جماعت اہلِ حدیث پر الزامات کا جائزہ


[ 2 ]  دوسری غلط فہمی :

(سوال) کیا جماعت اہلِ حدیث رسُول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ،  نَعُوذُبِاللہ :

(جواب) اہلِ حدیث کے سلسلہ میں دوسری غلط فہمی بلکہ الزام یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسُول ﷺ کی تعظیم نہیں کرتے ، بہت سے لوگ لاعلمی کے سبب جماعت اہلِ حدیث کو گستاخِ رسُول سمجھتے ہیں ، بلکہ بعض حضرات تو جماعت اہلِ حدیث کے عقیدہ سے اس قدر ناآشنا ہوتے ہیں کہ وہ صاف کہہ دیتے ہیں "اہلِ حدیث رسُول اللہ ﷺ کو نہیں مانتے"

  حقیقت یہ ہے کہ اہلِ حدیث کے نزدیک محمد عربی ﷺ تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ قابل تعظیم ہیں ، آپ ﷺ کی شان تمام نبیوں اور رسُولوں سے بلند ہے ، ہمارے اس عقیدہ کی بنیاد خود نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہے :

"قیامت کے دن میئں تمام بنی آدم کا سردار ہوں گا ، اور (میئں یہ بطورِ) فخر نہیں (کہہ رہا ہوں) حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ، کوئی نبی ، خواہ آدم علیه السلام ہوں یا کوئی اور ، ایسا نہ ہوگا جو میرے جھنڈے تلے نہ ہو ، {مسند حمد ، سنن الترمذی ، سنن ابن ماجہ ، عن ابی سعید رضی اللہ عنه ، و صحیح الجامع 1468، حدیث صحیح}

قیامت کے دن تمام نبیوں کا سیّد ہونا آپ ﷺ کی دوسرے نبیوں پر فضیلت کی دلیل ہے ، یہ بات اہلِ حدیث کے نزدیک مُسلّم ہے ،

1 اہلِ حدیث نبی کریم ﷺ کو آپﷺ کے واقعی مقام سے نہیں بڑھاتے :

  لیکن جہاں نبی کریم ﷺ نے ہمیں اپنی شان بتائی ہے وہیں اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ ہم آپﷺ کی تعظیم میں غلو سے بچیں اور آپ ﷺ کی تعظیم میں نصاریٰ کی طرح حدیں پار نہ کرجائیں ،

اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :  "میری تعریف میں حد سے آگے نہ نکل جانا جس طرح نصاریٰ ابن مریم کی تعریف میں حد سے آگے نکل گئے ، میئں تو بس اللہ کا ایک بندہ ہوں ، لہٰذا تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسُول ہی کہو ، {صحیح بخاری / کتاب احادیث الانبیاء / عن عُمر رضی اللہ عنه / 3445}

 نصاریٰ (عیسائی) حضرت عیسٰی علیه السلام کو ماننے والے لوگ تھے ، عیسٰی علیه السلام پر ایمان لانے کے باوجود وہ گمراہ ہوگئے ، نصاریٰ کی گمراہی کیا تھی ؟ انہوں نے عیسٰی علیه السلام کو بندگی کے مرتبہ سے بڑھا کر رب اور معبود کا مرتبہ دے دیا ، انہوں نے عیسٰی علیه السلام کی تعریف بیان کرنے میں اتنا غلو کیا کہ اللہ کی ذات و صفات میں انہیں اللہ کا شریک بنادیا ، کسی نے انہیں اللہ کا بیٹا بنادیا تو کسی نے انہیں اللہ ہی قرار دے دیا ، وہ عیسٰی علیه السلام کو ماننے کے باوجود کافر ہوگئے ،

  اللہ کے نبی ﷺ نے اُمّت مسلمہ کو نصاریٰ کے اس طرز عمل سے منع کیا ہے لہٰذا فرمانِ نبوی ﷺ کی تعمیل میں اہلِ حدیث کا عقیدہ یہ ہے کہ رسُول اللہ ﷺ کی شان بیان کی جائے لیکن اس میں آپ ﷺ کی عبدیت اور بندگی کا پہلو ذہنوں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے ،

خود اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :

"اے لوگوں ! اپنے آپ کو بچائے رکھو ، کہیں شیطان تمہیں بھٹکا نہ دے ، میئں محمد ﷺ بن عبدُاللہ ہوں ، میئں اللہ کا بندہ اور اس کا رسُول ہوں ، اللہ کی قسم ، مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ تم مجھے میرے اس مقام سے بڑھا دو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ، {مسند احمد ، عن انس بن مالک رضی اللہ عنه ، حدیث صحیح ، و الصحیحة ، 1097}

 یہاں دو باتیں معلوم ہوئیں :

(1) پہلی بات : نبی کریم ﷺ کو خود یہ بات پسند نہیں کہ آپ ﷺ کو واقعی مقام سے بڑھایا جائے ،

(2) دوسری بات : شیطان کو یہ بات بہت پسند ہے کہ وہ مسلمانوں کو غلو میں مبتلا کرکے گمراہ کردے ،

  لہٰذا اہلِ حدیث ہمیشہ سے اس چور دروازے کی نگرانی کرتے رہے ہیں جہاں سے شیطان کے آنے کا امکان ہے اور ہمیشہ رہے گا تاکہ وہ اُمّت کو غلو کی اس بیماری سے بچاسکیں جس میں نصاریٰ مبتلا ہوگئے اور جسکے نتیجہ میں وہ حامل وحی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسُول کے دشمن قرار پائے ،

 اہلِ حدیث کو گستاخ ثابت کرنے کے لیئے بعض حضرات کچھ باتیں بطورِ مثال پیش کرتے ہیں ، مثلاً یہ کہ اہلِ حدیث نبی کریم ﷺ کو نور نہیں مانتے بلکہ آپ ﷺ کو بشر مانتے ہیں ، اہلِ حدیث آپ ﷺ کو عالم الغیب نہیں مانتے اور آپﷺ کو اللہ کے تقرّب کا وسیلہ نہیں مانتے وغیرہ ، آئیے دیکھتے ہیں ان باتوں کی واقعی حقیقت کیا ہے ،

2 نُور و بشر کا مسئلہ :

 بعض حضرات کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نُور سے بنے ہیں ، ان حضرات کی دلیل یہ قرآنی آیت ہے ،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :  "یقینًا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نُور آچکا ہے اور ایک کھلی کتاب بھی ، {سورہ المائده : 15}

  ابن جوزی رحمه اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں { نُور }  کے سلسلہ میں دو اقوال ذکر کیئے ہیں ، (1) ایک یہ کہ نُور سے مراد خود اللہ کے نبی ﷺ ہیں ، اور دوسرا (2) قول یہ کہ اس سے مراد دین اسلام ہے ،

  لیکن کیا نبی کریم ﷺ تخلیق کے اعتبار سے نُور ہیں یا پھر آپ ﷺ تبیئین یعنی اندھیرے میں چھپے حق کو سامنے لانے کے اعتبار سے نُور ہیں ؟ مفسرین نے اس سوال کا جواب دیا ہے ،

  ابن جریر الطبری رحمه اللہ فرماتے ہیں :

"یہاں نُور سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق کو ظاہر کیا ، اسلام کو غالب کردیا اور شرک کو مٹادیا ، لہٰذا آپ ﷺ اُس شخص کے لیئے نُور ہیں جو آپﷺ سے روشنی حاصل کرے ، اور آپ ﷺ کے حق کو روشن کرنے ہی میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے بہت سی اُن چیزوں کی تبیئین (وضاحت) کردی جنہیں یہودی لوگوں سے چھپا دیا کرتے تھے ، {جامع البیان تحقیق احمد شاکر ، 143/10}

  اگر اس آیت ہی کو پورا پڑھا جائے تو بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے ، لیجئیے آیت پڑھیں ،

"اے اہلِ کتاب ، تمہارے پاس ہمارا رسُول آچکا ہے جو اُن بہت چیزوں کی تبیئین کرتا ہے (یعنی صاف بیان کردیتا ہے) جنہیں (اللہ کی) کتاب میں سے تم چھپا دیا کرتے تھے اور وہ تمہاری بہت سی باتوں کو معاف بھی کردیتا ہے ، یقینًا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نُور آچکا ہے اور ایک کھلی کتاب بھی ، جس کے ذریعہ اللہ اُن لوگوں کی جو اُس کی رِضا کی پیروی کرتے ہیں سلامتی کی راہیں چلاتا ہے اور گمراہیوں سے نکال کر اپنے اِذن سے نُور کی طرف لے آتا ہے اور اُنہیں صراطِ مستقیم کی طرف گامزن کردیتا ہے ، {سورہ المائده : 15: 16}

 یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اہلِ حدیث نبی کریم ﷺ کو عام بشر نہیں بلکہ خیر البشر مانتے ہیں ، اگر آپ ﷺ کو بشر ماننا آپ ﷺ کی شان میں گستاخی ہے تو ذرا یہ بھی دیکھ لیں کہ خود نبی کریم ﷺ کی سب سے چہیتی بیوی اور مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا کیا عقیدہ تھا ،

پیاری امّی جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں : "اللہ کے رسُول ﷺ ایک بشر ہی تھے"  {مسند احمد / 26237 / شعیب الارنؤوط نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ،}

اب کیا امّا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو بھی گستاخِ رسُول ﷺ کہا جائے ! نہیں ، بلکہ خود اپنے عقیدہ کی اصلاح کرنی پڑے گی ،


علم غیب کا مسئلہ :

  اہلِ حدیث یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد رسُول اللہﷺ کو وقتًا فوقتًا ایسی باتیں بتائیں جو غیب میں سے تھیں ، جنّت ، جہنّم ، زمین و آسمان ، ماضی و مستقبل کی بہت سی خبریں جو آپ ﷺ نہیں جانتے تھے آپ ﷺ کو بتائی گئیں ، لیکن علم غیب اللہ تعالیٰ کی خصوصیات میں سے ہے ، لہٰذا اللہ کے ساتھ اس میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا ، اس سلسلہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا عقیدہ اور اسی کے ساتھ اُن کا فتویٰ بھی سُن لیں ،

امّاں عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :  "جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اللہ کے رسُول ﷺ یہ بتادیا کرتے تھے کہ آنے والے دن میں کیا چھُپا ہے تو اس نے اللہ پر نہایت سنگین جھوٹ باندھا کیونکہ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : "کہو ، آسمان و زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے"  {سورہ نمل : 65 : صحیح مسلم / کتاب الایمان : 259}

  یہی عقیدہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا تھا وہی اہلِ حدیث کا ہے ، اس عقیدہ کی بنیاد پر کوئی مسلمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے عقیدہ کی صحت پر اعتراض کرنے کی ہمّت کرسکتا ہے ؟  اگر نہیں تو اہلِ حدیث اسی عقیدہ کے سبب کس بنیاد پر مجرم قرار دیئے جاتے ہیں  ؟  مزید غور طلب بات یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے اپنے عقیدہ کی تائید میں قرآن کریم کی آیت سے بھی استدلال کیا ہے ، لہٰذا اسے محض ذاتی رائے قرار دینا بھی غلط غلط ہوگا ،

4 توسل اور وسیلہ کا مسئلہ :

  ایک اعتراض اہلِ حدیث پر یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اہلِ حدیث نبی کریم ﷺ کو وسیلہ نہیں بناتے :

  اس کا جواب یہ ہے کہ اہلِ حدیث کے نزدیک اللہ سے تقرب کا واحد ذریعہ عقیدہ و عمل میں نبی کریم ﷺ کی اتباع ہے ، نبی کریمﷺ کی اتباع اللہ کی رِضا اور مغفرت کا واحد اور یقینی وسیلہ ہے ، جو آدمی نبی کریم ﷺ کی سُنّتوں کو نظر انداز کرکے من مانی طریقے ایجاد کرے اور اُن کو وسیلہ مان کر اللہ سے اُمید لگائے تو نہ صرف یہ عمل بے فائدہ ہے بلکہ بدعت اور آخرت میں اللہ کی سزا کا سبب ہے ،

  وسیلہ کے سلسلہ میں صحابہ رضی اللہ عنھُم کا طرزِ عمل کیا تھا ؟ خلیفئہ راشد حضرت عُمر بن خطّاب رضی اللہ عنه ہی کے اسوہ کو دیکھیں تو واضح ہوجائے گا کہ صحابہ رضی اللہ عنھُم نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی ذات کے وسیلہ سے دعا کرتے تھے یا نہیں ،

  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنه فرماتے ہیں :

"حضرت عُمر بن خطّاب رضی اللہ عنه کا معاملہ یہ تھا کے جب قحط ہوتا تو وہ عبّاس رضی اللہ عنه سے بارش کی دعاء کراتے ، اور یوں کہتے : اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی محمد رسُول اللہ ﷺ کا وسیلہ اختیار کرتے تھے اور تُو ہم پر بارش برسا دیتا تھا ، اب ہم اپنے نبی ﷺ کے چچا حضرت عبّاس رضی اللہ عنه کا وسیلہ اختیار کررہے ہیں لہٰذا ہم پر بارش برسا دے ، چنانچہ بارش ہوجاتی ، {صحیح خاری / کتاب الجمعہ : 1010}

حضرت عُمر رضی اللہ عنه کے جملہ پر غور کریں کہ "اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی ﷺ کا وسیلہ اختیار کرتے تھے"  یعنی نبی ﷺ کی دعاء کا وسیلہ نہ کہ آپ ﷺ کی ذات و شخصیت کا وسیلہ ، کیونکہ اگر نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپﷺ کی ذات کے وسیلہ سے دعاء کرنا صحیح ہوتا تو حضرت عُمر رضی اللہ عنه نبی کریم ﷺ کی ذات کو چھوڑ کر عبّاس رضی اللہ عنه کا انتخاب نہ کرتے ، جبکہ آپ ﷺ کی قبر کے پاس اب بھی جاسکتے تھے اور آپ ﷺ کی ذات کے وسیلہ سے دعاء کرسکتے تھے معلوم ہوا کہ یہ وسیلہ آپ ﷺ کی ذات کا نہیں بلکہ آپ ﷺ کی دعاء کا وسیلہ تھا جو اب وفات کے بعد نہ رہا ، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنھُم کہ ہاں کسی کے نام یا ذات کے وسیلہ سے دعاء کرنے کا طریقہ تھا ہی نہیں بلکہ اس کے بجائے کسی نیک شخص سے دعاء کروانے کا طریقہ تھا ، لہٰذا حضرت عُمر رضی اللہ عنه نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے چچا سے دعاء کروائی ،

  یہاں یہ بات بھی واضح ہوئی کہ نبی کریم ﷺ کی قبر پر جاکر آپﷺ سے دعاء کی درخواست کا طریقہ بھی صحابہ رضی اللہ عنھُم کے ہاں نہیں تھا ورنہ حضرت عُمر رضی اللہ اس موقع پر ضرور ایسا کرتے ، بس اہلِ حدیث اسی طریقہ پر عامل ہیں جو حضرت عُمر رضی اللہ عنه سے ثابت ہوتا ہے کہ زندہ حاضرین سے دعاء کروائی جائے ، لیکن اس کے برعکس ان کا نام لے کر ان کی ذات کا وسیلہ سے دعاء کروانا ایک ایسا عمل ہے جو نہ کتاب و سُنّت سے ثابت ہے اور نہ صحابہ رضی اللہ عنھُم کے عمل سے ،

وآخرو دعوانا ان الحمد لله رب العالمين :

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟