کتب حدیث اور تدوین حدیث


کتب حدیث اور تدوین حدیث 
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بهی احادیث مبارکہ  لکهی جاتی تهیں ؟
کتابت حدیث اور تدوین حدیث :​
کتابت حدیث کا مطلب ہے: حدیث کو لکھنا، خواہ مرتب ہو یا غیر مرتب۔ 
اور تدوین حدیث کا مطلب ہے: کسی خاص ترتیب سے احادیث کو لکھنا۔ جیسے مشائخ کی ترتیب اور حروف معجم کی ترتیب۔
کتابت حدیث عام اور تدوین حدیث خاص ہے۔
رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں کتابت حدیث کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔
کم علم لوگ  کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے زمانہ میں حدیث مکتوب(لکهی ہوئ) نہیں تھی۔
یہ لوگ تدوین حدیث سے دھوکا کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتابت حدیث تابعین کے دور میں شروع ہوئی، حالانکہ ان کی یہ بات درست نہیں۔
رسول اللہﷺ کے زمانہ میں کتابت حدیث کے دلائل:​
پہلی دلیل:
مسند احمد، دارمی اور ابوداؤد میں حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی احادیث لکھتا تھا۔ دارمی کے لفظ یہ ہیں:
” كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “ کہ میں جو نبیﷺ سے سنتا تھا، وہ لکھ لیتا تھا۔
(سنن الدارمی: 501)
اور مسند احمد کے لفظ ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم آپ سے حدیثیں سنتے ہیں اور بھول جاتےہیں، کیا ہم لکھ لیا کریں؟ تو نبیﷺ نے لکھنے کی اجازت دے دی۔
(مسند احمد: 7018)
مسند احمد اور ابوداؤد میں ہے کہ جس حالت میں بھی مجھ سے کوئی کلمہ صادر ہوتا ہے، صحیح ہوتا ہے، لکھ لیا کرو۔
(مسند احمد: 6930، سنن ابی داؤد: 3646)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلاَ أَكْتُبُ“ (صحیح البخاری: 113)
یعنی کسی صحابی کے پاس مجھ سے زیادہ ذخیرہ حدیث نہیں۔ صرف عبداللہ بن عمرو کے پاس ہے کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔
اس مقام پر ایک اشکا ل ہے کہ کتابوں میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی نسبت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث زیادہ ہیں۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی احادیث زیادہ تھیں لیکن روایت میں کم آئی ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث زیادہ مروی ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں:
پہلی وجہ:
پہلی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں رہتے تھے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ مصر اور طائف میں رہتے تھے۔ طالب علم مصر کی نسبت مدینہ کی طرف زیادہ جاتے تھے۔
دوسری وجہ:
دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تعلیم کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا اور خود محنتی تھے۔ لیکن حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سیاست میں تھے تو ظاہر ہے کہ ان کے پاس طالب علم کم جاتے ہوں گے۔ انہیں بھی حدیث سنانے کی فرصت کم ملتی ہوگی۔
تیسری وجہ:
تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کی کچھ کتابیں حاصل کر رکھی تھیں، اس لیے طالبین علم کا رجوع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف زیادہ تھا۔
یہ چند ایک وجوہات تھیں جن کی وجہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مروی احادیث کی تعداد زیادہ ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے احادیث ایک کتابچہ میں لکھ رکھی تھیں۔
زمانہ رسالت میں کتابت حدیث کی دوسری دلیل:​
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
” هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ؟ قَالَ: " لاَ، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. قَالَ: قُلْتُ: فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: العَقْلُ، وَفَكَاكُ الأَسِيرِ، وَلاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ “
(صحیح البخاری: 111)
کیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نہیں۔ صرف اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے یا سمجھ ہے جو ایک مسلمان آدمی کو دی جاتی ہے یا جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔
میں نے پوچھا: اس صحیفہ میں کیا ہے ؟
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ دیت کے احکام، قیدیوں کو چھڑانا اور یہ کہ کسی مسلم کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا ہوا ایک صحیفہ تھا۔
اس تاریخی شہادت سے معلوم ہوا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم رسول اللہﷺ کے زمانے میں احادیث لکھتے تھے۔
زمانہ رسالت میں کتابت حدیث کی تیسری دلیل:​
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی فتح مکہ کے دن قتل کردیا۔ جب نبیﷺ کو خبر ملی تو آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور خطبہ دیا:
” فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ اليَمَنِ فَقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «اكْتُبُوا لِأَبِي فُلاَنٍ» “
(صحیح البخاری: 112)
تو خطبہ کے بعد ایک آدمی آیا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے لکھ دیجیے تو آپ نے فرمایا: ابو فلاں کو لکھ دو۔
اس سے معلوم ہوا کہ حدیث لکھنے کا سلسلہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں شروع ہوچکا تھا۔ صرف تدوین نہیں ہوئی تھی۔
کتاب حدیث پر منکرین حدیث کا اعتراض:​
منکرین حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث کا سہارا لیتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:
” لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ “
(صحیح مسلم: 3004)
کہ تم مجھ سے کچھ نہ لکھو اور جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ لکھا، وہ اسے مٹا دے۔
پہلا جواب:
اس شبہ کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ ممانعت ابتداء اسلام کی ہے جب قرآن وحدیث کا امتیاز نہیں تھا۔ اور اب یہ منسوخ ہوچکی ہے۔
دوسرا جواب:
یہ حدیث منسوخ نہیں ، بلکہ آپﷺ نے دونوں چیزوں کو ملا کر لکھنے سے منع فرمایا تھا تاکہ قرآن مجید کے الفاظ الگ محفوظ ہوجائیں۔ حدیث کے الفاظ قرآن کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں۔ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں حدیث لکھی جاتی تھی جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے:
” عَنْ عبدالله بن عمر قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَتَبَ الصَّدَقَةَ وَلَمْ يُخْرِجْهَا إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، قَالَ: فَأَخْرَجَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، فَعَمِلَ بِهَا حَتَّى تُوُفِّيَ “
(مسند احمد: 4634)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے زکاۃ کے نصاب کے متعلق لکھوایا۔ ابھی آپﷺ اس کو صوبوں کی طرف نہیں بھیج سکے تھے کہ آپﷺ فوت ہوگئے، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کے بعد اس کو بھیج دیا اور خود اس پر عمل کیا۔
صحابہ کرام کے دور میں کتابت حدیث:​
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں بھی حدیث لکھی جاتی تھی:
” أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَتَبَ لَهُ هَذَا الكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى البَحْرَيْنِ“
(صحیح البخاری: 1454)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کےلیے یہ خط (نصاب زکاۃ) لکھا جب اس کو بحرین کی طرف روانہ کیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگر د فرماتے ہیں کہ میں نے ایک حدیث اپنے استاد ابوہریرہ کو سنائی۔ میں نے وہ حدیث اپنے استاد سے سنی ہوئی تھی۔ آپ نے کہا کہ یہ حدیث میری نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے سنی ہے۔ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا کتابیں دیکھتا ہوں۔ اگر ان میں ہوئی تو حدیث میری ہوگی۔ جب کتابیں نکالی گئیں تو حدیث مل گئی۔
(مستدرک حاکم: 6169، جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبر: 422)
ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ وہب بن منبہ ان کے بھائی ہیں۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث لکھی ہوئی تھیں ۔ وہ اپنے صحیفےسے دیکھ کر احادیث بیان کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں اس صحیفہ کی بہت سی احادیث ہیں۔ صحیح بخاری میں بھی ہیں۔ لیکن مسلم کی نسبت کم ہیں۔
[فائدہ نمبر1: فقد ذکر البخاری انہ رویٰ عنہ ثمانمائۃ نفس من التابعین ولم یقع ہذا لغیرہ
(مقدمہ تحفۃ الاحوذی، ص: 19)
امام بخاری نے یہ بات ذکر کی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے آٹھ سو افراد نے روایت نقل کی ہے۔ یہ شرف کسی دوسرے کو حاصل نہیں‌ہوا۔
لیکن علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب نے امام بخاری کے حوالے سے روایت کیا:
قال البخاری: رویٰ عنہ سبعمائۃ نفر من اولاد المہاجرین والانصار۔ (مقدمہ فتح الملہم، ص:‌11)
علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب کو غلطی لگ گئی ہے۔ آٹھ سو والی تعداد زیادہ درست ہے۔
فائدہ نمبر2: ذکر الحافظ بقی بن مخلد الاندلسی فی مسندہ لابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ خمسۃ آلاف حدیث وثلاثمائۃ واربعۃ و سبعین حدیثا ولیس لاحد من الصحابۃ‌ ہذا القدر۔
(مقدمہ صحیح مسلم مع شرح النووی، ص: 8)
فائدہ نمبر3: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ڈیڑھ سو سے زیادہ احادیث ان کو املا کرائیں۔ ان کا ایک چھوٹا سا رسالہ محدثین میں صحیفہ ہمام بن منبہ کے نام سے مشہور ہے۔ مقام شکر ہے کہ صحیفہ ہمام بن منبہ برلن اور دمشق کے کتب خانہ کے ملفوظات میں ڈاکٹر حمید اللہ حیدر آبادی ثم استنبولی کو خوش قسمتی سے دستیاب ہوگیا۔ 1955ٕء میں انہوں نے اس کا اردو ترجمہ عربی متن کے ساتھ شائع کردیا ہے۔ اس کے مطالعہ سے واضح‌ہوگا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جو روایات مسند احمد بن حنبل میں‌موجود ہیں‌ اور جو روایت صحیفہ ہمام بن منبہ میں‌ موجود ہے، دونوں کچھ فرق نہیں‌ ہے۔ یہ مطابقت احادیث کی صحت و حفاظت پر دلیل بین ہے۔
(صیانۃ الحدیث از مولانا عبدالرؤف رحمانی جھنڈا نگری، ص: 271)]
صحیح مسلم میں ہے:
” عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: «أُتِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِكِتَابٍ فِيهِ قَضَاءُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَحَاهُ إِلَّا قَدْرَ»، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِذِرَاعِهِ “
(مقدمہ صحیح مسلم، ج: ۱، ص: ۱۳، طبع دار احیاء التراث العربی، بیروت)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ احادیث کتاب کی شکل میں لائی گئیں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان میں کچھ کاٹ دیں۔
ان واقعات کی روشنی میں منکرین حدیث کا یہ قول غلط ثابت ہوا کہ نبیﷺ کے زمانے میں کتابت حدیث نہیں تھی۔ بلکہ زمانہ رسالت اور صحابہ کرام کے دور میں کتابت حدیث تھی لیکن تدوین حدیث نہیں تھی۔ کتابت حدیث کے متعلق گفتگو کرنے سے معلوم ہوا کہ صحیفہ صادقہ مکتوبہ عبداللہ بن عمرو بن العاص حدیث کی سب سے پہلی کتاب ہے۔
تدوین حدیث:​
تدوین حدیث کا سلسلہ تابعین کے آخری دور میں شروع ہوا۔ تدوین کے لحاظ سے سب سے پہلی کتاب ربیع بن صبیح کی ہے۔
بعض کہتے ہیں: امام زہری ابوبکر محمد بن مسلم نے تدوین حدیث کےلیے سب سے پہلے کام شروع کیا۔ باقاعدہ حکومت کی طرف سے ارشاد ہوا تھا۔ امام زہری سرکاری حکم سے کتابیں لکھتے تھے۔
بعض کا خیال ہے کہ حدیث کے سب سے پہلے مدون سعید بن ابی عروبہ ہیں۔ لیکن یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی ، اس لیے کہ سعید بن ابی عروبہ 156ھ میں فوت ہوئے اور امام زہری کو عمر بن عبدالعزیز نے لکھنے کا حکم دیا تھا اور عمر بن عبدالعزیز 101ھ میں فوت ہوئے۔ لہٰذا یہ قول زیادہ صحیح ہے کہ حدیث کے سب سے پہلے مدون امام زہری ہیں۔
(فتح الباری، ج: ۱، ص: ۲۰۸، طبع: دار المعرفہ ، بیروت)
ان کی تدوین میں خاص ترتیب نہیں ہوتی تھی۔ اس کے بعد وہ دور آیا جس میں فقہی ترتیب پر کتابیں لکھی گئیں۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی کتاب مؤطا ہے جو امام مالک رحمہ اللہ نے لکھی تھی۔ امام مالک مدینہ میں رہتے تھے۔ معمر بن راشد یمن میں تھے۔ ابوعمرو عبدالرحمن اوزاعی شام کے علاقے میں تھے۔ سفیان ثوری کوفہ میں تھے۔ حماد بن سلمہ بصرہ میں تھے۔ ان تمام نے کتابیں لکھیں۔ یہ تمام امام مالک کے ہم عصر تھے۔
پھر ایک دور آیا جس میں مسند کتابیں لکھی گئیں۔وہ مسانید کے انداز پر تھیں۔
اس کے بعد مسند اور ابواب دونوں طریقوں پر کتابیں لکھی گئیں۔
ان کے بعد صحاح ستہ والا دور شروع ہوا۔
امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری لکھی۔
اور مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح تصنیف کی۔ تو  الحمدللہ  اس طرح کتابت حدیث کا سلسلہ زمانہ رسالت سے لے کر آج تک جاری ہے۔
الحمدللہ ❗تدوین حدیث کا سلسلہ رسول اللہﷺ کے بعد شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟