جماعت اہلِ حدیث پر الزامات کا جائزہ
[ 4 ] چوتھی غلط فہمی
(سوال) کیا جماعت اہلِ حدیث اولیاء اللہ کے منکر ہیں : نَعُوذُبِاللہ :
(جواب) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اہلِ حدیث اولیاء اللہ کو نہیں مانتے ، اس بات کو مزید شوشہ بناکر بعض مقررین اہلِ حدیث کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ اہلِ حدیث ولایت کو مانتے ہیں بلکہ قیامت تک اس دروازے کے کھلا رہنے کا اعتقاد رکھتے ہیں ،
1 اہلِ حدیث کے نزدیک اولیاء اللہ کون ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
"خبردار ، اللہ کے اولیاء پر (آخرت میں) نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لے آئے اور پرہیزگاری کا اہتمام کرتے رہے ، {سورہ یوُنس : 62 : 63}
قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ بعض بندوں کو اُن کے کمالِ ایمان اور دوامِ تقویٰ کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خصوصی طور پر ولایت عطا فرماتا ہے ، انہیں اپنا خاص اور مقرب بنالیتا ہے ، اس بات کا انکار کرنا قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ کا انکار کرنا ہے ، اہلِ حدیث ان تمام نصوص پر ایمان رکھتے ہوئے اولیاء اللہ کے مقام کو تسلیم کرتے ہیں ،
لیکن قرآن کی مذکورہ آیت میں جہاں اولیاء اللہ کا شرف اور انکے لیئے اللہ تعالیٰ کے وعدے ذکر کیئے گئے ہیں وہیں ان کی صفات بھی بیان کردی گئی ہیں جن کی بنیاد پر اولیاء اللہ کو یہ مقام نصیب ہوا ہے ، وہ صفات کیا ہیں ؟ وہ دو چیزیں ہیں : کمالِ ایمان اور کمالِ تقویٰ ، اہلِ حدیث کا اعتقاد ہے کہ قوی ایمان اور پرہیزگاری سے آراستہ زندگی کے بغیر آدمی اللہ تعالیٰ کا ولی نہیں بن سکتا ، وہی شخص اللہ تعالیٰ کی ولایت کا حقدار ہے جس کا عقیدہ صحیح ہو اور اسکی زندگی تقویٰ شعاری کا نمونہ ہو ،
لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اس پیمانے کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے من مانی اُصولوں کی بنیاد پر جس کو چاہتے ہیں ولی بنادیتے ہیں ، چاہے اس کی زندگی امام الانبیاء محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کے کتنی ہی خلاف کیوں نہ ہو ، چاہے ایمان و عمل سے اُس کا دور کا بھی رشتہ نہ ہو ، بعض عجیب و غریب چیزوں کے صادر ہونے کو ولایت کا معیار بنالیتے ہیں اور نتیجے میں ایسے لوگوں کو بھی اللہ رب العالمین کا ولی بنادیتے ہیں جو نماز و روزہ ترک کرکے نشے میں مست زبان سے خرافات بکنے میں مصروف رہتے ہوں ، جب بصیرت کی آنکھوں پر عقیدہ کی پٹّی بندھ جاتی ہے تو ایسے ہی کرشمے وجود میں آتے ہیں ،
2 اہلِ حدیث کے نزدیک عجائبات ولایت کی دلیل نہیں :
بعض خرق عادت (عجیب و غریب) چیزیں کسی کو ولی ثابت کرنے کے لیئے دلیل نہیں بن سکتیں بلکہ اصل کسوٹی قرآن و سُنّت کی پابندی ہے ، آئیے اس بارے میں معلوم کرتے ہیں کہ امام شافعی رحمه اللہ نے کیا اُصول بیان کیا ہے ،
امام شافعی رحمه اللہ فرماتے ہیں :
"جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ پانی پر چل رہا ہے یا ہوا میں اُڑرہا ہے تو اُس کی اس چیز سے ذرا بھی دھوکا نہ کھاؤ جب تک کہ اس کے معاملہ کو کتاب و سُنّت (کی کسوٹی) پر پرکھ نہ لو ، { البدایہ والنہایہ : ج 13 ص 217}
یعنی کوئی کتنی ہی کرامتیں کیوں نہ دکھادے اس سے دھوکا نہ کھاؤ ، معلوم ہوا کہ محض کرامت کی بنیاد پر کسی کو ولی کا مقام دینا اہلِ علم کا طریقہ نہیں ، بلکہ ان کے نزدیک واقعی ولی وہ ہے جس کا عقیدہ و عمل ، ظاہر و باطن دونوں قرآن و سُنّت کی اتباع سے آراستہ ہو ،
اسی بات کو دوسری صدی کے ایک مشہور عالمِ دین خلیل بن احمد الفراہیدی نے جو کِبار تبع تابعین میں سے ہیں بیان کیا ہے ،
خلیل احمد الفراہیدی فرماتے ہیں :
اگر قرآن و حدیث والے اللہ کے ولی نہیں ہیں تو پھر زمین پر اللہ تعالیٰ کا کوئی ولی نہیں ، {شرف اصحاب الحدیث : رقم 96}
یعنی اللہ کے ولی ہونے کے واقعی حقدار وہ لوگ ہیں جو قرآن و حدیث کے حامل اور ان پر عامل ہوں ،
3 اہلِ حدیث کے نزدیک نفع و نقصان دینے والا اللہ تعالیٰ ہے :
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اولیاء اللہ کو ماننا اور اولیاء اللہ کی قبروں سے مانگنا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ، پہلی چیز عین ایمان کا تقاضا ہے جبکہ دوسری چیز توحید کے بالکل منافی ،
اہلِ حدیث کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ ہی کی مشیئت چلتی ہے ، انسان پر راحت و تکلیف کے جو بھی حالات آتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے فیصلہ کا نتیجہ ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے بغیر نہ کوئی کسی کو کچھ دے سکتا ہے نہ کسی سے چھین سکتا ہے ، کائنات میں مشیئت اللہ تعالیٰ ہی کی چلتی ہے لہٰذا ایک مسلمان کو اپنے تمام معاملات میں اللہ ہی سے مدد طلب کرنا چاہئیے ،
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
"اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اور اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہیں کوئی خیر پہنچانا چاہے تو کوئی نہیں جو اس کے فضل کو تم سے پھیردے ، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اپنا فضل عطا کرتا ہے ، وہ بڑا مغفرت فرمانے والا ، نہایت رحم فرمانے والا ہے ، { سورہ یُونُس : آیت 107}
4 اہلِ حدیث کے نزدیک قبروں کی عبادت اور انہیں سجدہ گاہ بنانا حرام ہے :
اولیاء کرام ، بلکہ کسی بھی مسلمان کی قبر کی بے حرمتی اہلِ حدیث کے نزدیک گناہ ہے ، لیکن اولیاء اللہ کی قبروں سے مُرادیں مانگنا ، اُن کا طواف کرنا اور وہاں جاکر سجدے کرنا ، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہمارے مسائل حل کرتے ہیں ، ہمیں رزق و اولاد عطا کرتے ہیں اور بیماری سے شفاء دیتے ہیں ، بلکہ ان کی قبر کی مٹّی اور قبر پر رکھے ہوئے کڑے بھی ہمیں کامیابی اور نجات دلاتے ہیں یہ سارے عقائد و اعمال حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنھُم کے طرزِ عمل کے سراسر خلاف ہیں ، یہ اُس توحید کے خلاف ہے جسے لے کر محمد رسُول اللہ ﷺ بھیجے گئے تھے ، اہلِ حدیث اولیاء اللہ کی تعظیم ضرور کرتے ہیں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ کی ربُوبیئت یا اُلُوہیئت میں شریک نہیں کرتے ، وہ انکی قبروں کی بے حرمتی نہیں کرتے لیکن ان کی قبروں کو رب یا معبُود بھی نہیں بناتے ،
قبروں کو عبادت گاہ بنالینا یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے ، یہود و نصاریٰ کی پیروی تو ویسے بھی منع ہے لیکن اسلام میں قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کے بارے میں صاف ممانعت بھی موجود ہے ،
خود اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :
"خبردار ، جو لوگ تم سے پہلے گزرچکے ہیں ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد (سجدہ گاہ) بنالیا کرتے تھے ، تم ہرگز قبروں کو مسجد (سجدہ گاہ) نہ بنانا ، میئں تمہیں اس سے منع کررہا ہوں ، {صحیح مسلم / کتاب المساجد و مواضع الصلاة / 827}
اسلام میں مسجد وہ جگہ ہے جہاں اللہ کو سجدہ کیا جاتا ہے ، جب قبروں کو مسجد بنانا جائز نہیں تو خود ان قبروں کو سجدہ کیسے کیا جاسکتا ہے ، سجدہ عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کردیا ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کریں ،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
"اور یہ رات اور دن اور سورج اور چاند سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، لہٰذا تم نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اُس (اللہ) کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اگر واقعی تم اللہ کی عبادت کرنے والے ہو ، {سورہ فصّلت : 37}
توحید کا اقرار کرنے کے بعد شرک کے راستے پر چلنا مؤمن کا شعار نہیں ، لہٰذا اہلِ حدیث کسی بھی تعبُدی عمل میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی شخصیت کو شریک نہیں کرتے چاہے وہ شخصیت کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو ، اہلِ حدیث اپنی حاجات کی تکمیل کے لیئے قبروں میں مدفون صالحین کو نہیں پکارتے ، اہلِ حدیث کے نزدیک ایسا کرنا شرک ہے کیونکہ دعاء عبادت ہے اور اللہ کے سوا کسی سے دعاء کرنا اسے اللہ کی عبادت میں شریک کرنا ہے ،
5 اولیاء اللہ خود ایسے شخص کے دشمن ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پُکارے :
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
"اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسے کو پُکارے جو قیامت کے دن تک اس کی پُکار کو سُن نہیں سکتا ، بلکہ وہ تو ان کی دعاء ہی سے غافل ہیں ، اور جب (قیامت کے دن) لوگوں کو حشر میں جمع کیا جائے گا تو اُن (پُکارنے والوں) کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا سرے سے انکار کردیں گے ، {سورہ الاحقاف : 5 : 6}
اس آیت میں ہر اس شخص کو گمراہ قرار دیا گیا ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے دعاء کرے ، آیت کا آخری حصّہ بتارہا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور سے دعاء کرنا دراصل اس کی عبادت کرنا ہے ، لہٰذا اہلِ حدیث کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے سوا قبروں سے یا قبر والوں سے حاجت روائی کی التجا کرنا شرک ہے ، یہ عمل نہ قرآن و سُنّت میں ہے نہ صحابہ رضی اللہ عنھُم سے اس کا ثبوت ملتا ہے ، اگر یہ واقعی اسلام میں جائز ہوتا تو صحابہ رضی اللہ عنھُم نبی کریمﷺ کی قبر پر جاکر اپنے دین و دنیاں کے مسائل کا حل ضرور طلب کرتے ،
6 اہلِ حدیث اولیاء اللہ کی عبادت کو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ نہیں بناتے :
اہلِ حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تقرّب کے لیئے اللہ کے بندوں کو واسطہ بناکر اللہ کی عبادت میں انہیں شریک کرنا حرام ہے ، تمام عبادات اللہ ہی کے لیئے خاص ہیں لہٰذا اللہ کے اولیاء کو اس طرح وسیلہ بنانا کہ ان کے نام سے نذریں مان کر ان کے نام سے جانور ذبح کرنا یا ان کے تقرّب کے لیئے جانور ذبح کرنا ، ان کی قبروں کا طواف کرنا ، ان کی قبروں پر سجدے کرنا وغیرہ یہ تمام چیزیں شرک ہیں ، بلکہ یہ عین وہی شرک ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں عرب مشرکین کے ہاں پایا جاتا تھا ، یہ شرک کی وہی قسم ہے جسکی تردید میں قرآنِ کریم نازل ہوا ،
مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"جن لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو اولیاء بنارکھا ہے (وہ کہتے ہیں) ہم تو ان کی عبادت بس اسی لیئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے کچھ اور قریب کردیں ، یقینًا اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اُن کے اس اختلاف کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ آج پڑے ہوئے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو راہ نہیں دکھاتا جو بڑا جھوٹا اور ناشکرا ہو ، {سورہ الزمر : آیت 3}
عرب کے مشرکین اپنے بتوں کی عبادت اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیئے کرتے تھے ، ان کا مقصود اللہ تھا لیکن اس مقصد کے حصول کے لیئے جو طریقہ انہوں نے اپنایا تھا وہ غلط تھا ، اللہ تک پہنچنے کے لیئے شیطان نے انہیں وہ راہ سمجھائی جو اللہ سے مزید دور کرنے والی تھی ، اپنے اس عمل کے نتیجہ میں وہ اللہ پر جھوٹ گھڑنے کے مجرم اور ناشکرے کافر قرار پائے ،
اہلِ حدیث کا یہ ماننا ہے کہ کامیابی کے لیئے صرف اچھّا مقصد کافی نہیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیئے اختیار کیئے ہوئے اسباب کا اللہ اور اس کے رسُول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے ،
وآخرو دعوانا ان الحمد لله رب العالمين :
[ 4 ] چوتھی غلط فہمی
(سوال) کیا جماعت اہلِ حدیث اولیاء اللہ کے منکر ہیں : نَعُوذُبِاللہ :
(جواب) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اہلِ حدیث اولیاء اللہ کو نہیں مانتے ، اس بات کو مزید شوشہ بناکر بعض مقررین اہلِ حدیث کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ اہلِ حدیث ولایت کو مانتے ہیں بلکہ قیامت تک اس دروازے کے کھلا رہنے کا اعتقاد رکھتے ہیں ،
1 اہلِ حدیث کے نزدیک اولیاء اللہ کون ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
"خبردار ، اللہ کے اولیاء پر (آخرت میں) نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لے آئے اور پرہیزگاری کا اہتمام کرتے رہے ، {سورہ یوُنس : 62 : 63}
قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ بعض بندوں کو اُن کے کمالِ ایمان اور دوامِ تقویٰ کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خصوصی طور پر ولایت عطا فرماتا ہے ، انہیں اپنا خاص اور مقرب بنالیتا ہے ، اس بات کا انکار کرنا قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ کا انکار کرنا ہے ، اہلِ حدیث ان تمام نصوص پر ایمان رکھتے ہوئے اولیاء اللہ کے مقام کو تسلیم کرتے ہیں ،
لیکن قرآن کی مذکورہ آیت میں جہاں اولیاء اللہ کا شرف اور انکے لیئے اللہ تعالیٰ کے وعدے ذکر کیئے گئے ہیں وہیں ان کی صفات بھی بیان کردی گئی ہیں جن کی بنیاد پر اولیاء اللہ کو یہ مقام نصیب ہوا ہے ، وہ صفات کیا ہیں ؟ وہ دو چیزیں ہیں : کمالِ ایمان اور کمالِ تقویٰ ، اہلِ حدیث کا اعتقاد ہے کہ قوی ایمان اور پرہیزگاری سے آراستہ زندگی کے بغیر آدمی اللہ تعالیٰ کا ولی نہیں بن سکتا ، وہی شخص اللہ تعالیٰ کی ولایت کا حقدار ہے جس کا عقیدہ صحیح ہو اور اسکی زندگی تقویٰ شعاری کا نمونہ ہو ،
لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اس پیمانے کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے من مانی اُصولوں کی بنیاد پر جس کو چاہتے ہیں ولی بنادیتے ہیں ، چاہے اس کی زندگی امام الانبیاء محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کے کتنی ہی خلاف کیوں نہ ہو ، چاہے ایمان و عمل سے اُس کا دور کا بھی رشتہ نہ ہو ، بعض عجیب و غریب چیزوں کے صادر ہونے کو ولایت کا معیار بنالیتے ہیں اور نتیجے میں ایسے لوگوں کو بھی اللہ رب العالمین کا ولی بنادیتے ہیں جو نماز و روزہ ترک کرکے نشے میں مست زبان سے خرافات بکنے میں مصروف رہتے ہوں ، جب بصیرت کی آنکھوں پر عقیدہ کی پٹّی بندھ جاتی ہے تو ایسے ہی کرشمے وجود میں آتے ہیں ،
2 اہلِ حدیث کے نزدیک عجائبات ولایت کی دلیل نہیں :
بعض خرق عادت (عجیب و غریب) چیزیں کسی کو ولی ثابت کرنے کے لیئے دلیل نہیں بن سکتیں بلکہ اصل کسوٹی قرآن و سُنّت کی پابندی ہے ، آئیے اس بارے میں معلوم کرتے ہیں کہ امام شافعی رحمه اللہ نے کیا اُصول بیان کیا ہے ،
امام شافعی رحمه اللہ فرماتے ہیں :
"جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ پانی پر چل رہا ہے یا ہوا میں اُڑرہا ہے تو اُس کی اس چیز سے ذرا بھی دھوکا نہ کھاؤ جب تک کہ اس کے معاملہ کو کتاب و سُنّت (کی کسوٹی) پر پرکھ نہ لو ، { البدایہ والنہایہ : ج 13 ص 217}
یعنی کوئی کتنی ہی کرامتیں کیوں نہ دکھادے اس سے دھوکا نہ کھاؤ ، معلوم ہوا کہ محض کرامت کی بنیاد پر کسی کو ولی کا مقام دینا اہلِ علم کا طریقہ نہیں ، بلکہ ان کے نزدیک واقعی ولی وہ ہے جس کا عقیدہ و عمل ، ظاہر و باطن دونوں قرآن و سُنّت کی اتباع سے آراستہ ہو ،
اسی بات کو دوسری صدی کے ایک مشہور عالمِ دین خلیل بن احمد الفراہیدی نے جو کِبار تبع تابعین میں سے ہیں بیان کیا ہے ،
خلیل احمد الفراہیدی فرماتے ہیں :
اگر قرآن و حدیث والے اللہ کے ولی نہیں ہیں تو پھر زمین پر اللہ تعالیٰ کا کوئی ولی نہیں ، {شرف اصحاب الحدیث : رقم 96}
یعنی اللہ کے ولی ہونے کے واقعی حقدار وہ لوگ ہیں جو قرآن و حدیث کے حامل اور ان پر عامل ہوں ،
3 اہلِ حدیث کے نزدیک نفع و نقصان دینے والا اللہ تعالیٰ ہے :
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اولیاء اللہ کو ماننا اور اولیاء اللہ کی قبروں سے مانگنا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ، پہلی چیز عین ایمان کا تقاضا ہے جبکہ دوسری چیز توحید کے بالکل منافی ،
اہلِ حدیث کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ ہی کی مشیئت چلتی ہے ، انسان پر راحت و تکلیف کے جو بھی حالات آتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے فیصلہ کا نتیجہ ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے بغیر نہ کوئی کسی کو کچھ دے سکتا ہے نہ کسی سے چھین سکتا ہے ، کائنات میں مشیئت اللہ تعالیٰ ہی کی چلتی ہے لہٰذا ایک مسلمان کو اپنے تمام معاملات میں اللہ ہی سے مدد طلب کرنا چاہئیے ،
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
"اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اور اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہیں کوئی خیر پہنچانا چاہے تو کوئی نہیں جو اس کے فضل کو تم سے پھیردے ، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اپنا فضل عطا کرتا ہے ، وہ بڑا مغفرت فرمانے والا ، نہایت رحم فرمانے والا ہے ، { سورہ یُونُس : آیت 107}
4 اہلِ حدیث کے نزدیک قبروں کی عبادت اور انہیں سجدہ گاہ بنانا حرام ہے :
اولیاء کرام ، بلکہ کسی بھی مسلمان کی قبر کی بے حرمتی اہلِ حدیث کے نزدیک گناہ ہے ، لیکن اولیاء اللہ کی قبروں سے مُرادیں مانگنا ، اُن کا طواف کرنا اور وہاں جاکر سجدے کرنا ، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہمارے مسائل حل کرتے ہیں ، ہمیں رزق و اولاد عطا کرتے ہیں اور بیماری سے شفاء دیتے ہیں ، بلکہ ان کی قبر کی مٹّی اور قبر پر رکھے ہوئے کڑے بھی ہمیں کامیابی اور نجات دلاتے ہیں یہ سارے عقائد و اعمال حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنھُم کے طرزِ عمل کے سراسر خلاف ہیں ، یہ اُس توحید کے خلاف ہے جسے لے کر محمد رسُول اللہ ﷺ بھیجے گئے تھے ، اہلِ حدیث اولیاء اللہ کی تعظیم ضرور کرتے ہیں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ کی ربُوبیئت یا اُلُوہیئت میں شریک نہیں کرتے ، وہ انکی قبروں کی بے حرمتی نہیں کرتے لیکن ان کی قبروں کو رب یا معبُود بھی نہیں بناتے ،
قبروں کو عبادت گاہ بنالینا یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے ، یہود و نصاریٰ کی پیروی تو ویسے بھی منع ہے لیکن اسلام میں قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کے بارے میں صاف ممانعت بھی موجود ہے ،
خود اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :
"خبردار ، جو لوگ تم سے پہلے گزرچکے ہیں ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد (سجدہ گاہ) بنالیا کرتے تھے ، تم ہرگز قبروں کو مسجد (سجدہ گاہ) نہ بنانا ، میئں تمہیں اس سے منع کررہا ہوں ، {صحیح مسلم / کتاب المساجد و مواضع الصلاة / 827}
اسلام میں مسجد وہ جگہ ہے جہاں اللہ کو سجدہ کیا جاتا ہے ، جب قبروں کو مسجد بنانا جائز نہیں تو خود ان قبروں کو سجدہ کیسے کیا جاسکتا ہے ، سجدہ عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کردیا ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کریں ،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
"اور یہ رات اور دن اور سورج اور چاند سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، لہٰذا تم نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اُس (اللہ) کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اگر واقعی تم اللہ کی عبادت کرنے والے ہو ، {سورہ فصّلت : 37}
توحید کا اقرار کرنے کے بعد شرک کے راستے پر چلنا مؤمن کا شعار نہیں ، لہٰذا اہلِ حدیث کسی بھی تعبُدی عمل میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی شخصیت کو شریک نہیں کرتے چاہے وہ شخصیت کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو ، اہلِ حدیث اپنی حاجات کی تکمیل کے لیئے قبروں میں مدفون صالحین کو نہیں پکارتے ، اہلِ حدیث کے نزدیک ایسا کرنا شرک ہے کیونکہ دعاء عبادت ہے اور اللہ کے سوا کسی سے دعاء کرنا اسے اللہ کی عبادت میں شریک کرنا ہے ،
5 اولیاء اللہ خود ایسے شخص کے دشمن ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پُکارے :
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
"اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسے کو پُکارے جو قیامت کے دن تک اس کی پُکار کو سُن نہیں سکتا ، بلکہ وہ تو ان کی دعاء ہی سے غافل ہیں ، اور جب (قیامت کے دن) لوگوں کو حشر میں جمع کیا جائے گا تو اُن (پُکارنے والوں) کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا سرے سے انکار کردیں گے ، {سورہ الاحقاف : 5 : 6}
اس آیت میں ہر اس شخص کو گمراہ قرار دیا گیا ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے دعاء کرے ، آیت کا آخری حصّہ بتارہا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور سے دعاء کرنا دراصل اس کی عبادت کرنا ہے ، لہٰذا اہلِ حدیث کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے سوا قبروں سے یا قبر والوں سے حاجت روائی کی التجا کرنا شرک ہے ، یہ عمل نہ قرآن و سُنّت میں ہے نہ صحابہ رضی اللہ عنھُم سے اس کا ثبوت ملتا ہے ، اگر یہ واقعی اسلام میں جائز ہوتا تو صحابہ رضی اللہ عنھُم نبی کریمﷺ کی قبر پر جاکر اپنے دین و دنیاں کے مسائل کا حل ضرور طلب کرتے ،
6 اہلِ حدیث اولیاء اللہ کی عبادت کو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ نہیں بناتے :
اہلِ حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تقرّب کے لیئے اللہ کے بندوں کو واسطہ بناکر اللہ کی عبادت میں انہیں شریک کرنا حرام ہے ، تمام عبادات اللہ ہی کے لیئے خاص ہیں لہٰذا اللہ کے اولیاء کو اس طرح وسیلہ بنانا کہ ان کے نام سے نذریں مان کر ان کے نام سے جانور ذبح کرنا یا ان کے تقرّب کے لیئے جانور ذبح کرنا ، ان کی قبروں کا طواف کرنا ، ان کی قبروں پر سجدے کرنا وغیرہ یہ تمام چیزیں شرک ہیں ، بلکہ یہ عین وہی شرک ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں عرب مشرکین کے ہاں پایا جاتا تھا ، یہ شرک کی وہی قسم ہے جسکی تردید میں قرآنِ کریم نازل ہوا ،
مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"جن لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو اولیاء بنارکھا ہے (وہ کہتے ہیں) ہم تو ان کی عبادت بس اسی لیئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے کچھ اور قریب کردیں ، یقینًا اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اُن کے اس اختلاف کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ آج پڑے ہوئے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو راہ نہیں دکھاتا جو بڑا جھوٹا اور ناشکرا ہو ، {سورہ الزمر : آیت 3}
عرب کے مشرکین اپنے بتوں کی عبادت اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیئے کرتے تھے ، ان کا مقصود اللہ تھا لیکن اس مقصد کے حصول کے لیئے جو طریقہ انہوں نے اپنایا تھا وہ غلط تھا ، اللہ تک پہنچنے کے لیئے شیطان نے انہیں وہ راہ سمجھائی جو اللہ سے مزید دور کرنے والی تھی ، اپنے اس عمل کے نتیجہ میں وہ اللہ پر جھوٹ گھڑنے کے مجرم اور ناشکرے کافر قرار پائے ،
اہلِ حدیث کا یہ ماننا ہے کہ کامیابی کے لیئے صرف اچھّا مقصد کافی نہیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیئے اختیار کیئے ہوئے اسباب کا اللہ اور اس کے رسُول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے ،
وآخرو دعوانا ان الحمد لله رب العالمين :
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں