عورت کا ذبح

عورت ذبح کرنے میں مرد کی طرح ہے یعنی عورت مرد کی طرح ذبح کرسکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور عورت چاھئے پاک ہو یا ناپاک یعنی حیض وغیرہ کی حالت میں ہو ہرحال میں وہ کوئی بھی حلال جانور مثلا:مرغا ، گائے وغیرہ ذبح کرسکتی ہے اور کسی جانور کو ذبح کرنے کے لئے پاک ہونا شرط نہیں ہے اور نہ ذبح کرتے وقت باوضوء ہونا شرط ہے جیساکہ بعض علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ وہ مرغا وغیرہ ذبح کرتے وقت وضوء کرتے ہیں اور بعض لوگ وضوء کے بغیر مرغا وغیرہ ذبح کرنے کو ناجائز تصور کرتے ہیں جبکہ اس طرح کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ کسی بھی دلیل صحیح سے ایسا کرنا ثابت نہیں یے۔
یہی جواب موسوعہ فقھیہ میں موجود ہے۔[موسوعة الفتاوى فتاوی نمبر: 137411]۔
دلیل:حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک لڑکی بکریاں چراتی تھی اسی دوران اسکی ایک بکری بیمار ہوئی اس نے اس سے خود ہی ایک تیز دھارپتھر سے ذبح کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نبی علیہ السلام نے اس کے ذبیحہ کے کہانے کا حکم دیا۔[صحیح بخاری]۔
امام نووی رحمہ اللہ نے ابن منذررحمہ اللہ کے اس قول کو نقل کیا ہے کہ جنبی کے ہاتھ کا ذبیحہ کہانا جائز ہے یعنی جنبی ذبح کرسکتاہے ، اور حائض عورت جنبی  کے حکم میں ہے۔[المجموع للنووی]۔
علامہ شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اور مرد کے ذبیحہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔[درس الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ ، حکم ذبيحة المرأة].
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ذبح کرنے کے معاملے میں مردوعورت برابر ہیں ، یعنی عورت بھی مرد کی طرح ذبح کرسکتی ہے۔[فتاوی لجنہ دائمہ ، فتاوی نمبر:102]۔
امام بخاری رھمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ عورت اور لونڈی کے ذبح کرنے کے بیان میں۔[بخاری]۔
اس سے بھی ثابت ہوا کہ عورت ذبح کرسکتی ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ابراھیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد عورت اور لونڈی کے ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسکا ذبیحہ حلال ہے جیساکہ بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ  ایک عورت نے ذبح کیا اور آپ علیہ السلام نے اسکا ذبیحہ کھانے کا حکم فرمایا ، جمہور اہل علم کی یہی رائے ہے۔ کماذکرابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تعالی ، اور اس مسئلہ میں یہی قول راجح قرار دیا گیا ہے۔[فتح الباري9/782]۔
ابن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی نے حائض کے ذبیحہ کہانے سے منع کیا ہواسلئے حائص عورت کا ذبیحہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور حائض عورت جنبی کے حکم میں ہے۔[المغنی61/11]۔
ان مذکورہ ادلہ اور علماء کی تصریحات سے واضح ہوا کہ عورت ذبح کرسکتی ہے اور اسکا ذبیحہ کھانا جائز ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رفع الیدین نہ کرنے والوں کے دلائل اور انکا جائزہ

مشرکین مکہ اور آج کے مشرک میں فرق

کیا ابو طالب اسلام قبول کر لیا تھا؟

موضوع تقلید پر مقلدین کا مفصل ترین رد

ائمۂ اسلام اور فاتحہ خلف الامام

جماعت اسلامی اور اہلحدیث میں فرق

کیا اللہ کے نبیﷺ حاضر وناظر ہیں؟

جاوید احمد غامدی.... شخصیت واَفکار کا تعارف

مسلمانوں کے زوال کے اسباب

کیا سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے؟