جماعت اہلِ حدیث پر الزامات کا جائزہ
[ 5 ] پانچویں غلط فہمی :
(سوال) کیا جماعت اہلِ حدیث ائمہ اربعہ کو نہیں مانتے اور انہیں گمراہ کہتے ہیں : نَعُوذُبِاللہ
(جواب) اہلِ حدیث کے بارے میں ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ اہلِ حدیث ائمہ اربعہ کو نہیں مانتے بلکہ ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور انہیں گمراہ قرار دیتے ہیں ، آئیے دیکھتے ہیں کہ اس معاملہ میں اہلِحدیث کا واقعی موقف کیا ہے :
1 اماموں کے بارے میں اہلِ حدیث کا موقف :
اس سلسلہ میں موجودہ دور ہی کے ایک بہت بڑے اہلِ حدیث عالمِ دین شیخ صالح الفوزان حفظه اللہ فرماتے ہیں :
"حق اور عدل پر مبنی قول یہی ہے : ہم علماء و فقہاء کے اقوال میں سے وہ قول قبول کرلیتے ہیں جو کتاب و سُنّت کی دلیل کے موافق ہو اور اُس قول کو چھوڑ دیتے ہیں جو دلیل سے ٹکراتا ہو اور ہم علماء کی (اجتہادی) خطاء پر انہیں معذور سمجھتے ہیں ، اُن کی قدر کرتے ہیں اور اُن کی شان ہرگز نہیں گھٹاتے ،
{الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة : سؤال 25}
اہلِ حدیث کے نزدیک ائمہ اربعہ معصوم عن الخطاء نہیں لیکن قابلِ احترام ضرور ہیں ، ان حضرات کی علمی خدمات کا اعتراف نہ کرنا خود اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے ، کیونکہ یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی طرف اُمّت محمدیہ ﷺ کے لیئے ایک نعمت ہیں ، یہی وہ اکابرین ہیں جنہوں نے اپنے دور میں قران و سُنّت کی تعلیمات کو عام کیا اور پیش آنے والے متعدد پیچیدہ مسائل میں قرآن و سُنّت کے نصوص میں غور کرکے اُمّت کی رہنمائی فرمائی ، ان حضرات کی تحقیق اور علمی خدمات کا فائدہ صرف ان کے اپنے دور کے لیئے محدود نہ تھا بلکہ بعد کے ادوار میں بھی اُمّت کے لیئے مسائل میں غور و فکر اور طرزِ اجتہاد میں مشعلِ راہ ہے ، ان حضرات کی خدمات کی ناقدری واقعی اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے کیونکہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ،
ائمہ اربعہ کے بارے میں اہلِ حدیث کا موقف یہ ہے کہ ان کی علمی خدمات سے استفادہ کیا جائے لیکن ان میں سے کسی ایک ہی کا ہوکر باقی سے تعصب نہ کیا جائے ، ایسا نہ ہو کہ ہم ایک امام کی تو ساری باتیں مان لیں اور باقی تین اماموں کی کوئی بات بھی ماننے کے لیئے تیار نہ ہوں ، اہلِ حدیث کے نزدیک یہ طرزِ عمل ناانصافی ہے ، اس طرح کے تعصب سے آدمی تین اماموں کے گراں قدر علمی ورثہ سے محروم ہوجاتا ہے ، پھر یہ کہاں کا اصول ہے کہ ایک امام کے مقابلہ میں باقی تینوں اماموں کی باتوں کو بلا دلیل ترک کردیا جائے ؟ عجیب بات تو یہ ہے کہ اگر اہلِ حدیث نبی کریمﷺ کی بات کے مقابلہ میں کسی امام کی کوئی ایک بات تسلیم نہ کریں تو انہیں اماموں کا مخالف و منکر بلکہ دشمن و گستاخ قرار دیا جاتا ہے لیکن ایک غیر اہلِ حدیث محض "اپنے" امام کی تقلید میں ایک ساتھ تین تین اماموں کی باتوں کو بے جھجک چھوڑ دیتا ہے لیکن نہ وہ اماموں کا گستاخ کہلاتا ہے نہ منکر ، بلکہ اگر وہ "اپنے" امام کے قول کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کی بات کو بھی نظر انداز کردے تب بھی اس کے دین و ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑتا ،
اہلِ حدیث اماموں کی وہ بات تسلیم کرتے ہیں جس پر قرآن و سُنّت سے دلیل موجود ہو اور ایسی بات کو ترک کردیتے ہیں جو دلیل سے ٹکراتی ہو ، وہ کسی ایک امام کے تمام اقوال کو قبول کرکے دوسروں کو نظر انداز نہیں کرتے بلکہ ہر ایک کی مدلل بات تسلیم کرتے ہیں اور ان کی علمی لغزشوں پر تنبیہ کرنے کے باوجود ان کی شان میں گستاخی سے بچتے ہیں ، بلکہ اگر کسی مسئلہ میں ان کی بات خلافِ دلیل یا مرجوح بھی ثابت ہوجائے تو خود انکے لیئے حسن ظن رکھتے ہوئے عذر تلاش کرتے ہیں کہ ہوسکتا ہے ان تک حدیث نہ پہنچی ہو یا انہوں نے اس کا کچھ اور مطلب لیا ہو یا اسے منسوخ سمجھا ہو یا انہیں اسکے معتبر ہونے ہی میں تردد رہا ہو وغیرہ ،
2 مجتہد کے فیصلہ میں خطا و صواب دونوں کا احتمال ہوتا ہے :
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک بڑے عالمِ سے دین کے معاملہ میں فیصلہ کرنے میں غلطی ہوسکتی ہے ؟ تو اسکا جواب خود نبی کریم ﷺ کی حدیث میں موجود ہے ،
اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :
"جب ایک حاکم (مجتہد) فیصلہ کرے اور اس کے لیئے خوب اجتہاد (تحقیقی کوشش) کرے پھر اُس کا فیصلہ صحیح نکل آئے تو اُسکے لیئے دو اجر ہیں ، اور اگر وہ خوب اجتہاد (تحقیقی کوشش) کرکے فیصلہ کرے لیکن وہ فیصلہ کرنے میں خطا (غلطی) کرجائے تو اُس کے لیئے ایک اجر ضرور ہے ، {صحیح بخاری : کتاب الاعتصام بالکتاب والسُنہ : 7352 / و صحیح مسلم : کتاب الاقضیہ : 3240}
اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں :
(1 ) مجتہد سے فیصلہ کرنے میں کبھی خطا یعنی غلطی بھی ہوجاتی ہے ،
(2 ) مجتہد کو اجتہاد کی کوشش کی بنیاد پر خطا و غلطی کے باوجود ایک اجر ضرور ملتا ہے ،
نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد اب کوئی مؤمن یہ کہنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ مجتہد سے خطا نہیں ہوسکتی ،
3 اہلِ حدیث مجتہد کی اجتہادی خطا میں اسکی پیروی نہیں کرتے :
یہاں کسی شخص کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئیے کہ "جس مسئلہ میں خطا و غلطی کے باوجود مجتہد کو اجر مل رہا ہے اس مسئلہ پر عمل کرکے ہمیں بھی اجر و ثواب ملے گا ، لہٰذا ہم صحیح ہوں یا غلط ہم ہر حال میں اجر کے مستحق ہیں ، ہمیں مجتہد سے کسی مسئلہ میں اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں" اگر کوئی شخص اس خیال کو اصول بنائے ہوئے ہے تو یہ اس کی غلطی ہے ، کیونکہ کیونکہ خلیفئہ راشد حضرت عُمر بن خطاب رضی اللہ عنه کا فیصلہ اس خوش فہمی کے قلعہ کو مسمار کرنے کے لیئے کافی ہے ،
حضرت عُمر بن خطاب رضی اللہ عنه فرماتے ہیں :
"سُنّت (طریقہ) وہی ہے جسے اللہ اور اُس کے رسُول ﷺ نے جاری کیا ہے ، تم کسی کی (اجتہادی) غلطی کو اُمّت کے لیئے سُنّت نہ بنادو ، {جامع بیان العلم 2014 ، اعلام الموقعین ، ج 1 ص 57}
اس بات کی تائید خود قرآنِ کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے :
"اور جس معاملہ میں تم سے خطا (غلطی) ہوجائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ، مگر یہ کہ تمہارے دل پختہ ارادہ کرلیں (تو جانتے بوجھتے غلط کام پر تمہاری پکڑ ہوسکتی ہے) {سورہ الاحزاب : 5}
معلوم ہوا کہ جان بوجھ کر غلطی کرنا کسی کے لیئے بھی جائز نہیں ، نہ مجتہد کے لیئے نہ غیر مجتہد کے لیئے ، لہٰذا جس شخص پر دلائل کی روشنی میں حق بات واضح ہوجائے اس کے لیئے نہ خود غلطی پر جمود اختیار کرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے نہ دوسروں کو اس پر چلانے کی ، خود مجتہدین اپنی خطا (غلطی) کے واضح ہوجانے کے بعد اس سے رجوع کرلیا کرتے تھے ، لہٰذا جو شخص ان مجتہدین کے نقش قدم پر چلنے کا دعویٰ کررہا ہے اسے انہیں کی طرح خطا (غلطی) سے رجوع کرکے حق کی طرف آنے کا ثبوت بھی دینا چاہئیے ،
مثال کے طور پر امام ابُو حنیفہ رحمه اللہ کا قول دیکھ لیجئیے ، اپنے شاگرد امام ابُو یُوسُف سے فرماتے ہیں ،
"اے یعقوب تمہارا بُرا ہو ، مجھ سے سُنی ہوئی ہر بات لکھ نہ لیا کرو ، کیونکہ آج میری ایک رائے ہوتی ہے تو کل میئں اسے چھوڑ دیتا ہوں اور کل میری ایک رائے ہو تو پرسوں اسے چھوڑ دیتا ہوں (یعنی اس سے رجوع کرلیتا ہوں ، {ابن عابدین فی حاشیتہ علی البحر الرائق ، ج 6 ص 293}
4 کسی ایک امام کی تقلید کے وجوب پر کبھی بھی اجماع نہیں ہوا :
یہاں بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم مجتہد کی باتوں کو اس لیئے نہیں چھوڑ سکتے کہ ان کی تقلید پر اُمّت کا اجماع ہوچکا ہے ، تو ان حضرات سے عرض ہے کہ ان کا یہ دعویٰ خود تضاد بیانی اور اختلاف کا شکار ہے ،
عبدالحيی لکھنوی لکھتے ہیں :
مذہب معین کی تقلید کے وجوب کے بارے میں ہر زمانہ کے علماء میں اختلاف رہا ہے ،
{مجموع الفتاوى عبدالحيى ، ص 149 سوال 129 کے جواب میں}
لیجئیے "ہر زمانہ" میں "علماء" کسی ایک مذہب کی تقلید کے وجوب پر جمع نہیں ہوسکے ، اب سوال یہ ہے کہ پھر یہ "اجماع" آخر کس دور میں ہوا ؟ حقیقت یہ ہے کہ اُمّت کے کسی فرد کو غیر نبی کی تمام باتوں کا پابند کردینا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے ، مسلمان نہ اس پر کبھی جمع ہوئے اور نہ جمع ہوسکتے ہیں ، یہ محض دعوے ہیں جن کے پیچھے مسلکی تعصب اور خود ساختہ مذہبی تفوق کے سوا اور کوئی "دلیل" نہیں ، بلکہ اجماع تو اس کے برخلاف پر ہوا ہے ،
اگرچہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مذاہب اربعہ کو چھوڑ کر مذہب خامس مستحدث کرنا جائز نہیں یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اُس پر عمل جائز نہیں ، کہ حق دائر و منحصر ان چار میں ہے ، مگر اس پر بھی کوئی دلیل نہیں اس لیئے کہ اہلِ ظاہر ہر زمانہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہلِ ھوا ہی ہوں وہ اس اتفاق سے الگ رہے ، دوسرے اگر اجماع ثابت بھی ہوجاوے مگر تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہیں ہوا ، {تذکرة الرشید ، ج 1 ص 131}
یہاں کئی باتیں سامنے آئیں :
(1) بعض باتوں پر اجماع کا دعویٰ تو ہے مگر بے دلیل ہے ،
(2) حق چار مسلکوں میں منحصر ہونے کا دعویٰ دلیل کی رو سے صحیح نہیں ،
(3) تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع ہوا ہی نہیں ،
اس بات کو سامنے رکھا جائے تو کسی اُمّتی کو ایک امام یا چار مسلکوں میں سے کسی ایک کا پابند کرنا ایک بے دلیل چیز کا پابند بنانا ہے جسکے ہر دور میں اہلِ علم مخالف رہے ہیں ،
وآخرو دعوانا ان الحمد لله رب العالمين :
[ 5 ] پانچویں غلط فہمی :
(سوال) کیا جماعت اہلِ حدیث ائمہ اربعہ کو نہیں مانتے اور انہیں گمراہ کہتے ہیں : نَعُوذُبِاللہ
(جواب) اہلِ حدیث کے بارے میں ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ اہلِ حدیث ائمہ اربعہ کو نہیں مانتے بلکہ ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور انہیں گمراہ قرار دیتے ہیں ، آئیے دیکھتے ہیں کہ اس معاملہ میں اہلِحدیث کا واقعی موقف کیا ہے :
1 اماموں کے بارے میں اہلِ حدیث کا موقف :
اس سلسلہ میں موجودہ دور ہی کے ایک بہت بڑے اہلِ حدیث عالمِ دین شیخ صالح الفوزان حفظه اللہ فرماتے ہیں :
"حق اور عدل پر مبنی قول یہی ہے : ہم علماء و فقہاء کے اقوال میں سے وہ قول قبول کرلیتے ہیں جو کتاب و سُنّت کی دلیل کے موافق ہو اور اُس قول کو چھوڑ دیتے ہیں جو دلیل سے ٹکراتا ہو اور ہم علماء کی (اجتہادی) خطاء پر انہیں معذور سمجھتے ہیں ، اُن کی قدر کرتے ہیں اور اُن کی شان ہرگز نہیں گھٹاتے ،
{الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة : سؤال 25}
اہلِ حدیث کے نزدیک ائمہ اربعہ معصوم عن الخطاء نہیں لیکن قابلِ احترام ضرور ہیں ، ان حضرات کی علمی خدمات کا اعتراف نہ کرنا خود اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے ، کیونکہ یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی طرف اُمّت محمدیہ ﷺ کے لیئے ایک نعمت ہیں ، یہی وہ اکابرین ہیں جنہوں نے اپنے دور میں قران و سُنّت کی تعلیمات کو عام کیا اور پیش آنے والے متعدد پیچیدہ مسائل میں قرآن و سُنّت کے نصوص میں غور کرکے اُمّت کی رہنمائی فرمائی ، ان حضرات کی تحقیق اور علمی خدمات کا فائدہ صرف ان کے اپنے دور کے لیئے محدود نہ تھا بلکہ بعد کے ادوار میں بھی اُمّت کے لیئے مسائل میں غور و فکر اور طرزِ اجتہاد میں مشعلِ راہ ہے ، ان حضرات کی خدمات کی ناقدری واقعی اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے کیونکہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ،
ائمہ اربعہ کے بارے میں اہلِ حدیث کا موقف یہ ہے کہ ان کی علمی خدمات سے استفادہ کیا جائے لیکن ان میں سے کسی ایک ہی کا ہوکر باقی سے تعصب نہ کیا جائے ، ایسا نہ ہو کہ ہم ایک امام کی تو ساری باتیں مان لیں اور باقی تین اماموں کی کوئی بات بھی ماننے کے لیئے تیار نہ ہوں ، اہلِ حدیث کے نزدیک یہ طرزِ عمل ناانصافی ہے ، اس طرح کے تعصب سے آدمی تین اماموں کے گراں قدر علمی ورثہ سے محروم ہوجاتا ہے ، پھر یہ کہاں کا اصول ہے کہ ایک امام کے مقابلہ میں باقی تینوں اماموں کی باتوں کو بلا دلیل ترک کردیا جائے ؟ عجیب بات تو یہ ہے کہ اگر اہلِ حدیث نبی کریمﷺ کی بات کے مقابلہ میں کسی امام کی کوئی ایک بات تسلیم نہ کریں تو انہیں اماموں کا مخالف و منکر بلکہ دشمن و گستاخ قرار دیا جاتا ہے لیکن ایک غیر اہلِ حدیث محض "اپنے" امام کی تقلید میں ایک ساتھ تین تین اماموں کی باتوں کو بے جھجک چھوڑ دیتا ہے لیکن نہ وہ اماموں کا گستاخ کہلاتا ہے نہ منکر ، بلکہ اگر وہ "اپنے" امام کے قول کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کی بات کو بھی نظر انداز کردے تب بھی اس کے دین و ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑتا ،
اہلِ حدیث اماموں کی وہ بات تسلیم کرتے ہیں جس پر قرآن و سُنّت سے دلیل موجود ہو اور ایسی بات کو ترک کردیتے ہیں جو دلیل سے ٹکراتی ہو ، وہ کسی ایک امام کے تمام اقوال کو قبول کرکے دوسروں کو نظر انداز نہیں کرتے بلکہ ہر ایک کی مدلل بات تسلیم کرتے ہیں اور ان کی علمی لغزشوں پر تنبیہ کرنے کے باوجود ان کی شان میں گستاخی سے بچتے ہیں ، بلکہ اگر کسی مسئلہ میں ان کی بات خلافِ دلیل یا مرجوح بھی ثابت ہوجائے تو خود انکے لیئے حسن ظن رکھتے ہوئے عذر تلاش کرتے ہیں کہ ہوسکتا ہے ان تک حدیث نہ پہنچی ہو یا انہوں نے اس کا کچھ اور مطلب لیا ہو یا اسے منسوخ سمجھا ہو یا انہیں اسکے معتبر ہونے ہی میں تردد رہا ہو وغیرہ ،
2 مجتہد کے فیصلہ میں خطا و صواب دونوں کا احتمال ہوتا ہے :
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک بڑے عالمِ سے دین کے معاملہ میں فیصلہ کرنے میں غلطی ہوسکتی ہے ؟ تو اسکا جواب خود نبی کریم ﷺ کی حدیث میں موجود ہے ،
اللہ کے رسُول ﷺ نے فرمایا :
"جب ایک حاکم (مجتہد) فیصلہ کرے اور اس کے لیئے خوب اجتہاد (تحقیقی کوشش) کرے پھر اُس کا فیصلہ صحیح نکل آئے تو اُسکے لیئے دو اجر ہیں ، اور اگر وہ خوب اجتہاد (تحقیقی کوشش) کرکے فیصلہ کرے لیکن وہ فیصلہ کرنے میں خطا (غلطی) کرجائے تو اُس کے لیئے ایک اجر ضرور ہے ، {صحیح بخاری : کتاب الاعتصام بالکتاب والسُنہ : 7352 / و صحیح مسلم : کتاب الاقضیہ : 3240}
اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں :
(1 ) مجتہد سے فیصلہ کرنے میں کبھی خطا یعنی غلطی بھی ہوجاتی ہے ،
(2 ) مجتہد کو اجتہاد کی کوشش کی بنیاد پر خطا و غلطی کے باوجود ایک اجر ضرور ملتا ہے ،
نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد اب کوئی مؤمن یہ کہنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ مجتہد سے خطا نہیں ہوسکتی ،
3 اہلِ حدیث مجتہد کی اجتہادی خطا میں اسکی پیروی نہیں کرتے :
یہاں کسی شخص کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئیے کہ "جس مسئلہ میں خطا و غلطی کے باوجود مجتہد کو اجر مل رہا ہے اس مسئلہ پر عمل کرکے ہمیں بھی اجر و ثواب ملے گا ، لہٰذا ہم صحیح ہوں یا غلط ہم ہر حال میں اجر کے مستحق ہیں ، ہمیں مجتہد سے کسی مسئلہ میں اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں" اگر کوئی شخص اس خیال کو اصول بنائے ہوئے ہے تو یہ اس کی غلطی ہے ، کیونکہ کیونکہ خلیفئہ راشد حضرت عُمر بن خطاب رضی اللہ عنه کا فیصلہ اس خوش فہمی کے قلعہ کو مسمار کرنے کے لیئے کافی ہے ،
حضرت عُمر بن خطاب رضی اللہ عنه فرماتے ہیں :
"سُنّت (طریقہ) وہی ہے جسے اللہ اور اُس کے رسُول ﷺ نے جاری کیا ہے ، تم کسی کی (اجتہادی) غلطی کو اُمّت کے لیئے سُنّت نہ بنادو ، {جامع بیان العلم 2014 ، اعلام الموقعین ، ج 1 ص 57}
اس بات کی تائید خود قرآنِ کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے :
"اور جس معاملہ میں تم سے خطا (غلطی) ہوجائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ، مگر یہ کہ تمہارے دل پختہ ارادہ کرلیں (تو جانتے بوجھتے غلط کام پر تمہاری پکڑ ہوسکتی ہے) {سورہ الاحزاب : 5}
معلوم ہوا کہ جان بوجھ کر غلطی کرنا کسی کے لیئے بھی جائز نہیں ، نہ مجتہد کے لیئے نہ غیر مجتہد کے لیئے ، لہٰذا جس شخص پر دلائل کی روشنی میں حق بات واضح ہوجائے اس کے لیئے نہ خود غلطی پر جمود اختیار کرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے نہ دوسروں کو اس پر چلانے کی ، خود مجتہدین اپنی خطا (غلطی) کے واضح ہوجانے کے بعد اس سے رجوع کرلیا کرتے تھے ، لہٰذا جو شخص ان مجتہدین کے نقش قدم پر چلنے کا دعویٰ کررہا ہے اسے انہیں کی طرح خطا (غلطی) سے رجوع کرکے حق کی طرف آنے کا ثبوت بھی دینا چاہئیے ،
مثال کے طور پر امام ابُو حنیفہ رحمه اللہ کا قول دیکھ لیجئیے ، اپنے شاگرد امام ابُو یُوسُف سے فرماتے ہیں ،
"اے یعقوب تمہارا بُرا ہو ، مجھ سے سُنی ہوئی ہر بات لکھ نہ لیا کرو ، کیونکہ آج میری ایک رائے ہوتی ہے تو کل میئں اسے چھوڑ دیتا ہوں اور کل میری ایک رائے ہو تو پرسوں اسے چھوڑ دیتا ہوں (یعنی اس سے رجوع کرلیتا ہوں ، {ابن عابدین فی حاشیتہ علی البحر الرائق ، ج 6 ص 293}
4 کسی ایک امام کی تقلید کے وجوب پر کبھی بھی اجماع نہیں ہوا :
یہاں بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم مجتہد کی باتوں کو اس لیئے نہیں چھوڑ سکتے کہ ان کی تقلید پر اُمّت کا اجماع ہوچکا ہے ، تو ان حضرات سے عرض ہے کہ ان کا یہ دعویٰ خود تضاد بیانی اور اختلاف کا شکار ہے ،
عبدالحيی لکھنوی لکھتے ہیں :
مذہب معین کی تقلید کے وجوب کے بارے میں ہر زمانہ کے علماء میں اختلاف رہا ہے ،
{مجموع الفتاوى عبدالحيى ، ص 149 سوال 129 کے جواب میں}
لیجئیے "ہر زمانہ" میں "علماء" کسی ایک مذہب کی تقلید کے وجوب پر جمع نہیں ہوسکے ، اب سوال یہ ہے کہ پھر یہ "اجماع" آخر کس دور میں ہوا ؟ حقیقت یہ ہے کہ اُمّت کے کسی فرد کو غیر نبی کی تمام باتوں کا پابند کردینا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے ، مسلمان نہ اس پر کبھی جمع ہوئے اور نہ جمع ہوسکتے ہیں ، یہ محض دعوے ہیں جن کے پیچھے مسلکی تعصب اور خود ساختہ مذہبی تفوق کے سوا اور کوئی "دلیل" نہیں ، بلکہ اجماع تو اس کے برخلاف پر ہوا ہے ،
اگرچہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مذاہب اربعہ کو چھوڑ کر مذہب خامس مستحدث کرنا جائز نہیں یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اُس پر عمل جائز نہیں ، کہ حق دائر و منحصر ان چار میں ہے ، مگر اس پر بھی کوئی دلیل نہیں اس لیئے کہ اہلِ ظاہر ہر زمانہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہلِ ھوا ہی ہوں وہ اس اتفاق سے الگ رہے ، دوسرے اگر اجماع ثابت بھی ہوجاوے مگر تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہیں ہوا ، {تذکرة الرشید ، ج 1 ص 131}
یہاں کئی باتیں سامنے آئیں :
(1) بعض باتوں پر اجماع کا دعویٰ تو ہے مگر بے دلیل ہے ،
(2) حق چار مسلکوں میں منحصر ہونے کا دعویٰ دلیل کی رو سے صحیح نہیں ،
(3) تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع ہوا ہی نہیں ،
اس بات کو سامنے رکھا جائے تو کسی اُمّتی کو ایک امام یا چار مسلکوں میں سے کسی ایک کا پابند کرنا ایک بے دلیل چیز کا پابند بنانا ہے جسکے ہر دور میں اہلِ علم مخالف رہے ہیں ،
وآخرو دعوانا ان الحمد لله رب العالمين :
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں