"انسان آئمہ تصوف اسلام اور غلامی"


"انسان آئمہ تصوف اسلام اور غلامی"

انسان جب پیدا ھوتا ھے تو گھر والے چھوٹے موٹے کپڑے لیئے تیار بیٹھے ھوتے ھیں ،جن میں مؤنث مذکر کا فرق بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ نومولود چند ماہ تک دونوں جنس کی ضرورت پوری کرتا ھے،کبھی بیٹا لگتا ھے تو کبھی بیٹی،، والدہ بھی بیٹے کو پیار کرتے ھوئی بیٹی بنا کر پیار کرتی ھے اور بیٹی کو بیٹا کہہ کر دل خوش کرتی ھے،، پھر بچہ جب ذرا بڑا ھوتا ھے تو اس کے کپڑوں اور جوتوں میں فرق واضح ھونا شروع ھوتا ھے،، کپڑے ھوں یا جوتے ایک مخصوص وقت تک ھوتے ھیں پھر بچہ وہ کپڑے اور جوتے پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتا ھے،اب وہ کپڑے اور جوتے نشانی کے طور پر تو استعمال ھو سکتے ھیں مگر بچے کا جسم اور قد کاٹھ ان کو قبول نہیں کرتا ، وہ یہ تسلیم کر کےبھی کہ وہ کپڑے اور جوتے اس کے ھیں، انہیں پہن کر چل کر نہیں دکھا سکتا کیونکہ اب وہ اس کے حال کے مطابق نہیں، پھر ایک وقت آتا ھے کہ اس کا اسٹینڈرڈ سائز مکمل ھو جاتا ھے، اب اس کے قد کا بڑھنا رک گیا ھے، اب جوتا یا کپڑا پھٹ سکتا ھے مگر اس کے سائز میں فرق نہیں آتا،، جب بھی لے گا وھی اسٹینڈرڈ سائز اور مخصوص نمبر خریدے گا ! یہی حال دین کا ھے، انسانیت جب اپنے بچپن سے چلی تو اس کی عقلی و سماجی عمر کو دیکھتے ھوئے نبی بھی بھیجے گئے اور شریعتیں بھی بنائی گئیں ،مگر نہ وہ نبی ھمیشہ کے نبی تھے نہ ان کے معجزے ھمیشہ کے معجزے تھے اور نہ وہ شریعتیں دائمی شریعتیں تھیں وہ تکمیل کی منزل کی راہ کے پڑاؤ تھے،، وہ شریعتیں عارضی تھیں، حکم دینے والے کو پتہ تھا کہ وہ ٹرانزٹ دور کی قانون سازی ھے، اس لیے اس کی حفاظت کا بندوبست بھی نہیں کیا گیا،، نہ وہ معجزے محفوظ اور نہ اس دور کی کتابیں محفوظ اور نہ شریعتیں محفوظ !! تا آنکہ وہ وقت آ گیا جب انسانیت اپنے بلوغ کو پہنچی اس کی عقل نے جو جولانیاں دکھانی تھیں وہ دکھا بیٹھی، جو سوال پیدا کرنے تھے وہ پیدا کر لیے اور جو فتنے سوچنے تھے سوچ لیے ! تب اللہ پاک نے وہ نبی بھیجا جس کی شریعت اور کتاب بھی محفوظ کی اور قبر اور معجزہ بھی محفوظ کر دیا ! جس کی سنت دائمی سنت قرار پائی ،جن کی کتاب انسانیت کے نام اللہ کا آخری خطاب قرار دی گئ اور جس پر لیا گیا عہد،، فائنل ٹیسٹامنٹ قرار پایا ! جو لوگ بھی جو سوال بھی کر رھے ھیں اور جو شبہ اور فتنہ اٹھانا چاہ رھے ھیں یہ باسی کڑھی کا ابال ھے ورنہ ھم جنسوں کے نکاح سے لے کر خدا کے انکار اور دھریت و الحاد تک سب کچھ کیا جا چکا اور اس کا جواب بھی دیا جا چکا،، ھر سوال کا جواب قرآن حکیم نے سوال پڑھ کر پھر اس کا جواب دیا ھے،، اور قوموں کی بربادی کی تاریخ بیان کر کے اس کا انجام بھی دکھا دیا ھے ! اب نہ تو پچھلے رسولوں کی پیروی مشروع ھے اور نہ ھی ان کی شریعت قابلِ عمل ھے ! اب قیامت تک تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے ایک ھی نبی کی سنت اور ان کی ھی شریعت قابلِ عمل ھے ! جس دین کا نام دینِ اسلام جو اپنے عروج اور جوانی کو پہنچ چکا ،، الیوم اکملت لکم دینکم دین کی تکمیل ھے و اتممت علیکم نعمتی ، رسالت کی تکمیل ھے اور رضیت لکم الاسلام دیناً۔۔، اسلام اور اس کے پیروکاروں کے لئے رب کی رضا کا سرٹیفیکیٹ ھے ! یہاں سے دوسرا مسئلہ شروع ھوتا ھے، وھی بچہ جو جب پیدا ھوا تھا تو کامل اور مکمل تھا ،جسمانی اعضاء سارے وھی تھے جو اس کے مرتے دم تک رھیں گے ،ان میں تعداد کے لحاظ سے تو کوئی اضافہ نہیں ھو گا اور اسی کو الیوم اکملت لکم دینکم کہا گیا ھے ،مگر اس جوان کو جب تک کہ وہ جیتا ھے عمر بھر ان ھی اعضاء اور دل و دماغ کے ھزاروں مسائل درپیش ھونگے جس کے لئے ڈاکٹر بھی ضروری ھونگے ،دوائیاں بھی ایجاد ھونی ھیں اور مصلح بھی کچھ صلح کا فریضہ سر انجام دیں گے ، اسی کامل اور مکمل انسان کے لئے عدالتیں پولیس اور وکیل و جج بھی درکار ھونگے ، نئے ضابطے بھی درکا ھونگے ،یہاں سے ائمہ کا کردار شروع ھوتا ھے ، محدثین کا کام شروع ھوتا ھے ،، دین میں یہی کام فقہا اور مجتہد کا ھوتا ھے،سوشیو پولیٹیکل اور سوشیو کلچرل معاملات جن میں اللہ پاک نے تبدیلی کی گنجائش قیامت تک رکھ دی ھے وہ اس گنجائش کو دیکھ کر ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ھیں، خود قرآن حکیم کے بارے میں نبی پاک ﷺکا فرمان موجود ھے کہ اس کے خزانے قیامت تک خالی نہیں ھونگے اور یہ اپنے اندر غوطہ زن عاقل کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا، علماء کبھی اس سے سیر نہیں ھونگے،اسی کا اظہار ھمارے ماضی میں ھوا، امام مالک کے قدموں میں بیٹھ کر علم حاصل کرنے والے امام شافعی نے ان کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ھوئے ان کے بالمقابل اپنی فقہ دی اور وقت کی ضرورت کے مطابق دینی لباس کو سائز کے مطابق کیا،، اگرچہ تنگ نظروں اور اندھے مقلدوں کے ھاتھوں عین مسجد کے بیچ سنگسار کر دئیے گئے،اور کثرت سے خون بہہ جانے کی وجہ سے شہادت کا رتبہ پایا، پھر وہ وقت بھی آیا کہ فقہ شافعی کے مقلدین تعداد میں فقہ مالکی پر غلبہ پا گئے، اس کے علاوہ امام ابوحنیفہ نے وقت کے درزی کا کام سنبھالا اور اپنے زمانے کے مسائل کے مطابق حل پیش کیئے، وقت تبدیل ھوا ،سوشیو پولیٹیکل حالات تبدیل ھوئے تو ان کے اپنے شاگردوں نے آگے بڑھ کر اپنے امام کے احترام کے علی الرغم ان کے 90٪ مسائل کو تبدیل کر دیا، کسی سے مسائل میں اختلاف کا مطلب اس کی بے عزتی اور بےحرمتی نہیں بلکہ ھمارے زمانے کے لوگوں کی پست خیالی ھے، جو اندھی تقلید کو ادب و احترام کا درجہ دیتے ھیں،حالانکہ یہ دین کے لیئے سخت نقصان دہ ھے، یہ اسی طرح کا مرض ھے جو دل کا والو پھنس جانے سے پیدا ھوتا ھے،تازہ خون کی فراہمی رک جاتی ھے اور کارڈیک اریسٹ ھو کر بندہ مر جاتا ھے،ذرا ذرا سی بات پہ جو لوگ کہتے ھیں کہ اگر کوئی تبدیلی لانی ھے تو جاؤ پہلے لاؤ ابوحنیفہ کے پائے کا انسان تو ان سے گزارش ھے کہ امام ابو حنیفہ اگر امام ابو یوسف اور امام محمد کو دستیاب نہیں ھوئے تو آج وہ کہاں سے تشریف لائیں گے، اور تشریف لائیں گے تو امام نہیں رھیں گے، جس طرح بقول آپ کے عیسی علیہ السلام واپس آ کر نبی نہیں رھیں گے بلکہ امتی بن جائیں گے، امام کی امامت اپنے زمانے میں ھی چمکتی ھے کیونکہ وہ اپنے زمانے کے ھی ایکسپرٹ ھوتے ھیں،اپنے زمانے کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے صادر کرتے ہیں-لیکن بعد کے زمانہ والے ان کی بات کو حرف آخر تسلیم نہیں کر سکتے-
بلکہ اپنے اپنے زمانہ کے مطابق کتاب و سنت کو سامنے رکهتے ہوئے مسائل اخذ کریں ہیں-
اور نہ ہی اللہ اور اس کے رسول نے آئمہ عظام کے اقوال کو حرف آخر کہا ہے بلکہ یہ ضرور کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہر شخص کی بات کو قبول بهی کیا جا سکتا ہے اور رد بهی-
اگر قیامت تک کسی کی بات حرف آخر ہے تو وہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے-
کوئی فقہی امام اپنے زمانہ کا امام تو ہو سکتا ہے بلکہ اپنے زمانہ کا امام بهی نہیں ہو سکتا اگر ایسا ہوتا تو ان کے اپنے شاگرد ان کے مسائل میں اختلاف نہ کرتے-ہم یہ بهی نہیں کہتے کہ ان کی ہر بات کو پس پشت ڈال دیا جائے بلکہ جو کتاب و سنت کے عین مطابق ہو اسے قبول کر لیا جائے-
  پھر کیا امام ابو حنیفہ کو اپنے زمانے میں اتفاقِ رائے سے امام چنا گیا تھا...؟
ان کے معارض موجود تھے اور ان پر اعتراضات آج بھی موجود ھیں اور کل بهی تهے اور بہت سارے معقول بھی ھیں،،
ھمارا سب سے بڑا المیہ وہ چشمے ھیں جو ھم نے اپنے اپنے مسالک اور اکابر کے نام پر چڑھا رکھے ھیں، ھم اپنے اپنے مسلک کے چشمے سے دنیا کو دیکھتے ھیں اور بد قسمتی سے وہ ھمیں ویسی ھی نظر آتی ھے ،جیسی کہ ہم دیکھنا چاھتے ھیں،، کتاب و سنت کا چشمہ کوئی خوش قسمت ھی چڑھاتا ھے، اپنے اکابر کو مافوق الفطرت اور خطا سے مبرا ھستیاں بنا کر پیش کیا جاتا ھے اور شخصیتوں کو کوٹ کوٹ کر دل و دماغ میں گھسایا جاتا ھے،نتیجہ یہ ھے کہ ھم یہ مطالبہ کرتے ھیں کہ اگر فقہی طور پر کوئی تبدیلی لازمی بھی ھے تو اس کے لئے ویسی ھی خطا سے معصوم اور مافوق الفطرت ھستیاں لے کر آؤ، اب ایسی افسانوی شخصیات نہ تو کبھی تھیں اور نہ اب اور نہ کبھی مستقبل میں لائی جا سکتی ھیں، جو بھی اٹھے گا اگر نو باتیں درست کرے گا تو ایک غلط بھی ضرور کرے گا اور اس غلطی کو درست کرنے والا بھی اللہ پیدا کر دے گا،،یہی سابقہ اماموں کی ھسٹری ھے اور اللہ کی سنت بھی اور یہی موجودہ اور آنے والے اماموں کے ساتھ ھو گا،، انسان کی امامت کا فیصلہ ھم عصر نہیں کرتے' آنے والا وقت اور مستقبل کی نسلیں کرتی ھیں !!
جب کوئی شخص حق کو تسلیم نہ کرنے کا ذہنی فیصلہ کر چکا ہو تو اگر وہ فرشتوں کو آسمان سے اترتا دیکھ لے یا مردے اس سے بات کرنے لگیں تب بهی وہ حق کو تسلیم نہیں کرتا-
اس فساد ذہن کی مختلف وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ غلوالدین ہے-جس سے قرآن و حدیث میں بڑی شدومد سے روکا گیا ہے-
یہ غلو ہی کی تو کرشمہ سازیاں ہیں کہ یہود نے عزیز علیہ السلام کو اور انصاری نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہا-شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بارہ امام معصوم ہیں-بریلویہ مسلک اعلیٰ حضرت پر سختی سے کاربند ہیں-ان کا عقیدہ ہے کہ اولیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور کائنات میں تصرف کرتے ہیں-اور طلب مدد پر مدد کرتے ہیں-
دیوبند یہ زبان سے تو نہیں کہتے مگر دل سے مانتے ہیں کہ ان کے امام ابو حنیفہ معصوم تهے اور ان کے تمام اجتہادات صحیح ہیں-
فقہ کی مشہور کتاب شامی میں ہےکہ اس پر ریت کے برابر ہمارے رب کی لعنت ہو جو ابو حنیفہ کا قول رد کرے-ایک غالی حنفی نے یہاں تک کہہ دیا جو حدیث ہمارے امام ابو حنیفہ کے قول کے خلاف ہو وہ  یا تو موئول ہے یا منسوخ-
موجودہ دور میں اگرچہ جسمانی غلامی کی لعنت کا خاتمہ ہو چکا ہے مگر ذہنی غلامی اور نفسیاتی غلامی کا معاملہ اب بهی موجود ہے-خاص طور پر مسلم دنیا میں یہ مسئلہ اتنی گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے کہ مذہبی اور غیر مذہبی مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اس لعنت کا شکار نظر آتا ہے-جو فکری اور نظریاتی غلامی میں پهنس کر اندهی تقلید کا شدائی بن چکا ہے-
ہمارا یہ مضمون چونکہ تصوف نہیں بلکہ اندهی تقلید (غلامی)ہے، اس وجہ سے ہم یہاں مروجہ تصوف کے اس پہلو کا مختصر جائزہ لیں گے جس نے  ذہنی نفسیاتی غلامی کو فروغ دیا-
مروجہ تصوف کے تمام سلسلوں میں یہ عقیدہ متفقہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ کسی" ایک ہی مرشد "کو اپنا راہنما
بنائے ، اس سے تربیت حاصل کرے اور اس کی نگرانی میں تصوف اور سلوک کی منازل طے کرے-
پیری مریدی کے اس تعلق کی تفصیل بیان کرنے کے لیے ہمیں تاریخ میں دور تک جانے کی ضرورت نہیں ہے-بلکہ ہمارے برصغیر تصوف کی روایت اتنی مضبوط ہے کہ ہم ان کی تفصیلات کو قریبی دور کے صوفی علماء کی کتب میں دیکھ سکتے ہیں-چونکہ ہمارے ہاں دلائل کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کیا جاتا ہے-اس وجہ سے ہم جان بوجھ کر شخصیات کے ناموں اور حوالوں کو حزف کررہے ہیں تا کہ کسی قسم کا تعصب قارئین کو متاثر نہ کر سکے-
بر صغیر کے ایک بہت بڑے صوفی عالم لکهتے ہیں:
بیت اردات یہ ہے کہ مرید اپنے ارادہ اختیار ختم کر کے خود کو شیخ و مرشد ہادی برحق کے بالکل سپرد کر دے، اسے مطعقا اپنا حاکم و متصرف جانے ، اس کے چلانے پر راہ سلوک چلے، کوئی قدم بغیر اس کی مرضی کے نہ رکهے -اس کے لئے مرشد کے بعض احکام 'یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام'
اس کے نزدیک صحیح نہ بهی ہوں تو انہیں افعال خضر علیہ السلام کی مثل سمجهے ، اپنی عقل کا قصور جانے، اس کی کسی بات پر دل میں اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کر دے-
یہ معاملات اہل تصوف کے کسی ایک مکتب فکر تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ یہ تصوف کی متفق علیہ روایت کا حصہ رہے ہیں-
ایک اہم صوفی بزرگ فرماتے ہیں:
جس نے اپنے شیخ پر اعتراض کیا اور اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا وہ کبهی فلاح نہیں پا سکتا-
پچهلی کئی صدیوں سے مسلم دنیا کا سوچنے' لکهنے 'بولنےاور عوام الناس کا طبقہ کسی نہ کسی طرح اندهی تقلید (ذہنی و نفسیاتی غلامی) کا شکار ضرور رہا ہے-جو اب تک اسی تقلید میں جکڑا ہوا ہے-کوئی آئمہ کے نام پر تو کوئی تصوف کے نام پر کسی نہ کسی کی اندهی تقلید ضرور کرتا ہے-
مسلم دنیا کی پوری تاریخ میں ایسے افراد کی شدید کمی رہی ہے جنہوں نے طے شدہ دائرے سے ہٹ کر سوچنے کی کوشش کی ہو-
بعض  جلیل القدر اہل علم نے کسی حد تک روایتی طریقے سے ہٹ کر غور و فکر کی کوشش کی لیکن ان حضرات کی فکر کو بالعموم مسلم معاشروں میں قبول عام حاصل نہیں ہوا-
تقلید یعنی ذہنی ،فکری اور نفسیاتی غلامی کا وہ پودا جو اب ایک گهنہ درخت بن چکا ہے اس کو جڑ سے اکھاڑ پهینکنے کے لے کافی محنت اور وقت درکار ہے-
اس تفصیل سے پوری طرح یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہےکہ مسلم دنیا میں غلامی(تقلید) کے خاتمے کی کوئی خاص تحریک شروع کیوں نہ ہو سکی ؟جب معاشرے کے ذہین ترین طبقے سے لے کر عام آدمی تک ہر شخص نفسیاتی ذہنی فکری تقلیدی غلامی میں نہ صرف مبتلا ہو بلکہ اس غلامی کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہو تو یہ خیال کسے سوجھ سکتا ہے کہ وہ غلامی (تقلید)کے خاتمے کی بات کرنے کی جرات کر سکے-یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشروں میں اگرچہ غلامی (تقلید)کے خاتمے کی بعض تحریکیں موجود رہی ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں-لیکن اپنا اثر ضرور چهوڑا ہے جس کی بدولت غلامی کے اس کهوکلے درخت کی جڑیں ہل چکیں ہیں کسی وقت بهی اندهی تقلید کا یہ درخت گر سکتا ہے-کیونکہ باطل تو ہے ہی مٹنے والا-
"گر نہیں ہے جستجو ئے حق کا تجھ میں ذوق و شوق
'امتی کہلا کے پیغمبر کو تو رسوا نہ کر
'ہے فقط توحید و سنت امن و راحت کا طریق
'فتنہء جنگ و جدل تقلید سے پیدا نہ کر "

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟