*مومن کون*
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۱اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں (یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔(سورت المومنون:1 تا 11)
اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوق کا خالق و مالک ہے وہ ہی سب کا رازق ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں کوئی اس کا شریک نہیں وہ اپنے تمام کاموں خود مختار ہے کسی میں اس کے کاموں میں دخل دینے کی ہمت نہیں وہ تمام مخلوق کی ضروریات سے واقف ہے ،اور اپنی حکمت کے تحت سب کی ضروریات پوری کرتا ہے اس نے اپنی مخلوق کی حفاظت کا پورا پورا بندوبست کیا کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا اور نہ ہی نا انصافی اور زیادتی کو پسند کرتا اور اپنی مخلوق کے تمام حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کا تحفظ فراہم کرتا ہے ۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں انسان کو کامیابی کا نسخہ اور کامیابی کے رموز بتایئے ہیں جو بھی ان رموز پر عمل پیراء ہوگا اس کی دنیا و آخرت سنور جائے گی۔ اور جنت کے اس حصہ کے وارث ہوجائیں گے جو جنت کا اعلیٰ ترین بلند وبالا درجہ اور مقام ہے۔جہان انسان کو ہر طرح کا آرام اور سکون میسر ہوگا، نہ کوئی روکنے ٹوکنے والا ہوگا اور نہ کوئی پابندی ہوگی اور نہ کوئی نگرانی کرنے والا ہوگا، من چاہا ملے گا من چاہا حاضر ہوگا وہاں تمام خواہشات کی تکمیل ہوگی جو اس دنیا فانی میں نہ مل سکا وہاں وہ اس کو ملے گا انسان کی توقع سے زیادہ ملے گا ۔ لیکن یہ سارے انعامات اور ہر طرح کی راحتیں اسی انسان کو ملیں گی جو پکا مومن ہوگا ۔ اب مومن کون ہے اس کی کیا صفات ہیں، وہ یہ ہیں۔
(1) خشوع خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی: خشوع کا مطلبٰ دل کی عاجزی اور خضوع کامطلب ظاہری اعضاء کا سکون سے ہونا ۔لہٰذا خشوع خضوع کا مطلب یہ ہوا کہ جب انسان اللہ کے حضور میں کھڑا ہو تو دل میں احساس کمتری ہو اللہ کی ذات اقدس کا احترام ہو،اس کا دل نماز میں اٹکا ہوا ہو،ظاہری اعتبار سے پر سکون ہو تمام اعضاء میں ٹھہراؤ اور وقار ہو پہلوؤں کو نہ بدلتا ہو بہت وقار کے ساتھ نگاہ نیچی ہو آواز میں پستی اور نرمی ہو نماز کے تمام ارکان میں متانت اور سنجیدگی ہو کسی دوسرے نمازی کو کسی طرح کی بھی تکلیف نہ ہو، نماز کے تمام ارکان و افعال کو نہایت سکون و وقارسے انجام دیا جائے قرآت و تسبیحات میں سکون ہو جلدی جلدی نہ ہو قرآن پاک کو حتی المقدور اچھا اور عمدہ پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ اس بات کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے جس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ایک صاحب بھی مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھی اور پھر( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا ،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ گئے اور جیسے پہلے نماز پڑھی تھی ویسے ہی نماز پڑھ کر آئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا ،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے سلام کا جواب دیا پھر ارشاد فرمایا جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، اس طرح تین دفعہ ہوا،ان صاحب نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے زیادہ اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا ،آپ مجھے نماز سکھایئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو پھر ،پھر قرآن مجید میں سے کچھ پڑھ سکتے ہو پڑھو ، پھر رکوع میں جاؤ تو اطمینان سے رکوع کرو اور پھر اطمینان سے رکوع سے کھڑے ہو پھر سجدہ میں جاؤ تو اطمینان سے سجدہ کرو ،پھر سجدے سے اٹھو تو اطمینان سے بیٹھو ۔ یہ سب کام اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو (البخاری)
(2)لغو کام سے اجتناب: لغو ہر اس کام کو کہتے ہیں جو فضول اور لا حاصل اور لایعنی ہو جن سے کوئی فائدہ نہ ہو، جن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہو، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ ہو، جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو تا ہو، وہ سب ”لغویات‘‘ میں شامل ہیں۔
چنانچہ"عن اللغو معرضون " "جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں“ یہ آیت شریفہ اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ کامل مومن کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ لغویات کی طرف توجہ نہیں کرتے اور ان سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ان کی طرف رخ نہیں کرتے۔ ان میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ جہاں ایسی باتیں ہو رہی ہوں یا ایسے کام ہو رہے ہوں وہاں جانے سے پرہیز کرتے ہیں، ان میں حصہ لینے سے اجتناب کرتے ہیں، اور اگر کہیں ان سے سابقہ پیش آہی جائے تو ٹل جاتے ہیں، کترا کر نکل جاتے ہیں ، (یہی تقوٰی ہے) یا بوجہ مجبوری کہیں پھنس جاتے ہیں توان سے بے تعلق رہتے ہیں۔ چنانچہ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ (اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں ) یعنی جب کسی ایسی جگہ سے ان کا گزر ہوتا ہے جہاں لغو باتیں ہو رہی ہوں ، یا لغو کام ہو رہے ہوں وہاں سے مہذب طریقے پر گزر جاتے ہیں۔
یہ چیز ، جسے اس مختصر سے فقرے میں بیان کیا گیا ہے ، دراصل مومن کی اہم ترین صفات میں سے ہے ۔ مومن وہ شخص ہوتا ہے جسے ہر وقت اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے اور جس چیز کو زندگی اور عمر اور وقت کے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے وہ درحقیقت ایک متعینہ مدت ہے جو اسے امتحان کے لیے دی گئی ہے ۔ یہ ایک احساس ہے جو ایک مومن کو بالکل اس طالب علم کی طرح سنجیدہ اور مشغول اور منہمک بنا دیتا ہے جو امتحان کے کمرے میں بیٹھا اپنا پرچہ حل کر رہا ہوتا ہے۔ اس طالب علم کو اس بات کا احساس رہتا ہے کہ امتحان کے یہ چند گھنٹے اس کی آئندہ زندگی کے لیے فیصلہ کن ہیں، اسی احساس کی وجہ سے وہ ان گھنٹوں کا ایک ایک لمحہ اپنے پرچے کو صحیح طریقے سے حل کرنے کی کوشش میں خرچ کرنا چاہتا ہے اور کسی بھی طرح ایک سیکنڈ کو بھی فضول ضائع کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، ٹھیک اسی طرح ایک مومن لیے یہ دنیا بھی ایک امتحان گاہ ہے جہاں وہ اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے امتحان کا پرچہ حل کر رہا ہے لہذا وہ دنیا کی اس زندگی کو انہی کاموں میں صرف کرتا ہے جو انجام کار کے لحاظ سے مفید ہوں ۔ حتی کہ وہ تفریحات اور کھیلوں میں سے بھی ان چیزوں کا انتخاب کرتا ہے جو محض تضیع وقت نہ ہوں بلکہ کسی بہتر مقصد کے لیے اسے تیار کرنے والی ہوں۔ اس کے نزدیک وقت”کاٹنے“ کی چیز نہیں ہوتی بلکہ استعمال اور استفادے کی چیز ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ اس وقت کے ایک ایک لمحہ کو اپنے لیے غنیمت سمجھتا ہے اور سے اس بھرپور انتفاع کی کوشش کرتا ہے اس کے شعور میں یہ بات جگہ کی ہوئی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں پرچہ حل کرنے کا وقت کب ختم ہو جائے اور اس کا پرچہ ادھورا رہ جائے۔ کیونکہ پرچہ حل کرنے کا دوبارہ وقت نہیں دیا جائے گا، تو اس طرح ایک کامل مومن اپنی زندگی گزارتا ہے وہ دوسروں کے دامن میں نہیں جھانکتا وہ اپنے اوپر نظر رکھتا ہے ۔
مومن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ ایک سلیم الطبع، پاکیزہ مزاج، خوش اخلاق و خوش ذوق انسان ہوتا ہے۔ بیہودگی اور لغویات سے اس کی طبیعت سلیمہ کو کسی قسم کا لگاؤ نہیں ہوتا۔ وہ مفید باتیں تو کر سکتا ہے، مگر فضول گپیں نہیں ہانک سکتا ۔ایک مومن ظرافت اور مزاح اور لطیف مذاق کی حد تک تو جا سکتا ہے، مگر ٹھٹھے بازیاں نہیں کر سکتا کسی کی مذاق نہیں بناتا، گندے اور غیر مہذب مذاق اور تمسخر کو برداشت نہیں کر سکتا، تفریحی گفتگوؤں کو اپنا مشغلہ نہیں بنا سکتا ۔ اس کے لیے ایسی سوسائٹیاں اور مجالس مستقل عذاب ہوتی ہیں جہاں ہمہ وقت گالیوں ، غیبتوں اور تہمتوں اور جھوٹی باتوں ، فلمی گانوں اور فحش گفتگوؤں کا ماحول بنا رہتا ہو۔ ایسے مومن کو اللہ تعالیٰ جس جنت کی بشارت اور امید دلاتا ہے اور وہاں کی نعمتوں میں اے ایک نعمت کا ذکر اس طرح سے بیان کرتا ہے کہ (وہاں تو کوئی لغو بات نہ سنے گا)۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے کہ لغو کام نہ کرو اور ان سے بالکل دور رہو،لہٰذا ہمیں ہر فضول کام سے بچنا چاہیے قطع نظر اس کے کہ وہ مباح ہوں یا غیر مباح،جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
انسان کا اچھا اسلام اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ بے فائدہ اور لغو چیزوں کو چھوڑ دے (ترمذی)
(3) زکوٰة کی ادائیگی:مومن کی کامیابی کا تیسرا اصول یا تیسرا اہم ضابطہ ہو زکوٰة کی ادائیگی کا ہے جس مومن پر جب زکوٰة فرض ہو جائے تو اس کے لیے اس کو ادا کرنا لازمی ہو جاتا ہے،زکوٰة اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں نماز کے بعد زکوٰة کی ادائیگی کی بار بار تاکید کی ہے ، اور جو لوگ اس کی باقاعدہ ادائیگی نہیں کرتے یا بالکل ہی نہیں کرتے ان کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے اور ان کے لیے بڑے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) جو لوگ اپنے پاس سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے تو اےنبی(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ان کو ایک درد ناک عذاب کی خبر دے دیجئے ۔ اور پھر دوسری جگہ اس درد ناک عذاب کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا،کہ یہ درد ناک عذاب اس دن ہوگا جس دن سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اس سے اس آدمی کی پیشانی اس کے پہلو اور اس کی پشت کو داغا جائے گا،اور کہا جائے گا یہ وہ خزانہ ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا ،آج تم اس خزانہ کا مزہ چکھو جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا ،۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ، یہاں بعض مفسرین کرام نے اس آیت سے تزکیہ نفس مراد لیا ہے یعنی وہ ایمان والے اپنے آپ کو برے اعمال اور اخلاق سے پاک صاف کرتے ہیں۔
(4) شرم گاہ کی حفاظت:کامل مومن کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی شرمگا ہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور غیر اسلامی طریقہ پر اپنی جنسی تسکین نہیں کرتے،لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسانی جنسی تسکین کے کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں اور اس کو نکاح سے مربوط فرما دیا ہے، اس فعل کے بارے ارشاد فرمایا فانھم غیر ملومین‘‘ یعنی زوجین کا جنسی تسکین دینا کوئی امر قبیح نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ضرورت ہےاور جو لوگ ان اصولوں سے ہٹ کر جائز طریقہ کے علاوہ اپنی جنسی تسکین کرتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا ہے :
’’،جو لوگ جائز طریقہ کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے:
"اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یعنی "آنکھ بھی زنا کرتی ہے" اور آنکھ کا زنا کرنا اس کی بہت سی شکلین ہیں ٹی وی پر شہوانی مناظر دیکھنا بھی آنکھ کا زنا میں شمار ہوتا ہے عریانی مناظر دیکھنا چاہے وہ اخبارات میں ہوں یا رسائل میں یا ٹی وی پر ہوں یا انٹر نیٹ پر،آج روزہ مرہ کی زندگی میں مرد و عورت کا کثرت سے اختلاط، مخلوط تعلیم، بے پردگی، اور انٹرنیٹ پر فحاشی اور عریانی کی وجہ سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم خود بھی زنا اور زنا کے محرکات سے بچیں اور اپنے بچوں، بچیوں اور گھر والوں کی ہر وقت نگرانی رکھیں اور ان کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں، اسلام نے انسان کو زنا کے اسباب اور اس کے محرکات سے بھی دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔لہٰذا اس پرفتن دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حتی الامکان غیر محرم مرد و عورت کے اختلاط سے ہی بچا جائے۔ عورتوں کا اپنی زینت کا ظاہر کرنا یا اس طرح کا لباس پہننا جسے سے جسم کے خدوخال نمایاں ہوں یہ سب زنا کے محرکات ہیں اس میں مرد عورت دونوں برابر کے شامل ہیں ۔
(5) ادائیگی امانت:امانت کا لفظ عام ہے اور ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی ذمہ داری کسی شخص تھامی ہو یا اٹھائی ہو اور اس پر اعتماد و بھروسہ کیا گیا ہو، چنانچہ اس ذمہ داری کا تعلق خواہ حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے۔ حقوق اللہ سے متعلق امانت فرائض و واجبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اجتناب کرنا ہے اور حقوق العباد سے متعلق امانت میں مالی امانت تو شامل ہے ہی، لیکن اس کے علاوہ رازداری بھی امانت ہی ہے کسی کا راز کسی کو بتلانا یہ امانت میں خیانت ہے، اگر وہ راز مفاد عامہ اور اسلامی مفاد کے خلاف نہ ہو تو اس کو کسی پر ظاہر کرنا خیانت ہے۔ اسی طرح کام کی چوری یا وقت کی چوری بھی امانت میں خیانت ہے ،ملازم کا ڈیوٹی کو پوری طرح سے انجام نہ دینا بھی خیانت ہے ۔ لہذا ہمیں امانت میں خیانت سے بچنا چاہئے۔
(6) عہد وپیمان کی خلاف ورزی:عہد ایک تو وہ معاہدہ ہے جو دو طرفہ طور پر فریقین میں کسی معاملہ پر طے پاتا ہے،لہٰذا اس طرح کے عہدو پیمان کو پورا کرنا لازمی اور ضروری ہوتا ہے، دوسرا وہ جس کو وعدہ کہتے ہیں یعنی کوئی شخص کسی سے کوئی وعدہ کر لے، اس کا پورا کرنا بھی شرعاً ضروری ہو جاتا ہے۔ غرضیکہ اگر ہم کسی شخص سے کوئی عہد وپیمان کرلیں تو اس کو پورا کرنا چاہیے۔ احادیث میں عہدوپیمان کی خلاف ورزی کرنے والے کو فاسق کہا گیا ہے اور منافقین کی علامات میں سے ایک علامت شمار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
(7) نماز: نماز اسلام کے ارکان میں سب اہم رکن ہے بالغ ہونے اور اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلے نماز ہی فرض ہوتی اور قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اسی کی بار بار تاکید فرمائی ہے اور سب سے زیادہ نماز کا ہی ذکر فرمایا۔ اور فرمایا کامیاب ہیں وہ جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں یعنی پانچوں نمازوں کو ان کے اوقات پر اہتمام کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت و تاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دیتی ہے مگر ضروری ہے کہ اس پر پابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط و آداب کے ساتھ پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں،جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔
اسی طرح حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ فلاں شخص راتوں کو نماز پڑھتا ہے مگر دن میں چوری کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نماز عنقریب اُس کو اِس برے کام سے روک دے گی۔ (مسند احمد، صحیح ابن حبان، بزاز)
نماز کا انسان کی زندگی سے اہم تعلق ہے ، کسی آدمی کے بارے میں اگر یہ پتہ لگانا ہو کہ یہ کس معیار کا اور کس مقام کا آدمی ہے تو اس کی نماز سے اندازہ لگا لینا چاہیے جس معیار کی نماز ہو گی اس معیار کے اس کے معاملات ہوں گے ۔ہمارا تجربہ اور دعویٰ ہے کہ بے شک نماز برائیوں سے روکتی ہے اور اچھائی کی دعوت دیتی ہے بشرطیکہ نماز نماز کی طرح سے ہو۔آج ہماری نماز ہی معیاری نہیں ہے تو ہمارا معیار بھی ختم ہو گیا ، نماز انسان کی معراج ہے کیا وجہ ہے کہ وہی رکوع سجدہ وہی طریقہ نماز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا تھا کہ نماز پڑھیں تو ان کے مسائل حل ہو جائیں اور آج ہم وہی نماز پڑھتے ہیں دعائیں مانگتے ہیں مگر اثر نہیں ،اس کی کیا وجہ ہے بیشک ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور ساتھ ساتھ حرام بھی کرتے ہیں وہ کس طرح دیکھئے۔
ہماری وضو سے لیکر مسجد جانے تک اور بھر مسجد کے اندر اور پھر مسجد سے باہر آنے تک حرام ہی حرام کرتے ہیں وہ کیسے وہ اس طرح جب ہم وضو کرتے ہیں پانی میں کتنی فضول خرچی کرتے ہیں ،وضو اس ظرح کرتے ہیں کہ پانی کی چھینٹے پاس والے پر پہنچتی ہیں وغیرہ۔
اسی طرح مسجد میں داخل ہونے کے بعد بلند آواز سے باتیں کرنا ایک دوسرے کی گردن کو پھلانگنا جہاں جی چاہے وہاں نماز کی نیت باندھ لینا ،ذرا ادھر توجہ فرمائیں ایک آدمی جس کو سفر کرنا اس کی گاڑی کا وقت ہے اور اس کے پیچھے کوئی جماعت کے علاوہ نماز کی نیت باندھ رکھی ہے یا کسی مریض کی تیمارداری کرنی ہے وہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا یا خود اس نمازی کو کوئی عذر لاحق ہو جائے تو وہ کس طرح سے مسجد سے نکلے یا تو نمازی کے سامنے گزرے جو فعل حرام ہے( اگرچہ اس طرح کی شکلوں میں جواز کا پہلو ہے) یا وہیں بیٹھا رہے اور اس کی نماز پوری ہونے کا انتظار کرتا رہے اور اپنا نقصان کرلے تو کیا معلوم ہوا آئے تھے نماز پڑھنے ایک نیک کام کرنے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو تکلیف بھی پہنچائی اور تکلیف پہنچانا جائز نہیں ۔اسی طرح ایک حرام کی طرف اور متوجہ کرتا ہوں جس میں بڑے بڑے دیندار بھی ملوث ہیں جب ہم مسجد سے باہر نکلتے ہیں تو اپنا جوتا پہننے کے لیے دوسروں کے جوتوں پر پیر رکھتے ہیں یا دوسروں کے جوتوں کو روندتے ہوئے چلے جاتے ہیں تو کیا یہ جائز کام ہے ذرا خیال فرمائیں جس جوتے کو ایک سال چلنا چاہیے وہ چند مہینے میں ہی خراب ہو جائے گا تو معلوم ہوا ہماری نماز کی ابتداء بھی حرام کام سے ہوتی ہے اور اختتام بھی حرام کام پر ہوتا ہے تو ہماری نمازیں کہاں کو قبول ہو جائیں گی ۔اس لیے جو مکمل نماز پڑھے گا وہ ان تمام ناجائز اور تکلیف پہنچانے والے کاموں سے بھی بچے گا ،اور تبھی یہ نماز برائیوں سے روکنے والی ہوگی ۔ بہرحال یہ چند باتیں تھیں جو عرض کر دی- اللہ تعالیٰ ہم سب کو پکا سچا مومن بنائے اور ایک دوسرے کا ادب اور اسلامی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل کرنے والا بنائے اٰمین۔
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۱اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں (یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔(سورت المومنون:1 تا 11)
اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوق کا خالق و مالک ہے وہ ہی سب کا رازق ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں کوئی اس کا شریک نہیں وہ اپنے تمام کاموں خود مختار ہے کسی میں اس کے کاموں میں دخل دینے کی ہمت نہیں وہ تمام مخلوق کی ضروریات سے واقف ہے ،اور اپنی حکمت کے تحت سب کی ضروریات پوری کرتا ہے اس نے اپنی مخلوق کی حفاظت کا پورا پورا بندوبست کیا کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا اور نہ ہی نا انصافی اور زیادتی کو پسند کرتا اور اپنی مخلوق کے تمام حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کا تحفظ فراہم کرتا ہے ۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں انسان کو کامیابی کا نسخہ اور کامیابی کے رموز بتایئے ہیں جو بھی ان رموز پر عمل پیراء ہوگا اس کی دنیا و آخرت سنور جائے گی۔ اور جنت کے اس حصہ کے وارث ہوجائیں گے جو جنت کا اعلیٰ ترین بلند وبالا درجہ اور مقام ہے۔جہان انسان کو ہر طرح کا آرام اور سکون میسر ہوگا، نہ کوئی روکنے ٹوکنے والا ہوگا اور نہ کوئی پابندی ہوگی اور نہ کوئی نگرانی کرنے والا ہوگا، من چاہا ملے گا من چاہا حاضر ہوگا وہاں تمام خواہشات کی تکمیل ہوگی جو اس دنیا فانی میں نہ مل سکا وہاں وہ اس کو ملے گا انسان کی توقع سے زیادہ ملے گا ۔ لیکن یہ سارے انعامات اور ہر طرح کی راحتیں اسی انسان کو ملیں گی جو پکا مومن ہوگا ۔ اب مومن کون ہے اس کی کیا صفات ہیں، وہ یہ ہیں۔
(1) خشوع خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی: خشوع کا مطلبٰ دل کی عاجزی اور خضوع کامطلب ظاہری اعضاء کا سکون سے ہونا ۔لہٰذا خشوع خضوع کا مطلب یہ ہوا کہ جب انسان اللہ کے حضور میں کھڑا ہو تو دل میں احساس کمتری ہو اللہ کی ذات اقدس کا احترام ہو،اس کا دل نماز میں اٹکا ہوا ہو،ظاہری اعتبار سے پر سکون ہو تمام اعضاء میں ٹھہراؤ اور وقار ہو پہلوؤں کو نہ بدلتا ہو بہت وقار کے ساتھ نگاہ نیچی ہو آواز میں پستی اور نرمی ہو نماز کے تمام ارکان میں متانت اور سنجیدگی ہو کسی دوسرے نمازی کو کسی طرح کی بھی تکلیف نہ ہو، نماز کے تمام ارکان و افعال کو نہایت سکون و وقارسے انجام دیا جائے قرآت و تسبیحات میں سکون ہو جلدی جلدی نہ ہو قرآن پاک کو حتی المقدور اچھا اور عمدہ پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ اس بات کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے جس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ایک صاحب بھی مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھی اور پھر( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا ،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ گئے اور جیسے پہلے نماز پڑھی تھی ویسے ہی نماز پڑھ کر آئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا ،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے سلام کا جواب دیا پھر ارشاد فرمایا جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، اس طرح تین دفعہ ہوا،ان صاحب نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے زیادہ اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا ،آپ مجھے نماز سکھایئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو پھر ،پھر قرآن مجید میں سے کچھ پڑھ سکتے ہو پڑھو ، پھر رکوع میں جاؤ تو اطمینان سے رکوع کرو اور پھر اطمینان سے رکوع سے کھڑے ہو پھر سجدہ میں جاؤ تو اطمینان سے سجدہ کرو ،پھر سجدے سے اٹھو تو اطمینان سے بیٹھو ۔ یہ سب کام اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو (البخاری)
(2)لغو کام سے اجتناب: لغو ہر اس کام کو کہتے ہیں جو فضول اور لا حاصل اور لایعنی ہو جن سے کوئی فائدہ نہ ہو، جن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہو، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ ہو، جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو تا ہو، وہ سب ”لغویات‘‘ میں شامل ہیں۔
چنانچہ"عن اللغو معرضون " "جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں“ یہ آیت شریفہ اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ کامل مومن کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ لغویات کی طرف توجہ نہیں کرتے اور ان سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ان کی طرف رخ نہیں کرتے۔ ان میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ جہاں ایسی باتیں ہو رہی ہوں یا ایسے کام ہو رہے ہوں وہاں جانے سے پرہیز کرتے ہیں، ان میں حصہ لینے سے اجتناب کرتے ہیں، اور اگر کہیں ان سے سابقہ پیش آہی جائے تو ٹل جاتے ہیں، کترا کر نکل جاتے ہیں ، (یہی تقوٰی ہے) یا بوجہ مجبوری کہیں پھنس جاتے ہیں توان سے بے تعلق رہتے ہیں۔ چنانچہ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ (اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں ) یعنی جب کسی ایسی جگہ سے ان کا گزر ہوتا ہے جہاں لغو باتیں ہو رہی ہوں ، یا لغو کام ہو رہے ہوں وہاں سے مہذب طریقے پر گزر جاتے ہیں۔
یہ چیز ، جسے اس مختصر سے فقرے میں بیان کیا گیا ہے ، دراصل مومن کی اہم ترین صفات میں سے ہے ۔ مومن وہ شخص ہوتا ہے جسے ہر وقت اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے اور جس چیز کو زندگی اور عمر اور وقت کے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے وہ درحقیقت ایک متعینہ مدت ہے جو اسے امتحان کے لیے دی گئی ہے ۔ یہ ایک احساس ہے جو ایک مومن کو بالکل اس طالب علم کی طرح سنجیدہ اور مشغول اور منہمک بنا دیتا ہے جو امتحان کے کمرے میں بیٹھا اپنا پرچہ حل کر رہا ہوتا ہے۔ اس طالب علم کو اس بات کا احساس رہتا ہے کہ امتحان کے یہ چند گھنٹے اس کی آئندہ زندگی کے لیے فیصلہ کن ہیں، اسی احساس کی وجہ سے وہ ان گھنٹوں کا ایک ایک لمحہ اپنے پرچے کو صحیح طریقے سے حل کرنے کی کوشش میں خرچ کرنا چاہتا ہے اور کسی بھی طرح ایک سیکنڈ کو بھی فضول ضائع کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، ٹھیک اسی طرح ایک مومن لیے یہ دنیا بھی ایک امتحان گاہ ہے جہاں وہ اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے امتحان کا پرچہ حل کر رہا ہے لہذا وہ دنیا کی اس زندگی کو انہی کاموں میں صرف کرتا ہے جو انجام کار کے لحاظ سے مفید ہوں ۔ حتی کہ وہ تفریحات اور کھیلوں میں سے بھی ان چیزوں کا انتخاب کرتا ہے جو محض تضیع وقت نہ ہوں بلکہ کسی بہتر مقصد کے لیے اسے تیار کرنے والی ہوں۔ اس کے نزدیک وقت”کاٹنے“ کی چیز نہیں ہوتی بلکہ استعمال اور استفادے کی چیز ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ اس وقت کے ایک ایک لمحہ کو اپنے لیے غنیمت سمجھتا ہے اور سے اس بھرپور انتفاع کی کوشش کرتا ہے اس کے شعور میں یہ بات جگہ کی ہوئی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں پرچہ حل کرنے کا وقت کب ختم ہو جائے اور اس کا پرچہ ادھورا رہ جائے۔ کیونکہ پرچہ حل کرنے کا دوبارہ وقت نہیں دیا جائے گا، تو اس طرح ایک کامل مومن اپنی زندگی گزارتا ہے وہ دوسروں کے دامن میں نہیں جھانکتا وہ اپنے اوپر نظر رکھتا ہے ۔
مومن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ ایک سلیم الطبع، پاکیزہ مزاج، خوش اخلاق و خوش ذوق انسان ہوتا ہے۔ بیہودگی اور لغویات سے اس کی طبیعت سلیمہ کو کسی قسم کا لگاؤ نہیں ہوتا۔ وہ مفید باتیں تو کر سکتا ہے، مگر فضول گپیں نہیں ہانک سکتا ۔ایک مومن ظرافت اور مزاح اور لطیف مذاق کی حد تک تو جا سکتا ہے، مگر ٹھٹھے بازیاں نہیں کر سکتا کسی کی مذاق نہیں بناتا، گندے اور غیر مہذب مذاق اور تمسخر کو برداشت نہیں کر سکتا، تفریحی گفتگوؤں کو اپنا مشغلہ نہیں بنا سکتا ۔ اس کے لیے ایسی سوسائٹیاں اور مجالس مستقل عذاب ہوتی ہیں جہاں ہمہ وقت گالیوں ، غیبتوں اور تہمتوں اور جھوٹی باتوں ، فلمی گانوں اور فحش گفتگوؤں کا ماحول بنا رہتا ہو۔ ایسے مومن کو اللہ تعالیٰ جس جنت کی بشارت اور امید دلاتا ہے اور وہاں کی نعمتوں میں اے ایک نعمت کا ذکر اس طرح سے بیان کرتا ہے کہ (وہاں تو کوئی لغو بات نہ سنے گا)۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے کہ لغو کام نہ کرو اور ان سے بالکل دور رہو،لہٰذا ہمیں ہر فضول کام سے بچنا چاہیے قطع نظر اس کے کہ وہ مباح ہوں یا غیر مباح،جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
انسان کا اچھا اسلام اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ بے فائدہ اور لغو چیزوں کو چھوڑ دے (ترمذی)
(3) زکوٰة کی ادائیگی:مومن کی کامیابی کا تیسرا اصول یا تیسرا اہم ضابطہ ہو زکوٰة کی ادائیگی کا ہے جس مومن پر جب زکوٰة فرض ہو جائے تو اس کے لیے اس کو ادا کرنا لازمی ہو جاتا ہے،زکوٰة اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں نماز کے بعد زکوٰة کی ادائیگی کی بار بار تاکید کی ہے ، اور جو لوگ اس کی باقاعدہ ادائیگی نہیں کرتے یا بالکل ہی نہیں کرتے ان کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے اور ان کے لیے بڑے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) جو لوگ اپنے پاس سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے تو اےنبی(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ان کو ایک درد ناک عذاب کی خبر دے دیجئے ۔ اور پھر دوسری جگہ اس درد ناک عذاب کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا،کہ یہ درد ناک عذاب اس دن ہوگا جس دن سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اس سے اس آدمی کی پیشانی اس کے پہلو اور اس کی پشت کو داغا جائے گا،اور کہا جائے گا یہ وہ خزانہ ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا ،آج تم اس خزانہ کا مزہ چکھو جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا ،۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ، یہاں بعض مفسرین کرام نے اس آیت سے تزکیہ نفس مراد لیا ہے یعنی وہ ایمان والے اپنے آپ کو برے اعمال اور اخلاق سے پاک صاف کرتے ہیں۔
(4) شرم گاہ کی حفاظت:کامل مومن کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی شرمگا ہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور غیر اسلامی طریقہ پر اپنی جنسی تسکین نہیں کرتے،لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسانی جنسی تسکین کے کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں اور اس کو نکاح سے مربوط فرما دیا ہے، اس فعل کے بارے ارشاد فرمایا فانھم غیر ملومین‘‘ یعنی زوجین کا جنسی تسکین دینا کوئی امر قبیح نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ضرورت ہےاور جو لوگ ان اصولوں سے ہٹ کر جائز طریقہ کے علاوہ اپنی جنسی تسکین کرتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا ہے :
’’،جو لوگ جائز طریقہ کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے:
"اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یعنی "آنکھ بھی زنا کرتی ہے" اور آنکھ کا زنا کرنا اس کی بہت سی شکلین ہیں ٹی وی پر شہوانی مناظر دیکھنا بھی آنکھ کا زنا میں شمار ہوتا ہے عریانی مناظر دیکھنا چاہے وہ اخبارات میں ہوں یا رسائل میں یا ٹی وی پر ہوں یا انٹر نیٹ پر،آج روزہ مرہ کی زندگی میں مرد و عورت کا کثرت سے اختلاط، مخلوط تعلیم، بے پردگی، اور انٹرنیٹ پر فحاشی اور عریانی کی وجہ سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم خود بھی زنا اور زنا کے محرکات سے بچیں اور اپنے بچوں، بچیوں اور گھر والوں کی ہر وقت نگرانی رکھیں اور ان کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں، اسلام نے انسان کو زنا کے اسباب اور اس کے محرکات سے بھی دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔لہٰذا اس پرفتن دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حتی الامکان غیر محرم مرد و عورت کے اختلاط سے ہی بچا جائے۔ عورتوں کا اپنی زینت کا ظاہر کرنا یا اس طرح کا لباس پہننا جسے سے جسم کے خدوخال نمایاں ہوں یہ سب زنا کے محرکات ہیں اس میں مرد عورت دونوں برابر کے شامل ہیں ۔
(5) ادائیگی امانت:امانت کا لفظ عام ہے اور ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی ذمہ داری کسی شخص تھامی ہو یا اٹھائی ہو اور اس پر اعتماد و بھروسہ کیا گیا ہو، چنانچہ اس ذمہ داری کا تعلق خواہ حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے۔ حقوق اللہ سے متعلق امانت فرائض و واجبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اجتناب کرنا ہے اور حقوق العباد سے متعلق امانت میں مالی امانت تو شامل ہے ہی، لیکن اس کے علاوہ رازداری بھی امانت ہی ہے کسی کا راز کسی کو بتلانا یہ امانت میں خیانت ہے، اگر وہ راز مفاد عامہ اور اسلامی مفاد کے خلاف نہ ہو تو اس کو کسی پر ظاہر کرنا خیانت ہے۔ اسی طرح کام کی چوری یا وقت کی چوری بھی امانت میں خیانت ہے ،ملازم کا ڈیوٹی کو پوری طرح سے انجام نہ دینا بھی خیانت ہے ۔ لہذا ہمیں امانت میں خیانت سے بچنا چاہئے۔
(6) عہد وپیمان کی خلاف ورزی:عہد ایک تو وہ معاہدہ ہے جو دو طرفہ طور پر فریقین میں کسی معاملہ پر طے پاتا ہے،لہٰذا اس طرح کے عہدو پیمان کو پورا کرنا لازمی اور ضروری ہوتا ہے، دوسرا وہ جس کو وعدہ کہتے ہیں یعنی کوئی شخص کسی سے کوئی وعدہ کر لے، اس کا پورا کرنا بھی شرعاً ضروری ہو جاتا ہے۔ غرضیکہ اگر ہم کسی شخص سے کوئی عہد وپیمان کرلیں تو اس کو پورا کرنا چاہیے۔ احادیث میں عہدوپیمان کی خلاف ورزی کرنے والے کو فاسق کہا گیا ہے اور منافقین کی علامات میں سے ایک علامت شمار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
(7) نماز: نماز اسلام کے ارکان میں سب اہم رکن ہے بالغ ہونے اور اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلے نماز ہی فرض ہوتی اور قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اسی کی بار بار تاکید فرمائی ہے اور سب سے زیادہ نماز کا ہی ذکر فرمایا۔ اور فرمایا کامیاب ہیں وہ جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں یعنی پانچوں نمازوں کو ان کے اوقات پر اہتمام کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت و تاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دیتی ہے مگر ضروری ہے کہ اس پر پابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط و آداب کے ساتھ پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں،جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔
اسی طرح حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ فلاں شخص راتوں کو نماز پڑھتا ہے مگر دن میں چوری کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نماز عنقریب اُس کو اِس برے کام سے روک دے گی۔ (مسند احمد، صحیح ابن حبان، بزاز)
نماز کا انسان کی زندگی سے اہم تعلق ہے ، کسی آدمی کے بارے میں اگر یہ پتہ لگانا ہو کہ یہ کس معیار کا اور کس مقام کا آدمی ہے تو اس کی نماز سے اندازہ لگا لینا چاہیے جس معیار کی نماز ہو گی اس معیار کے اس کے معاملات ہوں گے ۔ہمارا تجربہ اور دعویٰ ہے کہ بے شک نماز برائیوں سے روکتی ہے اور اچھائی کی دعوت دیتی ہے بشرطیکہ نماز نماز کی طرح سے ہو۔آج ہماری نماز ہی معیاری نہیں ہے تو ہمارا معیار بھی ختم ہو گیا ، نماز انسان کی معراج ہے کیا وجہ ہے کہ وہی رکوع سجدہ وہی طریقہ نماز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا تھا کہ نماز پڑھیں تو ان کے مسائل حل ہو جائیں اور آج ہم وہی نماز پڑھتے ہیں دعائیں مانگتے ہیں مگر اثر نہیں ،اس کی کیا وجہ ہے بیشک ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور ساتھ ساتھ حرام بھی کرتے ہیں وہ کس طرح دیکھئے۔
ہماری وضو سے لیکر مسجد جانے تک اور بھر مسجد کے اندر اور پھر مسجد سے باہر آنے تک حرام ہی حرام کرتے ہیں وہ کیسے وہ اس طرح جب ہم وضو کرتے ہیں پانی میں کتنی فضول خرچی کرتے ہیں ،وضو اس ظرح کرتے ہیں کہ پانی کی چھینٹے پاس والے پر پہنچتی ہیں وغیرہ۔
اسی طرح مسجد میں داخل ہونے کے بعد بلند آواز سے باتیں کرنا ایک دوسرے کی گردن کو پھلانگنا جہاں جی چاہے وہاں نماز کی نیت باندھ لینا ،ذرا ادھر توجہ فرمائیں ایک آدمی جس کو سفر کرنا اس کی گاڑی کا وقت ہے اور اس کے پیچھے کوئی جماعت کے علاوہ نماز کی نیت باندھ رکھی ہے یا کسی مریض کی تیمارداری کرنی ہے وہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا یا خود اس نمازی کو کوئی عذر لاحق ہو جائے تو وہ کس طرح سے مسجد سے نکلے یا تو نمازی کے سامنے گزرے جو فعل حرام ہے( اگرچہ اس طرح کی شکلوں میں جواز کا پہلو ہے) یا وہیں بیٹھا رہے اور اس کی نماز پوری ہونے کا انتظار کرتا رہے اور اپنا نقصان کرلے تو کیا معلوم ہوا آئے تھے نماز پڑھنے ایک نیک کام کرنے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو تکلیف بھی پہنچائی اور تکلیف پہنچانا جائز نہیں ۔اسی طرح ایک حرام کی طرف اور متوجہ کرتا ہوں جس میں بڑے بڑے دیندار بھی ملوث ہیں جب ہم مسجد سے باہر نکلتے ہیں تو اپنا جوتا پہننے کے لیے دوسروں کے جوتوں پر پیر رکھتے ہیں یا دوسروں کے جوتوں کو روندتے ہوئے چلے جاتے ہیں تو کیا یہ جائز کام ہے ذرا خیال فرمائیں جس جوتے کو ایک سال چلنا چاہیے وہ چند مہینے میں ہی خراب ہو جائے گا تو معلوم ہوا ہماری نماز کی ابتداء بھی حرام کام سے ہوتی ہے اور اختتام بھی حرام کام پر ہوتا ہے تو ہماری نمازیں کہاں کو قبول ہو جائیں گی ۔اس لیے جو مکمل نماز پڑھے گا وہ ان تمام ناجائز اور تکلیف پہنچانے والے کاموں سے بھی بچے گا ،اور تبھی یہ نماز برائیوں سے روکنے والی ہوگی ۔ بہرحال یہ چند باتیں تھیں جو عرض کر دی- اللہ تعالیٰ ہم سب کو پکا سچا مومن بنائے اور ایک دوسرے کا ادب اور اسلامی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل کرنے والا بنائے اٰمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں