بسم اللہ الرحمن الرحیم​

ضعیف حدیث کی سب سے قبیح قسم


ضعیف حدیث کی اقسام میں سب سے بُری اور قبیح قسم "موضوع" ہے۔بعض اہل علم نے تو اسے ایک مستقل قسم قرار دیا ہے اور اسے ضعیف حدیث کی اقسام میں شمار ہی نہیں کیا۔اہل علم کا اتفاق ہے کہ جان بوجھ کر موضوع روایت کو اس کی حقیقت ذکر کیے بغیر ہی بیان کر دینا حرام ہے کیونکہ ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے:
من كذب علي فليتبوأ مقعده من النار

"جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے"۔(صحیح بخاری)

ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے:
عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين

"جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی اور وہ جانتا بھی ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹوں میں سے ایک ہے"۔(صحیح مسلم،مقدمہ)

ایک اور حدیث میں یہ لفظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا تكذبوا علي، فإنه من كذب علي فليلج النار

"مجھ پر جھوٹ نہ باندھو پس جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ آگ میں داخل ہو گا"۔(صحیح بخاری ،صحیح مسلم)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟