کسی پر بھی لعنت نہیں کرنا چاہیے
1978- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: "لاَتَلْعَنِ الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ".
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ [ حَسَنٌ ] غَرِيبٌ، لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ.
* تخريج: د/الأدب ۵۳ (۴۹۰۸) (تحفۃ الأشراف: ۵۴۲۶) (صحیح)
۱۹۷۸- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک آدمی نے ہواپرلعنت بھیجی تو آپ نے فرمایا:'' ہواپر لعنت نہ بھیجواس لیے کہ وہ تو (اللہ کے) حکم کی پابندہے، اورجس شخص نے کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجی جو لعنت کی مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے''۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲-بشر بن عمرکے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوعابیان کیاہے۔
1978- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: "لاَتَلْعَنِ الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ".
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ [ حَسَنٌ ] غَرِيبٌ، لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ.
* تخريج: د/الأدب ۵۳ (۴۹۰۸) (تحفۃ الأشراف: ۵۴۲۶) (صحیح)
۱۹۷۸- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک آدمی نے ہواپرلعنت بھیجی تو آپ نے فرمایا:'' ہواپر لعنت نہ بھیجواس لیے کہ وہ تو (اللہ کے) حکم کی پابندہے، اورجس شخص نے کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجی جو لعنت کی مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے''۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲-بشر بن عمرکے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوعابیان کیاہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں