وسیلہ کا عقیدہ و نظریہ

وسیلہ کا عقیدہ و نظریہ 

اللہ ر بّ العالمین کا ارشاد عالیشان ہے 


وَاِذَا سَاَلَـكَ عِبَادِىۡ عَنِّىۡ فَاِنِّىۡ قَرِيۡبٌ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لِىۡ وَلۡيُؤۡمِنُوۡا بِىۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُوۡنَ ۔ ترجمہ !!! اور(اے رسول) جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں (کہ میں دور ہوں یا کہ نزدیک) تو کہہ دیجیئے کہ میں نزدیک ہوں ،جب دعاء کرنے والا مجھ سے دعاء کرتا ہے تو میں اس کی دعاء کو قبول کرتا ہوں ، لہذا لوگوں کو چاہیئے کہ (جس طرح میں ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں) وہ میرے احکام کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ انہیں (دعاءکی قبولیت کے ساتھ) ہدایت بھی مل جائے ﴿سورۃ البقرہ : ۱۸۶﴾
یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ دعاء کرنے والے کے بہت قریب ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ سے، ہر وقت اور ہر حالت میں دعاء کرنے والے کی دعاء سنتا ہے ۔ دعاء کو اس تک پہنچانے کے لیئے نہ کسی وسیلہ کی ضرورت ہے اور نہ چیخنے چلانے کی ۔ وہ خود براہ راست سب کچھ سن لیتا ہے ۔
دنیا کے بادشاہوں کی طرح وہ فریادیوں کی فریاد سے بے خبر نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ مجبور ہے کہ اسے مختلف علاقوں کی مختلف زبانوں کے لیئے ترجمانوں کی ضرورت ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی قربت ہر انسان کو ہر وقت حاصل ہے لہذا دنیا کے بادشاہوں کی طرح اللہ تعالیٰ کو کسی ذریعہ یا وسیلہ کی ضرورت نہیں ۔
اللہ تعالیٰ اتنا نزدیک ہے کہ آواز اونچی کرنے کی بھی ضرورت نہیں وہ سرگوشی بھی سن لیتا ہے حتیٰ کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات بھی جانتا ہے ۔
لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ‌ فَيَـغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۔
ترجمہ !!! آسمانوں میں اور زمینوں میں جوکچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے (بھلا جو اتنی بڑی بادشاہت کا مالک ہو کیا اس سے کوئی بات مخفی رہ سکتی ہے،ہر گز نہیں )اگر تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے اللہ تعالیٰ (کو اس کا علم ہوگا اور وہ) تم سے اسکا محاسبہ کریگا ،پھر وہ جس کو چاہے گا معاف کر دیگا اور جس کو چاہیگا سزا دیگا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (بقرہ ۲۸۴)
ترجمہ !!! بیشک اللہ سینوں کی باتوں سے واقف ہے (الانفال ۴۳)
ترجمہ !!! اور (تم یہ بھی جان لو) کہ بیشک اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے(الطلاق ۱۲)
ترجمہ !!! زمین و آسمان میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہو ﴿الانعام ۵﴾
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :۔۔۔۔۔ بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھ سے دعاء مانگتا ہے ۔
(صحیح مسلم کتاب الذکر باب فضل الذکر)
ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں :۔۔۔۔ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو (بلند آواز سے) اللہ اکبر کہتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،اے لوگو،،! اپنی جانوں پر رحم کرو ، تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو ،بلکہ تم سننے والے ، دیکھنے والے کو پکار رہے ہو ،اور وہ (ہر وقت) تمہارے ساتھ ہے ۔
(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذعلا عقبۃ ،،و ،، صحیح مسلم کتاب الدعوات باب استحباب خفض الصوت بالذکر)
جب اللہ ربّ العالمین دلوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے، سینوں کے راز وں سے بھی واقف ہے ، اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، یعنی اس کو ہر چیز کا علم ہے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ،کون کیا کر رہاہے، کون کیا مانگ رہا ہے ، کون مجھ سے مانگ رہا ہے ، کون غیر اللہ سے مانگ رہا ہے ، اور کون کس زبان میں مانگ رہا ہے اللہ تعالیٰ سب جاننے والا ہے ۔
لہذا اللہ تعالیٰ کو کسی بھی درمیانی رابطہ کی ضرورت ہی نہیں ہے وہ براہ راست سب کی سن لیتا ہے تو اگر کوئی وسیلہ یا درمیانی رابطہ بنانا ضروری سمجھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کر رہا ہے ۔
کیا ایسا عقیدہ کوئی عقل مند انسان رکھ سکتا ہے ؟؟؟

اللہ ر بّ العالمین کا ارشاد عالیشان ہے : 
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَىۡءٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا ۔
ترجمہ !!! اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں کی یا زمین کی کوئی چیز اسے عاجز کر سکے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے . ﴿ فاطر۴۴ ﴾
مندرجہ بالا آیت سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہ تو کوئی آسمانوں میں اور نہ زمین میں عاجز کر سکتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی کی مرضی کے مطابق کام کرے ۔
اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی قدرت سب سے اعلیٰ و برتر ہے ۔
آیت الکرسی تو بہت لوگوں کو یاد کرتے اور پڑھتے دیکھا ،مگر غور کرتے ہوئے بہت ہی کم دیکھا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں اور غور کریں ۔۔۔۔۔
اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡحَـىُّ الۡقَيُّوۡمُ لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌ‌ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ‌ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمْ‌ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَىۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ‌‌ وَلَا يَـــُٔوۡدُهٗ حِفۡظُهُمَا وَ هُوَ الۡعَلِىُّ الۡعَظِيۡمُ ۔
ترجمہ !!! اللہ(ہی اکیلا اِلہٰ ہے) اس کے سوا کوئی اِلہٰ نہیں، وہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے ،اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے ، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اُس سے( کسی کی) سفارش کر سکے ، وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے آگے ہے اور جوکچھ ان کے پیچھے ہے ، وہ اس کے علم میں سے کسی بھی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ جتنا وہ(بتانا) چاہے ، اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمینوں کا احاطہ کر رکھا ہے ، آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت سے اللہ تعالیٰ کو تکان نہیں ہوتی ، وہ بہت بلند و بالا اور عظمت والا ہے ﴿ البقرہ ۲۵۵﴾
اس دنیا میں لوگوں کی دعاء قبول کروانے کے لیئے اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی سفارش کرنےکی اجازت نہیں دی۔ جب اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا تو پھر کس میں اتنی ہمت و طاقت ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اللہ کے سامنے کسی کی سفارش کر سکے ۔
سفارش کروانے والا انسان ایسی ہستی سے سفارش کرواتا ہے جس سےسفارش کی جا رہی ہو وہ سفارش کرنے والے کا احسان مند ہو یا کسی اور وجہ سے یا رشتہ کی وجہ سے عاجز ہو تاکہ وہ مجبوراً سفارش کرنے والے کی بات نہ ٹال سکتا ہو ۔
مندرجہ بالا آیات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تو دعاء کی قبولیت کے لیئے مجبور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسی کسی سفارش کی اجازت ہے ،اللہ ربّ العالمین اپنی مرضی کا مالک ہے اس کی مخلوق اس کو کبھی بھی عاجز و مجبور نہیں کر سکتی ۔
اللہ ربّ کائنات جو لامحدود صفات اور لامحدود قوت اور قدرت کا مالک بھی ہو اور وہ مجبور وعاجز ہو کر اپنی مخلوق کی سفارش بھی مان لے کیا ایسا عقیدہ رکھنا توحید و ایمان کے خلاف نہیں ہے ؟؟؟
ایسا عقیدہ رکھنے والے شخص کا ایمان اور توحید کا دعویٰ کرنا دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہو گا ۔
اللہ تعالیٰ تک بات پہنچانے کے لیئے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں البتہ دعاء کی قبولیت کے لیئے اپنے اعمال صالح کوذریعہ بنا سکتے ہیں ۔
(صحیح بخاری کتاب بداء الخلق باب حدیث الغار،،و ،، کتاب الاجارۃ باب من استاجراجیرا فترک اجرہ ،، و ،، کتاب المزارعۃ باب اذازرع مال قوم بغیر اذنھم )
زندہ صالح انسان سے دعاء کرا سکتے ہیں یہ احادیث سے ثابت ہے جیسے عمر ؓ نے عباسؓ کو دعاء کے لیئے لے گئے ۔
(صحیح بخاری کتاب الاستسقاء عن انسؓ ،،و،، صحیح مسلم کتابباب من فضائل اُویسؒ )
اگر دین اسلام میں فوت شدہ لوگوں کی قبروں پر جا کر ان کو سفارش کے لیئے پکارنا جائز ہوتا تو ضرور اس کے لیئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل لازمی ہوتی ، ایسی کوئی دلیل قرآن مجید اور صحیح احادیث میں نہیں ہے ۔ بلکہ ایسے تمام کاموں سے منع کیا گیا ہے جو فطرت کے خلاف ہیں ۔
جب زندہ انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی نہیں بن سکتا تو فوت شدہ کیسے بن سکتا ہے ؟؟؟
زندہ انسان سن بھی سکتا ہے، اور دیکھ بھی سکتا ہے، جواب بھی دے سکتا ہے ،جبکہ مرنے کے بعد وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو کیا اس کے عقل مند اور ہوش مند ہونے پر یقین کیا جا سکتا ہے ؟؟؟
زندہ انسان سن بھی سکتا ہے، اور دیکھ بھی سکتا ہے، جواب بھی دے سکتا ہے ،جبکہ مرنے کے بعد وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو کیا اس کے عقل مند اور ہوش مند ہونے پر یقین کیا جا سکتا ہے ؟؟؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔۔
وَمَا يَسۡتَوِى الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِى الۡقُبُوۡرِ ۔
ترجمہ !!! اور نہ زندہ اور مُردہ (اشخاص) برابر ہو سکتے ہیں ۔ اللہ جس کو چاہے سنا سکتا ہے لیکن (اے رسول) آپ ان لوگوں کو جو قبروں میں مدفون ہیں (کچھ) نہیں سُنا سکتے ﴿ فاطر ۲۲﴾
اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کے مطابق اب ہم قبر والوں کونہیں سُنا سکتے ہیں اگر قبر والے انبیآء ، شہداء ، صالحین یا اولیاء ہی کیوں نہ ہوں ہم میں اور ان میں رابطہ ممکن ہی نہیں ہے ۔
اس لیئے ایمان والوں کو چاہیئے کہ وہ براہ راست اپنے خالق و مالک سے دعاء کریں کیونکہ وہی اپنی مخلوق کی فریاد بہت قریب سے سنتا ہے لہذا جو سنتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسی سے دعاء مانگی کی جائے ۔ کیونکہ دعاء عبادت ہے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کی عبادت شرک عظیم ہے ۔
عقلمندی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کےسوا کسی کے محتاج کیوں بنیں جو نہ سن سکے اور نہ کچھ دے سکے ۔

    امام ابو حنيفہ اور وسیلہ کا شرک

وسیلہ کے متعلق امام ابوحنیفہ اور اصلی حنفی بزرگانِ دین کا موقف
(١) امام ابوحنیفہ ، امام ابویوسف اور محمد بن حسن شیبانی فرماتے ہیں:
''یکرہ أن یقول الرجل أسألک بحق فلان أو بحق أنبیائک ورُسُلک وبحقّ بیت الحرام والمشعر الحرام إذ لیس لأحد علی اللہ حق'' (شرح فقہ اکبر: ص٦١)
''کسی آدمی کا اس طرح مانگنا مکروہ ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے فلاں کے وسیلے یا نبیوں اور رسولوں کے وسیلے سے اور بیت اللہ یا مشعر الحرام کے وسیلے سے دعا کرتا ہوںکیونکہ مخلوق کا خالق پر کوئی حق نہیں'' (حق کی تشریح آگے آرہی ہے)
٢۔فقہ حنفی کی اہم ترین کتاب الہدایۃ ہے اور حنفی علماء کرام نے اس کتاب کے متعلق کہا ہے: ''الھدایۃ کالقران'' کہ ہدایہ قرآن کی طرح ہے یعنی جس طرح قرآن نے پہلی آسمانی کتابیں منسوخ کردیں، اسی طرح ہدایہ نے فقہ کی پہلی کتابیں منسوخ کر دیں۔صاحب ِہدایہ فرماتے ہیں:
''ویکره أن یقول فی دعاء بحق فلان وبحق أنبیائک ورسلک إذ لا حقَّ للمخلوق علی الخالق'' (ہدایۃ اخیرین: ٤٧٣)
''اور کسی آدمی کا اپنی دعا میں یہ کہنا مکروہ ہے کہ فلاں کے وسیلے سے یا نبیوں اور رسولوں کے وسیلے سے یہ سوال کرتاہوں کیونکہ مخلوق کا خالق پر کوئی حق نہیں''
(٣) فقہ حنفی کی مبسوط کتاب''البحرالرائق شرح کنز الدقائق'' میں امام ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں:
''لا یجوز أن یقول بحقِّ فلان وکذا بحق أنبیائک وأولیائک ورسلک والبیت الحرام والمشعر الحرام لأنه لا حقَّ للمخلوق علی الخالق و إنما یخص برحمته من یشاء من غیر وجوب علیه'' (البحرالرائق،جلد ٨، ص٢٠)
''اس طرح کہنا جائز نہیں کہ میں فلاں کے وسیلے سے، اس طرح تیرے رسول اور تیرے ولیوں اور رسولوں ،بیت اللہ اور مشعر الحرام کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں کیونکہ مخلوق کا خالق پر کوئی احسان /حق نہیں۔ وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہے (ولایت یارسالت) کےلئے خاص کردے''
(٤) فتاویٰ عالمگیری میں جسے پانچ صد ٥٠٠ حنفی علماء کرام کے بورڈ نے مرتب کیا تھا، لکھاہے:
ویکرہ أن یقول فی دعاء بحق فلان و کذا بحق أنبیائک و أولیائک أو بحق رسلک ۔۔۔۔۔۔ الخ ( ص ٣٨) '' اس طرح دعا مانگنا مکروہ ہے کہ میں فلاں کے وسیلے اور اسی طرح تیرے نبیوں اور تیرے ولیوں یا رسولوں کے وسیلے سے مانگتاہوں''
(٥) الدر المختار( ج٢/٦٣٠) حنفی فقہ کی چوٹی کی کتاب میں ہے:
وعن أبی حنیفة لا ینبغی لأحد أن یدعو اللہ إلا به والدعاء المأذ ون فیه المأمور به من قوله تعالیٰ﴿وَلِلَّهِ الأَسماءُ الحُسنىٰ فَادعوهُ بِها...﴿١٨٠﴾... سورالاعراف
''اور حضرت ابو حنیفہ  سے روایت ہے کہ انہوںنے فرمایا کہ کسی آدمی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اللہ کو اس کے (اسماء و صفات کے سوا) کسی کی ذات کو پکڑ کر پکارے۔ جس چیز کا اِذن ہے اور اس کا حکم ہے، وہ اللہ کے اس قول سے ہی معلوم ہوجاتاہے کہ اللہ نے فرمایا ہے: اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں تم ان کے وسیلے سے اللہ کو پکارو'' (مزید تحقیق کےلئے امام زبیدی کی شرح احیاء العلوم:ج٢/٢٥٨ اور امام ابوالحسین قدوری حنفی کی شرح کرخی دیکھیں)
(٦) فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب ( درّ ِمختار)میں حنفی بزرگوں کا اِرشاد ملاحظہ فرمائیں:
''واعلم أن النذر الذي یقع الأموات من أکثر العوام وما یؤ خذ من الدراھم والشمع الزیت و نحوھا إلی ضرائع الأولیاء الکرام تقرُّبًا إلیھم فھو باطل وحرام بالاجماع'' (ص ١٣١) ''جان لو کہ عوام کی وہ نذریں اور نیازیں جو فوت شدگان بزرگوں کے نام پر دیتے ہیں اور وہ درہم اور شمع اور تیل اور اسی طرح کے دیگر نذرانے جو وہ اولیاءِ کرام کے آستانوں پر دیتے ہیں وہ بالا تفاق باطل اور حرام ہیں. 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟