جماعت اہلِ حدیث پر الزامات کا جائزہ



[ 3 ]  تیسری غلط فہمی :

(سوال) کیا جماعت اہلِ حدیث صحابہ رضی اللہ عنھُم کو نہیں مانتے اور ان کی اہانت کرتے ہیں : نَعُوذُبِاللہ :

(جواب) اہلِ حدیث سے متعلق تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ اہلِ حدیث صحابہ رضی اللہ عنھُم کی بات کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ اہلِ حدیث کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنھُم عقیدہ و عمل دونوں کے اعتبار سے اُسوٓہ اور دلیل ہیں :

1  اہلِ حدیث کے نزدیک اہلِ حق وہ ہیں جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنھُم کے راستے پر ہوں :

  اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :

"اور میری اُمّت تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی ، اور یہ سب کے سب جہنّم میں جائیں گے سوائے ایک کے ، صحابہ رضی اللہ عنھُم نے پوچھا : اے اللہ کے رسُول ﷺ ، وہ ایک (فرقہ) کون سا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جو اس (راستے) پر ہوں جس پر میئں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنھُم ہیں ،  {صحیح الجامع / 5343 / حدیث حسن}

  اہلِ حدیث کے نزدیک بعد کے دور میں پیدا ہونے والے اختلافات کے وقت حق اور اہلِ حق کو پہچاننے کا معیار صحابہ رضی اللہ عنھُم ہیں ، جو لوگ نبی کریم ﷺ کی سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنھُم کے منہج کے پابند ہوں وہی اہلِ حدیث کے نزدیک حق پر ہیں ، جو حضرات قرآن و سُنّت کے نصوص کی من مانی تشریحات کو دلیل کا مقام دے کر اُمّت میں بدعات اور خرافات ایجاد کرتے ہیں ان کی تردید میں بھی اہلِ حدیث صحابہ رضی اللہ عنھُم ہی کے طرز اور اُصولوں کو بطورِ استدلال پیش کرتے ہیں ،

  ان تمام شواہد کے باوجود کم فہمی کی بنیاد پر اہلِ حدیث پر طعن کرنا یا ان کے خلاف الزام تراشی کرنا ہمیشہ سے بعض لوگوں کا طریقہٓ کار رہا ہے اور رہے گا ، لیکن بے دلیل الزامات اپنی تردید کے لیئے خود ہی کافی ہوتے ہیں ،

2  صحابہ رضی اللہ عنھُم کو بُرا کہنے والا نبوی لعنت کا مستحق ہے :

  اہلِ حدیث کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنھُم کو سب و شتم کرنے والا ، ان کی شان کو گھٹانے کی کوشش کرنے والا ، ان پر سے اُمّت کے اعتماد کو مجروح کرنے کی کوشش کرنے والا لعنت کا حقدار ہے ، کیونکہ خود اللہ کے رسُول ﷺ نے ایسے شخص کو ملعون قرار دیا ہے ،

  اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :

"جو میرے صحابہ رضی اللہ عنھُم کو گالی دے (یا بُرا کہے) اس پر اللہ کی لعنت ، فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ، {عن عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنھُما / صحیح الجامع / 6285 / حدیث حسن}

3  صحابہ رضی اللہ عنھُم نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں خلیفئہ راشد کی بات بھی چھوڑ دیتے تھے :

  ہر صحابی رضی اللہ عنه کا مقام و احترام مسلّم ہے ، لیکن بڑی سے بڑی شخصیت بھی دلیل سے بڑھ کر نہیں ہوتی ، دلائل کا وزن ہمیشہ شخصیات سے زیادہ ہوتا ہے ،

  صحابہ رضی اللہ عنھُم کے نزدیک خلفائے راشدین قابل احترام تھے ، وہ ان کے حکم اور فیصلے تسلیم کرلیا کرتے تھے ، لیکن صحابہ رضی اللہ عنھُم نبی کریم ﷺ کی بات کے مقابلہ میں بڑی سے بڑی شخصیت کی بات بھی قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے ، وہ اکابرین کی گستاخی نہیں کرتے تھے لیکن وہ ان کے احترام کے نام پر ان کی بات کو کتاب و سُنّت پر ترجیح دینے والوں میں سے بھی نہیں تھے ،

  اس کی ایک بہترین وضاحت حضرت علی رضی اللہ عنه کے ایک فیصلہ اور اس پر عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنھُما کے تبصرہ سے ہوجاتی ہے ،

 عکرمہ رحمه اللہ فرماتے ہیں :

حضرت علی رضی اللہ عنه کے پاس کچھ زنادقہ (مرتد لوگوں) کو لایا گیا ، تو انہوں نے ان سب کو جلا دیا ، جب یہ خبر حضرت عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنھُما کو پہنچی تو انہوں نے کہا : اگر (ان کی جگہ فیصلہ کرنے والا) میئں ہوتا تو ان لوگوں کو جلانے کا حکم نہ دیتا کیونکہ اللہ کے رسُول ﷺ نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے ، بلکہ میئں انہیں (جلانے کے بجائے بطورِ سزا) قتل کرنے کا حکم دیتا کیونکہ اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا : جو اپنا دین بدل دے اُسے قتل کردو ،  {صحیح خاری / کتاب استتابتہ المرتدین : 6922}

  ایک اور روایت میں ہے :

  حضرت عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنھُما کی یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنه کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا : ابن عبّاس رضی اللہ عنھُما نے سچ کہا ،  {سنن ترمذی بتحقیق الالبانی / 1458 / حدیث صحیح}

  اس واقعہ میں ایک طرف حضرت عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنھُما کی حق گوئی کا نمونہ ہے تو دوسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنه کے اعترافِ حق کی مثال بھی ہے ، حضرت عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنھُما نے حضرت علی رضی اللہ عنه کے فیصلہ کے مقابلہ میں نبی کریم ﷺ کی حدیث بیان کی اور کہا کہ میئں ہوتا تو ہرگز ایسا نہ کرتا ، حضرت عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنھُما نے جو بھی کیا ان کے پاس اس کی کچھ نہ کچھ دلیل ضرور ہوگی ، بلکہ جو حق خود ان کے پاس تھا اس کی روشنی میں حضرت علی رضی اللہ عنه کے فیصلہ سے اپنے اختلاف کا اظہار کیا ، حضرت علی رضی اللہ عنه نے بھی ان کے اس طرزِ عمل کو غلطی ، گمراہی یا بے ادبی قرار نہیں دیا بلکہ صاف الفاظ میں خود اس کی تصدیق و تائید کی ،

4  صحابہ رضی اللہ عنھُم رسُول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کسی کا قول تسلیم نہیں کرتے تھے :

  اس سلسلہ میں خود حضرت علی رضی اللہ عنه کا طریقہ بھی اس سے مختلف نہ تھا ، وہ بھی اسی اُصول کے پابند تھے کہ چاہے کیسی بھی شخصیت کیوں نہ ہو اس کا قول و عمل نبی کریم ﷺ کے قول و عمل کے مقابلہ میں قابلِ اقتداء نہیں ، اس کی ایک مثال صحیح بخاری کی ایک روایت میں موجود ہے ،

مروان بن حکم کہتے ہیں :

  میں اس وقت حضرت علی و حضرت ثمان  رضی اللہ عنهُما کے پاس موجود تھا جب حضرت عُثمان رضی اللہ عنه تمتع سے منع کررہے تھے کہ (حج اور عُمرہ) ونوں کو جمع نہیں کرنا چاہئیے ، جب حضرت علی رضی اللہ عنه نے یہ چیز دیکھی تو کہا ! "لَبَّيكَ بِعُمرَةٍ وَحَجَّةٍ" اور دونوں کو جمع کیا ، اور کہا : میئں محض کسی کے قول کی بنیاد پر اللہ کے رسُول ﷺ کی سُنّت نہیں چھوڑ سکتا ،  {صحیح خاری / کتاب الحج / 1563}

  علی رضی اللہ عنه نے نبی کریم ﷺ کی سُنّت کے مقابلہ میں عُثمان رضی اللہ عنه کے فیصلے کو قبول نہیں کیا ، مذکورہ دونوں روایتوں میں حضرت ابن عبّاس اور علی رضی اللہ عنھُما کے طرزِ عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنھُم خود خلفائے راشدین کی وہ بات جو جو نبی کریم ﷺ کے قول و عمل سے ٹکرائے تسلیم نہیں کرتے تھے ،

  یہی اُصول اہلِ حدیث کا ہے ، مجموعی طور پر صحابہ رضی اللہ عنھُم کی بات حجّت ہے لیکن جب ان میں آپس میں کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو ایسی صورت میں ترجیح اسی بات کو دی جائے گی جس کے حق میں دلیل موجود ہو ، اور کتاب و سُنّت کے مقابلہ میں کسی کی بات نہیں لی جائے گی ،

  ان دونوں واقعات میں یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کبھی اکابر صحابہ رضی اللہ عنھُم تک بھی نبی کریم ﷺ کی کوئی بات نہیں پہنچ پاتی تھی اور اس کے تیجہ میں کبھی ان سے اسکے برخلاف اجتہاد واقع ہوجاتا تھا ، اس پر دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھُم خیر خواہی کے جذبہ سے انہیں تنبیہ کردیا کرتے تھے ،

وآخرو دعوانا ان الحمد اللہ رب انعالمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟