توحید اور اس کی قسمیں

توحید اور اس کی قسمیں
الحمد لله رب العالمين، والعاقبة للمتقين، والصلاة والسلام على عبده ورسوله وخليله وأمينه على وحيه وصفوته من خلقه نبينا وإمامنا وسيدنا محمد بن عبد الله وعلى آله وأصحابه ومن سلك سبيله واهتدى بهداه إلى يوم الدين۔
أما بعد:
اللہ تعالی کا شکر واحسان ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اخوت ایمانی کی جذبے سے ہم سب کو یہاں جمع کیا، ہم دعاء کرتے ہیں کہ ہمارا یہ اجتماع بابرکت ثابت ہو، اور اللہ تعالی ہم تمام لوگوں کے اعمال وقلوب کی اصلاح فرمائے، دین میں تفقہ اور ثابت قدمی عطا فرمائے، نیز دنیا کے تمام مسلمانوں کے حالات درست فرمائے، اور ان کے امورکی باگ ڈور اچھے لوگوں کے ہاتھہ میں دے، اسی طرح ان کے حکمرانوں کی اصلاح فرمائے اور ان کے مابین زیادہ سے زیادہ داعیان حق کو پیدا فرمائے، یقینا اللہ تعالی سخی اور فیاض ہے ۔
بعد ازاں جامعہ ام القری کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور اس مرکز کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جن میں سرفہرست برادر محترم جناب ڈاکٹر راشد بن راجح مدير جامعہ ام القری، جنہوں نے اس اجتماع کے قائم کرنے کی دعوت دی، ہم اللہ کے اسماء حسنی اور صفات علیا کے واسطے سے دعاء کرتے ہیں کہ ہم سب کو دنیا وآخرت کی سعادت اور فلاح و بہبود کی توفیق عطا فرمائے۔
سامعین کرام! ابھی ابھی ہمارے مابین ایک طالب علم نے سورہ حشرکی تلاوت کی، اس کی چند آیتیں ہم نے سماعت فرمائی، یقینا اس میں ڈھیر ساری عبرت ونصیحت کی چیزیں ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ "    
 ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ اللہ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺩﯾﻜﮫ ( ﺑﮭﺎﻝ ) ﻟﮯ ﻛﮧ کل ( ﻗﯿﺎﻣﺖ ) ﻛﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ( ﺍﻋﻤﺎﻝ کا ) ﻛﯿﺎ ( ﺫﺧﯿﺮﮦ ) ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ( ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ) اللہ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻮ۔ اللہ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺐ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﮯ
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 29)
إلخ۔۔۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ عزوجل کی کتاب اول تا آخر پند وموعظت، عبرت ونصیحت، دعوت حق، دعوت خیر اور نجات وسعادت کے اسباب کو یاد دلانے والی ہے، اس کتاب میں ترغیت وترہیب اور درس وعبرت ہے.
لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ اس میں غور وفکر کریں، اس کی تلاوت کریں اور اس پر توجہ دیں، تاکہ اوامر الہی اور محرمات شرعیہ کی معلومات فراہم ہوسکے، اور تاکہ مومن اوامر کو بجا لائے اور منہیات سے دور رہے۔
اللہ کی کتاب میں ہدایت و نور ہے اسی میں ہر طرح کا خیر پایا جاتا ہے، اور ہر برائی سے تنبیہ کی گئی ہے، اس میں اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی دعوت اور اعمال بد اور برے تصرفات واخلاق سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ "     ﯾﻘﯿﻨﺎﹰﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﮯيعني وہ راستہ اور طریقہ جو سب سے درست اور صحیح راستہ ہے، اورالله سبحانه وتعالى نے فرمايا:" قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ"    ﺁﭖ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺗﻮﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯﻟﯿﮯ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻭ ﺷﻔﺎ ﮨﮯ اور الله سبحانه وتعالى نے فرمايا:" كِتَابٌ أَنْـزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الأَلْبَابِ "     ﯾﮧ ﺑﺎﺑﺮﻛﺖ ﻛﺘﺎﺏ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﺌﮯﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺁﯾﺘﻮﮞ ﭘﺮﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭﻋﻘﻠﻤﻨﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﯾﮟ ۔ اور الله سبحانه وتعالى نے فرمايا:" وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ "     ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺑﻄﻮﺭ ﻭﺣﯽ ﻛﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﻛﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺳﮯ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻛﻮ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮩﻨﭽﮯ بہرحال اللہ کی کتاب ميں ہدايت و نور ہے، اور اس ميں عبرت و نصيحت کی باتيں ہيں۔
چنانچہ سب سے پہلے میں اپنے آپ کو، پھر ان تمام لوگوں کو جن تک میری بات پہنچ رہی ہے، اس کتابِ عظیم کا اہتمام کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، یقینا یہ سب سے اشرف اور عظیم کتاب ہے، یہ آسمان سے نازل شدہ آخری کتاب ہے، جو ہدایت اور حق کی معرفت کے نیت سے اس میں غور وفکر کریگا، اسے اللہ تعالی ہدایت کی توفیق عطا فرمائیگا۔
اس کتاب کے اہم موضوعات میں سے ایک موضوع یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے، اسے واضح کرنا ہے، یہی قرآن کریم کے اندر سب سے اہم اور عظیم موضوع ہے، یعنی اللہ سبحانہ وتعالی کے حق کا بیان جو اس کے بندوں پر واجب ہے یعنی اللہ کی وحدانیت کا اقرار خالص اسی کے لیے عبادت کرنا اور اس کے مخالف چیزوں
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 30)
یعنی شرک اکبر اور وہ گناہ جو معاف نہیں کیے جائیں گے، اور کفر وضلالت کےتمام اقسام سے اجتناب کرنا۔
اگر اس کتاب عظیم میں اس اہم واجبات کی معرفت کے علاوہ کوئی اور چیزیں نہ ہوتیں، تب بھی یہ انسان کے لیے بہت عظیم خیر اور بڑا احسان ہوتا، اس کے باوجود اس کتاب میں ہر طرح کے خیر کی رہنمائی کی گئی ہے، اور ہر طرح کی برائیوں سے تنبیہ کی گئی ہے ۔
اس کے بعد میں تمام لوگوں کو احادیث نبویہ کا اہتمام کرنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ احادیث نبویہ قرآن کریم کے بعد دوسری اصل اور دوسری وحی کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں قرآن کریم کی تفسیر و وضاحت، اور کلامِ الہی کے بظاہر مخفی وغیرواضح الفاظ کی تشریح ہے، جیساکہ اللہ عز وجل نے فرمایا:" وَأَنْـزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُـزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ"     ﺩﻟﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻛﺘﺎﺑﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﯾﮧ ﺫﻛﺮ ( ﻛﺘﺎﺏ ) ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺟﻮ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﻛﮭﻮﻝ ﻛﮭﻮﻝ ﻛﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ، ﺷﺎﯾﺪ ﻛﮧ ﻭﮦ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﯾﮟ اورالله سبحانه وتعالى نے فرمايا:" وَمَا أَنْـزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ "     ﺍﺱ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺁﭖ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺮ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ قرآن کریم کا نزول لوگوں کو بھلائی کی دعوت دینے، نجات کے راستوں کی رہنمائی کرنے اور ہلاکت کے طریقوں سے بچے رہنے کی غرض سے ہوا، اور اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ لوگوں کے سامنے آپ پر نازل شدہ وحی کی وضاحت فرمائیں، اور غیر واضح امور کی تشریح کردیں، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تاحیات کتاب اللہ کی تعلیمات کی طرف دعوت دیتے رہے، اور ان تعلیمات کی تشریح وتوضیح کرتے رہے، اور محرمات سے آگاہ فرماتے رہے، آپ کی بعثت سے وفات تک کی مدت 23 سال تھی، اس پوری مدت میں آپ دعوت الی اللہ، حق کی توضیح و بيان اور ترغیب و ترہیب فرماتے رہے، یہاں تک کہ رفیق اعلی سے جاملے صلی اللہ علیہ وسلم ۔
آج کی رات میرے لکچر کا عنوان نہایت اہم ہے، یہ عنوان عقیدہ وتوحید کے موضوع سے متعلق ہے۔
چنانچہ توحید وہ امر عظيم ہے جسکے لیے ہی انبیاء ورسل کی بعثت ہوئی، اسی لیے کتب سماویہ نازل کی گئیں، اور اسی کی خاطر جن وانس کی تخلیق ہوئی، اور بقیہ تمام احکام شرعیہ اسی توحید کے تابع ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:"وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ"     ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺕ ﺍﻭﺭﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﺤﺾ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎﮨﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﯾﮟ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن وانس کی تخلیق
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 31)
صرف اللہ کی عبادت اور اسی کے لیے تمام عبادتوں کو خاص کرنے کے لیے ہوئی ہے، ان کی تخلیق بےکار اور عبث نہیں ہوئی، صرف کھانے پینے یا محلات و قصور کی تعمیر وغیرہ کے لیے نہیں ہوئی، نہ ہی دریاؤں کو شق کرنے، یا درختوں کو لگانے، اور دیگر دنیوی لوازمات کے لیے ہوئی، ان کی تخلیق اس لیے ہوئي کہ اللہ کی عبادت کریں، اس کی عظمت بیان کریں، اس کے اوامر بجالائیں، ممنوعات سے پرہیز کریں، اللہ کی مقررکردہ حدوں سے تجاوز نہ کریں، اور بندوں کو اللہ کی دعوت اور حق کی رہنمائی کریں ۔
اللہ تعالی نے بہت سی نعمتیں اپنے بندوں کےلیے پیدا کی تاکہ ان کی مدد سے اللہ کی اطاعت کرتے رہیں، اللہ تعالی نے فرمایا:"هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا "     ﻭﮦ ﺍﹴ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﻛﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ اور اللہ کا يہ فرمان:" وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ "     ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭﺯﻣﯿﻦ ﻛﯽ ﮨﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﺎﺑﻊ ﻛﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔اسی طرح اللہ تعالی نے بارش نازل کی، نہریں جاری کی، اور اپنے بندوں کے لیے متعدد رزق کے راستے اور نعمتیں مہیا کی، جن کی مدد سے انسان اللہ کی اطاعت کرے، اور موت تک اس کے لیے زاد راہ بنے؛ تاکہ حجت تمام ہو اور معذرت کا کوئی بہانہ نہ مل پائے، الله تعالى نے فرمايا:" وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ "    ﮨﻢ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﻛﮧ ( ﻟﻮﮔﻮ ! ) ﺻﺮﻑ ﺍللہ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﻮﺍ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻌﺒﻮﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ۔ اور الله سبحانه وتعالى نے فرمايا:" وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ "     تجھ ﺳﮯﭘﮩﻠﮯﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻢ ﻧﮯﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﯾﮩﯽ ﻭﺣﯽ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﻛﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﻛﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﺑﺮﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺲ ﺗﻢ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﻭ ۔ اور الله سبحانه وتعالى نے فرمايا:" وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ "    ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻥ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ ﻛﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺭﺣﻤٰﻦ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻣﻘﺮﺭ ﻛئے ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﯽ ﺟﺎﺋﮯ اور اللہ عزوجل نے فرمایا:" وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ "     ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺣﻜﻢ ﺩﮮ ﭼﲀ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﻮﺍ ﻛﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻧﮧ ﻛﺮﻧﺎ ۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے سورہ فاتحہ میں فرمایا: "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ"     ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ تجھ ﮨﯽ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
اس کے علاوہ بہت سی آيتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ سبحانہ نے مخلوق کی تخلیق صرف اسی کی عبادت کے لیے کی ہے، اور انبیاء کرام کو اس امر کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا، اور اس کے تقاضوں کی وضاحت کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 32)
لہذا علماء کرام جو انبیاء علیہم السلام کے نائبین ہیں، ان پر واجب ہے کہ اس عظیم کام کو لوگوں کے لیے واضح کریں، یہی ان کا سب سے بڑا نصب العین ہونا چاہیے، اسی امر پرسب سے زیادہ توجہ ہونی چاہیے، کیونکہ جب کوئی اسلام لاتا ہے تو مابعد کی چیزیں اس کے تابع ہوجاتی ہیں، اور جب توحید ہی نہیں ہوگی تو جو قول وعمل بجالائے سب بیکار ہوجائیں گے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:     ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺿﺎﹰ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻙ ﻛﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ کچھ ﯾﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﰷﺭﺕ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ۔ اورالله سبحانه وتعالى نے فرمايا:     ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺟﻮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻛﯿﮯ ﺗﮭﮯ ﮨﻢ ﻧﮯﺍﻥ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﻛﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺮﺍﮔﻨﺪﮦ ﺫﺭﻭﮞ ﻛﯽ ﻃﺮﺡ ﻛﺮﺩﯾﺎ ۔ اورالله سبحانه وتعالى نے فرمايا:     ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺠھ ﺳﮯﭘﮩﻠﮯ ( ﻛﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﺒﯿﻮﮞ ) ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻭﺣﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺷﺮﻙ ﻛﯿﺎﺗﻮ ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺗﯿﺮﺍ ﻋﻤﻞ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﯿﻘﯿﻦ ﺗﻮ ﺯﯾﺎﮞ کاﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ۔ اس مفہوم کی دیگر بہت سی آیتیں ہیں۔
اس مفہوم کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 10 سال تک مکہ مکرمہ میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، قبل اسکے کہ نماز وغیرہ فرض ہو، آپ کی مکمل کوشش توحید کی دعوت، اور شرک وبت پرستی کو ترک کرنے اور یہ بیان کرنے میں صرف ہوئی کہ عبادت کے لائق صرف اللہ تعالی ہے، اور شرک وبت پرستی کو چھوڑ دینا چاہیے۔
اسی لیے بادشاہ روم ہرقل نے حضرت ابوسفیان سے صلح کے ایام میں یہ سوال کیا تھا، ابوسفیان ملک فلسطین تجارت کی غرض سے قریش کے ایک وفد میں سفر کر رہے تھے، اور اتفاقا ہرقل کا قدس آنا ہوا، اس سے ان لوگوں کے بارے میں بتایا گیا۔ ہرقل نے انہیں حاضر ہونے کا حکم دیا، تاکہ اس نبی کے بارے میں جس کی خبر اسے پہنچی ہے، معلوم کرے، وہ وقت صلح کا تھا، اور ان کے قائد ابوسفیان تھے، ہرقل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وفد سے سوال کیا، اور آپ کی سچائی کے متعلق کہ آپ نبی ہیں؟!۔
ہرقل نے ابوسفیان کو اپنے سامنے بیٹھنے کا حکم دیا، اور ان کے ساتھیوں کو ان کے پیچھے بٹھایا، اور ترجمان سے کہا: میں ان سے کچھـ سوال کرنا چاہتا ہوں، اگر جھوٹ بولے تو تم لوگ انہیں جھٹلا دینا۔
چنانچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بہت ساری معروف ومشہور باتیں دریافت کی، جو صحیح بخاری وغیرہ میں مذکور ہے، اور ان ہی سوالات میں سے یہ سوال ہے کہ يہ نبی کس بات کی دعوت دیتا ہے؟
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 33)
ابوسفیان کے ساتھیوں نے کہا: ہمیں اللہ واحد کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے ہیں، اور یہ کہ جس دین پر ہمارے آباء واجداد تھے اس دین کو چھوڑ دیں، اور ہمیں نماز، صدقہ، صلہ رحمی اور پاک دامنی اختیار کرنے کا حکم ديتے ہيں۔
اس نے ان سے کہا: کہ اگر واقعہ ایسا ہی ہے جیساکہ آپ لوگ بتا رہے ہیں، تو وہ شخص یقینا میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک ہوجائیگا، اور پھرایسا ہی پیش آیا جیسا ہرقل نے کہا تھا، چنانچہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ملک شام کی سلطنت عطا کی، اور وہاں سے روم کی سلطنت ختم کردی، اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بندوں کوغالب فرمایا ۔
خلاصہ کلام یہ کہ دین کا یہ عنصر اور رکن سب سے عظیم اور اہم ہے، جب لوگوں نے اس میں لاپرواہی سے کام لیا تو شرک اکبر میں مبتلا ہوگئے، یہ لوگ اسلام کا خود دعوی کرتے ہیں، اور دوسروں کو جو اس بنیاد کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں، اُن کے مسلمان ہونے سے انکار کرتے ہیں، حالانکہ خود اس عظیم بنیاد سے ناواقفیت کی وجہ سے شرک میں ملوث ہیں، چنانچہ ایسے لوگوں نے بہت سارے متوفی اشخاص کو اللہ کے ماسواء معبود بنا رکھا ہے، ان کی قبروں کا طواف کرتے ہیں، ان سے مدد مانگتے ہیں، مرض کی شفایابی کا سوال کرتے ہیں، ضروریات پوری کرنے اور دشمنوں پر غلبہ حاصل ہونے کی دعاء مانگتے ہیں، اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ شرک نہیں ہے، بلکہ یہ بزرگوں کی تعظیم ہے، ہم ان سے وسیلہ حاصل کرتے ہوئے اللہ سے قربت حاصل کرتے ہیں، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان بلا واسطہ اللہ سے دعاء نہیں کرتا، بلکہ اولیاء کا واسطہ دیکر دعاء کرتا ہے، کیونکہ اولیاء اللہ کے لیے وزراء کی حیثیت رکھتے ہیں، جس طرح وزراء بادشاہوں کے لیے واسطہ ہیں، ان لوگوں نے اللہ کو مخلوق سے مشابہت دی، اور اللہ کے ماسواء مخلوقات کی عبادت کرنی شروع کردی، اللہ تعالی ہم سب کو محفوظ رکھے۔
یہ سب اس اصل عظیم سے جہالت اور ناسمجھی کے اسباب ہیں، چنانچہ البدوی کے پجاری، شیخ عبدالقادر کے پجاری، حضرت حسین کے پجاری اور بہت سارے لوگوں کے پجاری، ان سب کو اسی راستے سے فتنہ اور شر لاحق ہوا کہ توحید کی حقیقت سے نابلد رہے، انبیاء کرام کی اصل دعوت سے ناواقف رہے، اور دیگرغیر ضروری لوازمات میں الجھ گئے، نتیجۃً شرک میں مبتلا ہوگئے اور شرک ہی کو بہتر سمجھنے لگے، اور اسی کو دین اور تقرب کا ذریعہ سمجھہ لیا، اور اس سے منع کرنے والوں سے اعراض کیا، آج دنیا میں بہت کم اہل بصیرت اشخاص ہیں جو اس عظیم اصل کی حقیقت کو سمجھتے ہوں، بلکہ آج ایسے علماء بھی پائے جاتے ہیں جو نامور اور معروف سمجھے جاتے ہیں، اور ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہی علماء ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ قبروں کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جو شریعت کے برخلاف ہے، اور قبروالوں سے دعائیں کرتے ہیں، ان سے فریاد رسی کرتے ہیں اور نذر و نیاز مانگتے ہیں۔
لیکن اگر ہم علماء حق کا پتہ لگائیں، جو درحقیقت قرآن وحدیث اور توحید کے علمبردار ہیں تو ایسے علماء کی تعداد بہت کم ملتی ہے۔
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 34)
لہذا اس جامعہ کے طالبان علوم نبوت پر، نیز تمام اسلامک یونيورسٹيوں کے طلبہ پر اس اسلامی بنیاد پر توجہ دینے، اور اس کو پختہ اور مضبوط بنانے کا عمل واجب اور فرض ہے، تاکہ یہ طلبہ ہدایت کے علمبردار اور حق کے پیغامبر بن کر دنیا میں آئیں، لوگوں کو دین کی صحیح معلومات فراہم کریں، جس دین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام کی بعثت ہوئی۔
جس موضوع کے متعلق میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، اس کا تعلق توحید کی قسموں اور شرک کی قسموں سے ہے، توحید مصدر ہے وحد یوحد کا، یعنی اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنا، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ ایک ہے، نہ تو اس کی ربوبیت میں، نہ اس کی الوہیت اور عبادت میں، اور نہ اس کے اسماء وصفات میں کوئی شریک ہے، وہ یکتا اور تنہا ہے، اگرچہ لوگ اسے ایک نہ مانیں، اور اللہ کے لیے عبادت خاص کرنے کو توحید اس لیے کہا گیا؛ کیونکہ بندہ اپنے اس اعتقاد کے ساتھ اللہ کو ایک ہی مانتا ہے، اور اسے ایک ہی سمجھتا ہے، چنانچہ اس کی روشنی میں اپنی عبادت اور دعاء میں خالص اللہ ہی سے مانگتا ہے، اور یہ ایمان رکھتا ہے کہ وہی تمام امور کی تدبیر سازی کرتا ہے، اور تمام مخلوقات کا خالق ہے، وہی اسماء حسنی اور صفات کاملہ کا مالک ہے، ا ور وہی عبادت کا مستحق ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟