عمرہ کا طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

عمرہ کا طریقہ

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد المرسلين وعلى وآله وصحبه أجمعين ، أما بعد:
ہر مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ عمرہ واجب ہے۔ دلیل: اللہ عز وجل کا یہ فرمان ہے:
[وَأَتِمُّوا الحَجَّ وَالعُمْرَةَ للهِ] {البقرة:196}
“حج اور عمرے کو  اللہ تعالی کے لئے پورے کرو”۔
عمرہ بہت زیادہ فضیلت والے اعمال میں سے ایک ہے، وہ مسلمان جس کے پاس گنجائش ہو بار بار عمرے کرتا رہے۔ عمرہ کرنے میں ایک مسلمان سب سے پہلے جو کام کرے گا وہ ہے احرام۔
احرام: یہ ایک دروازہ ہے جہاں سے بندہ عمرہ کی عبادت
میں داخل ہوتا ہے، یہیں سے اس پر وہ بعض چیزیں حرام ہوتی ہیں جو اس سے پہلے اس کے لئے حلال تھیں اس لئے کہ اب وہ ایک عبادت میں داخل ہوا ہے۔ اور احرام ہر عمرہ کرنے والے پر واجب ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے باہر جن مقامات (جگہوں) کو بطور میقات متعین فرمایا ہے ان میں سے کسی ایک جگہ سے مُعتَمِر (عمرہ کرنے والا) احرام باندھے گا۔ اور وہ جگہیں یہ ہیں:
1- ذو الحُلَيفَة:یہ چھوٹی سی بستی ہے جو مدینہ طیبہ کے قریب ہے، آج کل اسے ‘ابیار علی’ کہا جاتا ہے، یہ مدینہ والوں کی میقات ہے۔
2- الجُحْفَة: یہ ‘رابغ’ کے قریب چھوٹی سی بستی ہے، اور آج کل لوگ ‘رابغ’ ہی سے احرام کرتے ہیں، یہ شام والوں کی میقات ہے۔
3- قَرْنُ المنازِل (السيل الكبير): یہ طائف کے قریب ایک جگہ ہے، جو نجد والوں کی میقات ہے۔
4- يَلَمْلَم: یہ مکہ سے تقریبا ستر کلو میٹر کی مسافت پر ہے، جو یمن والوں کی میقات ہے۔
5- ذَاتُ عِرق: یہ عراق والوں کی میقات ہے۔
مذکورہ میقاتوں کا تعین نبی کریم ﷺ نے کیا ہے، اب جو کوئی عمرہ یا حج کے اراد ے سے مکہ میں داخل ہونا چاہے تو ضروری ہے کہ وہ مذکورہ میقاتوں میں سے جس میقات کے قریب سے گذرے وہیں سے احرام کرے۔ البتہ اہل مکہ، اہل حِل (وہ لوگ جو حدود حرم سے باہر میقات کے اندر رہتے ہوں) اپنے ہی گھروں سے احرام باندھیں گے۔
احرام کی سنتیں:
وہ کام جو احرام سے پہلے کرنے مسنون ہیں:
۱- ناخن کاٹنا، بغل کے بال نکالنا، مونچھ تراشوانا، زیر ناف کے بال نکالنا، غسل کرنا اور خوشبو لگانا۔ خوشبو صرف بدن میں نہ کہ کپڑوں میں۔
۲- سلے ہوئے کپڑے اتار کر ایک چادر اور ایک تہبند باندھ
لے، اور عورت اپنے زیب و زینت کا اظہار کئے بغیر پردے کا خاص خیال رکھتے ہوئے جو چاہے سو کپڑے پہنے۔ البتہ ہاتھوں میں دستانے نہ پہنے، نقاب نہ لگائے لیکن (اپنے آنچل یا کسی اور طریقے سے) اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ اور دو ہتھیلیوں کا پردہ ضرور کرے۔
۳- کسی نماز کا وقت ہو تو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرے، یا تحیۃ الوضو پڑھ لے، اس کے بعد عمرہ کی نیت دل میں کرتے ہوئے لَبَّيكَ عُمرَةً کہے۔
اگر مُعتَمِر فضائی سفر  کر رہا ہو تو وہ بھی میقات پر احرام باندھے، اگر اس کی پہچان میں دشواری ہو تو کچھ پہلے بھی باندھ سکتا ہے، ناخن اور دیگر بالوں کی صفائی وغیرہ جہاز میں یا جہاز میں سوار ہونے سے پہلے بھی کرسکتا ہے، جب پہنچے میقات پر یا میقات سے تھوڑا پہلے تو احرام کی نیت کرتے ہوئے لَبَّيكَ عُمرَةً کہے۔
احرام کے بعد سے لے کر طواف شروع کرنے تک
درج ذیل تلبیہ کثرت سے پڑھنا مسنون ہے:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ
“میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک (ساجھے دار) نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی جانب سے ہیں اور سارے کا سارا ملک تیرا ہے، ان سب میں تیرا کوئی شریک نہیں”۔

ممنوعات احرام:
حج یا عمرے کا جس نے احرام باندھا ہو اس پر درج ذیل کام حرام ہوتے ہیں:
1- سر یا جسم کے بال نکالنا۔ لیکن بوقت ضرورت کھجلانے میں کوئی حرج نہیں۔
2- ناخن کاٹنا۔ لیکن ناخن خود ہی ٹوٹ جائے، یا ٹھوکر وغیرہ لگنے سے تکلیف دینے لگے تو نکال دینے میں کوئی حرج نہیں۔
3- خوشبو استعمال کرنا، اسی طرح خوشبودار صابن استعمال کرنا بھی ممنوع ہے۔
4- عورت سے ہم بستر ہونا یا اُس سے متعلقہ کام کرنا، جیسے نکاح کرنا، بنظر شہوت دیکھنا، جسم ملانا، بوسہ لینا وغیرہ وغیرہ۔
5- دستانے پہننا۔
6- شکار کو قتل کرنا۔
اوپر ذکر کردہ چھ کام مردوں اور عورتوں سب کے لئے حرام ہیں۔
البتہ درج ذیل اشیاء صرف مردوں پر حرام ہیں:
1- اعضاء جسمانی کے مطابق سلا ہوا کپڑا پہننا۔ البتہ ضرورت کے لحاظ سے بیلٹ، گھڑی، چشمہ، اور اسی طرح کی کوئی ضرورت کی چیز پہن سکتا ہے۔
2- براہ راست کسی چیز سے سر کو ڈھانپنا۔ اگر براہ راست نہیں ہے تو کوئی حرج نہیں، جیسے چھتری، کار بس ، خیمہ وغیرہ جائز ہیں۔
3- پاؤں میں موزے پہننا۔ البتہ اگر جوتا نہ ہو تو چمڑے کے موزے پہنے جاسکتے ہیں۔
ممنوعہ کام کو کرنے کی تین صورتیں ہوتی ہیں:
۱- بلاعذر ممنوعہ کام کرے۔ اس طرح وہ گناہ گار ہوگا اور فدیہ بھی ادا کرے گا۔
۲- کسی ضرورت کے تحت کرے۔ اس طرح وہ گناہ گار تو نہ ہوگا، البتہ فدیہ ادا کرے گا۔
۳- کسی عذر کے تحت کرے ، مثلا یا تو وہ مسئلے سے ناواقف ہو، یا بھول کر کرےیا مجبورا کرے۔ اس طرح نہ تو اس پر گناہ ہے اور نہ ہی فدیہ ہوگا۔
احرام کے بعد مسجد حرام کی طرف جائے ، مسجد میں دایاں قدم آگے رکھتے ہوئے داخل ہو، پھر پڑھے:
بِسمِ الله، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ الله اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِك {ابن ماجة 771}
“اللہ کے نام سے، اور صلاۃ و سلام ہو محمد ﷺ پر، اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے”۔
عام مساجد میں داخلے کی بھی یہی دعا ہے۔
پھر طواف کرنے کے لئے کعبہ کی طرف چل پڑے۔
طواف: اللہ تعالی کی عبادت کی خاطر کعبہ کے ارد گرد سات چکر لگانے کو طواف کہتے ہیں، جو حجر اسود سے شروع ہوکر اسی پر مکمل ہوگا۔ کعبہ کو اپنے بائیں طرف رکھے، باوضو ہوکر طواف کرنا واجب ہے۔ اور طواف کرنے کا طریقہ یوں ہے:
۱- حجر اسود کے پاس جاکر دائیں ہاتھ سے اسے چھولے اور کہے: بسم اللہ اللہ اکبر، اگر ممکن ہوتو بوسہ دے لے، بوسہ نہ دے سکے تو اُسے ہاتھ سے چھولے، اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو اس کی طرف منہ کرکے اشارہ کرلے، لیکن ہاتھ کو نہ چوم لے۔ کعبہ بائیں طرف ہو، طواف شروع کردے۔ جو چاہے اللہ سے دعا مانگے، یا جہاں سے ممکن ہو قرآن کریم کی تلاوت کرے، یا اپنی زبان میں اپنے لئے اور جس کے لئے چاہے دعا مانگے۔ یاد رہے کہ طواف کے ہر چکر کی الگ کوئی مخصوص دعا نہیں۔
۲- جب رکن یمانی کے پاس پہنچے اور ممکن ہوسکے تو بسم اللہ واللہ اکبر کہتے ہوئے دائیں ہاتھ سے اُسے چھولے ہاتھ کو نہ چومے، اگر ممکن نہ ہو تو چلتا جائے ، اُس کے پاس رُکے نہ اشارہ کرے اور نہ ہی کچھ کہے۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھتا رہے:
[رَبَّنَا آَتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ] {البقرة:201}
“اے ہمارے رب! دنیا میں بھی ہمیں اچھائی عطا کر اور آخرت میں بھی اچھا ئی عطا کراور آگ کے عذاب سے بچا”۔
۳- جب حجر اسود تک پہنچ جائے تو اللہ اکبر کہتے ہوئے اسے ہاتھ سے چھولے، نہ ہوسکے تو ہاتھ سے اشارہ کرے۔
اس طرح سات چکروں میں سے ایک چکر پورا ہوگیا اور پھر باقی چکروں کو اسی طرح پورا کرے۔
۴- اسی طرح طواف کرتا رہے،جب بھی حجر اسود کے برابر سے گزرے اللہ اکبر کہے، ساتواں چکر مکمل کرکے بھی اللہ اکبر کہے۔
سات میں سے پہلے تین چکر میں رمل کرنا مسنون ہے یعنی چھوٹے چھوٹے قدم ڈال کر تیز چلنا۔ نیز اضطباع کرنا بھی سنت ہے، یعنی چادر کو دائیں کاندھے کے نیچے سے نکال کر بائیں کاندھے کے اوپر سے اوڑھ ل۔
رمل اور اضطباع صرف پہلے طواف میں ہوتے ہیں جب بھی حج یا عمرہ کرنے والا مکہ مکرمہ آئے۔
۵- مسنون یہ ہے کہ طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرے، اور مقام ابراہیم نمازی اور خانہ کعبہ کے درمیان میں رہے، اور نماز شروع کرنے سے پہلے اپنی چادر کو دونوں کاندھوں پر اوڑھ لے۔ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قل یا ایھا الکافرون اور وسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قل ھو اللہ احد سورتوں کی تلاوت کرے۔ اگر مقام ابراہیم کے قریب رش (بھیڑ، ازدحام) کی وجہ سے جگہ نہ مل سکے تو مسجد حرام میں جہاں جگہ ملے نماز پڑھ لے۔
سعی:
اس کے بعد سعی کرنے کے لئے صفا پہاڑی کی طرف جائے، اس کے قریب پہنچ کر یہ آیت پڑھے:
[إِنَّ الصَّفَا وَالمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ] {البقرة:158}
“یقینا صفا و مروہ کی پہاڑیاں اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں”۔
صفا پہاڑی پر چڑھے، کعبہ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو، دونوں ہاتھ اٹھائے، اللہ کی حمد بیان کرے اور یہ دعا تین مرتبہ پڑھے، اس دوران اپنی زبان میں جو چاہے اللہ سے مانگ لے۔
لا إله إلا الله وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْـمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِير لاَ إِلَه إِلاَّ الله وَحدهُ أنجَزَ وَعْدَه وَنَصَرَ عَبدَهُ وَهَزَمَ الأَحزَابَ وَحدَه
اس کے بعد مروہ کی طرف جائے، جب ہرے نشان کے پاس پہنچے تو وہاں سے اگلے ہرے نشان تک تیز دوڑے، بشرطیکہ کسی کو تکلیف نہ دے (تیز دوڑنا صرف مردوں کے لئے ہے عورتوں کے لئے نہیں)۔ جب مروہ پر پہنچے تو قبلہ رو ہو کر وہی دعا تین دفعہ پڑھے جو صفا پر پڑھی تھی اس کے دوران اپنی زبان میں جو چاہے دعا کرے، اس طرح یہاں تک ایک چکر ہوا۔ پھر دوسرے چکر کے لئے مروہ سے صفا کی طرف جائے، پہلے چکر میں جو کیا تھا وہی کرے، اسی طرح بقیہ چکر پورے کرے۔ سعی کے دوران بہت زیادہ دعا کرنا مسنون ہے، یاد رہے کہ ہر چکر کی الگ کوئی خاص دعا نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔
سعی سے فارغ ہوکر سر کے بال بنوالے، سر مونڈھنا زیادہ ثوب ہے، اگر مشین لگوانا چاہے یا بال کم کروانا چاہے تو کرسکتا ہے لیکن پورے سر میں سے کرے یہ نہیں کہ دو چار جگہوں سے تھوڑے تھورے کر کے کاٹ لے۔
اب معتمر حلال ہواا یعنی احرام کی پابندیاں اُس سے ختم ہوئیں، اور اس کا عمرہ تمام ہوا۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے عمرے کو قبول فرمائے، اس کے سبب سے آپ کے چھوٹے بڑے سارے گناہ معاف فرمائے، اور باقی زندگی برائیوں سے بچ کر نیکی کی راہ پر گامزن کردے۔ آمین۔
ارکان عمرہ:
احرام طواف سعی
جو شخص عمرہ میں مذکورہ تین ارکان میں سے کوئی ایک رکن بھی چھوڑدے اس کا عمرہ صحیح نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ اس رکن کو ادا کرے۔
واجبات عمرہ:
میقات سے احرام باندھنا
سر مونڈھنا یا بال چھوٹے کروانا۔
جو شخص عمرہ میں کوئی ایک بھی واجب چھوڑے اس پر دم واجب ہوگا جو فقرائے حرم میں تقسیم ہوگا۔ (آج کل بنک راجحی والے آپ کی یہ ذمہ داری اٹھا کر مستحقین میں پہنچاتے ہیں، ان سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے)۔
ان غلطیوں سے بچیں:
عمرہ کرنے والے بعض بھائی یہ غلطیاں کرتے ہیں جنہیں چھوڑنا ضروری ہے، کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہیں: ۱- احرام کی نیت سے دو رکعت ادا کرنا۔ ۲- میقات میں احرام کے بعد ہی سے دایاں کاندھا کھلا رکھنا ، حتی کہ نماز میں بھی کھلا ہی رکھتے ہیں، جبکہ اس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ ۳- عورتوں کا اجنبی مردوں کے سامنے بھی اپنا چہرہ کھلا رکھنا۔ ۴- سعی کے دوران بعض مردوں کا اپنے ساتھ والی عورتوں کو دوڑا لے جانا۔ ۵- طواف اور سعی کی ہر چکر میں الگ الگ مخصوص دعاوں کا اہتمام کرنا۔ ۶- اجتماعی دعا کرنا۔ دھکے دیتے یا کھاتے ہوئے حجر اسود کو بوسہ دینے جانا۔ ۷- تصویریں کھنچوانا۔ ۹- ایک وقت میں کئی کئی عمرے کرنا۔ ۱۰- یہ سمجھنا کہ غسل وغیرہ کی حاجت محسوس ہوتو احرام کھول کر دوبارہ وہی یا دوسرا لباس احرام پہننادرست نہیں۔ ۱۱- زندہ یا مردہ کی طواف سے صرف طواف کرنا۔ ۱۲- گردی میں بھی مقام ابراہیم کے پاس ہی نماز پڑھنے کی کوشش کرنا۔ ۱۳- مدینہ طیبہ میں روضہ مبارک  کی طرف منہ کرکے دعا کرنا، جالیوں کو چھوکر تبرک کی نیت سے جسم پر پھیر لینا۔ اللہ کے بجائے آپ ﷺ سے دعا کرنا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟