت کی دعا کی۔ مسلم شریف کے الفاظ ہیں : اللهمَّ ! إن تهلِك هذه العصابةُ من أهلِ الإسلامِ لا تُعبدُ في الأرض (صحيح مسلم:1763) ترجمہ: اے اللہ ! مسلمانوں کی یہ جماعت اگر ہـلاک ہـوگئی تو روئے زمین پر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ ہـوگا۔ رب نے دعا قبول کرلی اور قرآن کی آیت نازل کرکے نصرت کی بشارت سنائی۔ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ (الانفال:9) ترجمہ: اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہـے تھے پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہـزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔ آج ہـماری دعاؤں کی عدم قبولیت میں تین عوامل کا زیادہ دخل ہـے، اخلاص کا فقدان، بدعملی اور حرام معیشت۔ ان تین منفی عوامل کو دور کردیا جائے تو دعائیں بلاشبہ قبول ہـوں گی۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ غیراللہ سے امداد طلب کرتا ہـے جو سراسر شرک ہـے، اس حال میں مرنا موجب جہنم ہـے۔ دعا عبادت ہـے اور عبادت صرف اللہ کے ليئے ہـے ، آج مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقہ نے (جن کی اکثریت ہـے) مشرکوں کی طرح غیراللہ کی پکار لگا کے دنیا سے امن وامان اور نصرت الہی کو روک رکھا ہـے۔ ایسے گمراہ مسلمانوں کی اصلاح قلیل سچے مومن کے سر ہـے۔
(4) نماز : رب کی خالص عبادت مومن کی زندگی اور مقصد حیات ہـے، اس دعوت کو لے کر تمام انبیاء آئے، نبی ﷺ نے مکی دور میں جو تیرہ سال پر محیط اسی دعوت پہ کڑی محنت کی ۔ نماز مومن سے کسی بھی حال میں معاف نہیں، میدان جنگ میں جہاں ایک لمحہ دوسری جانب التفات کا موقع نہیں نماز کے وقت میں نماز قائم کرنا ہـے یعنی وقت نماز کو بھی مؤخر نہیں کر سکتے اور کیونکر معاف ہـو یہ تو مقصد حیات ہـے۔ نبی ﷺ فرائض کے علاوہ سنن کی ادائیگی اس قدر کرتے کہ پاؤں میں ورم آجاتا۔ آپ ﷺ ہـر پریشان کن معاملہ میں نماز کا سہارا لیتے۔ اس لئے ہـم دیکھتے ہیں کہ مصائب کے مواقع پر نماز کا حکم ہـے، بارش کی نماز، سورج اور چاند گرہـن کی نماز، اور زلزلہ کی نماز وغیرہ۔ لہذا ہـم نماز کے ذریعہ رب سے استغاثہ کریں۔ اللہ کا حکم ہـے : وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚوَإِنَّهَالَكَبِيرَةٌإِلَّاعَلَىالْخَاشِعِينَ (البقرة:45) ترجمہ: اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو، یہ چیز شاق ہـے مگر ڈرنے والوں پر۔
(5) صبر: مصائب پر صبر کرنے سے بھی اللہ کی مدد آتی ہـے، جزع فزع کرنا نصرت الہی کے منافی ہـے۔ اس سلسلے میں صبر ایوب اعلی نمونہ ہـے۔ جو مومن صبر کے ساتھ رب ہی کو پکارتا ہـے اور اسی سے امداد طلب کرتا ہـے اسے اللہ تعالی ہـر بلا سے نجات دیتا ہـے بلکہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہـمیشہ اللہ لگا رہتا ہـے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ(البقرۃ:153) ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہـو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہـے۔
(6) اللہ ہی پر توکل : انسان بـے صبرا ہـے، تھوڑی سی مصیبت آتی ہـے گھبرا جاتا ہـے اور رب سے نجات مانگنے کی بجائے غیروں سے امداد طلب کرنے لگ جاتا ہـے اور اسی پر توکل کر بیٹھتا ہـے۔ اگر کوئی مصیبت غیراللہ کے در پر جانے سے ٹھیک ہـوجائے تو اعتماد میں مزید پختگی آجاتی ہـے اور دوسروں کو بھی غیراللہ کے در پر جانے کی دعوت دیتا ہـے۔ یہاں ہـمیں یہ جان لینا چاہيئے کہ جو بھی جس دربار پہ بھی جائے اور جس سے بھی مانگے دینے والا صرف اللہ ہـے، آپ قبر پہ سوال کرکے یہ نہ سمجھیں ہـمیں قبر والے نے دیا ہـے، دیتا تو اللہ ہی ہـے چاہـے آپ جائز طریقے سے مانگیں یا ناجائز طریقے سے۔ فرق صرف اتنا ہـے کہ جائز طریقے سے مانگنے سے اللہ بخوشی دیتا ہـے اور ناجائز طریقے سے مانگنے سے کبھی کبھی اللہ دے تو دیتا ہـے بدلے میں اس کا ایمان چھین لیتا ہـے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جو لوگ پتھروں سے مانگتے ہیں، مورتی بنا کر اس سے مانگتے ہیں، ان کی بھی عقیدت یہی ہـوتی ہـے کہ ہـمیں مورتیوں نے دیا ہـے۔ مسلمان کو صرف اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہيئے، یہ عبادت کے قبیل سے ہـے اور توکل نصرت الہی کا سبب ہـے۔ إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖوَإِنيَخْذُلْكُمْفَمَنذَاالَّذِييَنصُرُكُممِّنبَعْدِهِۗوَعَلَىاللَّهِفَلْيَتَوَكَّلِالْمُؤْمِنُونَ (آلعمران :160) ترجمہ: اگر اللہ تعالی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہـے جو تمہاری مدد کرے، ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہيئے۔ اسی طرح ایک دوسری جگہ رب کا فرمان ہـے : فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚإِنَّاللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (آل عمران:159) ترجمہ: پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہـوجائے تو اللہ تعالی پر بھروسہ کریں، بیشک اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہـے۔ یہ چند مثبت عوامل تھے جن سے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی زندگی میں اللہ کی نصرت وتائید حاصل ہـوتی ہـے۔ نیز منفی عوامل سے گریز کرنا پڑے گا جن کا احاطہ اس چھوٹے سے مضمون میں مشکل ہـے۔ بطور خلاصہ یہ کہہ سکتا ہـوں کہ ہـم شرک وبدعت، فسق وفجور، اعمال قبیحہ، فتنہ وفساد، ظلم وفساد، کفر ونفاق اور حرام خوری (رشوت، سود، غبن، چوری، حرام پیشہ) وغیرہ سے بچیں اور اسلام کے سایہ تلے زندگی بسر کریں یعنی دین کو پوری طرح قائم کریں، اللہ کا وعدہ ہـے وہ ضرور ہـماری مدد کرے گا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (محمد:7) ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین ) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ اجتماعی زندگی میں فتح ونصرت کے لئے مذکورہ بالا اسباب کے علاوہ مزید چند کام کرنے کی ضرروت ہـے۔ ان میں سے ایک تمام مسلمانوں میں اتحاد (افتراق سے دوری)، دوسرا باہـم مشاورت، تیسرا مادی وسائل کی فراہـمی (مجرب لشکر، جدید اسلحے، کارگر دفاعی قوت) ،چوتھا عملی اقدام (جمود کا سدباب) اور پانچواں مسلک پرستی کاخاتمہ بالفاظ دیگر شریعت الہیہ کا نفاذ۔ سوچنے کا مقام ہـے آج امریکہ پچاس ریاستوں کو ملا کر سپرپاور بنا ہـوا ہـے جبکہ ہـمارے پاس 57 مسلم ممالک ہیں ہـم کیوں نہیں سپرپاور؟ جبکہ مادی قوت کی بھی ہـمارے پاس کمی نہیں۔ یا خیرالناصرین! قدم قدم پر تیری نصرت وتائیدکی ضرورت ہـے تو ہـمیں اپنی نصرت سے نوازدے، مسلم قوم ظالموں کے نرغے میں ہیں غیبی مدد کے ذریعہ توان کی حفاظت فرما اور دنیا میں دوبارہ ہمیں کافروں پرغلبہ دے ۔
آمین ۔
واللہ اعلم۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں