اصحاب الرأي( آل ديوبند) كے سؤالات اورانكے جوابات
ضروری نوٹ:اہل حدیث حضرات کا دعوی ہے کہ ہم صرف قرآن اور صحیح حدیث کو مانتے ہیں۔ ہم نے درج ذيل سوالات ان کی خدمت میں پیش کردئے ہیں اورعرض کرتے ہیں کہ ان کےجوابات صرف اورصرف قرآن کریم کی صریح آیات یا صریح غیر معارض احادیث سے پیش کریں۔ کسی امتی کے قول یا قیاس کو پیش کرکے "شرک" کا ارتکاب نہ کریں۔ یاد رہے کہ حدیث کی صحت اپنے دو اصولوں یعنی قرآن و حدیث سے ثابت کرنا ہوگی۔
جواب:ان شاء اللہ تعالى ہم اپنے انہیں دو اصولوں یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ہی تمام تر مسائل کا حل دریافت کرتے ہیں اور آپکے پوچہے گئےتمام ترسوالات کےجوابات انہیں دوں مآخذ سے دیں گے ۔ بتوفیق اللہ تعالى وعونہ ۔ لیکن ہم نے جودعوى کیا ہے کہ حجت صرف اور صرف وحی الہی یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ عليه السلام ہی ہے تو اس دعوى کا معنى بہی ہم ہی اچہی طرح سمجہتے ہیں سوبہترہوتا کہ آپ پہلے یہ سوال کر لیتے کہ اس دعوى کی تفصیل کیا ہے ۔ مگر صد افسوس کہ حسب عادت مغالطہ آرئیوں سے آپ باز نہیں آئے ۔ دعوى تو آپ نے درست لکہا کہ ہم صرف قرآن اور صحیح یعنی مقبول حدیث کو ہی حجت مانتے ہیں ۔ لیکن اسکے بعد قرآن کے ساتہ"صریح" آیت اور حدیث کے ساتہ بہی "صریح غیر معارض" کی شرط لگا کر ہمارے دعوى کو خاص کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جبکہ ہمارادعوى عام ہے ۔ یعنی قرآن وحدیث کی عبارت ہو, اشارہ ہو,اقتضاء ہویا دلالت، یہ سب قرآن وحدیث میں شامل ہیں، جسے آپ"صریح" کی قید لگا کر خارج کرنا چاہتے ہیں!جبکہ ہم نے کبہی ایسا خاص دعوى نہیں کیا کہ ہم صریح قرآن وصریح حدیث یعنی قرآن اور حدیث کی ظاہری عبارت کو ہی حجت مانتے ہیں ! بلکہ ہمارا دعوى تو انتہائی جامع ہے کہ قرآن مجید فرقان حمید کی آیات اور احادیث سے ہی مسئلہ استنباط کرنا ہے خواہ عبارت سے ہو جائے یا اشارہ یا اقتضاء یا دلالت سے یا قیاس سے ۔ یاد رہے کہ ہم قیاس کو مأخذ شریعت نہیں مانتے،بلکہ ہمارے ہاں قیاس قرآن وسنت سے مسائل استنباط کرنےکا ایک شرعی قاعدہ ہے جیسا کہ دیگر قواعد استنباط واجتہاد ہیں!لہذا آپ کا یہ کہنا کہ کسی امتی کے قول یا قیاس کو پیش کرکے"شرک" کا ارتکاب نہ کریں۔ بالکل سینہ زوری ہے ۔ کیونکہ ہم کتاب وسنت کے خلاف کسی بات كے ماننے کو تقلید کہتے ہیں اور ایسی تقلید کو شرک وکفرسےتعبیر کرتےہیں,جبکہ قیاس صحیح کوہم نےکبہی شرک یاکفرقرارنہیں دیا ۔ ہاں قیاس فاسدیا ایسا قیاس جسکی بنیاد کتاب وسنت پر نہ ہو اسے حرام و ناجائز قرار دیتے ہیں ۔ رہی آپکی یہ بات کہ حدیث کی صحت اپنے دو اصولوں یعنی قرآن و حدیث سے ثابت کرنا ہوگی،تو بحمد اللہ تعالى ہم نے جو بہی اصول مرتب کیےہیں وہ انہیں دومآخذ یعنی قرآن وحدیث سے ثابت شدہ ہیں . حدیث کی صحت وسقم کو پرکہنے کے لیے جو قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ اسکے بیان کرنے والے راوی عادل اور ضابط ہوں، سند متصل ہو،اوروہ روایت معلل اور شاذ نہ ہو تو یہ ساری شروط ہم نے کتاب اللہ کی اس آیت سے لی ہیں:إن جاء كم فاسق بنبإ فتبينوا اتصال سند کی شرط "ان جاءکم" سے ماخوذ ہے , جیسا کہ واضح ہے کہ خبر دینے والا جب آئے گا تو خبر دینے اور لینےوالےدونوںکا اتصال ہوگا ۔عدالت کی شرط "فاسق "سےمأخوذ ہے، کہ فاسق کی خبر بہی بعدازتحقیق وتبیین مقبول ہےتوعادل کی خبر بطریق اولى مقبول ہے ۔ اور ضبط وحافظہ کی شرط "نبأ" سے مأخوذ ہے , کیونکہ اگر حافظہ درست نہ ہو تو پہر خبر خبر نہیں رہتی بلکہ ذرا سی بات تہی افسانہ بنا دیا والا معاملہ ہوتا ہے۔ اورعدم شذوذ وعدم علت کی شرط "فتبینوا" سے اخذ کردہ ہے ۔
سوال نمبر1:آپ کا امام تکبیر تحریمہ نماز کے شروع میں اللہ اکبر کہنا(اونچی آواز سے کہتا ہے اور مقتدی آہستہ آواز میں کہتے ہیں۔ اس پر قرآن کریم کی صریح آیات یا صحیح صریح غیر معارض احادیث پیش کریں۔ نیز اگر امام نے تکبیر آہستہ اور مقتدی نے بلند آواز میں کہہ دی تو نماز ہوگی یا نہیں؟ قرآن و حدیث سے جواب دیں۔ جواب: کیا وجہ ہے کہ سائل نے صرف حدیث کی قید لگا دی ہے , کیا وہ قرآن کو حجت تسلیم نہیں کرتا؟ یہ کیوں نہیں کہا کہ قرآن یا حدیث سے دکھائیں ؟؟!۔ خیر .... اسکا جواب تو قرآن میں بھی موجود ہے اور حدیث شریف میں بھی ۔ ہم صرف قرآنی دلیل پر ہی اکتفاء کرتے ہیں ۔اللہ تعالى کا فرمان ہے :واذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ [الأعراف:205] اور ڈرتے ہوئے ,اپنے دل میں , تضرع کے ساتھ , اونچی آواز نکالے بغیر صبح وشام اپنے رب کا ذکر کر, اور غافلوں میں سے نہ ہو جا ۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالى نے ذکر کا اصول بتایا ہے کہ اللہ کا ذکر دل میں , اونچی آواز نکال بغیر کیا جائے ۔ لہذا تمام تر اذکار دل میں ہی کیے جائیں اور اونچی آواز نکالے بغیر کیے جائیں , ہاں جو اذکار جن مواقع پر بآواز بلند کرنا ثابت ہیں وہ ان موقعوں پر اونچی آواز سے کیے جائیں گے ۔ کیونکہ وہ شرعی دلیل کے ذریعہ اس قاعدہ کلیہ سے مستثنى ہو گئے ہیں ۔ اورتکبیر , یعنی اللہ اکبر بھی اللہ کا ذکر ہی ہے. اس پر بھی یہی قانون لاگو ہوگا کہ یہ بھی دل میں , اونچی آواز نکالے بغیر کہی جائے , ہاں مکبر اور امام کا بآواز بلند تکبیرات انتقال کہنا شرعی دلیل سے ثابت ہے لہذا وہ اس اصول سےمستثنى ہیں ۔ خوب سمجھ لیں.
سوال نمبر2: زید نے زینب کو تین3 شرعی طلاقیں دیں ، اس کے بعد زینب نے بکر سے نکاح کیا ، پھر بکر نے اسے طلاق دے دی ، اب زینب عدت گزار کر زید سے نکاح کرسکتی ہے۔ یہ مسئلہ تو قرآن و حدیث میں ہے ،لیکن اگر بکرنےطلاق نہیں دی بلکہ زینب نے خلع کرالی یا بذریعہ عدالت نکاح فسخ کرایا تو اب زینب عدت گزار کر زید سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟ثبوت میں قرآن کریم کی صریح آیت یاصحیح صریح غیرمعارض حدیث پیش فرمائیں؟ جواب: بحمد الله تعالى اس مسئلہ کاحل قرآن مجید فرقان حمید میں موجود ہے. جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے اللہ رب العزت نے انکے نام ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے : وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ [النساء:24]. ان کے علاوہ دیگر عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں ۔اور خلع لے لینے کے بعد زینب کے زید پر حرام ہونے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی ۔ اور یہ مسئلہ حدیث مبارکہ میں بھی ہے : رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں دے دیں ‘ اور پھر اسکے بعد اسکا نکاح عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا ۔ تو وہ اس کے پاس خوش نہ تھی ۔ سو وہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ عبد الرحمن بن زبیر تو جنسی طور پر کمزور ہے ۔ تو نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے ؟۔ ایسا اس وقت تک ہرگز نہیں ہوگا جب تک کہ تو عبد الرحمن کی مٹھاس اور وہ تیری مٹھاس نہ چکھ لے ۔ (یعنی جماع نہ ہو جائے )۔[صحیح بخاری:2439]. اس حدیث مبارکہ میں بھی یہ عورت نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے چھٹکارہ یا خلع حاصل کرنے آئی تھی ‘ تو نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے خلاصی حاصل کرکے دوبارہ تو رفاعہ قرظی کے نکاح میں جاسکتی ہے بشرطیکہ وہ یعنی عبد الرحمن بن زبیر تجھ سے جماع کر لے ۔ بحمد اللہ تعالى یہ دونوں دلائل یعنی قرآن اور حدیث صریح اور غیر معارض ہیں ۔
سوال نمبر3:آج کل کثرت سے پیش آنے والے درج ذیل مسائل پر قرآن کریم اور صحیح صریح احادیث پیش فرمائیں۔1۔ کیا خون دینا اور لینا جائز ہے؟ 2۔ روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ 3۔ کیا اپنا خون اور اعضاء )دل، آنکھیں، گردے وغیرہ( فروخت کرنا جائز ہے؟ 4۔ کسی ضرورت مند کو اپنےاعضاء ہدیہ کرناجائز ہے؟ 6۔ مرنے کےبعداعضاء کےعطیہ کرنےکی وصیت کرناجائز ہے؟ 7۔ٹیلیفون یا انٹرنیٹ پر نکاح جائز ہے یا نہیں؟ 1۔ خون لینے یا دینے کے متعلق اصل حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے ۔ ہاں حالت اضطرار میں ایسا کرنا جائز ہے ۔ اسکی دلیل اللہ تعالى کا فرمان ہے :اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [البقرۃ: 173]. اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالى نے خون کو حرام قرار دیا ہے ۔ اور جو چیز حرام ہو اسکا استعمال , اسکی خریدوفروخت سب کچھ حرام ہوتا ہے , الا کہ اس سے انتفاع کی کوئی دلیل موجود ہو ۔ اور پھر اللہ تعالى نے خود ہی حالت اضطرار میں غیر باغ ولا عاد کی شرط لگا کر اسکے استعمال کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔2 ۔ ٹوٹ جاتا ہے ۔ دلیل اللہ تعالى کافرمان ہے :أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ ...الخ [البقرۃ:187]. اس آیت مبارکہ میں روزہ کی حالت میں کھانے پینے سے منع کیا گیا ہے ۔ اور ٹیکہ میں تو یہ معنى اتم حالت میں موجود ہے ۔ کیونکہ غذا یا عام دواہضم ہو جانے کے بعد جزو بدن بہت دیر سے بنتی ہے جبکہ ٹیکہ ہضم شدہ غذا سے بھی اگلی کیفیت میں ہوتا ہے ۔ لہذا یہ بالأولى ناجائز ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالى کا فرمان ہے :إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ والدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيروَمَاأُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِاللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [البقرۃ: 173]. نیزنبی عليه الصلاة کا ارشاد ہے:كَسْرُعَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا [سنن ابی داود 3207].میت کی ہڈی کو توڑنا، زندہ کی ہڈی کو توڑنے کی طرح ہی ہے ۔ اسی طرح مثلہ سے ممانعت والی تمام تر احادیث انسانی اعضاء کو کاٹنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں ۔ البتہ کسی مضطر شخص کی خاطر ایسا کرنا درست ہوگا دلیل مذکورہ بالا آیت ہی ہے ۔ جائز ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے درست ہونے کے لیے فریقین یا ان میں سے کسی ایک کی موجودگی کو شرط قرار نہیں دیا ۔ بلکہ نکاح کے لیے دو عادل گواہ , لڑکی اور اسکے اولیاء کی رضامندی , لڑکے کی رضامندی اور ایجاب وقبول کو ہی لازم قرار دیا ہے ۔اور یہ سب کچھ ٹیلفونک وانٹر نیٹ نکاح میں بھی پایا جاتا ہے.
سوال نمبر4:کوئی ایک ایسی صحیح صریح غیر معارض حدیث پیش کریں جس میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک کہا گیا ہو اور اس روایت کا کوئی راوی شیعہ نہ ہو اور اس روایت کے کسی ایک بہی راوی کا اپنا فتوی اس حدیث کے خلاف نہ ہو۔ جواب: ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کرنے سے متعلق صحیح روایت درج ذیل ہے :كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ.[صحیح مسلم :1472].رہی آپکی عائد کردہ شروط تو وہ قرآن مجید فرقان حمید کے قبول روایت والے اصول(جسکا ذکر اس پوسٹ میں کیا گیا ہے) کےخلاف ہونے کی بناء پر مردود ہیں.کیونکہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ. [صحیح بخاری:2155].لوگوں کو کیا ہے کہ ایسی شرطیں عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ! جس نے بھی کوئی بھی ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہ ہو تو وہ شرط باطل ہے , خواہ وہ سو شرطیں لگاتا رہے ۔ اللہ کی شرط زیادہ حق والی ہے اور زیادہ مضبوط ہے ۔ لہذا آپکی یہ دو شرطیں :1۔ اس روایت کا کوئی راوی شیعہ نہ ہو2۔ اس روایت کے کسی ایک بھی راوی کا اپنا فتوی اس حدیث کے خلاف نہ ہو قرآن مجید کے اصول :ان جاء کم فاسق بنبإ فتبینوا کے خلاف ہونے کی بناء پر مردود ہے۔ یاد رہے کہ متقدمین اہل الحدیث کے ہاں شیعہ اسے کہا جاتا تہا جو عقیدۃ اور عملا اہل السنہ والجماعہ ہی ہوتا تہا ۔ اس میں اور عام اہل السنہ میں صرف اتنا فرق تھا کہ شیعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے افضل سمجھتے تھے ۔ اسکے سوا انکے عقیدہ یا عمل میں کوئی بہی اور خرابی نہ تھی۔ لیکن متأخرین اور عصر حاضر کے لوگ جنہیں شیعہ سمجہتے یا کہتے ہیں انہیں محدثین متقدمین رافضی کہا کرتے تہے ۔ کہ یہ بدعت کبیرہ کے مرتکب ہیں ۔ صحابہ کو کافر بہی سمجہتے ہیں اور ان پر سب وشتم بہی کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شیعہ کی روایت مقبول اور رافضی کی روایت مردود ہوتی ہے ۔
سؤال نمبر5: خنزیر ، شیر،چیتا ، بہیڑیا ،بندر، گینڈا ،گیڈر، لومڑی وغیرہ درندوں کے جوٹہے کا کیا حکم ہے؟ پاک ہے یا ناپاک؟ قیاس کیے بغیر ہرایک کےلئے نام بنام قرآن کریم یا احادیث مبارکہ سے صریح نص پیش کریں۔ مندرجہ بالا جانوروں کے جوٹہے کے حکم کے علاوہ ان جانوروں کے پیشاب، پاخانے، قے، خون، پسینے وغیرہ کے پاک یا ناپاک ہونے کی نام بنام صریح نصوص بہی پیش فرمائیں۔ جواب: تمام تر جانوروں اور پرندوں کا جوٹہا پاک ہے جب تک کسی خاص جانور کے جوٹہے کے ناپاک ہونے کی دلیل نہ ہو اس وقت تک اس پر طہارت کا حکم ہی ہوگا ۔ کیونکہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ںسنن ابی داود:44]. پانی پاک ہے اسے کوئی بھی چیز نجس نہیں کر سکتی ۔ کتے کے جوٹھے کو نا پاک قرار دیا گیا ہے :طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ.رسول اللہ عليه الصلاة نےفرمایا :"جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار جائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات بار دھویا جائے جن میں سے پہلی بار مٹی استعمال کی جائے ".[صحیح مسلم: 279].تمام ترحرام جانوروں کا پیشاب اورپاخانہ ناپاک ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ عليه الصلاة نے جانور کی لِید کے بارہ میں فرمایاتھا"إنهاركس"[جامع الترمذي: 17].اورجن جانوروں کا لعاب اور جوٹھا پاک ہے انکا پسینہ بھی پاک ہے ۔ کیونکہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم گدھے گھوڑے اور خچر پر سواری کرتے رہے ہیں۔ اور جانور کو چلتے اور بھاگتے ہوئے پسینہ آ جانا ایک واضح امر ہے ۔ رہی شرط "احادیث یا آیات سے ان تمام تر جانوروں کے نام " پیش کرنے کی تو یہ ایسی شرط ہے کہ جو شرعا ناجائز ہے ۔ کیونکہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے:مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ[صحیح بخاری 2155]. لوگوں کو کیا ہے کہ ایسی شرطیں عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ! جس نے بھی کوئی بھی ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہ ہو تو وہ شرط باطل ہے، خواہ وہ سوشرطیں لگاتا رہے ۔ اللہ کی شرط زیادہ حق والی ہےاور زیادہ مضبوط ہے.
سوال6: آپ کےنزدیک تقلید شخصی شرک، ناجائز اورحرام ہے۔ جبکہ امام یحیی بن سعید القطان،حنفی امام بخاری شافعی ، امام مسلم شافعی، امام ابن تیمیہ حنبلی، امام ابن حجر شافعی ، امام نووی شافعی امام ذہبی شافعی مقلد ہیں۔ تو قرآن و حدیث سےان حضرات کا حکم بیان فرمائیں اور یہ بہی فرمائیں کہ جو ان مقلدین کی روایات لیتا ہے یا انکی بات پر عمل کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: یقینا ہمارے نزدیک تقلید شرک نا جائز اور حرام ہے ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک قرآن وحدیث کے خلاف کسی كى بات ماننے کا نام تقلید ہے ۔ اور جن حضرات کے اسمائے گرامی آپ نے پیش کیے ہیں ان میں سے کوئی بہی مقلد نہیں تہا ۔ یعنی ان میں سے کوئی بہی ایسا نہ تہا جو قرآن وحدیث کے خلاف کسی اور کی بات کو مانتا یا ترجیح دیتا ہو ۔ بلکہ یہ تمام تر لوگ بلا واسطہ قرآن وحدیث سے مسائل اخذ کرنے والے یعنی مجتہد تہے ۔ مقلد نہ تہے ! لہذا آپکا یہ سوال ہی باطل ٹہہرا .
سوال7: قرآن کریم پر اعراب لگانا، رکوعات، پارے، منزلیں یہ ترتیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم نہیں فرمائی بلکہ یہ ترتیب امت نے قائم کی ہے۔ اس پس منظر میں 1- موجودہ ترتیب کے ساتھ شائع اور پڑہے جانے والے قرآن کریم کا مقبول ہونا نص صریح سے ثابت کریں۔2 - یہ فرق ثابت کریں کہ امت کا ترتیب دیا ہوا قرآن تو لینا جائز ہے اور فقہ لینا ناجائز ہے۔3- امت کے ترتیب دیے ہوئے قرآن کریم سے حفظ کرنے کا جوازاورنمازمیں اس کی قراءت کا صحیح ہونا کسی نص صریح سے ثابت کریں۔
جواب:قرآن مجید پر اعراب سے متعلق یہ سوال انتہائی جہالت پر مبنی ہے ۔کیونکہ اعراب تو نبی مکرم عليه الصلاة کے زمانہ میں بہی موجود تہے ۔ اوراعراب کے بغیر کسی بہی زبان کا ایک لفظ بہی ادا نہیں کیا جاسکتا ہے خواہ وہ عربی ہو انگریزی ہواردوہو یا کوئی اورزبان ہو ۔ قرآن مجیدزیرزبرسمیت اللہ نےنازل فرمایا ہے ,اوراعراب سمیت ہی نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے پڑہا اور امتکو پڑہایا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ پہلے لوگ قرآن کو زبانی یاد کر لیتے تہے ۔ اور کچہ قرآن کو لکہ بہی لیتے تہے ۔ لیکن چونکہ انہیں معلوم تہا کہ اس لفظ کا تلفظ کیا ہےسوانہیں اعراب تحریرکرنے کی حاجت نہیں تہی ۔ تو جب ایسے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے کہ جنہیں الفاظ کا صحیح تلفظ علم نہ تہا تو انکی سہولت کے لیےاعراب بہی تحریر کر دیے گئے. الغرض اعراب کا وجود نبی صلى اللہ علیہ وسلم زمانہ میں موجود تہا ۔ اور آپ کے زمانہ میں قرآن لکہا بہی گیا تہا ۔ اورآپ صلى اللہ علیہ وسلم نے مکمل قرآن لکہنےکی اجازت دے رکہی تہی ۔ اور اعراب قرآن میں شامل ہیں قرآن سے خارج نہیں ۔ لہذا آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قرآن تحریر کرنے کی اجازت میں قرآن پر اعراب اور نقطے لگانے کی اجازت بھہ شامل ہے ۔ اور اسکی ترتیب بہی آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی لگائی گئی تہی ۔ جب بہی کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ عليه الصلاة حکم دیتے کہ اس آیت کو فلاں فلاں سورت میں لکہ دو ۔ [جامع الترمذی:3084] سوقرآن مجید کی موجودہ ترتیب,دراصل نبوی ترتیب ہی ہے ۔ باقی رہی بات قرآن کو رکوع , اور منزلوں اور پاروں میں تقسیم کرنے کی‘ تواس سے نفس قرآن پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اور پہر خود نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کو مختلف انداز میں مختلف حصوں میں تقسم کیا کرتے تہے.[سنن ابی داود3392] لہذا قرآن مجید کو پاروں اور منزلوں میں تقسیم کرنا بہی کوئی بدعی امر نہیں بلکہ اگر اسے مسنون کہا جائے تو بہی غلط نہ ہوگا ۔ کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کو زیادہ سے زیادہ تیس دنوں اور کم ازکم سات دنوں میں پڑہنے کا حکم دیا ہے [سنن ابی داود1395] توجوشخص قرآن کو تیس دنوں پڑہے تو اسکے لیے تیس برابر حصے تیس پارے ہی ہیں اور جو سات دنوں میں پڑہنا چاہے تو اسکے لیے سات برابر حصے سات منزلیں ہی ہیں ۔ اس مقدمہ کو سمجہنے کے بعد آپکے تینوں سوالات باطل ہوئے!
سوال8: اہلحدیث رمضان میں یہ امور انجام دیتے ہیں: آٹہ رکعت باجماعت، اپنی تمام مساجد میں، پورا مہینہ اور پورا قرآن ختم کرتے ہیں۔ اگر یہ پانچوں چیزیں حضور (ص)سے ثابت ہیں تو پیش فرمائیں اور اگر ثابت نہیں تو یہ کام کرنےوالوں سےمتعلق قرآن وسنت سےفتوی صادر فرمائیں۔
جواب:آٹہ رکعت نماز تراویح نبی (ص)سے ثابت ہے اسکے کئی دلائل ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ (ص)فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا، فَلَمْ نَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ: «إِنِّي خَشِيتُ - أَوْ كَرِهْتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ.[صحیح ابن حبان:2409] سیدنا جابر بن عبد اللہ(رض)فرماتے ہیں کہ رسول اللہ عليه السلام نے ہمیں رمضان کےمہینہ میں آٹہ رکعتیں اور وتر پڑہائے تو جب اگلی رات آئی تو ہم مسجد میں جمع ہوئے اور ہم یہ امید لگائے بیٹہے تہے کہ آپ عليه السلام (ہمیں قیام کروانے )نکلیں گے ‘مگرہم صبح تک انتظارمیں رہے‘ پہرآپ عليه الصلام ہم پر داخل ہوئے تو ہم نے عرض کیایارسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہم مسجد میں جمع ہوئے تہے اورہم امید کرتے تہے کہ آپ ہمیں نماز پڑہائیں گے تو آپ عليه السلام نے فرمایا مجہے یہ خدشہ تہا کہ کہیں تم پر وتر فرض نہ ہو جائے ۔ جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟» قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا [صحیح ابن حبان 254۴9].ابی بن کعب نبی عليه السلام کے پاس آئے تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول عليه السلام رمضان کی رات مجہ سے کچہ صادر ہوا ہے ۔ توآپ عليه السلام نے فرمایا اے ابی وہ کیا ہوا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا:میرے گہرمیں عورتیں تہیں انہوں نےکہا ہم قرآن نہیں پڑہ سکتیں تو ہم تیری اقتداءمیں نماز پڑہتی ہیں ۔ تو میں نے انہیں آٹہ رکعتیں اور وتر پڑہائے ۔ کہتے ہیں کہ اس پرآپ عليه السلام کی رضامندی ہی ہوگئی اور آپ عليه السلام نے کچھ نہ کہا ۔ ان دونوں احادیث مبارکہ سے.1۔ آٹہ رکعتیں. 2۔ رمضان کے مہینے میں مسجدمیں بہی اورگہرمیں بہی. 3۔ باجماعت ادا کرنا بہى ثابت ہوا ۔ پورا قرآن پڑہنے سے متعلق اجازت قرآن میں ہی موجود ہے ۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں "فاقرؤوا ما تيسر من القرآن" یعنی جتنا بہی قرآن میسر آجائے اتنا ہی پڑہ لو ۔ سو جنہیں مکمل قرآن پڑہنا میسرآتا ہے وہ مکمل پڑہ لیتے ہیں اورجنہیں اس سےکم میسرآئےوہ کم پڑہتے ہیں اور جنہیں رمضان میں دو یا تین بار پڑہنا میسرآئےوہ دویاتین بارپڑہ لیتے ہیں ـ ہر مسجد میں قیام رمضان کرنے کی وہی دلیل ہے جو ہر مسجد میں نماز پڑہنے کی دلیل ہے ۔
چہوتها:
سوال9: اگر کسی نمازی نے نمازمیں سبحان ربی العظیم کی جگہ سبحان ربی الاعلی یا سبحان ربی الاعلی کی جگہ سبحان ربی العظیم یا درود شریف کی جگہ دعائے قنوت یا التحیات کی جگہ سورۃ الفاتحہ یا اللہ اکبر کی جگہ اللہ کبیر یا سمع اللہ لمن حمدہ کی جگہ اللہ اکبرکہہ دیا،یااسکےبرعکس کردیا تواسکی نمازہوگی یا نہیں؟ ہر دو صورتوں میں صحیح صریح غیر معارض احادیث پیش فرمائیں۔
جواب1:۔ اگر غلطی سے ایسا کرلیتاہےتونمازہوجائےگی ۔دلیل: إن اللہ تجاوزعن أمتی الخطأ والنسیان. [ابن ماجہ2043] یقینا اللہ تعالى نےمیری امت سےغلطی اوربھول کومعاف کیا ہے ۔ اور جان بوجہ کرکوئی بھی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا.2 ۔اگر غلطی سےایسا کیا ہےتو اسکی نماز میں نقص واقع ہو گا۔ کیونکہ درورد پڑہنےکا اللہ نے حکم دیا ہے"صلوا علیہ وسلموا تسلیما" اس نبی پر درود اور سلام پڑہو۔ اور ایسا کام جان بوجہ کر کوئی مسلمان نہیں کرسکتا ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسکی نماز ‘ سنت کے مطابق نہیں ہوگی.3۔ اسکا جواب بہی وہی ہے جو ۔2۔ کا جواب ہے ۔4۔ تکبیر تحریمہ میں ایسا کرنے والے کی نماز نہیں ہوگی ! ۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے"تحریمہا التکبیر.[سنن ابی داود41]یعنی نمازکےلیےتحریمہ صرف اورصرف تکبیر ہی ہے ۔اورتکبیر اللہ أکبرکو کہتے ہیں ۔ اللہ کبیر ‘تکبیر نہیں ہے ۔اورتکبیرتحریمہ سے علاوہ باقی مقامات پراگرغلطی سے ایسا کرلیتا ہےتونمازہوجائے گی ۔ دلیل: إن اللہ تجاوز عن أمتی الخطأ الخ[ابن ماجہ 2043].یقینا اللہ تعالى نےمیری امت سےغلطی اوربھول کومعاف کیا ہے ۔ اور جان بوجہکر کوئی بہی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا ! اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسکی نماز‘سنت کےمطابق نہیں ہوگی ۔5۔ اگرغلطی سےایسا کرلیتا ہےتونماز ہو جائے گی ۔دلیل:إن اللہ تجاوز عن أمتی الخطأ والنسیان [ابن ماجہ2043] یقینا اللہ تعالى نے میری امت سے غلطی اور بہول کو معاف کیا ہے ۔ اورجان بوجہکرکوئی بہی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا ! اگر کوئی ایسا کرتا ہے تواسکی نماز‘سنت کےمطابق نہیں ہوگی ۔ (نوٹ:كچہ مهينے پہلے ايک ديوبندى بہائي كے سؤالات آئے تہے تو انکے جوابات خدمت ميں حاضرہيں) ايک اہم گذارش كيا بات ہے مقلدين حضرات كواہل حديث كے كسى بہى سؤال كا جواب اپنے اصول كے دينا نہيں آتا البتہ صرف سؤالات ہى كرنے آتے ہيں كيا اہل حديث كے سؤالات كاجواب فقہ حنفى ميں کہيں نہيں ہيں كيا ؟ (شايدتمهارے کچہ سؤالوں کے جوابات اس ميں ہوں باقى اوركبهى اورهركسى شخص كے لئے ضرورى هے كه وه منهج اهل حديث كامطالع كرنے كى كوشش كرے اوراهل حديث كامنهج سمجهنے کے كوشش بہى كرے) ہوتے ہوئے مصطفى كى گفتار مت ديكه كسى كاقول وكردار.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں