جماعت اہلِ حدیث پر الزامات کا جائزہ
[ 6 ] چھٹویں غلط فہمی :
(سوال) کیا اہلِ حدیث علماء کو نہیں مانتے : نَعُوذُبِاللہ :
(جواب) اہلِ حدیث کے تقلید شخصی سے احتراز کو بہت سے لوگ علماء بیزاری کے مترادف بنادیتے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب اہلِ حدیث ائمہ اربعہ ہی کی تقلید نہیں کرتے تو دوسرے علماء کو کیا مانیں گے ، حالانکہ یہ حقیقتِ واقعہ کے بالکل بر خلاف ہے ، اہلِ حدیث کسی عالم کی شخصیت یا اس کی بات کو نبی کریم ﷺ کی طرح واجب الاتباع نہیں مانتے لیکن اسکے باوجود علماء کی قدر کرتے ہیں اور دین کے مسائل سمجھنے میں اہلِ علم سے استفادہ کرنے اور ان سے رہنمائی لینے کو ضروری سمجھتے ہیں ،
1 اہلِ حدیث لاعلمی کی صورت میں اہلِ علم کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں :
خود اللہ تعالیٰ نے لاعلمی کی حالت میں علماء سے استفادہ کا حکم دیا ہے ،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو اہلِ ذکر (یعنی اہلِ علم) سے پوچھ لو" {سورہ النحل 43 / سورہ الانبیاء 7}
اس آیت سے اہلِ علم اس بات پر استدلال کرتے آئے ہیں کہ جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ اس کے جاننے والے کی طرف رجوع کرے اور اس سے پوچھ کر اپنے علم میں اضافہ کرے ،
2 علماء کا دنیاں سے اُٹھایا جانا لوگوں کی گمراہی کا ایک بڑا سبب ہے :
اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :
"اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ علم عطا کرنے کے بعد اُسے تم سے یونہی چھین لے ، بلکہ وہ علم کو اس طرح اُٹھائے گا کہ علماء (ایک ایک کرکے دنیاں سے) اپنے علم کے ساتھ اُٹھالیئے جائیں گے ، پھر حال یہ ہوگا کہ بس جاہل رہ جائیں گے جن سے فتوے پوچھے جائیں گے ، وہ محض اپنی رائے سے فتوے دیں گے اور نتیجہ میں دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے ، {صحیح بخاری / کتاب الاعتصام بالکتاب والسُنہ / 7307 : و صحیح مسلم / کتاب العلم ، 4828 / 4829 / واللفظ للبخاری}
اس حدیث کی بنیاد پر اہلِ حدیث بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ علماء کا وجود اُمّت کے لیئے خیر و ہدایت کا سبب ہے ، علماء کی غیر موجودگی نااہلوں کو فتوے بازی کا موقع فراہم کرے گی جو خود انکی اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے گی ، لہٰذا ہمیشہ علماء سے جڑے رہنا چاہئیے ،
3 اہلِ حدیث خود خواہشات کی پیروی کی بُرائی کرتے ہیں :
بعض لوگوں کو یہ بدگمانی ہے کہ اہلِ حدیث کی دعوت کا مقصد عوام کو علماء سے آزاد کرکے خواہش پرستی کے راستے پر ڈالنا ہے ، حالانکہ اعتراض کرنے والوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جو یہ نہ جانتا ہو کہ اہلِ حدیث کے ہاں علماء بھی ہیں اور عوام بھی جو علماء سے دینی مسائل پوچھ کر اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ، دنیاں بھر میں اہلِ حدیث کے بڑے بڑے دینی مدارس اور جامعات موجود ہیں جن سے ہر سال سیکڑوں ، ہزاروں طلباء سند یافتہ ہوکر دینی خدمت کے لیئے معاشرہ کا حصّہ بنتے ہیں ،
اہلِ حدیث کی دعوت ہرگز یہ نہیں ہے کہ عوام کو علماء سے دور کرکے انہیں مجتہد کی گدی پر بٹھادیا جائے ، بلکہ اہلِ حدیث کی دعوت یہ ہے کہ عوام کو اس علم کی طرف لایا جائے جسے لے کر اللہ کے رسُول ﷺ آئے ، اہلِ حدیث کی دعوت یہ ہے کہ لوگوں میں یہ مزاج پیدا ہو کہ وہ مذہبی و مسلکی تعصب سے اُوپر اُٹھ کر حق کو تسلیم کرنے والے بنیں ، چاہے حق پیش کرنے والا فریق مخالف ہی کیوں نہ ہو ، اہلِ حدیث کی دعوت یہ ہے کہ اُمّت میں باپ دادا ، رشتے ناطے ، سماج اور خواہشات سے اُوپر اُٹھ کر اللہ اور اس کے رسُول ﷺ کی بات کو تسلیم کرنے کا مزاج پیدا ہو ، بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل خواہش پرستی تو یہی ہے کہ باپ دادا ، سماج اور مسلکی تعصب کی بنیاد پر اللہ اور اسکے رسُول ﷺ کی بات کو تسلیم کرنے سے آدمی گریز کرے ،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"پھر (اے نبی ﷺ) اگر وہ آپ ﷺ کی بات قبول نہ کریں تو آپﷺ سمجھ لیجئیے کہ وہ محض اپنی خواہش پر چل رہے ہیں ، اور اُس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی رہنمائی کی بجائے محض اپنی خواہش کی پیروی کرنے لگے ، {سورہ القصص 50}
یعنی اگر لوگ اللہ کے رسُولﷺ کی پکار پر لبیک نہ کہیں ، آپ ﷺ کی بات کو تسلیم نہ کریں بلکہ سننا بھی گوارا نہ کریں تو یہ ان کے خواہش پرست ہونے کی کافی دلیل ہے ، اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت و رہنمائی کو چھوڑ کر محض گمان اور خواہشات کی پیروی کرنا سب سے بڑی گمراہی ہے ، جو شخص اللہ کی طرف سے آئی ہوئی رہنمائی کی مخالفت کرے اس کے راہِ حق سے بھٹک جانے اور منزل سے محروم ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے ،
اہلِ حدیث کے نزدیک جس طرح علماء سے آزاد ہونا گمراہی کا سبب ہے اُسی طرح علماء کے فتووں میں سے اپنی خواہش کے مطابق فتوے تلاش کرکے ان پر عمل کرنا بھی گمراہی ہے ، ایسا کرنے والا شخص بظاہر علماء کی بات کا پابند دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اپنے نفس کا غلام ہوتا ہے ،
سلیمان التیمی کہتے ہیں :
"اگر تم ہر عالم سے اُس کے رُخصت (یعنی آسانی) والے فتوے لینے لگو تو تمہارے اندر سارا شر جمع ہوجائے گا ، {جامع بیان العلم : 1089}
ابن عبدالبر فرماتے ہیں :
اس بات پر اجماع ہے ، میرے علم میں اس قول سے کسی کو اختلاف نہیں ، {جامع بیان العلم : 1089}
اپنی چاہت کی تکمیل کے لیئے علماء کے اقوال کا سہارا لینا علم کے بجائے جہالت اور خیر کے بجائے شر کہلانے کا زیادہ حقدار ہے ، اہلِ حدیث کی دعوت ہر قسم کی خواہش پرستی سے بچنے اور کتاب و سُنّت کے تابع ہونے کی دعوت ہے ،
4 اختلاف کا فیصلہ کتاب و سُنّت کی روشنی میں ہونا چاہیئے :
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو لوگ علماء کی بات ماننے کی تاکید کرتے ہیں اور اہلِ حدیث کو علماء کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیا وہ سارے علماء کی بات مانتے ہیں ؟ ایک مسلک کا ہونے کے باوجود بعض اوقات اسی مسلک سے جڑے دو فرقوں کے عالموں میں اتنا سخت اختلاف ہوتا ہے کہ نوبت ایک دوسرے کو گمراہ بلکہ کافر قرار دینے تک پہنچ جاتی ہے ، ایسی صورت میں ہر فرقہ کے علماء اپنے ماننے والوں کو دوسرے فرقہ کے علماء سے روکتے ہیں ، اپنے اس طرزِ عمل کو وہ علماء کی ناقدری یا مخالفت قرار نہیں دیتے ، ان کے نزدیک علماء کی بات تسلیم کرنے کا اصول صرف اپنی جماعت اور گروہ کے علماء تک محدود ہوتا ہے ، اسکے برعکس اہلِ حدیث کسی عالم کی بات محض گروہی تعصب کی بنیاد پر رد نہیں کرتے بلکہ کتاب و سُنّت سے ٹکرانے یا بے دلیل ہونے کی وجہ سے چھوڑتے ہیں اور ایسا کرنا عین ایمان کا تقاضا ہے ،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
"اے ایمان والوں ، اللہ کی فرمانبرداری کرو اور اُسکے رسُول کی فرمانبرداری کرو اور اُن کی بھی جو معاملہ کا اختیار رکھتے ہیں ، پھر اگر کسی چیز میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اگر تم واقعی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملہ کو اللہ اور اُسکے رسُول کی طرف لوٹادو ، یہی خیر ہے ، اور انجام کے اعتبار سے بھی یہی بہتر ہے ، {سورہ النساء : 59}
اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض حضرات یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ علماء کی بات ماننا لازم ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے اسکا حکم دیا ہے ، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ اس آیت میں "اللہ اور اسکے رسُول ﷺ کی فرمانبرداری کا حکم" اولوالامر سے پہلے اور مستقل دیا گیا ہے ، کیا اولوالامر کی بات اللہ اور اسکے رسُول پر مقدم ہے ؟ کیا علماء کتاب و سُنّت سے بڑھ کر ہیں ؟ آیت میں تو علماء کو بذاتِ خود حجّت بھی نہیں قرار دیا گیا ہے بلکہ اختلاف کی صورت میں معاملہ کو کتاب و سُنّت کی روشنی میں حل کرنے کے لیئے کہا گیا ہے ، اگر علماء کی بات خود دلیل ہوتی تو اسے اللہ اور اسکے رسُول کی طرف پھیرنے کی ضرورت نہ ہوتی ، وہ خود دلیل نہیں ہے بلکہ دلیل کا محتاج ہے ،
5 اہلِ حدیث شریعت کے مقابلہ میں کسی عالم کی بات تسلیم نہیں کرتے :
اگر کوئی شخص علماء کی بات اللہ کی وحی کے مقابلہ میں تسلیم کرتا ہو یا علماء کو چیزوں کے حلال و حرام قرار دینے کا اختیار دیدیتا ہو تو یہ انہیں رب اور معبُود کا درجہ دینے کے برابر ہے ،
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنه فرماتے ہیں :
"میں اللہ کے رسُول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میئں نے اپنے گلے میں صلیب لٹکا رکھی تھی ، آپﷺ نے (دیکھا تو) فرمایا : اے عدی بن حاتم ، اپنے گلے سے اس وثن (یعنی بُت) کو نکال پھینکو ، میئں آپ ﷺ کے قریب ہوا تو میئں نے سُنا آپ ﷺ سورہ براءت (سورہ التوبہ) پڑھ رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے جس کا ترجمہ یہ ہے {"اُنھوں نے (یعنی یہود و نصاریٰ نے) اپنے احبار (عالموں) اور رُہبان (عابدوں)کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا" اس پر میئں نے کہا : اے اللہ کے رسُول ﷺ ، ہم نے انہیں اپنا رب نہیں بنایا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : یقینًا : کیا ایسا نہیں تھا کہ جب وہ (اللہ کی) حرام کی ہوئی چیزوں کو تمہارے لیئے حلال کردیتے تھے تو تم اُنہیں اپنے لیئے حلال مان لیتے تھے اور جب وہ (اللہ کی) حلال کی ہوئی چیزوں کو تمہارے لیئے حرام قرار دیتے تھے تو تم ان چیزوں کو اپنے اُوپر حرام کرلیتے تھے ، میئں نے کہا : ہاں ، (ایسا تو تھا) آپ ﷺ نے فرمایا : یہی تو اُن کی عبادت ہے ، {جامع بیان العلم : باب فساد التقليد ونفيه والفرق بين التقليد والاتباع 1140} {سنن ترمذی ، سنن البیہقی : عن عدی : الحدیث حجتہ بنفسہ : ص 77 / حدیث حسن}
یعنی اللہ کی شریعت کے مقابلہ میں علماء کی بات تسلیم کرنا شرک ہے ، آدمی چاہے انہیں رب اور معبُود کا مرتبہ دے یا نہ دے ان کی بات شریعت کے خلاف ہونے کے باوجود تسلیم کرلینا انہیں شریعت ساز تسلیم کرنا ہے اور یہی انہیں رب قرار دینا ہے ،
وآخرو دعوانا ان الحمد لله رب العالمين :
[ 6 ] چھٹویں غلط فہمی :
(سوال) کیا اہلِ حدیث علماء کو نہیں مانتے : نَعُوذُبِاللہ :
(جواب) اہلِ حدیث کے تقلید شخصی سے احتراز کو بہت سے لوگ علماء بیزاری کے مترادف بنادیتے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب اہلِ حدیث ائمہ اربعہ ہی کی تقلید نہیں کرتے تو دوسرے علماء کو کیا مانیں گے ، حالانکہ یہ حقیقتِ واقعہ کے بالکل بر خلاف ہے ، اہلِ حدیث کسی عالم کی شخصیت یا اس کی بات کو نبی کریم ﷺ کی طرح واجب الاتباع نہیں مانتے لیکن اسکے باوجود علماء کی قدر کرتے ہیں اور دین کے مسائل سمجھنے میں اہلِ علم سے استفادہ کرنے اور ان سے رہنمائی لینے کو ضروری سمجھتے ہیں ،
1 اہلِ حدیث لاعلمی کی صورت میں اہلِ علم کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں :
خود اللہ تعالیٰ نے لاعلمی کی حالت میں علماء سے استفادہ کا حکم دیا ہے ،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو اہلِ ذکر (یعنی اہلِ علم) سے پوچھ لو" {سورہ النحل 43 / سورہ الانبیاء 7}
اس آیت سے اہلِ علم اس بات پر استدلال کرتے آئے ہیں کہ جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ اس کے جاننے والے کی طرف رجوع کرے اور اس سے پوچھ کر اپنے علم میں اضافہ کرے ،
2 علماء کا دنیاں سے اُٹھایا جانا لوگوں کی گمراہی کا ایک بڑا سبب ہے :
اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :
"اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ علم عطا کرنے کے بعد اُسے تم سے یونہی چھین لے ، بلکہ وہ علم کو اس طرح اُٹھائے گا کہ علماء (ایک ایک کرکے دنیاں سے) اپنے علم کے ساتھ اُٹھالیئے جائیں گے ، پھر حال یہ ہوگا کہ بس جاہل رہ جائیں گے جن سے فتوے پوچھے جائیں گے ، وہ محض اپنی رائے سے فتوے دیں گے اور نتیجہ میں دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے ، {صحیح بخاری / کتاب الاعتصام بالکتاب والسُنہ / 7307 : و صحیح مسلم / کتاب العلم ، 4828 / 4829 / واللفظ للبخاری}
اس حدیث کی بنیاد پر اہلِ حدیث بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ علماء کا وجود اُمّت کے لیئے خیر و ہدایت کا سبب ہے ، علماء کی غیر موجودگی نااہلوں کو فتوے بازی کا موقع فراہم کرے گی جو خود انکی اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے گی ، لہٰذا ہمیشہ علماء سے جڑے رہنا چاہئیے ،
3 اہلِ حدیث خود خواہشات کی پیروی کی بُرائی کرتے ہیں :
بعض لوگوں کو یہ بدگمانی ہے کہ اہلِ حدیث کی دعوت کا مقصد عوام کو علماء سے آزاد کرکے خواہش پرستی کے راستے پر ڈالنا ہے ، حالانکہ اعتراض کرنے والوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جو یہ نہ جانتا ہو کہ اہلِ حدیث کے ہاں علماء بھی ہیں اور عوام بھی جو علماء سے دینی مسائل پوچھ کر اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ، دنیاں بھر میں اہلِ حدیث کے بڑے بڑے دینی مدارس اور جامعات موجود ہیں جن سے ہر سال سیکڑوں ، ہزاروں طلباء سند یافتہ ہوکر دینی خدمت کے لیئے معاشرہ کا حصّہ بنتے ہیں ،
اہلِ حدیث کی دعوت ہرگز یہ نہیں ہے کہ عوام کو علماء سے دور کرکے انہیں مجتہد کی گدی پر بٹھادیا جائے ، بلکہ اہلِ حدیث کی دعوت یہ ہے کہ عوام کو اس علم کی طرف لایا جائے جسے لے کر اللہ کے رسُول ﷺ آئے ، اہلِ حدیث کی دعوت یہ ہے کہ لوگوں میں یہ مزاج پیدا ہو کہ وہ مذہبی و مسلکی تعصب سے اُوپر اُٹھ کر حق کو تسلیم کرنے والے بنیں ، چاہے حق پیش کرنے والا فریق مخالف ہی کیوں نہ ہو ، اہلِ حدیث کی دعوت یہ ہے کہ اُمّت میں باپ دادا ، رشتے ناطے ، سماج اور خواہشات سے اُوپر اُٹھ کر اللہ اور اس کے رسُول ﷺ کی بات کو تسلیم کرنے کا مزاج پیدا ہو ، بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل خواہش پرستی تو یہی ہے کہ باپ دادا ، سماج اور مسلکی تعصب کی بنیاد پر اللہ اور اسکے رسُول ﷺ کی بات کو تسلیم کرنے سے آدمی گریز کرے ،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"پھر (اے نبی ﷺ) اگر وہ آپ ﷺ کی بات قبول نہ کریں تو آپﷺ سمجھ لیجئیے کہ وہ محض اپنی خواہش پر چل رہے ہیں ، اور اُس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی رہنمائی کی بجائے محض اپنی خواہش کی پیروی کرنے لگے ، {سورہ القصص 50}
یعنی اگر لوگ اللہ کے رسُولﷺ کی پکار پر لبیک نہ کہیں ، آپ ﷺ کی بات کو تسلیم نہ کریں بلکہ سننا بھی گوارا نہ کریں تو یہ ان کے خواہش پرست ہونے کی کافی دلیل ہے ، اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت و رہنمائی کو چھوڑ کر محض گمان اور خواہشات کی پیروی کرنا سب سے بڑی گمراہی ہے ، جو شخص اللہ کی طرف سے آئی ہوئی رہنمائی کی مخالفت کرے اس کے راہِ حق سے بھٹک جانے اور منزل سے محروم ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے ،
اہلِ حدیث کے نزدیک جس طرح علماء سے آزاد ہونا گمراہی کا سبب ہے اُسی طرح علماء کے فتووں میں سے اپنی خواہش کے مطابق فتوے تلاش کرکے ان پر عمل کرنا بھی گمراہی ہے ، ایسا کرنے والا شخص بظاہر علماء کی بات کا پابند دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اپنے نفس کا غلام ہوتا ہے ،
سلیمان التیمی کہتے ہیں :
"اگر تم ہر عالم سے اُس کے رُخصت (یعنی آسانی) والے فتوے لینے لگو تو تمہارے اندر سارا شر جمع ہوجائے گا ، {جامع بیان العلم : 1089}
ابن عبدالبر فرماتے ہیں :
اس بات پر اجماع ہے ، میرے علم میں اس قول سے کسی کو اختلاف نہیں ، {جامع بیان العلم : 1089}
اپنی چاہت کی تکمیل کے لیئے علماء کے اقوال کا سہارا لینا علم کے بجائے جہالت اور خیر کے بجائے شر کہلانے کا زیادہ حقدار ہے ، اہلِ حدیث کی دعوت ہر قسم کی خواہش پرستی سے بچنے اور کتاب و سُنّت کے تابع ہونے کی دعوت ہے ،
4 اختلاف کا فیصلہ کتاب و سُنّت کی روشنی میں ہونا چاہیئے :
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو لوگ علماء کی بات ماننے کی تاکید کرتے ہیں اور اہلِ حدیث کو علماء کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیا وہ سارے علماء کی بات مانتے ہیں ؟ ایک مسلک کا ہونے کے باوجود بعض اوقات اسی مسلک سے جڑے دو فرقوں کے عالموں میں اتنا سخت اختلاف ہوتا ہے کہ نوبت ایک دوسرے کو گمراہ بلکہ کافر قرار دینے تک پہنچ جاتی ہے ، ایسی صورت میں ہر فرقہ کے علماء اپنے ماننے والوں کو دوسرے فرقہ کے علماء سے روکتے ہیں ، اپنے اس طرزِ عمل کو وہ علماء کی ناقدری یا مخالفت قرار نہیں دیتے ، ان کے نزدیک علماء کی بات تسلیم کرنے کا اصول صرف اپنی جماعت اور گروہ کے علماء تک محدود ہوتا ہے ، اسکے برعکس اہلِ حدیث کسی عالم کی بات محض گروہی تعصب کی بنیاد پر رد نہیں کرتے بلکہ کتاب و سُنّت سے ٹکرانے یا بے دلیل ہونے کی وجہ سے چھوڑتے ہیں اور ایسا کرنا عین ایمان کا تقاضا ہے ،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
"اے ایمان والوں ، اللہ کی فرمانبرداری کرو اور اُسکے رسُول کی فرمانبرداری کرو اور اُن کی بھی جو معاملہ کا اختیار رکھتے ہیں ، پھر اگر کسی چیز میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اگر تم واقعی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملہ کو اللہ اور اُسکے رسُول کی طرف لوٹادو ، یہی خیر ہے ، اور انجام کے اعتبار سے بھی یہی بہتر ہے ، {سورہ النساء : 59}
اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض حضرات یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ علماء کی بات ماننا لازم ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے اسکا حکم دیا ہے ، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ اس آیت میں "اللہ اور اسکے رسُول ﷺ کی فرمانبرداری کا حکم" اولوالامر سے پہلے اور مستقل دیا گیا ہے ، کیا اولوالامر کی بات اللہ اور اسکے رسُول پر مقدم ہے ؟ کیا علماء کتاب و سُنّت سے بڑھ کر ہیں ؟ آیت میں تو علماء کو بذاتِ خود حجّت بھی نہیں قرار دیا گیا ہے بلکہ اختلاف کی صورت میں معاملہ کو کتاب و سُنّت کی روشنی میں حل کرنے کے لیئے کہا گیا ہے ، اگر علماء کی بات خود دلیل ہوتی تو اسے اللہ اور اسکے رسُول کی طرف پھیرنے کی ضرورت نہ ہوتی ، وہ خود دلیل نہیں ہے بلکہ دلیل کا محتاج ہے ،
5 اہلِ حدیث شریعت کے مقابلہ میں کسی عالم کی بات تسلیم نہیں کرتے :
اگر کوئی شخص علماء کی بات اللہ کی وحی کے مقابلہ میں تسلیم کرتا ہو یا علماء کو چیزوں کے حلال و حرام قرار دینے کا اختیار دیدیتا ہو تو یہ انہیں رب اور معبُود کا درجہ دینے کے برابر ہے ،
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنه فرماتے ہیں :
"میں اللہ کے رسُول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میئں نے اپنے گلے میں صلیب لٹکا رکھی تھی ، آپﷺ نے (دیکھا تو) فرمایا : اے عدی بن حاتم ، اپنے گلے سے اس وثن (یعنی بُت) کو نکال پھینکو ، میئں آپ ﷺ کے قریب ہوا تو میئں نے سُنا آپ ﷺ سورہ براءت (سورہ التوبہ) پڑھ رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے جس کا ترجمہ یہ ہے {"اُنھوں نے (یعنی یہود و نصاریٰ نے) اپنے احبار (عالموں) اور رُہبان (عابدوں)کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا" اس پر میئں نے کہا : اے اللہ کے رسُول ﷺ ، ہم نے انہیں اپنا رب نہیں بنایا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : یقینًا : کیا ایسا نہیں تھا کہ جب وہ (اللہ کی) حرام کی ہوئی چیزوں کو تمہارے لیئے حلال کردیتے تھے تو تم اُنہیں اپنے لیئے حلال مان لیتے تھے اور جب وہ (اللہ کی) حلال کی ہوئی چیزوں کو تمہارے لیئے حرام قرار دیتے تھے تو تم ان چیزوں کو اپنے اُوپر حرام کرلیتے تھے ، میئں نے کہا : ہاں ، (ایسا تو تھا) آپ ﷺ نے فرمایا : یہی تو اُن کی عبادت ہے ، {جامع بیان العلم : باب فساد التقليد ونفيه والفرق بين التقليد والاتباع 1140} {سنن ترمذی ، سنن البیہقی : عن عدی : الحدیث حجتہ بنفسہ : ص 77 / حدیث حسن}
یعنی اللہ کی شریعت کے مقابلہ میں علماء کی بات تسلیم کرنا شرک ہے ، آدمی چاہے انہیں رب اور معبُود کا مرتبہ دے یا نہ دے ان کی بات شریعت کے خلاف ہونے کے باوجود تسلیم کرلینا انہیں شریعت ساز تسلیم کرنا ہے اور یہی انہیں رب قرار دینا ہے ،
وآخرو دعوانا ان الحمد لله رب العالمين :
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں